عمر قاضی



خون خاک نشیناں


گذشتہ ہفتے کا سندھ بیحد اداس رہا۔ اس بار سندھ کا اجرک صرف آنسوؤںسے نہیں بلکہ اس دھرتی کے مظلوموں کے خون سے نم رہا۔ وقت کبھی نہیں ٹھہرتا۔ وہ ہفتہ تو گذر گیا ہے مگر اس ہفتے کی یادیں سندھ کے دل میں بھرے ہوئے زخموںکے نشانوں کی طرح ہمیشہ نظر آتی رہیں گی۔ یہ ہفتہ کس قدر سست اور کس قدر سفاک تھا۔ اس ہفتے سندھ کے سوشل میڈیا پر ماتم برپا رہا۔ اس ہفتے سندھ کی آنکھیں مظلوم انسانوں کی لاشوں سے بھری رہیں۔ اس لیے اس بار اگر سندھ نے اپنا کوئی سیاسی اظہار بھی کیا
جمعه 15 فروری 2019ء

’’چلو پھر سے مسکرائیں‘‘

جمعه 08 فروری 2019ء
عمر قاضی
سندھ کا وہ گورنر ہاؤس جہاں ایم کیو ایم کا گورنر ایلفی کی طرح چودہ برس تک چپکا رہا‘ اس گھر میں جو سازشوں کا تعفن موجود تھا اس کو صاف کرنے کے لیے اس ہاؤس میں ایک عدد ادبی میلے کا انعقاد ضروری تھا۔ اپنے شہر اور اپنے صوبے بلکہ اپنے ملک کے لیے یہ قربانی امینہ سید اور آصف فرخی نے دی۔ ہماری سیاست اور ہمارے ادب میں وقت کے ساتھ جو فاصلہ پیدا ہوگیا ہے اس کو ختم کرنا کسی سرکار کے بس کی بات نہیں۔ سیاست میں سچائی تو کیا سنجیدگی کا بھی فقدان ہے۔ جب
مزید پڑھیے


سیاسی جمود اور جذباتی بہاؤ

جمعه 01 فروری 2019ء
عمر قاضی
شریف برادران کی گرفتاری کے بعد آصف زرداری کی اسیری متوقع تھی مگر نامعلوم وجوہات کے باعث ہماری سیاست جمود کا شکار ہوگئی ہے۔ سیاسی جمود کے باعث میڈیا ویران اور سیاسی مبصر پریشان ہیں۔ ہماری ملکی سیاست کا موجودہ منظر ایسا ہے جیسا یورپ اور کینیڈا میں پانی کے تالابوں اور جھیلوں کا جن کی سطح برف آب بن جاتی ہے مگر ان کے نیچے آبی زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ جب کہ ہم اپنے ملک کے سیاسی جمود کے بارے میں یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ سیاست کے اس جم جانے والے پانی کے نیچے
مزید پڑھیے


کشمکش

جمعه 25 جنوری 2019ء
عمر قاضی
آصف زرداری کو آج بھی انتظار ہے کہ اس کواچانک اطلاع مل سکتی ہے ’’صاحب! آپ کے جانے کا وقت آگیا ہے،، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی گرفتاری عمل میں کیوں نہیں آ رہی؟آصف زرداری اور اس کی گرفتاری کے درمیاں قربان ہونے والے بکروں کی قطار نہیں ہے۔ آصف زرداری کافی وقت پہلے گرفتار ہو چکے ہوتے مگر ان کی گرفتاری عمل میں نہ لانے والے دونوں محاذوں پر ایک وقت میں جنگ شروع کرنا نہیں چاہتے۔ ان کا خیال تھا کہ پہلے نواز لیگ کا محاذ ذرا ٹھنڈا ہوجائے اس کے بعد پیپلز پارٹی
مزید پڑھیے


دو دیپ بجھے

جمعه 18 جنوری 2019ء
عمر قاضی
کل سترہ جنوری کا سرد دن تھا۔ اس دن سندھ کے قوم پرست اور ترقی پسند حلقوں میں ایک طرف خوشی منائی جاتی ہے اور دوسری طرف آنسو بہائے جاتے ہیں۔ سترہ جنوری کا دن وہ دن تھا جس دن اس جی ایم سید نے جنم لیا تھا جو آخری ایام میں تو قوم پرست بن گئے تھے مگر ان کی پہچان صرف جیئے سندھ نہیں ہے۔ یہ وہ شخص تھے جنہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں جوانی کے سیاہ بال سفید کیے۔ یہ وہ شخص تھے جنہیں قائد اعظم سے والہانہ محبت تھی۔ انہوں نے خود اپنی یاداشتوں
مزید پڑھیے




