عمر قاضی



حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا


کوئی نام آنکھوں میں اس طرح روشنی پیدا کرتا ہے جیسے رات کی طویل تاریکی کے بعد مشرق میں نور نکھرنے لگتا ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کا نام ایک ایسا نام ہے۔ وہ شخص اب ہم سے بچھڑ چکا ہے ۔ اس کے بچھڑنے پر کوئی شور برپا نہیں ہوا۔ میڈیا نے اس طرح بریکنگ نیوز پیش نہیں کی جس طرح کسی نیب کے ڈر سے خودکشی کرنے والے شخص کی خبر پیش کی جاتی ہے۔ جس خبر کے حوالے ماہرین سے معلوم کیا جاتا ہے کہ ان کی وفات سے ملک کے سیاسی حالات پر کس طرح کے اثرات مرتب
منگل 23 اپریل 2019ء

وجود سندھ کا سوال

جمعه 19 اپریل 2019ء
عمر قاضی
سندھ میں جب بھی سیاسی حالات پرامن ڈگر پر پاؤں رکھتے ہیں تب اس جماعت کی جانب سے سندھ میں دو صوبوں کاشوشہ چھوڑا جاتا ہے جو کل پیپلز پارٹی کے اور آج تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔وہ جماعت اچھی طرح جانتی ہے کہ پاکستان میں تاریخ سے زیادہ لوگ جغرافیہ کے بارے میں جذباتی ہیں۔ ملک کی ساری بڑی جماعتیں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات پر اصولی طورپر اتفاق کرنے کے باوجود ابھی تک عملی طور پر ایک قدم نہیں اٹھا سکیں تو اس سندھ کو دوصوبوں میں تقسیم کس طرح کیا جاسکتا ہے جس سندھ کے
مزید پڑھیے


پیپلز پارٹی کی سیاست اور فاطمہ فیکٹر

جمعه 12 اپریل 2019ء
عمر قاضی
اس بار لاڑکانہ کی راہوں اور میڈیا کی معرفت سارے ملک کی نگاہوں نے دیکھا کہ پیپلز پارٹی نے4 اپریل کی تیاری 27 دسمبر سے بھی بڑھ چڑھ کر کی تھی۔ جس کا سبب صرف یہ تھا کہ آصف علی زرداری بہت بڑا پاور شو کرکے گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ آصف زرداری اچھی طرح جانتے ہیں کہ احتساب کے شکنجے سے اب ان کا بچنا محال ہے۔ اگر وہ نہ سمجھتے تو لاڑکانہ سے لوٹ کر اپنے حلقے میں یہ نہ کہتے کہ ’’اگر میں گرفتار کیا جاؤں تو میرے بچوں کا خیال رکھنا‘‘ اس
مزید پڑھیے


’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘

جمعرات 04 اپریل 2019ء
عمر قاضی
آج ذوالفقار علی بھٹو کی چالیسویںبرسی ہے۔ چالیس برس بہت ہوتے ہیں۔ چالیس برسوں کے دوراں بہت کچھ بھول کی دھول بن کر اڑ جاتا ہے مگر پورے پاکستان کے نہیں تو کم از کم سندھ کے سارے راستے سسکیاں بھر کر اس شخص کو یاد کر رہے تھے جس نے کہا تھا کہ ’’میں سندھ کا رانو ہوں۔ سندھ کی دھرتی میرا انتظار مومل کی طرح کرے گی‘‘ ہم اپنے پرانے دور کو بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ہمارا تعلق اپنی تہذیب سے کٹ چکا ہے۔ آج پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جن کو ’’مومل رانو‘‘ کا پس منظر معلوم
مزید پڑھیے


قانون کی توہین کرنے والی قوم

جمعه 29 مارچ 2019ء
عمر قاضی
وہ ویڈیو نہ صرف وائرل ہوئی مگر وائرل ہونے والی اس ویڈیو نے اپنا کام بھی کردکھایا۔ وہ ویڈیو جس میں کراچی کے سابق ایڈمنسٹریٹر فہیم الزماں نے صرف ایک غریب پولیس اہلکار کی ماں بہن اس لیے ایک کرکے رکھ دی کہ وہ غلط ٹرن کرنے والے ڈرائیور سے قومی شناختی کارڈ کے بارے میں پوچھنے کا جرم کر رہا تھا۔ وہ غریب پولیس اہلکار گالیاں بکتے ہوئے شخص سے بولے جا رہا تھا کہ ’’ہم تو آپ کی حفاظت کے لیے کھڑے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ ریڈ زون ہے۔ اس میں ہم قومی شناختی کارڈ کے
مزید پڑھیے




