BN

عمر قاضی


سائیں! زخم پر نمک مت چھڑکیں


حکومت سندھ نے حالیہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے وفاق سے مشاورت کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر کے بازاروں کو رات نو بجے اور شادی ہالوں کو رات گیارہ بجے بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ بجلی اور بجٹ کے بعد پیدا ہونے والی مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ مہنگائی کو اس طرح کنٹرول کرنا توبالکل ایسے ہے جیسے کبھی امیر لوگ برگر بچوں کے ساتھ ایک جیسے کپڑے پہن کر واک Walk کرکے ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سندھ کا بڑا مسئلہ یہ ہے ہمیں ایک سائیں کے بعد
پیر 20 جون 2022ء مزید پڑھیے

سوشل میڈیا کے مقتولین

پیر 13 جون 2022ء
عمر قاضی
عامر لیاقت حسین اب ہم میں نہیں رہے۔ ان کی پوری زندگی جس طرح ڈرامائی انداز میں گذری ان کی موت بھی اس انداز سے ہوئی۔ وہ صرف پرکشش ہی نہیں بلکہ بیحد پراسرار شخصیت کے حامل تھے۔ ان کی موت پر اب تک پراسرایت کی پرچھائیاں لہرا رہی ہے۔ اگر ان کا خاندان اجازت دیتا اور ان کا پوسٹ مارٹم ہوتا تو ان کی موت کا سبب بھی سامنے آجاتا مگر اب اس راز پر پردہ خاک پڑ گیا ہے۔ انہیںعبداللہ شاہ غازی کے مزار کے صحن میں دفن کیا گیا۔ وہ ایک مقبول شخصیت تھے۔ ان کے چاہنے
مزید پڑھیے


سیاست: امانت سے خیانت تک

پیر 06 جون 2022ء
عمر قاضی
ماضی کو یاد کرکے ماتم کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان حال پر کبھی خوش نہیں رہتا۔ سرشت میں ناشکری شامل ہے۔ ممکن ہے کہ یہ بات سچ ہو۔ اس سچ کو ثابت کرنے کے لیے بہت ساری مثالیں بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ لیکن دو چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اگر ہم ماضی کا ماتم نہ کریں تو خود ہمارا شعور بھی شکوہ کرے گا۔ ایک بات یہ ہے کہ ہم نے سائنسی ترقی کے اس سفر میں جتنا نقصان کرہ ارض کا کیا ہے، وہ جرم آنے والی
مزید پڑھیے


سندھ :پ پ پریشان ہے

پیر 30 مئی 2022ء
عمر قاضی
جس طرح سردیوں کے موسم میں پہاڑی علائقوں کے بہتے ہوئے پانی کے چشمے اوپر سے جم جاتے ہیں مگر نیچے سے پانی پھر بھی رواں دواں رہتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال ہے ،سندھ کی اس نمائندہ پارٹی کا۔جس کا نام پیپلز پارٹی ہے۔ وہ پیپلز پارٹی جس کے جادوگر سربراہ نے تھیلے سے وفاقی حکومت نکال کر دکھائی۔ جس نے دربدر پھرتے ہوئے اور قائم مقدمات سے ڈرتے ہوئے پاکستان کے سیاستدان کو نہ صرف ملک کا وزیر اعظم بنادیا بلکہ اس کے بیٹے کی وزیر اعلی پنجاب بننے کی آس بھی پوری کردی۔ اگر ان حالات میں
مزید پڑھیے


کہاں کا سفر ہے؟

پیر 23 مئی 2022ء
عمر قاضی
ملکی سیاست جس موڑ سے گذر رہی ہے اس کو اگر سیاسی سیلاب سے تشبیہ نہ دی جائے تو پھر اس کو کیا کہا جائے؟ اس وقت معلوم نہیں ہوتاکہ آنے والے دن میں کیا ہونے والا ہے۔ سیاسی بے یقینی کا ایسا عالم ہے کہ ملک تاریخ نے اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا۔ کوئی کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ کیوں کہ کون جانے کہ کہاں سے کب کون سا فرمان آجائے؟ اس عالم میں یہ بھی بڑی بات ہے کہ افواج پاکستان نے اس بات کا اعلان متعد بار دہرایا ہے کہ فوج کو سیاست میں
مزید پڑھیے



