BN

عمر قاضی


زوال


ایک شخص نے سندھ کے ایک وڈیرے سے پوچھا کہ ’’سائیں آپ بار بار پارٹیاں کیوں تبدیل کرتے ہو؟‘‘ وڈیرے نے ذرا مسکرا کر ذرا موچھوں کو تاؤ دیکر کہا ’’بھائی! یہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہے۔ ہم کبھی پارٹی تبدیل نہیں کرتے۔ ہم توہمیشہ ایک ہی پارٹی میں ہوتے ہیں۔ وہ پارٹی جو اقتدار میں آتی ہے‘‘ سندھ میں پچھلے گیارہ برسوں سے سندھ کے ان وڈیروں پر ایک ایک پل اذیت کی طرح گذرا ہے؛ جو وڈیرے اقتدار سے محروم رہے ہیں۔ جب وہ وڈیرے اپنے مخالف وڈیروں کو پروٹوکول میں دیکھتے ہیں یا اپنے ڈیروں پر اپنے لوگوں
جمعه 07 فروری 2020ء

سیاست کا موسم

جمعه 31 جنوری 2020ء
عمر قاضی
سندھ کی سیاست پہاڑ پر پڑے ہوئے پانی کے پیالے کی طرح جم گئی ہے۔ حالانکہ سیاست کا موسم سے الٹا تعلق ہوتا ہے۔ جب موسم گرم ہوتا ہے تب سیاست سردہوجاتی ہے اور جب موسم سرد ہوجاتا ہے تب سیاست کو گرم ہوجاتی ہے۔ مگر اس بار نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی سیاست موسم کے ساتھ مل گئی ہے۔ سیاست ملکی اور معاشرے کو مضبوط کرنے کی سائنس ہے مگر جب اقتدار کی لالچ سیاسی سوچ کے ساتھ لپٹ جاتی ہے تب سیاست وہ کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتی جس کے لیے اس
مزید پڑھیے


طاقت کا اصل سرچشمہ

جمعه 24 جنوری 2020ء
عمر قاضی
پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت ایک بار پھر اپنے صوبے کے آئی جی سے الجھ رہی ہے۔ اس بار حکومت سندھ کا نشانہ کلیم امام ہے۔ وزیر اعلی سندھ اپنے کابینہ کے ہمراہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ کسی طرح موجودہ آئی جی سے ان کی جان چھوٹے۔ جب کہ مذکورہ آئی جی کو اس طرح عدلیہ کا کوَر حاصل ہے جس طرح کبھی سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو حاصل تھا۔ اے ڈی خواجہ کو سندھ سے ہٹانے کے لیے اس وقت کی وفاقی حکومت تیار نہیں تھی۔ اس کا سبب یہ نہیں تھا
مزید پڑھیے


سرد موسم اور بے درد نظام

هفته 18 جنوری 2020ء
عمر قاضی
عرصہ دراز کے بعد سندھ شدید سردی کے لپیٹ میں ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کے اثرات ہیں یا جنگلوں کا خاتمہ اور پانی کی قلت،جس کی وجہ سے موسم سرما سندھ میں مختصر قیام کرنے والے مہمان کی طرح آتا ہے۔ مگر اس بار موسم سرما میں ایسی شدت آئی ہے کہ بڑے بوڑھوں کو بچپن کے دن یاد آگئے ہیں۔ سندھ کے لوگوں کے لیے شاہ لطیف کا رسالہ شاعری بھی ہے اور تاریخ بھی ہے۔ جب ہم شاہ لطیف کی شاعری میں جھانکتے ہیں تب ہمیں وہ سندھ نظر آتا ہے،جواب بہت غریب ہے، بھوکا ہے اور سردی
مزید پڑھیے


فخرو بھائی

جمعه 10 جنوری 2020ء
عمر قاضی
کراچی کی مالا سے ایک اور موتی کم ہوگیا۔ اس شہر میں کیسے کیسے لوگ تھے۔ ایسے لوگ جن کے لیے مرزا غالب نے کیا خوب کہا تھا: ’’سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہوگئیں‘‘ وہ ساری زندگی کراچی میں رہے۔ مگر سچ بات یہ ہے کہ ہمارا ملک اپنے قابل فخر بیٹے سے محروم ہوگیا ہے۔ کیونکہ ایسے لوگ ہرروز پیدا نہیں ہوتے۔ ایسے اشخاص کے لیے میر تقی میر نے کہا ہے: ’’مت سہل ہمیں جانو؛ پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں‘‘ فخرو بھائی بھی ایسے انسان تھے۔ان
مزید پڑھیے



