BN

عمر قاضی


کورونا کے دنوں میں سیاست


وفاقی حکومت پر بیرونی کم اور داخلی دباؤ زیادہ ہے۔ حکومت کو معلوم ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جاری کرنا مشکل نہیں ہے مگر وہ نوٹیفکیشن بھوکے عوام کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ اس لیے ابتدا سے وفاقی حکومت نے اپنی پالیسی کو متوازن بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ کورونا کے سلسلے میں عوامی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔ ویسے بھی اس کے سوا اور کوئی چارہ بچتا بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ پوری دنیا میں حکمران قوتوں کو کورونا کی وجہ سے ایک ہونا پڑا ہے۔ دنیا میں
جمعه 17 اپریل 2020ء

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

جمعه 10 اپریل 2020ء
عمر قاضی
کورونا وائرس کی وجہ سے جو لوگ متاثر ہوئے ان سے تو کسی کا موازنہ تو کس سے نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ کورونا کے باعث زندگی محروم ہوکر موت کی آغوش میں سما گئے ان لوگوں کو تو تاریخ بھی فراموش نہیں کرسکتی۔کورونا کے باعث مرنے والے انسان کے لواحقین بھی بڑی تکلیف سے گذرے ہیں۔ کیوں کہ اس سے بڑا درد اور کیا ہوسکتا ہے کہ کورونا کے باعث بچھڑنے والا پیارا زمین کی امانت بننے کے لیے پڑا رہا اور کسی عزیز کو اسے چھونے کی اجازت حاصل نہ ہو۔یہ درد بھی بہت بڑا ہے۔ اس درد
مزید پڑھیے


وبا کے دنوں میں بچھڑ جانے والا ادیب

جمعه 03 اپریل 2020ء
عمر قاضی
اب تو پی ٹی وی دادی اماں کی طرح میڈیا کے گھر میں سب سے الگ تھلگ بستا ہے۔ وہ پی ٹی وی جو اپنے دور کی بہت حسین اور بیحد پرکشش شخصیت تھا۔ اب تو ہمارے دلچسپیوں کے بہت سارے سامان پیدا ہوگئے ہیں مگر ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہمارے دن اخبارات کے ساتھ گذرتے تھے اور ہماری شامیں پی ٹی وی کی پرکشش کمپنی میں قید ہوا کرتی تھیں۔ان دنوں پی ٹی وی پر چلنے والا ہر پروگرام اچھا لگتا تھا اور کسی پروگرام سے نظر اٹھانا بہت مشکل محسوس ہوتا تھا مگر پی ٹی وی
مزید پڑھیے


چلو پھر سے مسکرائیں

جمعه 27 مارچ 2020ء
عمر قاضی
دوبرس قبل وہ مجھ سے ووہان میں ملی تھی۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس جنم بھی اسی شہر میں ہوا تھا ۔ اس نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ جب وہ چھوٹی تھی اس وقت یہ شہر بھی اتنا بڑا نہیں تھا۔ مگر جب میں بڑی ہوتی گئی تب یہ شہر مجھ سے بہت ہی بڑا ہوگیا۔ اس نے نفاست کے ساتھ ازاہ مذاق کہا اور اپنی مذاق پر خود ہنس پڑی۔ اس کی ہنسی تو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ چینی لوگ ہنستے ہوئے زیادہ خوبصورت نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ جب وہ ہنس رہی
مزید پڑھیے


عجب آزاد مرد تھا

جمعه 20 مارچ 2020ء
عمر قاضی
وہ شعلہ بیان مقرر نہیں تھا مگر ان کا اظہار ایسا تھا جیسے مرزا غالب نے کہا تھا: ؎ دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے اس کا سبب یہ تھا کہ وہ وہی کہتے تھے جو سچ سمجھتے تھے۔ وہ عوام کے عاشق سیاستدان تھے۔ انہیں غریب عوام سے بہت محبت تھی۔ انہوں نے جمہوری سیاست کی مگر وہ جمہوری سیاست حقیقی انقلابی سیاست تھی۔ انہوں نے اپنا موقف پیش کرنے میں کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ بحث کرتے تھے اور بہت بحث کرتے تھے مگر وہ ’’بحث
مزید پڑھیے