مائنس زرداری پلس جمہوریت

جمعه 11 جنوری 2019ء
عمر قاضی
مائنس تھری کا تصور کس نے پیش کیا تھا؟ اس سوال کا جواب کوئی نہیں جانتا۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ تصور کسی نے پیش نہیں کیا۔ کسی مقام اور کسی ادارے میں یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ پاکستان کی سیاست کو ان تین افراد سے الگ کرنا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں صرف ان تین لیڈروں کی وجہ سے گڑبڑ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ افراد کا نہیں۔ اصل مسئلہ سسٹم کا ہے۔ سیاسی جماعتیں ملکی سسٹم پر دوش دیتی ہیں۔ مگر انہوں نے کبھی اس بات پر نہیں سوچا کہ یہ سسٹم کئی جماعتوں سے شروع
مزید پڑھیے


پیپلز پارٹی کو ہیرو مت بنائیں

جمعه 04 جنوری 2019ء
عمر قاضی
پیپلز پارٹی اپنے گناہوں اوراپنی غلطیوں کے گرداب میں تیزی سے گم ہو رہی تھی مگر پی ٹی آئی نے سندھ میں حکومت گرانے کی کوشش کرکے اس پھر سے مضبوط کرنا شروع کیا ہے۔ ممکن ہے کہ تحریک انصاف نے یہ سوچا ہو کہ پیپلز پارٹی گرتی ہوئی دیوار ہے اس کو دھکا دیا جائے مگر پی ٹی آئی کی تھنک ٹینک کو اس بات کا علم ہونا چاہئیے کہ ذوالفقار علی بھٹوکے بعد پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ’’سندھ کارڈ‘‘ کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ذوالفقار بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی سندھ میں چار بار اقتدار کے مسند
مزید پڑھیے


شوقن میلے دی

جمعه 21 دسمبر 2018ء
عمر قاضی
کوئی سیاسی دانشور کچھ بھی کہے ہم تو ان سب لوگوں کو ایک قوم سمجھتے ہیں جو دریائے سندھ کے کنارے بستے ہیں۔ برف کی وجہ سے سفید چوٹیوں والے چٹانوں سے لیکر گرم سمندر تک سارے لوگ ایک ہی کلچر کے دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔ ویسے تو سندھ میں بھی یہ کہتے ہیں کہ بارہ کلومیٹر کے بعد زبانوں کا لہجہ بدل جاتا ہے ۔ مگر اہم بات یہ نہیں کہ کون کیسی زبان بولتا۔ اہم بات یہ زبان نہیں وہ مزاج ہے جس میں ثقافت کے سارے رنگ جھل مل کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ چترال
مزید پڑھیے


عشق اور عوام

هفته 15 دسمبر 2018ء
عمر قاضی
سیاست بہت ہوئی۔ آج سیاست پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ آج صرف فطرت کی ان حسین رعنائیوں کا تذکرہ ہوگا جن کو علامہ اقبال کی شاعری کا حسن ہیں۔ علامہ اقبال مفکر شاعر تھے مگر کبھی کبھی وہ دماغ سے دامن چھڑا کر دل کی آغوش میں آنکھیں بند کرکے لیٹ جاتے تھے۔ علامہ اقبال دماغ اور دانش کے مخالف نہیں تھے۔ وہ واحد شاعر ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو سوچنے کا سلیقہ سکھایا مگر زندگی میں ضروری توازن پیدا کرنے کے لیے انہوں نے یہ بھی لکھا تھا: ’’اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا
مزید پڑھیے


آصف زرداری کی الوداعی ملاقاتیں؟

جمعه 07 دسمبر 2018ء
عمر قاضی
پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کافی دنوں سے سندھ کا دورہ کر رہے ہیں۔ اپنے دورہ سندھ کے دوران انہوں نے عوامی اجتماعات سے خطاب کرنے سے گریز کیا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ سندھ کے لوگ ان سے کتنی محبت کرتے ہیں؟سکیورٹی کے خدشات اپنی جگہ مگر ان کو یہ بھی خوف ہے کہ کہیں عوامی جلسوں میں ان کے خلاف نعرے نہ لگ جائیں۔ کیوں کے ان کے اقتدار کو سندھ میں دس برس مکمل ہوچکے ہیں مگراب تک سندھ کی حالت تاریخ سندھ کی طرح ٹوٹی پھوٹی ہے۔
مزید پڑھیے