BN

عمر قاضی


سفاک سیاست


اردو زبان کے دانشور شاعر ن م راشد نے اپنی ایک نظم میں لکھا ہے: ’’یہ منفی زیادہ ہیں انسان کم‘‘ آج میں ان لوگوں کے بارے سوچنے بیٹھا تو میرے ذہن میں وہ سیاستدان گھر آئے جو بظاہر عوامی باتیں کرتے ہیں۔ جو جمہوریت کے عشق میں دیوانے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ اب تو اس قوم کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ان کو ’’مرض اقتدار‘‘ لاحق ہے۔ وہ بہت بڑا خطرناک مرض ہوتا یہ۔ تخت پر بیٹھنے کے لیے یہ لوگ کبھی تختے کی زینت بھی بن جاتے ہیں اور پھر ان اقتدار پرستوں کو بت بنا کرپوجا جاتا ہے۔ ہماری
جمعه 27 نومبر 2020ء

علیشاکی کہانی

جمعه 20 نومبر 2020ء
عمر قاضی
گیت نگار اور فلمساز گلزار کا ایک کردار کتنی تکلیف سے کہتا ہے کہ ’’پونا سے لیکر موہن جو داروتک ایک لمبی سانس لینا چاہتی ہوں‘‘۔ جب انسان شدید گھٹن کا شکار ہوتا ہے تو اس کو اس قسم کے خیالات آتے ہیں۔ جب قصور میں بے قصور اور معصوم زینب زیادتی کے بعد قتل کی گئی تھی اور میڈیا میں اس قدر شور مچا تھا کہ پورے ملک کے حساس انسانوں نے اپنا دم گھٹتا محسوس کیا تھا۔ وہ کیفیت ایک بار پھر اس ملک کے انسانوں نے اس وقت محسوس کی جس وقت پانچ برس کی چھوٹی سی
مزید پڑھیے


یہ کمپنی کب تک چلے گی؟

جمعه 13 نومبر 2020ء
عمر قاضی
مولانا فضل الرحمان اب تک پی ڈیم میں شامل جماعتوں کو اس بات کا قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: چلے تو کٹ ہی جائے گا سفرآہستہ آہستہ ہر مرد پیر کے مانندان کو کوئی خاص جلدی نہیں ہے ۔ مگر ہر نوجوان کی طرح بلاول بہت عجلت میں ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس ابھی بہت وقت ہے ۔مگر جوانی دیوانی ہوتی ہے۔ اس کو اس بات کا احساس کہاں ہوتا ہے کہ ’’صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے‘‘ سفید بالوں اورسیاہ بالوں میں سادہ سا فرق یہ ہے کہ ایک جلدی میں ہوتا ہے اور دوسرے کا اصرار ہوتا ہے
مزید پڑھیے


میرے بھی صنم خانے……(2)

جمعه 06 نومبر 2020ء
عمر قاضی
ہمارا دور ا س قدر قحط الرجال سے گذر رہا ہے کہ ادیب ناپید ہوچکے ہیں۔ دانشور لو گ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمارامعاشرہ کس سیاسی کیفیت سے گذر رہا ہے۔ اور ادیب ہمیں سمجھاتے ہیں کہ معاشرہ کن مسائل کا شکار ہے اور ان مسائل کی وجہ سے سیاسی حالات نے کیا صورت اختیار کی ہے؟ میں ان ترقی پسند تبصرہ نگاروں کی عزت کرتا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ سیاسی حالات معاشرتی حالات پر اثرانداز ہوتے ہیں مگر یہ بات ادھوری ہے۔ پوری بات یہ ہے کہ صرف سیاسی حالات معاشرتی حالات پر اثرانداز نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی
مزید پڑھیے


سردی کا سکھ ، سردی کا دکھ

جمعه 30 اکتوبر 2020ء
عمر قاضی
سندھ میں اب بھی دن گرم ہیں مگر رات کو ٹھنڈ کی ہلکی سی لہریں اس صوبے کے غریب انسانوں کو پیغام دیتی ہیں کہ مایوس مت ہوجانا تمہارا موسم آ رہا ہے۔ سندھ میں موسم سرما عوام کا موسم ہے۔ یہ وہ موسم ہے جس میں غریب لوگ میلی سی چادر لپیٹ کر چلتے ہیں۔ جس میں پرانی رلی اوڑھ کر سوجاتے ہیں۔ اگر نیند نہ آئے تو گھاس پھونس کو آگ دیکر رات بھر اپنے ہاتھ پیر تاپ کر انتظار کی کیفیت کوکسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ گرمیوں میں انسان تو کیا چرند اور پرند بھی
مزید پڑھیے



