عمر قاضی



کراچی کب سوچے گا؟


وہ کراچی اب کہاں جس کے دن رنگوں سے بھرے اور راتیں روشنیوں سے منور ہوتی تھیں۔وہ کراچی تو ساحل پر چہل قدمی جیسا تھا مگر اب وہ ساحلی شہر ہر طرح سے ایک سمندر بن چکا ہے۔انسانوں کا سمندر،ٹریفک کا سمندر اور جرائم کا سمندر۔ جس کراچی میں کبھی خوبصورت لوگ خوبصورت کتابیں خریدتے نظر آتے تھے، اب وہاں کپڑوں اور جوتوں کی دکانوں پر رش لگا رہتا ہے۔ کس قدر حسین ہوا کرتا تھا کراچی کا آسمان ،مگراب بلند عمارتوں نے اس آسمان کو چھپا لیا ہے۔ اب کراچی میں وہ مارو ماری اور قتل و غارت نہیں
جمعه 12 جولائی 2019ء

سیاست اور محبت کا سنگم

جمعه 05 جولائی 2019ء
عمر قاضی
گذشتہ چند دنوں سے سندھ کے سوشل میڈیا میں ایک شور برپا رہا ہے، ایسا شور اس وقت پیدا ہوتا ہے جب غم اور غصہ آپس میں مل جائیں۔ یہ شور اس وقت پیدا ہوا جب کراچی میں جی ایم سید کی قدیم رہائش گاہ ’’حیدر منزل‘‘ کی جگہ پر اپارٹمنٹ قائم کرنے کے لیے کرینوں کی تصاویر فیس بک پر بار بار اپ لوڈ ہونے لگیں اور جئے سندھ تحریک کے کارکنوں میں نے شدید احتجاج کیا کہ ان کے قائد کی اس تاریخی عمارت کو نہ گرایا جائے۔ جی ایم سید کی وہ جگہ خاندانی وراثت کے طور
مزید پڑھیے


سندھ : گرم موسم اور سرد سیاست

جمعه 28 جون 2019ء
عمر قاضی
وہ اکیس جون کا دن تھا۔ اس دن بینظیر بھٹو کی سالگرہ تھی۔ ان کی سالگرہ کا کیک کہاں کاٹا گیا؟ اس بارے میں میڈیا کو کچھ بھی معلوم نہیں مگر اس دن بلاول بھٹو زرداری نے اپنے کندھوں پراپنے والد آصف زرداری کی آزادی کا بہت بڑا بوجھ اٹھایا تھا ۔ اس دن کی گرم شام کو مزید گرمانے کے لیے پیپلز پارٹی کے بڑے لیڈرز موٹر سائیکلوں پر نواب شاہ کے راستوں پر چلتے دکھائی دیے۔ اس دن پوری پارٹی اور خاص طور پر نواب شاہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے وزیروں؛ مشیروں؛ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی
مزید پڑھیے


کرپشن کا بھاری بوجھ اور بلاول کے کمزور کندھے

جمعه 21 جون 2019ء
عمر قاضی
جن دنوں پیپلز پارٹی بلاول کے کندھوں پر کرپشن کے مقدمات میں قید والد اور پھوپھی کی تحریک آزادی کا بوجھ رکھ رہی تھی؛ ان دنوں میں ترکی کی مشہور ادیبہ ایلف شفق کا نیا ناول 10 Minutes, 38 Seconds in this Strange Worldپڑھنے میں مصروف تھا۔وہ ناول پڑھتے اور ٹی وی دیکھتے مجھے بار بار خیال آ رہا تھا کہ ترکی کی مغرب زدہ ناول نگار اور پیپلز پارٹی کے نوجوان قائد میں کون سی چیز مشترک ہے؟ ایک طرف ایک ترک ادیبہ اور دوسری طرف پاکستان کا وہ نوجوان جس کو پڑھنے اور لکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں؛
مزید پڑھیے


زرداری کی گرفتاری اور سندھ کی صورتحال

جمعه 14 جون 2019ء
عمر قاضی
تمام پاکستانیوں کے ذہن میں یہ سوال محو گردش ہے کہ آصف زرداری کی گرفتاری پر سندھ کا سیاسی ردعمل کیا ہو گا؟مبصر ین یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ سندھ آصف زرداری سے محبت نہیں کرتا مگر زرداری کے مخالفین بھی مانتے ہیں کہ وہ سیاسی پتے کھیلنے میں ماہر ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہ خدشہ تھا کہ اپنی گرفتاری پر زرداری نے سندھ کارڈتیار کرکے رکھا ہوگا ۔یہ حقیقت ہے کہ اپنی گرفتاری سے قبل آصف زرداری نے پیپلز پارٹی میں اپنے وفاداروں کو بار بار تاکید کی تھی کہ جیسے ہی وہ گرفتار ہوں پارٹی
مزید پڑھیے




