BN

عمر قاضی


لداخ کے لوگ امن کے امین ہیں


بھارت کے سابق آرمی چیف نے بھی کہہ دیا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کا حل فوجی سطح پر ناکام ہو چکا ہے۔ اب یہ حل سیاسی اور سفارتی سطح پر تلاش کرنا پڑے گا۔ مگر اس سلسلے میں اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان حالات اس نہج پر کیسے پہنچے؟ خاص طور پر جب پوری دنیا کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔ جب دنیا میں جاری محاذ آرائیوں کی شدت پہلے سے کہیں کم ہوگئی ہے۔ اس وقت تبت اور لداخ کے سرد علاقوں میں منجمد مسائل
هفته 30 مئی 2020ء

افغانستان میں امن کا خواب

جمعه 22 مئی 2020ء
عمر قاضی
کورونا کی وجہ سے دنیا میں اکثر سرگرمیاں رک گئی ہیں مگر افغانستان میں چلنی والی گولیوں اب تک نہیں رکیں۔آپ کہہ سکتے ہیں بدامنی کا باعث بننے والی گولیوں کی شدت کم ہوئی ہے مگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ افغانستان امن کی آغوش میں سما چکا ہے۔ افغان امن معاہدہ کسی سیاسی معجزے سے کم نہیں۔ اس معاہدے میں پاکستان کے اہم کردار سے کوئی قوت انکار نہیں کر سکتی۔ مگر یہ بات پاکستان بھی جانتا ہے کہ اگر افغان طالبان اس معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو یہ معاہدہ کسی بھی صورت میں پایہ تکمیل تک
مزید پڑھیے


حرص اور حکمرانی

جمعه 15 مئی 2020ء
عمر قاضی
حرص حکمرانی کا لازمی حصہ رہتا آیا ہے۔ میاں نواز شریف کو معلوم تھا کہ جام صادق کو حکمران بنانا کسی بھی طور سے جمہوری عمل نہیں ہے مگر ہر حکمران چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اقتدار اس کے ہاتھوں میں ہونا چاہئیے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر رکھنے جیسی ہے کہ جب میاں نواز شریف کو پرویز مشرف نے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ روانہ کیا تھا اس وقت سندھ کی حکومت اس غوث علی شاہ کے ہاتھ میں تھی جس سے اب میاں نواز شریف ہاتھ بھی نہیں ملاتے۔ سیاستدان تو بچوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ایک سیاستدان کی
مزید پڑھیے


جہاں کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہے

جمعه 08 مئی 2020ء
عمر قاضی
گاؤں کی کچی مسجد اور اس سے اٹھنے والی مغرب کی آذان اپنے آشیانوں کی طرف اڑتے پرندے اور گھاس پھونس سے بنے ہوئے گھروں سے نکلتا ہوا دھواں!! یہ کسی کالم کی ابتدا کم اور کینوس پر بنی ہوئی پینٹنگ زیادہ لگتی ہے۔ مگر یہ تصوراتی اور محض خیالی نقش نہیں۔ ہم جن کی جڑیں اب تک گاؤں کی گیلی مٹی میں ہیں۔ ہم جو شہروں میں اجنبی بن کر رہتے ہیں۔ ہم جو کاروں میں سفر کرتے ہیں۔ ہم جو دفاتر میں بیٹھتے ہیں۔ ہم جو ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں سوتے ہیں۔ ہم سب جو سفید بالوں میں
مزید پڑھیے


کھلتے ہیں گل یہاں؛ کھل کے بکھرنے کو!

جمعه 01 مئی 2020ء
عمر قاضی
جب میڈیا کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ یکسوئی کا شکار ہوگیا ہے تب وہ بھی اپنا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میڈیا حالات کا قیدی ہے۔ وہ منظر کو تبدیل تو نہیں کرسکتا مگر زاویے میں تھوڑی بہت تبدیلی اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔ اس لیے کبھی کبھار حالات پر تبصرہ کرنے کے لیے میڈیا نجومیوں کو بھی بلاتا ہے اور معاشرے کے ان عناصر کی رائے بھی سنتا اور سناتا ہے جن کو عام طور پر قبول نہیں کیا جاتا مگر پھر بھی مجبور لوگ ان کو اپنا مسئلہ بتاتے ہیں اور ان سے
مزید پڑھیے