اقبال کا کلام اور ملکی سیاست

جمعه 16 اکتوبر 2020ء
عمر قاضی
موسم خزاں تو اب آیا ہے مگر ہماری ملکی سیاست پر ایک عرصے سے پت جھڑ کے سائے ہیں۔ اب تو اس ملک کے عوام نے یہ پوچھنا بھی چھوڑ دیا ہے کہ بہار کب آئے گی؟ ملک سے سیاسی حالات جب بھی دگرگوں ہونے لگتے ہیں۔ اقتدار کی ہوس جب سیاستدانوں سے آنکھوں کا نور چھین لیتی ہے۔ جب ملک کو لوٹنے والے ملک کے مہربان ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ تب اس قلمکار کو اکثر یہ خیال آتا ہے کہ اگر موجودہ حالات میں علامہ اقبال ہوتے تو وہ کیا سوچتے اور کیا بولتے؟ کس قسم کے اشعار لکھتے؟
مزید پڑھیے


سیاست،ساحل اور جزیرے

جمعه 09 اکتوبر 2020ء
عمر قاضی
سندھ کی سیاست اس وقت جزیروں پر محدود ہوگئی ہے۔ وہ جزیرے جو کراچی کے ساحل سمندر سے اتنے دور ہیں کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے آپ کو کشتی میں پونے گھنٹے تک سفر کرنا پڑے گا۔ ان جزائر میں سب سے بڑے جزیرے کا نام ’’بھنڈار‘‘ ہے۔ بھنڈار آج نہیں بلکہ کافی وقت سے لینڈ مافیا کی آنکھوں میں تیر رہا ہے۔ وہ یہاں پر ایک مہنگا ترین شہر آباد کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ مشرف کے دور میں جب سندھ کا وزیر اعلی ارباب رحیم تھا، اس وقت بھی اس ایشو نے سر اٹھایا تھا
مزید پڑھیے


لسانی سیاست اور سچل سرمست

جمعه 02 اکتوبر 2020ء
عمر قاضی
سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایک بار پھر لسانی سیاست کی ہوا چل رہی ہے۔ ہم جیسے سادہ دل لوگوں نے سمجھا تھا کہ الطاف حسین کے بعد لسانی فتنے اپنے موت آپ مرجائیں گے مگر فتنے اب بھی جاری ہیں۔ سیاست کی بنیاد اب تک نفرت ہے۔ اس لیے آج نفرت کی سیاست کے بارے میں اچھے الفاظ کی توہین کرنے کے بجائے آئیں اور سندھ کے ایک عظیم صوفی شاعر سچل سر مست کے بارے میں بات کریں۔ سندھ ایک گدڑی ہے۔ اس گدڑی میں بہت سارے لعل ہیں۔ سندھ کے سب سے بڑے لعل لطیف سائیں ہیں۔ مگر
مزید پڑھیے


متبادل کا منتظر

جمعه 25  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
اسلام آباد یا لاہور یا پشاور میں اب جو کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ ’’سیاسی طور پر سندھ کیا کر رہا ہے؟‘‘ تو میں بڑی اداس مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتا ہوں کہ ’’انتظار‘‘۔ جو دوست جلدی میں ہوتا ہے وہ مزید نہیں پوچھتا اور جن کو جلدی نہیں ہوتی وہ پوچھتے ہیں ’’کس کا انتظار‘‘ تو میں کہتا ہوں ’’متبادل کا‘‘ ۔جب مجھ سے پوچھا جاتا ہے ’’کس کا متبادل‘‘ میں کہتا ہوں ’’پیپلز پارٹی کا متبادل‘‘۔ میرے اکثر غیر سندھی دوست یہ جواب سن کر ذرا حیران ہوجاتے ہیں اور کچھ پریشان ہوکر پوچھتے ہیں کہ ’’کیا
مزید پڑھیے


کراچی ہم سب کا ہے

جمعه 18  ستمبر 2020ء
عمر قاضی
کراچی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔ اس کمیٹی کا آفیشل نام اب صوبائی رابطہ اور عمل درآمد کمیٹی (PCIC)ہے۔ یہ کمیٹی کراچی کے زخموں کی کتنی رفوگری کرتی ہے؟ اس سوال کا جواب حال کے پاس نہیں۔ اس سوال کا جواب مستقبل ہی دے سکتا ہے کہ مذکورہ کمیٹی کراچی کو پھر سے قابل رہائش شہر بناسکتی ہے یا نہیں؟ پیپلز پارٹی پر جب بھی سیاسی دباؤ میں آتی ہے تب وہ سندھ کارڈ اٹھا لیتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہوا۔ مگر ملک چلانے والوں نے سندھ کی حکمران جماعت کو صاف الفاظ میں بتا دیا کہ
مزید پڑھیے