BN

عمر قاضی


می ٹو


جرمن ادیب تھامس مین نے لکھا ہے کہ فاشزم کے دور میں ایسے ناجائز الفاظ پیدا ہوتے ہیں جو ہر جائز لفظ سے ان کا حقیقی مقام چھین لیتے ہیں۔ آپ سب کہ سکتے ہیں کہ موجودہ دور کو کسی بھی طرح فاشزم کا دور نہیں کہا جا سکتا۔ اگر یہ دور فاشسٹ نہیں ہے تو پھر اس دور میں ایسے نئے الفاظ کیوں جنم لے رہے ہیں جو پرانے الفاظ سے ان کی حقیقی معنی اور مقام چھیننے کی کوشش کر تے ہیں۔ ایک سندھی شاعر نے کیا خوب لکھا ہے کہ : ’’تم اگر آؤ تو ہیں رات کے راستے
جمعه 03 جولائی 2020ء

لائن آف ایکچوئل کنٹرول

جمعه 26 جون 2020ء
عمر قاضی
سندھی میں کہاوت ہے ’’دریا کے کنارے اچھل کود کرنے والا بچہ آج نہیں تو کل ضرور ڈوبے گا‘‘ اس وقت وہی حال اس بھارت کا ہے جس نے اپنے اور چین کے درمیاں متنازعہ سرحد پر تعمیراتی سرگرمیاں زور شور سے شروع کردیں۔ چین نے بھارت کو سفارتی آداب کے ساتھ بتا بھی دیا تھا کہ مذکورہ اقدام اس کے لیے قابل قبول نہیں مگر بھارت کے دماغ میں دو باتیں تھیں۔ ایک بات یہ کہ بھارت نے کچھ وقت قبل امریکہ کے ساتھ جو دفاعی معاہدے کیے تھے اس میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ دونوں ممالک
مزید پڑھیے


اشارہ

جمعه 19 جون 2020ء
عمر قاضی
وزیر اعظم عمران خان کی لاڑکانہ میں آمد سندھ کی سیاست میں بڑی تبدیلی کی ابتدا ہو سکتی تھی مگر بقول مرزا غالب: ’’تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پُرزے دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا‘‘ عمران خان کا کوئی چاہنے والا تماشا نہ ہو پانے کا یہ عذر پیش کر سکتا ہے کہ ملکی فضاؤں میں کورونا کا دیو منڈلا رہا ہے اور سندھ کی دھرتی پر اس دیو کا سایہ ذرا زیادہ دیکھا یا دکھایا جا رہا ہے۔ اس لیے عمران خان کی آمد سندھ کی سیاسی سمندر میں ایسی لہریں نہیں اٹھا پائی جو تحریک
مزید پڑھیے


کاش! بلاول کو کوئی بتائے

جمعه 12 جون 2020ء
عمر قاضی
وہ تصویر اب بھی میرے تصور میں تیر رہی ہے۔ اگر آپ بھی وہ تصویر دیکھتے۔ آپ بھی وہ تصویر فراموش نہ کر سکتے۔ وہ تصویر جس میں ایک نوجوان لڑکا اور ایک نوجوان لڑکی ایک ہی رسی کے دو سروں سے جھول رہے تھے ۔ وہ دونوں مسلمان نہیں تھے۔ وہ اونچی ذات کے ہندو بھی نہیں تھے۔ ان کا تعلق ان جاتیوں سے تھا جنہیں ’’شیڈول کاسٹ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ بھارت میں ان لوگوں کو ’’دلت‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ان لوگوں کی صحرائے تھر میں اکثریت ہے۔ وہاں کے ہندو اور مسلمان انہیں
مزید پڑھیے


ادب ؛ عوام اور آصف فرخی

جمعه 05 جون 2020ء
عمر قاضی
جس دن مجھے ان کے موت کی منحوس خبر موصول ہوئی؛ اس دن میں نے اس شام کو بہت یاد کیا تھا جس شام ہم کراچی آرٹس کونسل میں شیخ ایاز کے اردو کلام کو ضیاء محی الدین کی آواز میں پیش کرنے کا پروگرام منعقد کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ انہوں نے پروگرام میں شرکت کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ میری ڈاکٹر سے اپوائنٹمینٹ ہے۔ میں وہاں سے سیدھا آرٹس کونسل آؤں گا اور وہ اپنے خطاب سے چند لمحے قبل پہنچ گئے۔ وہ جن کو ہم نے کراچی
مزید پڑھیے



