BN

عمر قاضی


سندھ کا سیاسی انتظار کب ختم ہوگا؟


ممتاز بھٹو کے بعد سندھ کے سابق وزیر اعلی لیاقت جتوئی نے بھی تحریک انصاف کو الوداع کہنے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ اگر لیاقت جتوئی کے خاندان کو سینیٹ کی سیٹ ملتی تو وہ پی ٹی آئی سے اپنے آپ کو الگ کرنے کا اعلان نہ کرتے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اب سندھ میں تحریک انصاف ایک چڑھتا ہوا نہیں بلکہ ڈھلتا ہوا سیاسی سورج ہے۔ جس طرح مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں سندھ سے تعلق رکھنے والے لیڈرز اور ورکز بہت پریشان تھے، اب وہی حال سندھ میں پی ٹی
اتوار 28 فروری 2021ء

اس جرم کی جڑ کہاں ہے؟

اتوار 21 فروری 2021ء
عمر قاضی
کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی روز کا معمول بن چکی ہے۔ معصوم بچیوں کے لیے وطن عزیز کا ہر شہر قصور بن چکا ہے۔ معلوم نہیں کہ کس بچی کا مقدر اس معصوم زینب جیسا بن جائے ۔ بچیوں کے ساتھ مجرمانہ کارروائیاں صرف ایک صوبے تک محدود نہیں۔ گذشتہ ہفتے سندھ میں دو بڑے واقعات سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئے۔ ایک معصوم بچی لاڑکانہ کی تھی۔ اس کا نام مرک تھا۔ سندھ میں مرک کا مطلب ہوتا ہے ،مسکراہٹ۔ وہ بچی جو مسکراہٹ تھی،اس کو ایک وحشی چیخ میں تبدیل کیا گیا۔ سندھ میں
مزید پڑھیے


عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب

اتوار 14 فروری 2021ء
عمر قاضی
اس وقت سندھ کا وہ حال تو نہیں کہ ہم’’کھنڈر کو دیکھ کر عمارت کے گن گائیں‘‘ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سندھ کی سیاست میں اب وہ شوخی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ جنرل ضیاء کے دور میں تو سندھ سیاسی طور پرآتش فشاں پہاڑ کی مانند تھا۔ اب سندھ کی سیاست کا وہ حال ہے جو علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں بیاں کیا ہے: آگ بجھی ہوئی ادھر ٹوٹی ہوئی طناب ادھر کیا خبر اس مقام سے گذرے ہیں کتنے کارواں ایک وقت ایسا تھا کہ سندھ کی جیلیں سیاسی قیدیوں سے چھلکتی تھیں اور یہ صرف جنرل
مزید پڑھیے


توجہ کے طالب

اتوار 07 فروری 2021ء
عمر قاضی
میانمار میں لگے مارشل لا نے ذہن میں اس سوال کو پھر سے تازہ کردیا کہ آمریت کے نفاذ میں سیاستدان کتنے ملوث ہوتے ہیں؟ ان سیاستدانوں کی لسٹ تو بہت لمبی ہے جو خود منتخب نہیں ہو سکتے،اس لیے حکومت کا حصہ بننے کیلئے انہیں کسی نہ کسی غیرجمہوری سرکار میں شمولیت کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ نہیں۔ ان سیاستدانوں کے بارے میں ہم بات نہیں کرتے۔ ہم ان سیاستدانوں کے سلسلے میں ایک بحث شروع کر رہے ہیں ،جو منتخب حکومت کے خلاف فوجیوں کو اقتدار میں آنے کی کھلم کھلا یا ڈھکی چھپی اپیل کرتے ہیں۔ ہم
مزید پڑھیے


دہلی میں بغاوت

اتوار 31 جنوری 2021ء
عمر قاضی
میر تقی میر نے کہا تھا: دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے میر تقی میر ویسے تو اردو کی پوری دنیا کے شاعر ہیں،مگران کا مسکن دہلی تھا۔وہاں ان کے دل کو سوز بھی حاصل تھا اور سکون بھی میسر ۔دہلی تاریخ کے اوراق میں اب تک بکھری ہوئی ہے۔ اس میںکون آیا،کون واپس گیا اورکون کون وہاں بس گیا؟اس سوال کا مکمل جواب تو اس تاریخ کے پاس بھی نہیں ہے، جو اب تک رقم ہو سکی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہلی کی تاریخ صرف بادشاہوں اور محلاتی سازشوں تک محدود
مزید پڑھیے