کورونا کا کٹہرا

جمعه 24 اپریل 2020ء
عمر قاضی
جس طرح سائنس فکشن کی کتابیں آگے چل کر سائنسی ایجادات کا باعث بنیں؛ اسی طرح آج کل ہمارے سازشی نظریے سچے واقعات بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ جس وقت چین میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹی ، اس وقت الزامات کی زد میں وہ امریکہ تھا جو آج کل چین پر تہمت کے تیر برسا رہا ہے۔ کورونا کے سلسلے میں امریکہ نہ صرف چین کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے بلکہ وہ اقوام متحدہ کے طبی ادارے ڈبلیو ایچ او پر بھی بہت ناراض ہے اور اس ادارے کی امداد اس نے ان دنوں بند کردی
مزید پڑھیے


کورونا کے دنوں میں سیاست

جمعه 17 اپریل 2020ء
عمر قاضی
وفاقی حکومت پر بیرونی کم اور داخلی دباؤ زیادہ ہے۔ حکومت کو معلوم ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جاری کرنا مشکل نہیں ہے مگر وہ نوٹیفکیشن بھوکے عوام کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ اس لیے ابتدا سے وفاقی حکومت نے اپنی پالیسی کو متوازن بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ کورونا کے سلسلے میں عوامی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔ ویسے بھی اس کے سوا اور کوئی چارہ بچتا بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ پوری دنیا میں حکمران قوتوں کو کورونا کی وجہ سے ایک ہونا پڑا ہے۔ دنیا میں
مزید پڑھیے


ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

جمعه 10 اپریل 2020ء
عمر قاضی
کورونا وائرس کی وجہ سے جو لوگ متاثر ہوئے ان سے تو کسی کا موازنہ تو کس سے نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ کورونا کے باعث زندگی محروم ہوکر موت کی آغوش میں سما گئے ان لوگوں کو تو تاریخ بھی فراموش نہیں کرسکتی۔کورونا کے باعث مرنے والے انسان کے لواحقین بھی بڑی تکلیف سے گذرے ہیں۔ کیوں کہ اس سے بڑا درد اور کیا ہوسکتا ہے کہ کورونا کے باعث بچھڑنے والا پیارا زمین کی امانت بننے کے لیے پڑا رہا اور کسی عزیز کو اسے چھونے کی اجازت حاصل نہ ہو۔یہ درد بھی بہت بڑا ہے۔ اس درد
مزید پڑھیے


وبا کے دنوں میں بچھڑ جانے والا ادیب

جمعه 03 اپریل 2020ء
عمر قاضی
اب تو پی ٹی وی دادی اماں کی طرح میڈیا کے گھر میں سب سے الگ تھلگ بستا ہے۔ وہ پی ٹی وی جو اپنے دور کی بہت حسین اور بیحد پرکشش شخصیت تھا۔ اب تو ہمارے دلچسپیوں کے بہت سارے سامان پیدا ہوگئے ہیں مگر ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہمارے دن اخبارات کے ساتھ گذرتے تھے اور ہماری شامیں پی ٹی وی کی پرکشش کمپنی میں قید ہوا کرتی تھیں۔ان دنوں پی ٹی وی پر چلنے والا ہر پروگرام اچھا لگتا تھا اور کسی پروگرام سے نظر اٹھانا بہت مشکل محسوس ہوتا تھا مگر پی ٹی وی
مزید پڑھیے


چلو پھر سے مسکرائیں

جمعه 27 مارچ 2020ء
عمر قاضی
دوبرس قبل وہ مجھ سے ووہان میں ملی تھی۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس جنم بھی اسی شہر میں ہوا تھا ۔ اس نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ جب وہ چھوٹی تھی اس وقت یہ شہر بھی اتنا بڑا نہیں تھا۔ مگر جب میں بڑی ہوتی گئی تب یہ شہر مجھ سے بہت ہی بڑا ہوگیا۔ اس نے نفاست کے ساتھ ازاہ مذاق کہا اور اپنی مذاق پر خود ہنس پڑی۔ اس کی ہنسی تو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ چینی لوگ ہنستے ہوئے زیادہ خوبصورت نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ جب وہ ہنس رہی
مزید پڑھیے