عمر قاضی



کیا سندھ کو ہنسنے کا حق نہیں؟


سوشل میڈیا میں سنجیدگی سے زیادہ غیر سنجیدگی کا راج ہے۔ سوشل میڈیا بہت بڑا میڈیا ہونے کے باوجود اپنی اس کمی کی وجہ وہ کردار ادا نہیں کرسکتا جس کردار کی موجودہ دور میں ہم سب کو بہت ضرورت ہے۔ اس بات کی اہمیت کو صرف ایک سینئر صحافی سمجھ سکتا ہے کہ کسی خبر کا فوری طور پر منظرعام پر آنا کیا ہوتا ہے؟ کسی قلمکار سے زیادہ اس حقیقت سے اور کون آشنا ہوسکتا ہے کہ اس کو ایسا میڈیا میسر ہو جس پر پابندی کا بھوت نہ لہراتا ہو۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے اور
جمعه 22 مارچ 2019ء

بلاول پر بوجھ مت بڑھاؤ

جمعه 15 مارچ 2019ء
عمر قاضی
گذشتہ روز سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کافی تیار نظر آئے۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ اب تک لکھ کر دیے گئے نوٹس کی انگلی پکڑ کر بولتے ہیں مگر برسوں کی محنت اب ان کے انداز سے جھلکنا شروع ہوئی ہے۔ آصف زرداری کو اس دن کا انتظار تھا۔ اب آصف زرداری پیچھے بیٹھ کر سیاسی کھیل کھیلنے لگے ہیں۔ آصف زرداری کو معلوم ہے کہ پاکستان کی سیاست میں بڑی جماعتوں کی قیادت اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے وہ اپنے صاحب زادے کو آگے لا نے
مزید پڑھیے


آخرِشب کے ہم سفر

جمعه 08 مارچ 2019ء
عمر قاضی
کچھ لوگوں کی شخصیت ایسے پھولوں کے مانند ہوتی ہے جو پھول ان کے موت کے بعد زیادہ مہکتے ہیں۔ اس شاعرانہ سی بات کو ہم اس طرح بھی بیان کرسکتے ہیں کچھ لوگوں کو دنیا جانے کے بعد پہچانتی ہے۔ ایسی ہی بات کو شاہ عبد الطیف بھٹائی نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے : ’’ان لوگوں نے اپنے تن پر چاہت کی چادر ڈال دی وہ ایسے لوگ تھے جیسے اس دنیا میں آئے ویسے ہی واپس لوٹ گئے ایسے لوگوں کی بلندی بہت دنوں کے بعد نظر آئے گی‘‘ جس قسم کے انسانوں کی بات ہم سوچ رہے ہیں ایسے
مزید پڑھیے


جنگ اور امن

جمعه 01 مارچ 2019ء
عمر قاضی
جنگ ایک لفظ نہیں۔ جنگ لہو میں ڈوبی ہوئی ایک دنیا ہے۔ اس دنیا کو ہم اس طرح سے نہیں جانتے جس طرح اس دنیا میں رہنے والوں نے اس کو جانا ہے۔ اس لیے میں جب بھی جنگ کو سمجھنا چاہتا ہوں تب دوسری جنگ عظیم کے پس منظر میں لکھا جانے والا وہ ادب پڑھتا ہوں جس سے آج تک خون ٹپک رہا ہے۔اگر آپ جنگ کی ہولناکیوں کے بارے میں کچھ پڑھنا چاہیں اور یہ سمجھنا چاہیں کہ ’’جنگ کیا ہے؟‘‘ تب آپ کو سب سے پہلے اس ادب کا مطالعہ کرنا ہوگا جو مغربی دنیا کے
مزید پڑھیے


پیپلز پارٹی کے لیے پیغام

جمعه 22 فروری 2019ء
عمر قاضی
سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کے خلاف نیب کافی وقت سے تحقیق کر رہی تھی مگر ان کو اسلام آباد سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ہوٹل میں سکون سے سوئے ہوئے تھے۔ وہ لمحہ ان کے لیے ناقابل یقین تھا جب ان کے کمرے میں نیب کے افسران داخل ہوئے اور انہیں کہنے لگے کہ آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر نے اپنا ہاتھ موبائل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’میں اپنے گھر والوں کو اطلاع کروں‘‘ مگر نیب کے افسران سے ان کا موبائل اٹھا کر آف کردیا اور
مزید پڑھیے




