BN

عدنان عادل


امارات کا بڑھتا ہوا کردار


ایک کروڑ آبادی پر مشتمل اور سوا چار سو ارب ڈالرمجموعی دولت کا حامل ملک متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ کی ایک تیزی سے اُبھرتی ہوئی طاقت ہے جسکا علاقائی سیاست میں کردار بڑھتا جارہا ہے۔ حالیہ برسوں میں سعودی عرب کے ساتھ ساتھ امارات کا شاہی خاندان عرب دنیا میں امریکہ کے بڑے اتحادی اور کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ عرب عوام خواہ کچھ بھی سوچیں ‘ فلسطینیوں کو جو بھی نقصان ہو لیکن اسرائیل کو تسلیم کرکے امارات نے امریکہ کے حکمران طبقہ خاص طور سے انتہائی دولت مند اور سیاسی طور پر طاقتور یہودی لابی میں
اتوار 23  اگست 2020ء

حکومتی رٹ کی کمزوری

بدھ 19  اگست 2020ء
عدنان عادل
اسوقت ملک بھر میںلاقانونیت کا دور دورہ ہے۔قانون شکنی کرنے والوں کے سامنے وفاقی اورصوبائی حکومتیں نیم مفلوج حالت میںہیں۔ لوگ دھڑلے سے بجلی چوری کرتے ہیں‘روزمرہ استعمال کی اشیامہنگی بیچتے ہیں‘ ملاوٹ کرتے ہیں‘ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہر علاقہ میں مسلک اور لسانیت کے نام پر ایسی تنظیمیں بنالی گئی ہیں جو ریاست کی عملداری کو چیلنج کرتی رہتی ہیں۔ یہ تنظیمیں چندہ کے نام پر عوام سے جبری بھتہ اکٹھا کرتی ہیں‘ زمینوں کے قبضوں اور دیگر غیر قانونی کاموں میں ملوث ہیں لیکن انتظامیہ انکے سامنے بے بس ہے۔ جس شعبہ زندگی پر حکومت قانون
مزید پڑھیے


اختیارات کی مرکزیت

اتوار 16  اگست 2020ء
عدنان عادل
پاکستان میں حکومتی نظام میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ کمزور ہوتی چلی گئی اور اقتدارو اختیار سمٹ کر مرکز اور صوبائی دارالحکومتوں میںمرتکز ہوگیا۔برطانوی عہد سے ملنے والے ریاستی نظام میں ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ایس پی پولیس کے عہدوںکے پاس بہت اختیارات تھے۔ وہ حکومت کے ستون تھے۔یُوں اختیارات کی ضلعی سطح پرعدم مرکزیت تھی۔ ہر چیز صوبائی دارالحکومت یا مرکز سے کنٹرول نہیں ہوتی تھی۔ مختلف محکموں کے ضلعوںمیںتعینات اعلی افسران کے پاس فیصلے کرنے کی خاصی آزادی تھی۔قیام پاکستان کے بعد انیس سو
مزید پڑھیے


گورننس کے مسائل

بدھ 12  اگست 2020ء
عدنان عادل
گورننس کا مفہوم ہے کہ حکومت کے مختلف ادارے کس طرح اپنے اپنے کام انجام دے رہے ہیں‘ سیاسی نظام کن قواعد کے تحت چلایا جارہا ہے ۔ پاکستان میں اکثر کہا جاتا ہے کہ گورننس کا حال بہت خراب ہے۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ حکومتی معاملات میں بدانتظامی ہے‘قومی امور پر غلط فیصلے لیے جاتے ہیں‘قاعدہ قانون کی بجائے سفارش اور کرپشن کا دور دورہ ہے۔ میرٹ کو نظر اندازکیا جارہا ہے۔ سرکاری ادارے وہ کام انجام نہیں دے رہے جن کے لیے انہیں بنایا گیا ہے۔حکومت عوام کووہ خدمات مہیا نہیں کرپارہی جو اسکے فرائض میں
مزید پڑھیے


صدارتی نظام کے خد و خال

اتوار 09  اگست 2020ء
عدنان عادل
فرض کرلیجیے کہ صدارتی تائید کو عوامی تائید حاصل ہوجاتی ہے اور ملک میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام نافذ کردیا جاتا ہے توہمیں ان سوالوں پر غور اور بحث و تمحیص کرنا ہوگی کہ اس نئے سیاسی بندوبست میںکیا مسائل درپیش ہوں گے‘ انہیں کس طرح حل کیا جائے گا‘اس سسٹم کے کیا فوائد اور نقصانات ہوسکتے ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا صدارتی نظام اس طرز کا ہوگا جو جنرل ایوب خان لائے تھے جس میںصدر کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے نہیں ہوتا تھا بلکہ نوّے ہزار بلدیاتی کونسلرز صدر کے انتخاب
مزید پڑھیے