کمیلا ہیرس اور کشمیر

اتوار 24 جنوری 2021ء
عمر قاضی
امریکہ کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ ایک میلٹنگ پاٹ Melting Pot ہے۔ کس نے سوچا تھا کہ خاندانی طوپر پر فرانسیسی پس منظر رکھنے والے جو بائیڈن امریکہ کے 46 ویں صدر بنیں گے اور نائب صدر کمیلا ہیرس ۔ جس کی ماں بھارت میں پیدا ہوئی اور جس کے والد جیمیکا میں جنم لینے والے سیاہ فام شخص ہیں۔ جو بائیڈن کا پس منظر ایسا نہیں کہ اس پر ڈرامہ بن سکے مگر کمیلا ہیرس کی زندگی بہت فلمی ہے۔ وہ خاتون جو اس وقت 56 برس کی ہیں۔ جو بہت سرگرم ہیں۔ وہ سیدھے بالوں
مزید پڑھیے


منزل کہاں ہے تیری؟

اتوار 17 جنوری 2021ء
عمر قاضی
سیاست کا مورخ اگر سندھ کے حوالے سے دو چار نام لکھے گا تو ان ناموں میں اس کا نام بھی شامل ہوگا۔ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اگر سندھ کے سیاسی افق پر کسی کا نام آب و تاب سے چمکا تو وہ نام جی ایم سید کا ہی تھا۔ وہ جی ایم سید جس کی شناخت بعد میں پاکستان مخالف کی صورت میں ابھری، مگر وہ ہی تو شخص تھا جس نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔ جس وقت سندھ کے وڈیرے اپنی ذاتی عیاشیوں کی نیند میں ڈوبے ہوئے تھے اس وقت اس شخص نے سیاسی اور
مزید پڑھیے


بلوچستان؛ بھارت اور ارون دھتی رائے

هفته 09 جنوری 2021ء
عمر قاضی
میرے ٹیبل پر بھارت کی باصلاحیت اور بے باک رائٹر ارون دھتی رائے کی نئی کتاب ’’آزادی‘‘ رکھی ہے۔ میں اس خاتون کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں جس کی تحریر میں خوبصورتی بھی ہے؛ روانی بھی ہے اور سچائی بھی ہے۔ ارون دھتی رائے وہ ادیبہ ہے جس نے کشمیر کے لیے حق پرست آواز بلند کی۔ اس حق پرستی کے پاداش میں اس پر الزامات بھی عائد کیے گئے۔ اس کو پاکستان کی ایجنٹ بھی قرار دیا گیا۔ اس کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔ سوشل میڈیاپر اور بھارت کے الیکٹرانک میڈیا نے بھی اس خاتون کے خلاف شرمناک
مزید پڑھیے


مزار بینظیرپر دعائے مریم

جمعه 01 جنوری 2021ء
عمر قاضی
وہ 27 دسمبر کی سرد شام تھی۔ اس وقت لاڑکانہ کے چھوٹے سے گاؤں گڑھی خدابخش میں بینظیر بھٹو کی 13 ویں برسی تھی۔ بڑے اسٹیج پر پیپلز پارٹی کے ساتھ پی ڈی ایم کی قیادت بیٹھی ہوئی تھی۔ اس قیادت کو اور شیڈو کیا ہوا تھا اس مریم نواز نے جو زندگی میں پہلی بار لاڑکانہ آئی تھی۔ لاڑکانہ کا نام تو اس نے بہت سنا تھا۔ آج لاڑکانہ دیکھنے کی ان کی حسرت پوری ہو رہی تھی۔ اس دن مریم نواز کی آمدکے لیے لاڑکانہ کے میڈیا والے بہت پریشان تھے۔ حالانکہ اہلیان لاڑکانہ کو بھی معلوم تھا
مزید پڑھیے


شاعری کی شہزادی اور سیاست کی رانی

اتوار 27 دسمبر 2020ء
عمر قاضی
دسمبر اپنے ساتھ بہت ساری غمگین یادیں لاتا ہے۔ اس ماہ سرد کے حوالے سے میں نے سوچا تھا کہ اس مہینے کے حوالے سے جو کالم لکھوں گا وہ ان شخصیات کے حوالے سے ہوگا جو دسمبر میں ہم سے ہمیشہ کے لیے دور ہوگئیں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ دسمبر کے آخری ہفتے کی 26 اور 27 تاریخوں پر ہم سے وہ دو شخصیات بچھڑ گئیں جن سے ہم بہت پیار کرتے تھے۔ 26 تاریخ کو اسلام آباد کی ایک سڑک پر اردو شاعری کی رومانوی شہزادی پروین شاکر ہم سے ایک حادثے نے چھیں لی۔
مزید پڑھیے