خون خاک نشیناں

جمعه 15 فروری 2019ء
عمر قاضی
گذشتہ ہفتے کا سندھ بیحد اداس رہا۔ اس بار سندھ کا اجرک صرف آنسوؤںسے نہیں بلکہ اس دھرتی کے مظلوموں کے خون سے نم رہا۔ وقت کبھی نہیں ٹھہرتا۔ وہ ہفتہ تو گذر گیا ہے مگر اس ہفتے کی یادیں سندھ کے دل میں بھرے ہوئے زخموںکے نشانوں کی طرح ہمیشہ نظر آتی رہیں گی۔ یہ ہفتہ کس قدر سست اور کس قدر سفاک تھا۔ اس ہفتے سندھ کے سوشل میڈیا پر ماتم برپا رہا۔ اس ہفتے سندھ کی آنکھیں مظلوم انسانوں کی لاشوں سے بھری رہیں۔ اس لیے اس بار اگر سندھ نے اپنا کوئی سیاسی اظہار بھی کیا
مزید پڑھیے


’’چلو پھر سے مسکرائیں‘‘

جمعه 08 فروری 2019ء
عمر قاضی
سندھ کا وہ گورنر ہاؤس جہاں ایم کیو ایم کا گورنر ایلفی کی طرح چودہ برس تک چپکا رہا‘ اس گھر میں جو سازشوں کا تعفن موجود تھا اس کو صاف کرنے کے لیے اس ہاؤس میں ایک عدد ادبی میلے کا انعقاد ضروری تھا۔ اپنے شہر اور اپنے صوبے بلکہ اپنے ملک کے لیے یہ قربانی امینہ سید اور آصف فرخی نے دی۔ ہماری سیاست اور ہمارے ادب میں وقت کے ساتھ جو فاصلہ پیدا ہوگیا ہے اس کو ختم کرنا کسی سرکار کے بس کی بات نہیں۔ سیاست میں سچائی تو کیا سنجیدگی کا بھی فقدان ہے۔ جب
مزید پڑھیے


سیاسی جمود اور جذباتی بہاؤ

جمعه 01 فروری 2019ء
عمر قاضی
شریف برادران کی گرفتاری کے بعد آصف زرداری کی اسیری متوقع تھی مگر نامعلوم وجوہات کے باعث ہماری سیاست جمود کا شکار ہوگئی ہے۔ سیاسی جمود کے باعث میڈیا ویران اور سیاسی مبصر پریشان ہیں۔ ہماری ملکی سیاست کا موجودہ منظر ایسا ہے جیسا یورپ اور کینیڈا میں پانی کے تالابوں اور جھیلوں کا جن کی سطح برف آب بن جاتی ہے مگر ان کے نیچے آبی زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ جب کہ ہم اپنے ملک کے سیاسی جمود کے بارے میں یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ سیاست کے اس جم جانے والے پانی کے نیچے
مزید پڑھیے


کشمکش

جمعه 25 جنوری 2019ء
عمر قاضی
آصف زرداری کو آج بھی انتظار ہے کہ اس کواچانک اطلاع مل سکتی ہے ’’صاحب! آپ کے جانے کا وقت آگیا ہے،، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی گرفتاری عمل میں کیوں نہیں آ رہی؟آصف زرداری اور اس کی گرفتاری کے درمیاں قربان ہونے والے بکروں کی قطار نہیں ہے۔ آصف زرداری کافی وقت پہلے گرفتار ہو چکے ہوتے مگر ان کی گرفتاری عمل میں نہ لانے والے دونوں محاذوں پر ایک وقت میں جنگ شروع کرنا نہیں چاہتے۔ ان کا خیال تھا کہ پہلے نواز لیگ کا محاذ ذرا ٹھنڈا ہوجائے اس کے بعد پیپلز پارٹی
مزید پڑھیے


دو دیپ بجھے

جمعه 18 جنوری 2019ء
عمر قاضی
کل سترہ جنوری کا سرد دن تھا۔ اس دن سندھ کے قوم پرست اور ترقی پسند حلقوں میں ایک طرف خوشی منائی جاتی ہے اور دوسری طرف آنسو بہائے جاتے ہیں۔ سترہ جنوری کا دن وہ دن تھا جس دن اس جی ایم سید نے جنم لیا تھا جو آخری ایام میں تو قوم پرست بن گئے تھے مگر ان کی پہچان صرف جیئے سندھ نہیں ہے۔ یہ وہ شخص تھے جنہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں جوانی کے سیاہ بال سفید کیے۔ یہ وہ شخص تھے جنہیں قائد اعظم سے والہانہ محبت تھی۔ انہوں نے خود اپنی یاداشتوں
مزید پڑھیے