وطن میں جلاوطن

جمعه 03 جنوری 2020ء
عمر قاضی
بھارت بہت تیزی سے ہندوریاست میں تبدیل ہو رہا ہے۔ بھارتی مسلمان شدت کے ساتھ عدم تحفظ کا احساس محسوس کر رہے ہیں۔ نریندر مودی نئے دور کا ہٹلر بننے کے طرف بڑھ رہا ہے۔ بی جے پی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا نہیں بلکہ تیسرے درجے کا شہری بنا کر دم لے گی۔ بی جے پی کے ارادوں کے سامنے بھارت کا حزب اختلاف کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ کانگریس ایک برائے نام پارٹی بن چکی ہے۔ اگر کانگریس میں دم خم ہوتا تو وہ بی جے پی کی
مزید پڑھیے


بینظیر بھٹو کو کارڈ مت بناؤ

جمعه 27 دسمبر 2019ء
عمر قاضی
پھر وہی سرد دسمبر اور پر درد دسمبر۔ کھوئی ہوئی محبت کی یادیں۔ کچھ باتیں جن کو بھولنا ممکن نہیں۔سال کے اس آخری ماہ میں ہم سے بہت سارے پیارے پیارے لوگ بچھڑجاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو تو ہم بھول جاتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن لوگوں کے بارے میں فیض صاحب نے لکھا ہے: ’’بہار آئی تو جیسے یکبار /لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے/وہ خواب سارے شباب سارے/جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے/جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے/نکھر گئے ہیں گلاب سارے/جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں/جو تیرے عشاق کا لہو ہیں/ابل پڑے
مزید پڑھیے


چھٹے اسیر تو۔۔۔۔۔۔!!

جمعه 20 دسمبر 2019ء
عمر قاضی
اصولی طور اب پیپلز پارٹی کو یہ بات کبھی نہیں کہنی چاہئیے کہ انصاف کے ایوان میں سندھ سے سوتیلی ماں جیسا سلوک اختیار کیا جاتا ہے۔ اگر پاکستان کے قانون کو پنجاب سے زیادہ پیار ہوتا صرف نواز شریف اور مریم نواز ہی نہیں بلکہ شاہد خاقان عباسی اور سعد رفیق کے ساتھ رانا ثناء اﷲ بھی رہا کیے جاتے۔ کیوں کہ پیپلز پارٹی کے صرف آصف زرداری اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ساتھ آزاد نہیں ہوئے بلکہ سید خورشید شاہ اور آغا سراج درانی کو بھی ضمانت مل چکی ہے۔ جب کہ ملکی میڈیا کو معاشی بحران میں
مزید پڑھیے


کراچی کی دعا

پیر 16 دسمبر 2019ء
عمر قاضی
وہ سات دن صرف ایک خاندان کے لیے نہیں بلکہ پورے شہر کے لیے انتہائی اذیت ناک تھے۔ وہ ہر گھر بہت پریشان تھا جس میں بیٹی تھی۔ وہ سب لوگ اپنی بیٹیوں کی صورت میں اس دعا منگی کو دیکھ رہے تھے جس کو کراچی کے انتہائی پوش علاقے ڈیفنس سے اغوا کیا گیا۔ اس وقت دعا منگی کے ساتھ اس کا دوست حارث سومرو بھی تھا۔ وہ حارث سومرو جو ابھی تک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ کیوں کہ اغواکاروں نے دعا کو اغوا سے بچانے کے لیے مزاحمت کرنے والے حارث سومرو کے گلے میں گولی اتار
مزید پڑھیے


بات تو سچ ہے مگر۔۔۔۔!!

جمعه 13 دسمبر 2019ء
عمر قاضی
یہ حقیقت ہے کہ آصف زرداری میاں نواز شریف سے زیادہ علیل ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وفاق پیپلز پارٹی کے ایک اور رہنما کی لاش کو سندھ بھیجنا افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ صحت کی بنیاد پر میاں نواز شریف کی ضمانت کے بعد حکومت نے آصف زرداری کی رہائی کا اشارہ دے دیا تھا۔اب سوال یہ ہے کہ آصف زرداری کا نام ای سی ایل سے ہٹایا جائے گا یا نہیں؟ اگر نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی سہولت میسر ہو سکتی ہے تو آصف زرداری کو کیوں نہیں؟ مگر اس سے اہم سوال یہ ہے
مزید پڑھیے