کیا سندھ کو ہنسنے کا حق نہیں؟

جمعه 22 مارچ 2019ء
عمر قاضی
سوشل میڈیا میں سنجیدگی سے زیادہ غیر سنجیدگی کا راج ہے۔ سوشل میڈیا بہت بڑا میڈیا ہونے کے باوجود اپنی اس کمی کی وجہ وہ کردار ادا نہیں کرسکتا جس کردار کی موجودہ دور میں ہم سب کو بہت ضرورت ہے۔ اس بات کی اہمیت کو صرف ایک سینئر صحافی سمجھ سکتا ہے کہ کسی خبر کا فوری طور پر منظرعام پر آنا کیا ہوتا ہے؟ کسی قلمکار سے زیادہ اس حقیقت سے اور کون آشنا ہوسکتا ہے کہ اس کو ایسا میڈیا میسر ہو جس پر پابندی کا بھوت نہ لہراتا ہو۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے اور
مزید پڑھیے


بلاول پر بوجھ مت بڑھاؤ

جمعه 15 مارچ 2019ء
عمر قاضی
گذشتہ روز سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کافی تیار نظر آئے۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ اب تک لکھ کر دیے گئے نوٹس کی انگلی پکڑ کر بولتے ہیں مگر برسوں کی محنت اب ان کے انداز سے جھلکنا شروع ہوئی ہے۔ آصف زرداری کو اس دن کا انتظار تھا۔ اب آصف زرداری پیچھے بیٹھ کر سیاسی کھیل کھیلنے لگے ہیں۔ آصف زرداری کو معلوم ہے کہ پاکستان کی سیاست میں بڑی جماعتوں کی قیادت اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے وہ اپنے صاحب زادے کو آگے لا نے
مزید پڑھیے


آخرِشب کے ہم سفر

جمعه 08 مارچ 2019ء
عمر قاضی
کچھ لوگوں کی شخصیت ایسے پھولوں کے مانند ہوتی ہے جو پھول ان کے موت کے بعد زیادہ مہکتے ہیں۔ اس شاعرانہ سی بات کو ہم اس طرح بھی بیان کرسکتے ہیں کچھ لوگوں کو دنیا جانے کے بعد پہچانتی ہے۔ ایسی ہی بات کو شاہ عبد الطیف بھٹائی نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے : ’’ان لوگوں نے اپنے تن پر چاہت کی چادر ڈال دی وہ ایسے لوگ تھے جیسے اس دنیا میں آئے ویسے ہی واپس لوٹ گئے ایسے لوگوں کی بلندی بہت دنوں کے بعد نظر آئے گی‘‘ جس قسم کے انسانوں کی بات ہم سوچ رہے ہیں ایسے
مزید پڑھیے


جنگ اور امن

جمعه 01 مارچ 2019ء
عمر قاضی
جنگ ایک لفظ نہیں۔ جنگ لہو میں ڈوبی ہوئی ایک دنیا ہے۔ اس دنیا کو ہم اس طرح سے نہیں جانتے جس طرح اس دنیا میں رہنے والوں نے اس کو جانا ہے۔ اس لیے میں جب بھی جنگ کو سمجھنا چاہتا ہوں تب دوسری جنگ عظیم کے پس منظر میں لکھا جانے والا وہ ادب پڑھتا ہوں جس سے آج تک خون ٹپک رہا ہے۔اگر آپ جنگ کی ہولناکیوں کے بارے میں کچھ پڑھنا چاہیں اور یہ سمجھنا چاہیں کہ ’’جنگ کیا ہے؟‘‘ تب آپ کو سب سے پہلے اس ادب کا مطالعہ کرنا ہوگا جو مغربی دنیا کے
مزید پڑھیے


پیپلز پارٹی کے لیے پیغام

جمعه 22 فروری 2019ء
عمر قاضی
سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کے خلاف نیب کافی وقت سے تحقیق کر رہی تھی مگر ان کو اسلام آباد سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ہوٹل میں سکون سے سوئے ہوئے تھے۔ وہ لمحہ ان کے لیے ناقابل یقین تھا جب ان کے کمرے میں نیب کے افسران داخل ہوئے اور انہیں کہنے لگے کہ آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر نے اپنا ہاتھ موبائل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’میں اپنے گھر والوں کو اطلاع کروں‘‘ مگر نیب کے افسران سے ان کا موبائل اٹھا کر آف کردیا اور
مزید پڑھیے