کرشنا کولہی اور سومری کولہی

جمعه 13 مارچ 2020ء
عمر قاضی
سندھ کے دو شہر کھجوروں کے حوالے سے مشہور ہیں۔ ایک دریائے سندھ کے کنارے والا خیرپور اور دوسرا ٹھٹھہ کے قریب پاکستان کی بہت بڑی جھیل کلری کے کنارے والا شہر جھمپیر! پاکستان کی پہلی شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والی کرشنا کولہی کا تعلق تو صحرائے تھر سے ہے مگر اس قبیلے کی مقتول عورت سومری کولہی کا تعلق جھمپیر سے تھا۔کرشنا کولہی تو اب بہت بڑی شخصیت بن گئی ہے۔ مگر سومری کولہی کا مقدر ایسا نہیں تھا۔ وہ عورت جس کا مرد کچھ عرصہ قبل فوت ہوگیا تھا اور وہ اپنے چار بیٹوں کا پیٹ بھرنے کے
مزید پڑھیے


ہم نے مانا کہ رہیں دلی میں پر۔۔۔!

جمعه 06 مارچ 2020ء
عمر قاضی
آج اگر بھارت کے مشہور صحافی اور ادیب خشونت سنگھ زندہ ہوتے تو وہ اپنے ناول ’’دلی‘‘ کے دوسرے ایڈیشن میں ایک باب کا اضافہ ضرور کرتے۔ وہ باب دلی کے علاقے کھجوری خاص میں ہونے والے حملوں کے بارے میں ہوتا۔ وہ حملے جو انتہا پسند ہندوؤں نے کیے۔ وہ انتہا پسند ہندو بھارت کی حکمران جماعت کے چہیتے ہیں۔پولیس کو خاص ہدایت ہے کہ ان پر ہلکا ہاتھ رکھا جائے۔ ورنہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ تشدد کی لپیٹ میں آئے ہوئے شہر کے ایک محلے سے ایک مسلمان فون کرکے پولیس سے کہے کہ بلوائی میرے
مزید پڑھیے


کراچی کا خاموش خادم

جمعه 28 فروری 2020ء
عمر قاضی
اس ملک کا خاموش خادم خاموشی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ حکومت وقت کو یہ احساس تک نہ ہوا کہ اس کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ الوداع کیا جائے۔ حالانکہ وہ ذاتی طور پر پروٹوکولز اور سرکاری سج دھج کے مخالف تھے۔ مگر جب سرکاری اعزازات کسی اچھے انسان کو دیا جاتا ہے تو اس سے اس انسان کی نہیں بلکہ سرکاری اعزاز کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب عبدالستار ایدھی اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے تب اس کو ملک کی طرف سے الوداعی پروٹوکول دیا گیا تھا۔ وہ ایک اچھی بات تھی۔ اس قسم کی
مزید پڑھیے


وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا

جمعه 21 فروری 2020ء
عمر قاضی
آج کالم کا آغاز گلزار کی اس نظم سے کرتے ہیں: ’’کتابیں جھانکتی رہتی ہیںبند الماری کے شیشوں سے بڑی حسرت سے تکتی ہیں/مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں/جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیںاب اکثر/گذر جاتی ہیں ’’کمپیوٹر‘‘ کے پردوں پر/بڑی بے چین رہتی ہیں /انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہوگئی ہے/بڑی حسرت سے تکتی ہیں/جو قدریں وہ سناتی تھیں۔۔۔۔/کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے/وہ قدریں اب نظر آتیں نہیں گھر میں/جو رشتے وہ سناتی تھیں/وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں/کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے/کئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیں/بنا پتوں کے
مزید پڑھیے


نوائے سروش

جمعه 14 فروری 2020ء
عمر قاضی
ایک وقت ایسا تھا کہ لاہور اور کراچی کے درمیان کرکٹ کے نہیں بلکہ محبت کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔ وہ محبت سوشل میڈیا کی طرح نقلی نہیں تھی۔ وہ محبت ادب کی طرح پاکیزہ اور اصلی تھی۔ اب تو ہمارے ان کافی ہاؤسز کو نظر لگ گئی ہے جہاں وقت رک جاتا تھا اور باتیں چلتی رہتی تھیں۔ ان کافی ہاؤسز میں کتنے نئے خیالات جنم لیتے تھے۔ ان کافی ہاؤسز میں کس طرح مختلف موضوعات مباحثوں کا باعث بنتے ہیں۔ ان کافی ہاؤسز میں صرف اشعار ہی نہیں بلکہ افسانے اور ناول بھی لکھے جاتے تھے۔ مگر
مزید پڑھیے