صدارتی نظام کی بحث

بدھ 05  اگست 2020ء
عدنان عادل
اِن دنوں بعض با اثر اور دانشوارانہ حلقوں میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ پاکستان کا موجودہ پارلیمانی نظام کام نہیں کررہا ‘ ملکی مسائل حل کرنے اور اچھی حکمرانی دینے میں ناکام ہوچکا ہے اسلیے اِسے ترک کرکے ملک میں صدارتی نظام لایا جائے۔ وزیر اعظم کا عہدہ ختم کردیا جائے۔ پارلیمان کا اختیار صرف قانون سازی تک محدود ہوجائے۔ ارکانِ قومی اسمبلی کے پاس ملک کاانتظامی سربراہ یعنی چیف ایگزیکٹو منتخب کرنے کا اختیار نہ ہو۔صدر انتظامی سربراہ ہوجسکا انتخاب براہِ راست عوام کریں۔بعض لوگ یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ریاستی ادارے ملک میں صدارتی نظام
مزید پڑھیے


نیب قانون میں تبدیلی

بدھ 29 جولائی 2020ء
عدنان عادل
ان دنوں احتساب کے قانون میں تبدیلی پر حکومت اور اپوزیشن میں بات چیت چل رہی ہے۔ حکومت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون میں ترامیم پر مبنی ایک مسودۂ قانون حزبِ اختلاف کو پیش کیا ہے کہ وہ اس پر اپنی رائے دے تاکہ مشاورت سے ترامیم کی جاسکیں۔ اس مسودہ میں زیادہ تروہی نکات ہیں جو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے گزشتہ سال حکومت نافذ کرچکی ہے جنہیں اب وہ پارلیمان سے باقاعدہ منظور کروانا چاہتی ہے کیونکہ آرڈیننس ایک محدود مدت سے زیادہ نافذالعمل نہیں رہ سکتا۔ دنیا میں احتساب کے قوانین سخت سے
مزید پڑھیے


ہانگ کانگ پر چین کی گرفت

اتوار 26 جولائی 2020ء
عدنان عادل
چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی‘ عسکری اور سیاسی طاقت سے خوفزدہ امریکہ نے اسکے خلاف ایک مہم شروع کی ہوئی ہے۔اسکو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی غرض سے ایک اہم مقام ہانگ کانگ ہے جو جنوبی بحیرہ چین کے اہم بحری تجارتی راستے پراس ملک کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ بر س جون میں امریکہ اور برطانیہ نے یہاں اپنے ایجنٹوںکے ذریعے ایک احتجاجی تحریک شروع کروائی جسے فی الحال چین نے کامیابی سے کنٹرول کرلیا ہے اور شورش برپا کرنے والے گروپ پسپا ہوکر خاموش ہوگئے ہیں۔ ہانگ کانگ مشرقی ایشیا میں واقع جنوبی بحیرہ چین
مزید پڑھیے


مثبت اشاریے

بدھ 22 جولائی 2020ء
عدنان عادل
ملک پر چھائے کالے بادل چھٹ رہے ہیں۔ روشنی کی کرنیں نمودار ہورہی ہیں۔کورونا وبا تیزی سے کم ہورہی ہے۔ معیشت میں مثبت رجحانات واضح ہورہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ بڑھتی چلی جارہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ملک میں آنے والی ترسیلاتِ زر بڑھ گئی ہیں۔ چین کی شراکت سے سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد تیز ہوگیا ہے۔ ملکی سرمایہ کاروں کیلئے بینکوں کی شرح ِسود بہت کم کردی گئی ہے۔ دوبرس پہلے ملک زر مبادلہ کے شدید بحران کا شکار تھا۔ بیرون ملک سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے قومی خزانہ میں ڈالرز نہیں
مزید پڑھیے


متناسب نمائندگی کی خوبیاں‘ خامیاں

اتوار 19 جولائی 2020ء
عدنان عادل
ملک میں حکمرانی کے نظام سے عوام الناس کا ایک بڑا طبقہ ناخوش رہتا ہے اور گاہے گاہے یہ بحث چل پڑتی ہے کہ موجودہ سیاسی‘ انتخابی سسٹم کو بہتر کیسے بنایا جائے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارے انتخابی نظام کی نوعیت ایسی ہے جس سے قومی اور صوبائی سطح پر جو قیادت سامنے آتی ہے وہ ملک و قوم کو درپیش چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ ارکانِ اسمبلی کی اکثریت مقامی سطح کے مسائل سے زیادہ شعور و ادراک نہیں رکھتی۔ موجودہ حلقہ بندیوں پر مبنی الیکشن کاطریقہ ناکام ہوچکا ہے۔
مزید پڑھیے