عمر قاضی



وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا


آج کالم کا آغاز گلزار کی اس نظم سے کرتے ہیں: ’’کتابیں جھانکتی رہتی ہیںبند الماری کے شیشوں سے بڑی حسرت سے تکتی ہیں/مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں/جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیںاب اکثر/گذر جاتی ہیں ’’کمپیوٹر‘‘ کے پردوں پر/بڑی بے چین رہتی ہیں /انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہوگئی ہے/بڑی حسرت سے تکتی ہیں/جو قدریں وہ سناتی تھیں۔۔۔۔/کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے/وہ قدریں اب نظر آتیں نہیں گھر میں/جو رشتے وہ سناتی تھیں/وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں/کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے/کئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیں/بنا پتوں کے
جمعه 21 فروری 2020ء

نوائے سروش

جمعه 14 فروری 2020ء
عمر قاضی
ایک وقت ایسا تھا کہ لاہور اور کراچی کے درمیان کرکٹ کے نہیں بلکہ محبت کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔ وہ محبت سوشل میڈیا کی طرح نقلی نہیں تھی۔ وہ محبت ادب کی طرح پاکیزہ اور اصلی تھی۔ اب تو ہمارے ان کافی ہاؤسز کو نظر لگ گئی ہے جہاں وقت رک جاتا تھا اور باتیں چلتی رہتی تھیں۔ ان کافی ہاؤسز میں کتنے نئے خیالات جنم لیتے تھے۔ ان کافی ہاؤسز میں کس طرح مختلف موضوعات مباحثوں کا باعث بنتے ہیں۔ ان کافی ہاؤسز میں صرف اشعار ہی نہیں بلکہ افسانے اور ناول بھی لکھے جاتے تھے۔ مگر
مزید پڑھیے


زوال

جمعه 07 فروری 2020ء
عمر قاضی
ایک شخص نے سندھ کے ایک وڈیرے سے پوچھا کہ ’’سائیں آپ بار بار پارٹیاں کیوں تبدیل کرتے ہو؟‘‘ وڈیرے نے ذرا مسکرا کر ذرا موچھوں کو تاؤ دیکر کہا ’’بھائی! یہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہے۔ ہم کبھی پارٹی تبدیل نہیں کرتے۔ ہم توہمیشہ ایک ہی پارٹی میں ہوتے ہیں۔ وہ پارٹی جو اقتدار میں آتی ہے‘‘ سندھ میں پچھلے گیارہ برسوں سے سندھ کے ان وڈیروں پر ایک ایک پل اذیت کی طرح گذرا ہے؛ جو وڈیرے اقتدار سے محروم رہے ہیں۔ جب وہ وڈیرے اپنے مخالف وڈیروں کو پروٹوکول میں دیکھتے ہیں یا اپنے ڈیروں پر اپنے لوگوں
مزید پڑھیے


سیاست کا موسم

جمعه 31 جنوری 2020ء
عمر قاضی
سندھ کی سیاست پہاڑ پر پڑے ہوئے پانی کے پیالے کی طرح جم گئی ہے۔ حالانکہ سیاست کا موسم سے الٹا تعلق ہوتا ہے۔ جب موسم گرم ہوتا ہے تب سیاست سردہوجاتی ہے اور جب موسم سرد ہوجاتا ہے تب سیاست کو گرم ہوجاتی ہے۔ مگر اس بار نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی سیاست موسم کے ساتھ مل گئی ہے۔ سیاست ملکی اور معاشرے کو مضبوط کرنے کی سائنس ہے مگر جب اقتدار کی لالچ سیاسی سوچ کے ساتھ لپٹ جاتی ہے تب سیاست وہ کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتی جس کے لیے اس
مزید پڑھیے


طاقت کا اصل سرچشمہ

جمعه 24 جنوری 2020ء
عمر قاضی
پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت ایک بار پھر اپنے صوبے کے آئی جی سے الجھ رہی ہے۔ اس بار حکومت سندھ کا نشانہ کلیم امام ہے۔ وزیر اعلی سندھ اپنے کابینہ کے ہمراہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ کسی طرح موجودہ آئی جی سے ان کی جان چھوٹے۔ جب کہ مذکورہ آئی جی کو اس طرح عدلیہ کا کوَر حاصل ہے جس طرح کبھی سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو حاصل تھا۔ اے ڈی خواجہ کو سندھ سے ہٹانے کے لیے اس وقت کی وفاقی حکومت تیار نہیں تھی۔ اس کا سبب یہ نہیں تھا
مزید پڑھیے




