BN

عمر قاضی



آصف زرداری کی الوداعی ملاقاتیں؟


پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کافی دنوں سے سندھ کا دورہ کر رہے ہیں۔ اپنے دورہ سندھ کے دوران انہوں نے عوامی اجتماعات سے خطاب کرنے سے گریز کیا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ سندھ کے لوگ ان سے کتنی محبت کرتے ہیں؟سکیورٹی کے خدشات اپنی جگہ مگر ان کو یہ بھی خوف ہے کہ کہیں عوامی جلسوں میں ان کے خلاف نعرے نہ لگ جائیں۔ کیوں کے ان کے اقتدار کو سندھ میں دس برس مکمل ہوچکے ہیں مگراب تک سندھ کی حالت تاریخ سندھ کی طرح ٹوٹی پھوٹی ہے۔
جمعه 07 دسمبر 2018ء

انتظار کے 71 برس

جمعه 30 نومبر 2018ء
عمر قاضی
جس وقت میڈیا پر صرف کرتارپور راہداری کے مناظر چھائے ہوئے تھے اور کیمرے گھنی داڑھیوں اور رنگین پگڑیوں والے ان خوش قسمت سکھوں کے چہروں کو محفوظ کر رہے تھے جو اس تاریخی موقعے پر بہت مسرور نظر آ رہے تھے؛ اس وقت میرے ہونٹوں پر نہ جانے کیوں فیض صاحب کے یہ اشعار آ رہے تھے: بہار آئی تو کھل گئے ہیں نئے سرے سے حساب سارے اور میں سوچنے لگا کہ تاریخ کتنی سفاک ہے۔ ستر برسوں سے زیادہ کا عرصہ ان سکھوں کی عقیدت نے آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے گزارے مگر ان کے ملک نے ان کے اس
مزید پڑھیے


جوہی کو پانی دو!

جمعه 23 نومبر 2018ء
عمر قاضی
ان کے شہر کا نام بہت خوبصورت ہے مگر ان کے حالات بہت بدصورت ہیں۔ ان کے شہرکا نام ’’جوہی‘‘ ہے۔ وہ جوہی جس کی طرف جانے والا راستہ قلندر لال شہباز کے مزار سے چندکلومیٹر آگے سیہون کی اس سڑک سے نکلتا ہے جو لاڑکانہ کی طرف جاتی ہے۔ جوہی سندھ کے وزیر اعلی مرادعلی شاہ کے گاؤں کے بیحد قریب ہے۔ چیف منسٹر کے پڑوسی ہونے کا انہیں فائدہ ہونا چاہئے مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ تعلق ان کے لیے نقصان کا باعث بنا ہوا ہے۔ جوہی کے لوگ جب بھی اپنے کسی جائز مطالبے
مزید پڑھیے


انہیں ماتھے پہ بوسہ دو

جمعه 16 نومبر 2018ء
عمر قاضی
سی سی ٹی وی کی وہ ریکارڈنگ تو کورٹ میں پیش کی جائے گی جس میں ایک ماں اپنے دو بچوں کے ساتھ کراچی کے مہنگے ریستوران کے دروازے سے داخل ہو رہی ہے مگر وہ مناظر دیکھنے کا کسی کو حوصلہ نہیں جب زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ماں ہسپتال میں زیر علاج تھی اور اس کے سامنے دو ننھے منے پھول کفن کے سفید کپڑے میں لپیٹ کر لائے گئے۔ وہ ماں جس کی چیخوں سے ہسپتال کا وارڈ لرز رہا تھا اس ماں کو بچوں کا باپ دھیرے سے کہہ رہا تھا ’’عائشہ! صبر کرو ۔
مزید پڑھیے


عقل؛ علم ؛ عشق اور اقبال

جمعه 09 نومبر 2018ء
عمر قاضی
علامہ تو بہت ہیں مگر اقبال ایک ہیں۔ وہ اقبال جو پورے برصغیر میں بڑی عزت اور بڑے احترام کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں۔ اقبال ایک ایسے آفتاب ہیں جو روشنی کے حوالے سے ہر اس ملک میں چمک رہے ہیں جہاں اردو اور فارسی سمجھی جاتی ہے۔مگر یہ بھی حقیقت ہے جو لوگ بہت زیاد ہ جانے جاتے ہیں ان کے بارے میں لوگ بہت کم جانتے ہیں۔ قائد اعظم کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ قائد اعظم کے بارے میں اس ملک کے لوگوں کی معلومات بہت تھوڑی ہیں۔ اگر اس ملک کے عوام قائد اعظم سے آگاہ
مزید پڑھیے