ماواں ٹھنڈیاں چھاواں

هفته 08 جون 2019ء
عمر قاضی
اپنے قلمکار ساتھی عامر خاکوانی کی والدہ کے انتقال کی خبر پڑھی تو مجھے اپنی ماں یاد آگئی۔میری ماں بھی مجھے سرائیکی میں لوری دیتی تھی۔جب سندھ میں موسم گرما کی رات آنکھوں سے نیندچھین لیتی تھی۔ جب ہوا رک جاتی تھی۔ جب آسمان میں ستارے اس طرح نظر آتے تھے جیسے گرم توے پر مکئی کے دانے پھوٹ کر سفید نظر آتے ہیں۔ تب میری ماں ہاتھ کا پنکھا لہرا کر مجھے سلاتی تھی۔ میری ماں میٹھے سر میں لوری گاتی تھی۔ اس لوری میں وہ نیند کو بلاتی تھی۔ اماں کے بلانے سے نیند آجاتی تھی۔ اب
مزید پڑھیے


سچل سارا سچ

جمعه 24 مئی 2019ء
عمر قاضی
ہر سال کی طرح اس برس بھی شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کے دوسرے بڑے صوفی شاعر سچل سر مست کا عرس رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں وادی سندھ کے اس شہر میں منعقد ہوا جو شہر پنجاب سمیت سندھ کے سارے صوبوں میں بسنے والے لوگوں کے راہ میں اس وقت پڑتا ہے جب وہ کراچی کی طرف سفر کرتے ہیں۔ جی ہاں! خیرپور سندھ کا وہ شہر ہے جس کی تاریخ تو بہت تابناک ہے مگر اس کا حال سندھ کے اکثر شہروں کی طرح بے حال ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس کے خمیر میں
مزید پڑھیے


پیپلز پارٹی کی آخری سانسیں

جمعه 17 مئی 2019ء
عمر قاضی
ایک وقت ایسا تھا جب چانڈکا سے لیکر چترال تک صرف پیپلز پارٹی کے پرچم ہوا میں لہراتے نظر آتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب سیاسی جماعتیں جھنڈے لگوانے کے لیے مزدوروں کو معاوضہ نہیں دیا کرتی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب پیپلز پارٹی کے جیالے ببول کے درختوں پر پارٹی کے پرچم لگاتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب پیپلز پارٹی کے کارکنان ننگے پیروں کے ساتھ موٹر سائکلوں کے سائلنسروں پر کھڑے ہوکر نعرے لگاتے تھے۔ وہ نعرے سننے میں بہت اچھے لگتے تھے۔ ہر صوبے میں الگ الگ نعرے گونجتے تھے۔ سندھ میں ’’جیئے بھٹو
مزید پڑھیے


مزار قلندر سے داتا دربار تک

جمعه 10 مئی 2019ء
عمر قاضی
دہشتگردوں نے ایک بار پھر داتا دربار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ نو برس قبل 2010ء کے گرم موسم میں داتا دربار کے اندر داخل ہو خودکش حملہ کیا گیا تھا۔ اس میں 40 سے زیادہ افراد زندگی سے بچھڑ کر موت کی وادی میں اتر گئے تھے ۔ جب کہ گذشتہ روز دہشت گردوں نے داتا دربار کے باہر کھڑی قانون نافذ کرنے والے الیٹ فورس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 9 افراد جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ جب کہ دو خواتین سمیت 25 افراد سمیت زخمی ہیں۔ پاکستان کے ایک عرصے سے
مزید پڑھیے


بلاول ہاؤس خاموش ہے

جمعه 03 مئی 2019ء
عمر قاضی
پانچ برس پاکستان اور گیارہ برس سندھ میں حکومت کرنے کے بعد پیپلز پارٹی نے عوام کی کتنی خدمت کی؟ اس کا اصل جواب آپ کو لاڑکانہ کے وہ راستے دینگے جن پر گٹروں کا پانی ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ لاڑکانہ شہر سے جو راستے نکلتے ہیں ان راستوں میں ایک راستہ ذوالفقار علی بھٹو کے گاؤںنوڈیرو کی طرف بھی جاتا ہے۔ اس نوڈیرو کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے بچوں میں جو خاندانی ملکیت بانٹی تھی؛ اس میں نوڈیرو کا بنگلہ بینظیر کے حصہ میں آیا تھا۔ اب آصف زرداری یا ان کا
مزید پڑھیے