BN

عمر قاضی


متبادل کا منتظر


اسلام آباد یا لاہور یا پشاور میں اب جو کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ ’’سیاسی طور پر سندھ کیا کر رہا ہے؟‘‘ تو میں بڑی اداس مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتا ہوں کہ ’’انتظار‘‘۔ جو دوست جلدی میں ہوتا ہے وہ مزید نہیں پوچھتا اور جن کو جلدی نہیں ہوتی وہ پوچھتے ہیں ’’کس کا انتظار‘‘ تو میں کہتا ہوں ’’متبادل کا‘‘ ۔جب مجھ سے پوچھا جاتا ہے ’’کس کا متبادل‘‘ میں کہتا ہوں ’’پیپلز پارٹی کا متبادل‘‘۔ میرے اکثر غیر سندھی دوست یہ جواب سن کر ذرا حیران ہوجاتے ہیں اور کچھ پریشان ہوکر پوچھتے ہیں کہ ’’کیا
جمعه 25  ستمبر 2020ء

کراچی ہم سب کا ہے

جمعه 18  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
کراچی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔ اس کمیٹی کا آفیشل نام اب صوبائی رابطہ اور عمل درآمد کمیٹی (PCIC)ہے۔ یہ کمیٹی کراچی کے زخموں کی کتنی رفوگری کرتی ہے؟ اس سوال کا جواب حال کے پاس نہیں۔ اس سوال کا جواب مستقبل ہی دے سکتا ہے کہ مذکورہ کمیٹی کراچی کو پھر سے قابل رہائش شہر بناسکتی ہے یا نہیں؟ پیپلز پارٹی پر جب بھی سیاسی دباؤ میں آتی ہے تب وہ سندھ کارڈ اٹھا لیتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہوا۔ مگر ملک چلانے والوں نے سندھ کی حکمران جماعت کو صاف الفاظ میں بتا دیا کہ
مزید پڑھیے


من چلے کا سودا

جمعه 11  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
اشفاق احمد کی برسی کتنی خاموشی سے گزرر گئی؟ بالکل دبے پاؤں۔ ایسی چال سے کہ کسی کو پتہ تک نہ چلے۔ بے آواز۔ وہ خود چاہتے بھی یہی تھے۔ ان کو خوامخواہ کا شو رشرابا پسند بھی نہیں تھا۔ انہوں نے تو زندگی بھی خاموشی سے گزاری۔ ان کی یہ تمنا تھی کہ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوں تو انہیں چالیس توپوں کی سلامی دی جائے۔ وہ انتہائی سادہ اور پروقار انسان تھے۔ وہ صحیح معنی میں مہذب شخص تھے۔ مہذب انسان کی ایک پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کو زیادہ شور پسند نہیں ہوتا۔ان
مزید پڑھیے


کراچی کے وائٹ کالر کرمنلز

جمعه 04  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
یہ مون سون اہلیان کراچی کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ بھیانک خواب حقیقت بن سکتے ہیں۔ کراچی والوں نے شہری سیلاب کا صرف نام سنا تھا۔ اس بار انہوں نے نہ صرف شہری سیلاب کو دیکھا بلکہ اسے بڑی تکلیف سے بھگتا۔ اس کالم میں راقم الحروف اس کراچی کی بات نہیں کر رہا جو تھوڑی سی بارش میں بھی ڈوب جاتا ہے۔ ہم کراچی کے ان نشیبی علاقوں کی بات نہیں کر رہے جو سطح سمندر سے نیچے ہیں۔ جہاں بجلی جانے کے بہانے تلاش کرتی ہے۔ وہ کراچی تو بارش کے بغیر
مزید پڑھیے


ہم کہ ٹھہرے اجنبی

جمعه 28  اگست 2020ء
عمر قاضی
کل ایک شخص کی 15ویں برسی تھی،ایک طرف وہ اپنے قبیلے کا سخت سردار تھا۔ دوسری طرف اس کی پارٹی کا نام ’’جمہوری وطن پارٹی‘‘ تھا۔ اب کوئی بتا سکتا ہے کہ جمہوریت اور سرداری کے درمیان کون سی چیز مشترک ہے؟ جمہوریت توسرداری اور جاگیرداری کی جڑ کو کاٹنا چاہتی ہے۔سردار اور جاگیردار جمہوریت سے فطری طور پر نہ صرف خائف ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنے عمل سے اس نظام کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ مگر اس شخص کو اپنی پارٹی کا یہ نام اچھا لگا۔ وہ شخص جس کی پارٹی بلوچستان تک محدود تھی۔وہ شخص جس کی
مزید پڑھیے