معافی کلچر

جمعه 02 نومبر 2018ء
عمر قاضی
اس دن پاکستان کے عظیم صوفی دانشور اشفاق احمد کی شدت سے یاد آئی؛ جس دن ملک کے بڑے شہروں میں بڑے احتجاجی جلوس بلند نعرے لگارہے تھے۔ جس دن شہروں کی شاہراہیں بند گلیوں میں بدل چکی تھیں۔ جس دن دل کی آگ جا بہ جا بھڑک رہی تھی۔ جس دن کچھ نوجوان اپنے وردی والے بھائیوں سے لڑنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ جس دن اس ملک کے دوست فرشتوں کی اداسی فضا میں بکھری ہوئی تھی اور شیطان کی مسکراہٹ اس طرح سفر کر رہی تھی جس طرح سانپ سبز گھاس میں سرکتے ہوئے سفر کرتا ہے۔
مزید پڑھیے


پردیسی پرندے

جمعه 26 اکتوبر 2018ء
عمر قاضی
سرد موسم میں گرم کافی پینے اور پسندیدہ کتاب پڑھنے سے بڑی عیاشی اور کیا ہوسکتی ہے؟ کراچی تو ابھی سرد موسم کا منتظر ہے مگر گذشتہ روز لاڑکانہ میں ایک دوست کی دعوت پر ایک رات کو ٹھہرا تو اس رات کھڑکی کے شیشے سے سرد چاند اس کمرے میں جھانک رہا تھا جہاں میں علامہ اقبال کی شاعری پڑھ رہا تھا اور میری آنکھیں اس صفحے پر کچھ دیر کے لیے رک گئیں جس صفحے پر علامہ اقبال نے ابو العلاء المعری کے حوالے سے یہ بات لکھی ہے کہ وہ گوشت نہیں کھاتے تھے اس لیے ان
مزید پڑھیے


’’ می ٹو‘‘ کی چیخیں اور سماج کی نفسیاتی تشکیل

هفته 20 اکتوبر 2018ء
عمر قاضی
کیا روشن خیالی کا مطلب یہی ہے کہ معاشرے کو ایک جنسی ہیجان سے دوچار کر دیا جائے اور پھر آرٹ ، کلچر اور سافٹ امیج کی چکا چوند سے ’’ می ٹو‘‘ کی صدائیں دی جائیں؟ کیا کوئی معاشرہ بنیادی قدروں سے لاتعلق رہ کر ترقی کر سکتا ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ اسلامی معاشرہ ان قباحتوں سے پاک ہوتا ہے اور یہ خرابیاں صرف مغربی تہذیب اور اس کے متاثرین معاشروں میں پائی جاتی ہیں۔جب زینب جیسی بیٹیوں پر قیامت بیت جائے تو کوئی تقدیس مشرق کی ثنا خوانی کیسے کر سکتا ہے؟لیکن اس حقیقت کے اعتراف
مزید پڑھیے


آج پھر دل نے اک تمنا کی!

هفته 13 اکتوبر 2018ء
عمر قاضی
انسان مر جاتے ہیں مگر آوازیں نہیں مرتیں۔ انسان دفن ہوجاتے ہیں مگر صدائیں دفن نہیں ہوتیں۔ انسان جل جاتے ہیں مگر سر سلامت رہتے ہیں۔ یہ سچائی ہم پر اس وقت آشکار ہوتی ہے جب ماضی کے جھروکوں سے کوئی ساحر آواز ہماری سماعت سے ٹکراتی ہے۔ وہ آواز ہمیں بہت دور لے جاتی ہے۔ عمر کے اس حصے میں جس پر مسلسل فراموشی کی بارش برستی رہتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہوا۔ دس اکتوبر کے دن میڈیا کی معرفت اس فنکار کی یاد آئی جس نے راجستھان میں جنم لیا تھا۔ سکھ خاندان میں پیدا ہونے والے
مزید پڑھیے


سندھ اور پنجاب کے سیاستدان

بدھ 10 اکتوبر 2018ء
عمر قاضی
سندھ سیاسی طور پر اس وقت بھی خاموش تھا جب میاں نواز شریف اسلام آباد سے لیکر لاہور تک اس سوال کا چیختا ہوا پرچم لہراتے ہوئے مارچ کر رہے تھے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ سندھ اس وقت بھی خاموش تھا جب میاں نواز شریف کو کرپشن کیس میں حوالات کے حوالے کیا گیا۔ سندھ اس وقت بھی خاموش تھا جب وہ غم کی تصویر بن کر پیرول پر رہا ہوئے۔ سندھ اس وقت بھی خاموش تھا جب وہ آزاد ہوئے۔ سندھ اس وقت بھی چپ ہے جب میاں شہباز شریف جیل میں ہیں اور میاں نواز شریف نے سخت ترین احتجاج
مزید پڑھیے