سیاسی بریانی یا اقتداری پلاؤ

پیر 16 مئی 2022ء
عمر قاضی
وہ ایک حیرت ناک شام تھی۔ جس شام کراچی کے صحافیوں کوصرف اطلاع نہیں بلکہ دعوت بھی دی گئی کہ آج آپ کو سابق صدر زرداری نے پریس کانفرنس کے لیے مدعو کیا ہے۔ یہ اطلاع ملتے ہی صحافیوں نے چینلوں اور اخبارات کے ایڈیٹرز سے رابطہ کیا اور یہ عجیب خبر ان تک پہنچانے کے بعدانہوں نے اپنے آپ سے پوچھنا شروع کیا کہ آصف زرداری نے اتنے برسوں کے بعد انہیں کیوں یاد کیا ہے؟ اس سوچ میں ڈوبے انہوںنے اپنے موبائل فون پر وہ سوالات بھی لکھنے شروع کیے جو ان سے پوچھے جا سکتے تھے۔ کراچی کے
مزید پڑھیے


پانی رے پانی ۔۔۔

پیر 09 مئی 2022ء
عمر قاضی
جس طرح صبح قریب ہونے پررات کا پل بہت زیادہ سیاہ نظر آتا ہے۔ اسی طرح جب گرمیوں میں پہاڑوں سے پانی چل پڑتا ہے تب میدانی علاقے پیاس کا عجیب منظر پیش کرتے ہیں۔ اس وقت سندھ میں پانی کی قلت اس قدرشدت اختیارکر چکی ہے کہ پورے صوبے سے پکار آر رہی ہے کہ ’’پانی دو‘‘ مگر حکومت کرنے والے وڈیرے سب سے پہلے اپنی زمینوں کو آباد کرتے ہیں۔ اس کے بعد اپنے فش فارمز بھرتے ہیں۔ پھر کہیں انہیں غریب آباکاروں کا خیال آتا ہے۔ وہ آبادکار غریب سمجھے جاتے ہیں جن کی سیاسی پشت
مزید پڑھیے


بین الاقوامی چوراہا

پیر 02 مئی 2022ء
عمر قاضی
جھگڑے کس گھر میں نہیں ہوتے؟اختلاف کس خاندان میں نہیں؟ تضادات ہر معاشرے میںموجود ہواکرتے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم گھر کے جھگڑے گلی میں لے آئیں۔ خاندان کا اختلاف جب شہر کا ایشو بن جاتا ہے تب بہت برا محسوس ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح جب ہماری ملکی سیاست کے تضادات عالمی سطح کے اشتہار بن جاتے ہیں تب کرنے والوں کو نقصان کم اور ملک کی بدنامی زیادہ ہوتی ہے۔ آج کل وطن عزیز کے حوالے سے جو کچھ ہورہا ہے اس پر صرف دشمن ہی خوشی محسوس کرسکتا ہے۔ پاکستان کی سیاست
مزید پڑھیے


سلگتا ہوا سندھ

پیر 25 اپریل 2022ء
عمر قاضی
سندھ کا موجودہ موسم گرم لو کا ہے۔ میں سیاسی موسم کی بات نہیں کر رہا۔ گرمیوں میں سیاست کا موسم تو ویسے بھی سرد ہوا کرتا ہے۔ سردیوں میں سیاست گرم ہوجایا کرتی ہے اور گرمیوں میں اس کا درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے۔ جب کہ فطرت کا موسم الگ ہے۔ وہ حقیقی بھی ہے اور ضروری بھی ہے۔ یہ وہ موسم جس میں گرم ہواؤں میں صرف آم نہیں انسان بھی پکتے ہیں۔ آپ اگر اندرون سندھ میں ایک چکر لگائیں تو آپ کو گورے لوگ بھی موسم کی وجہ سے سانولے نظر آئیں گے۔ یہ حقیقت ہے
مزید پڑھیے


جعلی جمہوریت

پیر 18 اپریل 2022ء
عمر قاضی
’’بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے اچھی ہے‘‘ مجھ کو معلوم نہیں ہے کہ یہ قول کس کا ہے۔ یہ قول سننے میں اچھا لگتا ہے۔ مگر وہ چیز جو سننے یا دیکھنے میں اچھی لگے ضروری نہیں کہ وہ اچھی ہو۔ اچھا ہونے اور اچھا دکھنے میں بہت فرق ہے۔ ویسے بھی اردو کہاوت ہے ’’دور کے ڈھول سہانے‘‘ مغرب میں بجنے والے ڈھول ہمارے لیے ہمیشہ پرکشش رہے ہیں۔ مغرب اگر جمہوریت کے گن گاتا ہے، تو اس سے پوچھا جائے کہ وہ اپنے ملک کے علاوہ دنیا میں جمہوریت کا طرفدار ہے یا نہیں؟ اگر مغرب جمہوریت کا
مزید پڑھیے








اہم خبریں