کراچی اور پیپلز پارٹی

جمعه 21  اگست 2020ء
عمر قاضی
ایک طرف اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی کی طرف مظاہرے ہو رہے تھے۔ ان مظاہروں میں شامل لوگ نعرے لگا رہے تھے کہ ’’کراچی پر قبضہ نامنظور‘‘ اور ’’وفاق والو کراچی سندھکاہے‘‘ اور دوسری طرف سوٹ اور ٹائی میں ملبوس سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کر رہے تھے۔ حالانکہ انہیں یہ موقع بھی حاصل تھا کہ مذکورہ ملاقات کے لیے وہ شانوں پر اجرک اور سر پر سندھی ٹوپی سجا کر جاتے مگر وہ جانتے تھے کہ اب اسلام آبادمیںسندھ کارڈنہیںچلتا۔ اس لیے انہوں نے نہ
مزید پڑھیے


قومی آزادی کا دن اور کاچھو کے کسان

جمعه 14  اگست 2020ء
عمر قاضی
آج 14 اگست کا دن ہے۔ پوری قوم آزادی کی خوشیاں منا رہی ہے۔ اس قومی مسرت کے دن پر ہماری قوم کے کچھ حصے ایسے بھی ہیں جو بہت اداس اور بیحد غمگین ہیں۔ وہ لوگ بھی اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مل کر قومی عید منانا چاہتے ہیں مگر وہ مجبور ہیں۔ اس قومی دن کی خوشیوں میں ہمیں اپنے اداس اور مایوس ہم وطنوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ اپنی قوم کے غمگین لوگوں میں وادی مہران کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ہمارے میڈیا نے ہمیں مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔
مزید پڑھیے


کچرے کی سیاست

جمعه 07  اگست 2020ء
عمر قاضی
کراچی میں بارش شہری سیلاب کی صورت اختیار کر گئی توشہریوں نے سوشل میڈیا ان و یڈیوز سے بھر دیا جس میں نہ صرف گلیوں میں گاڑیاں ڈوبی نظر آتی ہیں بلکہ گھروں میں فرنیچر بارش کے پانے میں تیرتا دکھائی دیتا ہے۔ وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ خوشی سے نہیں کیا کہ کراچی کے نالوں کی صفائی کا ذمہ NDMA کے حوالے کیا اور یہ احکامات بھی جاری کیے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کراچی کے نالوں کی صفائی کا کام فوج کی نگرانی میں کرے گی۔ کیوں کہ بات صرف گندے نالوں کو قابل نکاسی بنانے کی نہیں
مزید پڑھیے


بیروت نگار بزم جہاں

جمعرات 06  اگست 2020ء
عمر قاضی
اس رات کشمیر پر بھارت کے آئینی حملے کو پورا ایک برس گذر کیا تھا۔ اس رات میں کشمیرمیں بہنے والے لہو کے بارے میں سوچ رہا تھا۔اس رات میں سوچ رہا تھا کہ پوری دنیا اگر اپنے سیاسی اور معاشی مفادات میں قید ہے تو کم از کم مسلمان ممالک کو تو کشمیری لوگوں کے لیے کلمہ حق ادا کرنا چاہئیے۔ حالانکہ میں میں ذاتی طور پر کشمیر کو مذہبی معاملہ کم اور انسانی معاملہ زیادہ سمجھتا ہوں۔ میری نظر میں کشمیر وہ خطہ ہے جہاں انسانی حقوق کی جتنی دھجیاں اڑائی گئی ہیں؛ اتنی اور کہیں نہیں اڑائی
مزید پڑھیے


وہ صبح کب آئے گی؟

جمعه 31 جولائی 2020ء
عمر قاضی
جس دن ڈاکٹر ظفر مرزا اور تانیہ ایدروس نے استعفے دیے اس دن پاکستان کی حزب اختلاف کی خوشی کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ اپوزیشن کو اس بات پر مسرت تھی کہ حکومت کے دو اہم وکٹ گر گئے اور مجھے اس بات کا ملال تھا کہ یہ دو وکٹ عمران خان کے نہیں بلکہ پاکستان کے تھے۔ یہ دونوں اس ملک کے بچے ہیں۔ یہ اپنے مادر وطن کی خدمت کرنے کے لیے پرکشش ملازمتیں چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا اقوام متحدہ کے صحت والے شعبے میں ملازمت کر رہے تھے۔ تانیہ ایدروس گوگل جیسی
مزید پڑھیے