Common frontend top

آغرندیم سحر


کھوکھلا نظام،بنجر آنکھوں کا نوحہ


پاکستان کی سیاسی ومعاشی صورت حال نے معاشرے کو اخلاقی طور پر بھی دیوالیہ کر دیا ہے،طاقت ور اشرافیہ نے سسٹم کو اپنے تابع کرتے کرتے اس قدر بنجر اور کھوکھلا کر دیا ہے کہ اس کی درستی اب ناممکن ہو چکی ہے،اگر کوئی قسمت کا مارا اس سسٹم اور نظام کو بہتر کرنے کا سوچتا بھی ہے تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔،چھہتر برس ہم نے صرف تجربات میں ضائع کیے،وہ تجربات جن کا نقصان صرف عام آدمی کو ہوا،اشرافیہ نیاپنی ناکامیوں کا ملبہ بھی عام آدمی پر پھینکا ،سیاسی،عسکری اور معاشی اشرافیہ نے نظام کو اس قدر برہنہ کر
بدھ 05 جون 2024ء مزید پڑھیے

ادیب برادری کہاں ہے؟

هفته 01 جون 2024ء
آغرندیم سحر
احمد فرہاد ایک دبنگ لہجے کا تیکھا شاعر ہے،ایک ایسا دردِ دل رکھنے والا سخن ور جس نے ہر اس واقعے اور حادثے پر آواز اٹھائی جس سے مظلوموں کی داد رسی ہو سکتی تھی،اس نے نتیجے کی پروا کیے بغیر طاقت ور حلقوں کو للکارا،ان سے اپنے حقوق کا سوال کیا،آزادی اظہارِ رائے پر قدغن لگانے والوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا،اس کے تلخ لہجے اور اندازِ بیاں سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں مگر اس کے سوالوں سے نہیں،احمد فرہاد کی جانب سے اٹھائے جانب والے سوالات صرف احمد فرہاد کے نہیں ہیں بلکہ ہر اس محب
مزید پڑھیے


مجلہ ’’ صوفی‘‘پنڈی بہاء الدین

پیر 20 مئی 2024ء
آغرندیم سحر
بیسویں صدی کے ربع اول میں تصوف اور ویدانیت کے موضوع سے دلچسپی رکھنے والی صحافتی کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تصوف کے موضوع پر کوئی ہفت روزہ یا پندرہ روزہ تو شائع نہیں ہوتے رہے تاہم ماہوار رسائل اشاعت پذیر ہوئے۔جن میں ’’سادھو‘‘، ’’درویش‘‘،’’مساتنہ جوگی‘‘ ،’’الف‘‘ ،’’طریقت‘‘ ،’’ نظام المشائخ‘‘ ،’’معارف‘‘،’’انوار الصوفیہ‘‘،’’طلوعِ آفتاب‘‘،’’پریم بیلاس‘‘،’’ اسوہ حسنہ‘‘، ’’نظام‘‘، ’’پرہم‘‘،’’ست اپدیش‘‘،’’گلدستہ طریقت‘‘،’’القمر‘‘ اور’’ صوفی‘‘ کے نام سامنے آتے ہیں۔یہ ہندو مسلم عقائد کا پرچار کرنے والے رسائل تھے جو اپنے اپنے حلقہ اثر میں رہتے ہوئے قارئین کو بہترین راہنمائی فراہم کرتے تھے۔ان رسائل میں مجلہ
مزید پڑھیے


شہرت کی بھوک

منگل 14 مئی 2024ء
آغرندیم سحر
شہرت کی بھوک،روٹی کی بھوک سے زیادہ خوف ناک ہوتی ہے،اس بھوک کا شکار شخص ہر چیز کو پروٹوکول کی آنکھ سے دیکھتا ہے،اسے لگتا ہے اس دنیا کا نظم و نسق میرے بغیر نامکمل ہے،وہ خود کو سپیریئر سمجھنا شروع کر دیتا ہے اور وہ اس بات کا بھی خواہش مند ہوتا ہے کہ اسے تمام لوگ سپیئریئر ہی سمجھیں۔ایسے شخص کو اگر کہیں اپنا تعارف کروانا پڑ جائے تو غصے میں آجاتا ہے،تعارف میں اپنا نام بتانے کی بجائے خدمات پر زور دیتا ہے تاکہ اس کے سامنے اپنی شہرت کی دھاک بٹھا سکے۔مشہور آدمی کا سب سے
مزید پڑھیے


سنیارٹی کا مرض

پیر 06 مئی 2024ء
آغرندیم سحر
سنیارٹی کا مرض ایسا خوفناک اور تکلیف دہ ہے کہ اس کی شدت کا اندازہ وہی شخص لگا سکتا جو اس کا شکار ہے،ایسے لوگ عمر بھر کرب سے گزرتے رہتے ہیں،وقت سے پہلے ہی شوگر اور بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں،ان کے پاس فیصلہ کرنے کی طاقت بھی نہیں ہوتی اور یہ انتہائی جذباتی لوگ ہوتے ہیں۔ان کے بارے ہمارے ایک مفکر دوست نے کہا تھا کہ ایسے لوگ عقل سے بھی پیدل ہوتے ہیں،ایسے لوگوں کو اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لیے اپنی خدمات کی فہرست جیب میں رکھنی پڑتی ہے تاکہ ہنگامی صورت
مزید پڑھیے