لداخ کے لوگ امن کے امین ہیں

هفته 30 مئی 2020ء
عمر قاضی
بھارت کے سابق آرمی چیف نے بھی کہہ دیا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کا حل فوجی سطح پر ناکام ہو چکا ہے۔ اب یہ حل سیاسی اور سفارتی سطح پر تلاش کرنا پڑے گا۔ مگر اس سلسلے میں اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان حالات اس نہج پر کیسے پہنچے؟ خاص طور پر جب پوری دنیا کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔ جب دنیا میں جاری محاذ آرائیوں کی شدت پہلے سے کہیں کم ہوگئی ہے۔ اس وقت تبت اور لداخ کے سرد علاقوں میں منجمد مسائل
مزید پڑھیے


افغانستان میں امن کا خواب

جمعه 22 مئی 2020ء
عمر قاضی
کورونا کی وجہ سے دنیا میں اکثر سرگرمیاں رک گئی ہیں مگر افغانستان میں چلنی والی گولیوں اب تک نہیں رکیں۔آپ کہہ سکتے ہیں بدامنی کا باعث بننے والی گولیوں کی شدت کم ہوئی ہے مگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ افغانستان امن کی آغوش میں سما چکا ہے۔ افغان امن معاہدہ کسی سیاسی معجزے سے کم نہیں۔ اس معاہدے میں پاکستان کے اہم کردار سے کوئی قوت انکار نہیں کر سکتی۔ مگر یہ بات پاکستان بھی جانتا ہے کہ اگر افغان طالبان اس معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو یہ معاہدہ کسی بھی صورت میں پایہ تکمیل تک
مزید پڑھیے


حرص اور حکمرانی

جمعه 15 مئی 2020ء
عمر قاضی
حرص حکمرانی کا لازمی حصہ رہتا آیا ہے۔ میاں نواز شریف کو معلوم تھا کہ جام صادق کو حکمران بنانا کسی بھی طور سے جمہوری عمل نہیں ہے مگر ہر حکمران چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اقتدار اس کے ہاتھوں میں ہونا چاہئیے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر رکھنے جیسی ہے کہ جب میاں نواز شریف کو پرویز مشرف نے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ روانہ کیا تھا اس وقت سندھ کی حکومت اس غوث علی شاہ کے ہاتھ میں تھی جس سے اب میاں نواز شریف ہاتھ بھی نہیں ملاتے۔ سیاستدان تو بچوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ایک سیاستدان کی
مزید پڑھیے


جہاں کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہے

جمعه 08 مئی 2020ء
عمر قاضی
گاؤں کی کچی مسجد اور اس سے اٹھنے والی مغرب کی آذان اپنے آشیانوں کی طرف اڑتے پرندے اور گھاس پھونس سے بنے ہوئے گھروں سے نکلتا ہوا دھواں!! یہ کسی کالم کی ابتدا کم اور کینوس پر بنی ہوئی پینٹنگ زیادہ لگتی ہے۔ مگر یہ تصوراتی اور محض خیالی نقش نہیں۔ ہم جن کی جڑیں اب تک گاؤں کی گیلی مٹی میں ہیں۔ ہم جو شہروں میں اجنبی بن کر رہتے ہیں۔ ہم جو کاروں میں سفر کرتے ہیں۔ ہم جو دفاتر میں بیٹھتے ہیں۔ ہم جو ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں سوتے ہیں۔ ہم سب جو سفید بالوں میں
مزید پڑھیے


کھلتے ہیں گل یہاں؛ کھل کے بکھرنے کو!

جمعه 01 مئی 2020ء
عمر قاضی
جب میڈیا کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ یکسوئی کا شکار ہوگیا ہے تب وہ بھی اپنا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میڈیا حالات کا قیدی ہے۔ وہ منظر کو تبدیل تو نہیں کرسکتا مگر زاویے میں تھوڑی بہت تبدیلی اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔ اس لیے کبھی کبھار حالات پر تبصرہ کرنے کے لیے میڈیا نجومیوں کو بھی بلاتا ہے اور معاشرے کے ان عناصر کی رائے بھی سنتا اور سناتا ہے جن کو عام طور پر قبول نہیں کیا جاتا مگر پھر بھی مجبور لوگ ان کو اپنا مسئلہ بتاتے ہیں اور ان سے
مزید پڑھیے