سرد موسم اور بے درد نظام

هفته 18 جنوری 2020ء
عمر قاضی
عرصہ دراز کے بعد سندھ شدید سردی کے لپیٹ میں ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کے اثرات ہیں یا جنگلوں کا خاتمہ اور پانی کی قلت،جس کی وجہ سے موسم سرما سندھ میں مختصر قیام کرنے والے مہمان کی طرح آتا ہے۔ مگر اس بار موسم سرما میں ایسی شدت آئی ہے کہ بڑے بوڑھوں کو بچپن کے دن یاد آگئے ہیں۔ سندھ کے لوگوں کے لیے شاہ لطیف کا رسالہ شاعری بھی ہے اور تاریخ بھی ہے۔ جب ہم شاہ لطیف کی شاعری میں جھانکتے ہیں تب ہمیں وہ سندھ نظر آتا ہے،جواب بہت غریب ہے، بھوکا ہے اور سردی
مزید پڑھیے


فخرو بھائی

جمعه 10 جنوری 2020ء
عمر قاضی
کراچی کی مالا سے ایک اور موتی کم ہوگیا۔ اس شہر میں کیسے کیسے لوگ تھے۔ ایسے لوگ جن کے لیے مرزا غالب نے کیا خوب کہا تھا: ’’سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہوگئیں‘‘ وہ ساری زندگی کراچی میں رہے۔ مگر سچ بات یہ ہے کہ ہمارا ملک اپنے قابل فخر بیٹے سے محروم ہوگیا ہے۔ کیونکہ ایسے لوگ ہرروز پیدا نہیں ہوتے۔ ایسے اشخاص کے لیے میر تقی میر نے کہا ہے: ’’مت سہل ہمیں جانو؛ پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں‘‘ فخرو بھائی بھی ایسے انسان تھے۔ان
مزید پڑھیے


وطن میں جلاوطن

جمعه 03 جنوری 2020ء
عمر قاضی
بھارت بہت تیزی سے ہندوریاست میں تبدیل ہو رہا ہے۔ بھارتی مسلمان شدت کے ساتھ عدم تحفظ کا احساس محسوس کر رہے ہیں۔ نریندر مودی نئے دور کا ہٹلر بننے کے طرف بڑھ رہا ہے۔ بی جے پی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا نہیں بلکہ تیسرے درجے کا شہری بنا کر دم لے گی۔ بی جے پی کے ارادوں کے سامنے بھارت کا حزب اختلاف کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ کانگریس ایک برائے نام پارٹی بن چکی ہے۔ اگر کانگریس میں دم خم ہوتا تو وہ بی جے پی کی
مزید پڑھیے


بینظیر بھٹو کو کارڈ مت بناؤ

جمعه 27 دسمبر 2019ء
عمر قاضی
پھر وہی سرد دسمبر اور پر درد دسمبر۔ کھوئی ہوئی محبت کی یادیں۔ کچھ باتیں جن کو بھولنا ممکن نہیں۔سال کے اس آخری ماہ میں ہم سے بہت سارے پیارے پیارے لوگ بچھڑجاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو تو ہم بھول جاتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن لوگوں کے بارے میں فیض صاحب نے لکھا ہے: ’’بہار آئی تو جیسے یکبار /لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے/وہ خواب سارے شباب سارے/جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے/جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے/نکھر گئے ہیں گلاب سارے/جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں/جو تیرے عشاق کا لہو ہیں/ابل پڑے
مزید پڑھیے


چھٹے اسیر تو۔۔۔۔۔۔!!

جمعه 20 دسمبر 2019ء
عمر قاضی
اصولی طور اب پیپلز پارٹی کو یہ بات کبھی نہیں کہنی چاہئیے کہ انصاف کے ایوان میں سندھ سے سوتیلی ماں جیسا سلوک اختیار کیا جاتا ہے۔ اگر پاکستان کے قانون کو پنجاب سے زیادہ پیار ہوتا صرف نواز شریف اور مریم نواز ہی نہیں بلکہ شاہد خاقان عباسی اور سعد رفیق کے ساتھ رانا ثناء اﷲ بھی رہا کیے جاتے۔ کیوں کہ پیپلز پارٹی کے صرف آصف زرداری اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ساتھ آزاد نہیں ہوئے بلکہ سید خورشید شاہ اور آغا سراج درانی کو بھی ضمانت مل چکی ہے۔ جب کہ ملکی میڈیا کو معاشی بحران میں
مزید پڑھیے