حافظ نعیم الرحمن سے تین سوال

جمعرات 02 مئی 2024ء
آغرندیم سحر
حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی کے نومنتخب امیر ہیں،آپ ایک شفاف اور جموری عمل سے اس اہم منصب تک پہنچے،آپ کی سادگی،راست بازی اور دلیری کا ایک زمانہ مداح ہے۔مجھے کراچی پریس کلب کے پنڈال میں ہونے والا 2017ء کا ایک مشاعرہ یاد آ گیا،یہ مشاعرہ جسارت کے یومِ تاسیس پر برادر اجمل سراج نے سجایا تھا،لاہور سے ڈاکٹر تیمور حسن تیمور اور راقم شریک تھے۔مشاعرہ شروع ہوا تو ایک نوجوان انتہائی خاموشی سے پنڈال میں داخل ہوا اور اسٹیج کے بالکل سامنے زمین پر بیٹھ گیا،میرے ساتھ بیٹھے ایک دوست نے کہا یہ حافظ نعیم الرحمن ہیں،جماعت اسلامی کے
مزید پڑھیے


کامرس کالج مونگ کی یادیں

منگل 23 اپریل 2024ء
آغرندیم سحر
میٹرک کے بعد گورنمنٹ کامرس کالج مونگ میں داخلہ لیا تو گائوں سے شہر جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا،کالج میرے گائوں سے پینتیس کلو میٹر دور تھا،لوکل ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا کتنا مشکل ہے،اس کا اندازہ کالج میں داخلے کے بعد ہوا۔کامرس سے مجھے کوئی دل چسپی نہیں تھی،ہوا یوں کہ رسول کالج یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے ڈپلومے میں داخلے کے لیے کوشش کی ،میرٹ میں میرا نام سیلف فنانس میں آیا اور وہ بھی شام کی کلاسز میں،مجھے شام تو کیا دن کی کلاسز میں بھی کوئی دل چسپی نہیں تھی، ان دنوں مجھ پر شاعری اور صحافت
مزید پڑھیے


وزیر اعظم کے نام ایک خط!

هفته 13 اپریل 2024ء
آغرندیم سحر
وہ نوجوان کئی روز سے کال کر رہا تھا۔میں نے عید کی چھٹیوں میں بلا لیا ۔اس کے ہاتھ ایک خط تھا ،چاہتا تھا کہ اسے کالم میں شائع کروں۔سو یہ خط پیش ہے: سلام و رحمت جنابِ وزیر اعظم! رحمتوں کی دعا کے ساتھ آپ سے چند گزارشات کروں گا،یہ گزارشات صرف میری نہیں بلکہ ان لاکھوں نوجوانوں کی ہیں جن کے ہاتھوں میں ڈگریاں بھی ہیں اور ٹیلنٹ بھی۔جنابِ عالی! یہ نوجوان جنھوں نے پاکستان کے لیے ہمیشہ کچھ بڑا کرنے کاسوچا،جنھوں نے اس دھرتی پر خواب دیکھے اور اس دھرتی کے لیے خواب دیکھے،جن کے ٹیلنٹ کا محور
مزید پڑھیے


خدا سے تجارت کریں!

منگل 02 اپریل 2024ء
آغرندیم سحر
حضرت موسیٰ کوہِ طور پر خدا سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے،راستے میں مفلوک الحال شخص ملا جس کے مالی حالات انتہائی پریشان کن تھے،وہ ایک وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتا تھا،موسیٰ ؑ کو دیکھاتو گزارش کی کہ اے اللہ کے پیغمبر! آپ تو خدا سے ملتے رہتے ہیں،اب جب ملیں تو خدائے لم یزل سے میری ایک گزارش پیش کیجیے گا کہ میرے حصے کا جتنا رزق ہے ،وہ اللہ ایک بار ہی مجھے دے دے تاکہ میں ایک دن ہی سہی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ پیٹ بھر کر کھا سکوں۔موسیٰ ؑ
مزید پڑھیے


سائنس دان ڈاکٹر ہنری لارسن کا قبول اسلام

جمعرات 21 مارچ 2024ء
آغرندیم سحر
ہارڈورڈ یونیورسٹی کے سینیئرپروفیسر اور اہم ترین مغربی سائنس دان ڈاکٹر ہنری لارسن نے یکم رمضان المبارک کو اسلام قبول کیا اور عمرے پر روانہ ہو گئے، ہنری ،اہم ترین امریکی یونیورسٹی ہارڈروڈ سے وابستہ ہیں،آپ موروثی نابینا پن کے علاج کے لیے اسٹیم سیل دوا کے موجد ہیں جسے حال ہی میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے تیسرے اور آخری مرحلے میں جانچ کے لیے منظور کر لیا گیا،اس کے بعد اسے عالمی سطح پر بھی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا ۔ڈاکٹر فرید پراچہ نے اس خبر کے بعد محترم احید حسن کی ایک بات نقل کی،جسے
مزید پڑھیے








اہم خبریں