عمر قاضی

گورنر ہاؤس کی دیوار پر

جمعرات 09  اگست 2018ء
سندھ کے نئے گورنر کے لیے سب سے پہلے ممتاز بھٹو کا نام آیا۔ سوشل میڈیا پر یہ اسٹیٹس زخمی پرندے کی طرح کچھ دیر تک پھڑپھڑاتا رہا اور پھر خاموش ہوگیا۔ ویسے بھی سوشل میڈیا پر خبروں سے زیادہ خواہشات کا اظہار ہوتا ہے۔ معلوم نہیں یہ خواہش کس کی تھی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں سندھ کا گورنرذوالفقار علی بھٹو کا وہ ٹیلینڈ کزن بنے جس کی گزشتہ چار دہائیوں سے پیپلز پارٹی کی کسی بھی لیڈرکے ساتھ نہیں بنی۔ ممکن ہے کہ یہ بات ممتاز بھٹو کے کسی چاہنے والے نے فیس بک پر فیڈ کی
مزید پڑھیے


کھڑی نیم کے نیچے

منگل 07  اگست 2018ء
کرشنا کولہی تو پاکستان کی پہلی دلت سینیٹر بن چکی ہے۔ وہ عورت جس کا بچپن وڈیروں کی نجی جیلوں میں گزرا۔ وہ عورت جس نے تعلیم اس طرح حاصل کی جس طرح کوئی جدوجہد کرتا ہے۔ وہ اپنے گھر سے بہت دور تک پیدل جاتی تھی۔ وہ اپنی کمیونٹی کے لوگوں کے طعنے سنتی تھی۔ اسے ہر طریقے سے مایوس کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہ عورت جس نے جوانی میں رسول بخش پلیجو کے انقلابی لیکچرز سنے۔ وہ عورت جس نے سیاسی تعلیم اور تربیت کو این جی اوز کی ابھرتی ہوئی دنیا میں پیش کیا تو اسے
مزید پڑھیے


ایک انار سو بیمار

جمعه 03  اگست 2018ء
حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو سندھ میں اتنی کامیابی حاصل ہوئی ہے جتنی اسے توقع بھی نہیں تھی۔ اس بار تو پیپلز پارٹی انتخابی مہم کے دوراں سخت پریشان تھی۔ جس طرح سندھ کے نوجوان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کا احتساب کر رہے تھے؛ اس کے ڈر سے پی پی کے مضبوط امیدوار بھی کارنر میٹنگز میں جانے سے گھبرا رہے تھے۔ جس رات انتخابات کے نتائج کا اعلان ہو رہا تھا اس رات پیپلز پارٹی کے کہنہ مشق امیدوار بھی کانپ رہے تھے۔ مگر جب مجموعی نتائج کا اعلان ہوا تب پیپلز پارٹی کے خاموش حلقوں میں خوشی
مزید پڑھیے


سندھ نے پیپلز پارٹی کا انتخاب کیوں کیا؟

اتوار 29 جولائی 2018ء
پاکستان میں تبدیلی کے ترانے گائے جا رہے ہیں۔ ان نئے گیتوں کی گونج کراچی کی فضاؤں میں بھی لہرا رہی ہے۔ عمران خان کی صورت ایک نیا دور شروع ہونے کو ہے۔ مگر سیاست کی اسٹیج پر اس بار بھی سندھ کے ہاتھ میں پیپلز پارٹی کا پرانا پرچم ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار پریشان ہیںکہ سندھ میں وہ تبدیلی کیوں نہیں آئی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی سے ہارنے والے اب تک حیران ہیں۔ انہیں اب تک اپنی ہار کا یقین نہیں ہو رہا ۔ سب کا خیال تھا کہ اس بار سندھ
مزید پڑھیے


تنگ گھیرے میں گھری پیپلز پارٹی

جمعه 20 جولائی 2018ء
سندھ میں اس بار صرف دلچسپ نہیں بلکہ سنسنی خیز حد تک دلچسپ انتخابات کے امکانات پیدا ہوچکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ان امیدواروں کو تو پریشانی لاحق ہونا تھی جن کا خیال تھا اس بار بھی جیئے بھٹو کا نعرہ لگے گا اور کامیابی ان کے قدم چوم لے گی مگر پیپلز پارٹی کے جو ہوشیار امیدوار تھے انہوں نے سب کچھ پارٹی قیادت پر نہیں چھوڑا ۔ انہوں نے بغیر بڑی تشہیری مہم کے اپنے حلقوں میں کافی حد تک کام کروائے اور حلقے کے ووٹرز کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھا مگر اس بار سندھ میں پیپلز
مزید پڑھیے


دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

پیر 16 جولائی 2018ء
ملک کی فضاؤں میں سانحہ مستونگ کی غمزدہ مہک ابھی تک موجود ہے۔ یہ بات ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ ایک بیگناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ مستونگ میں تو 133 انسان لقمہ اجل بنے۔ بات صرف ایک سردار کی نہیں ہے۔ بلوچ معاشرے میں سردار کی بہت بڑی حیثیت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کا سسٹم بھی سرداروں کو بڑی عزت دیتا ہے۔ نواب زادہ سراج رئیسانی کی نماز جنازہ میں آرمی چیف کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ملکی نظام میں سرداروں کو خاص اہمیت سے دیکھا جاتا ہے۔ مگر میں ان
مزید پڑھیے


کیا خواب دیکھنے کے لیے رات کافی نہیں؟

جمعه 13 جولائی 2018ء

ذوالفقار علی بھٹو دانائی اور دیوانگی کا عجیب سنگم تھے۔ کہتے ہیں کہ جب وہ جیل میں تھے؛ تب انہوں نے ایک بار بیگم نصرت بھٹو کے سامنے جذباتی تقریر کرتے ہوئے ان سے کہا تھا کہ ’’میری پارٹی کے کارکنوں سے کہو کہ وہ عوام سے مل کر پورے ملک کا سسٹم روک دیں۔ جنرل ضیاء کا مارشل لا عوامی مزاحمت کا سامنا نہیں کرسکتا۔ جب عوام سیاسی کارکنوں کے ساتھ مل کر نکلیں گے تب کوئی قوت انہیں روک نہیں پائی گی۔۔۔۔!!‘‘ ذوالفقار علی بھٹو اپنے مخصوص انداز میں بولتے گئے۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ چپ
مزید پڑھیے


تاریخ کے کٹہرے میں!!

پیر 09 جولائی 2018ء
سوشل میڈیا پر یہ الفاظ پڑھ کر بہت افسوس ہوا کہ ’’جتنے لوگ ذوالفقار علی بھٹو کی نماز جنازہ میں شریک تھے اتنے لوگ تو میاں نواز شریف کے لیے بھی احتجاج کرتے نظر آئے‘‘ تاریخ تلخ تحریروں کا مجموعہ ہے۔ تاریخ بڑی سے بڑی بات بھی اپنے سینے میں سماسکتی ہے۔ تاریخ کی برداشت بہت بڑی قوت ہوتی ہے۔ مگر تاریخ ایک غلط بات کو برداشت نہیں کرسکتی اور یہ بات غلط ہے کہ نواز شریف کو ملنے والی سزا پر نظرنہ آنے والے ردعمل کا موازنہ ذوالفقار علی بھٹو کی نماز جنازہ سے کیا جائے۔ اس قسم کی
مزید پڑھیے


سازش کی تیلی اور سیاست کاسوکھا جنگل

جمعه 06 جولائی 2018ء
لیاری میں بلاول بھٹو زرداری کے جلوس پر جو پتھرپھینکے گئے ان پتھروں نے پیپلز پارٹی کے سارے امیدواروں کو جذباتی طور پر زخمی کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی کو سو فیصد یقین تھا کہ سندھ پر دس برس بری حکومت کرنے کے باوجود جب وہ بلاول بھٹو کو میدان میں اتارے گی تو اس نوجوان کے فریم میں بینظیر بھٹو کی تصویر دیکھ کر عام طور پر پاکستان اور خاص طور پر سندھ کے لوگ سب کچھ بھول جائیں گے۔ سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں میں وہی سیاسی دیوانگی کے مناظر دکھائی دینگے۔ جس طرح اقتدار میں آنے سے پہلے
مزید پڑھیے


سندھ کا انتخابی منظرنامہ

هفته 30 جون 2018ء
وہ ایک کامیاب وکیل تھے اور عمر میںہم سے بڑے تھے مگرہم سے بے تکلفی سے ملا کرتے تھے۔ ہمیشہ ہنستے ہنساتے رہتے تھے۔ پرانے لطیفے نئے انداز میں سنانے کے آرٹسٹ تھے۔ انہیں دیکھ کر ہمیشہ یہ خیال آتا کہ اگر یہ ہمارے نوجوان بزرگ اپنی وکالت کی عزت اور دولت انتخابی معرکوں میں اس طرح بیدردی سے نہ لٹاتے تو معتبر شخصیت کے مالک بن جاتے۔ مگر موصوف پورے پانچ برس محنت سے وکالت کرتے اور جب بھی انتخاب کا موسم آتا تو وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑے ہوتے اور برسوں کی کمائی ہفتوں میں اڑا
مزید پڑھیے