Common frontend top

BN

فیصل مسعود


امّاں ریاست کے نام ایک بیٹے کا خط


پیاری اماں،امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔میں جانتا ہوں کہ آج کل آپ بہت دبائو میں ہیں۔ آپ کی گود میں ہم جیسوں نے پرورش پائی۔ آپ کے دکھ کو محسوس کئے بغیرہم کیسے رہ سکتے ہیں؟ وقت مگرکچھ ایسا آن پڑا ہے کہ کھل کر بات کرنااب اس قدر آسان نہیں رہا۔ اماں ، ہم سب جانتے ہیں کہ لالہ مودی رام کے بزرگوں کوآپ کا مسلم محلے میںالگ گھر بسانا ہرگزقبول نہ تھا۔ چنانچہ روز اول سے ہی نہ صرف یہ کہ لالہ مودی رام کے خاندان نے خودآپ کو ستائے رکھنے کی پالیسی اپنائی بلکہ اس
اتوار 05 فروری 2023ء مزید پڑھیے

استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر!……(8)

اتوار 29 جنوری 2023ء
فیصل مسعود
بہاولپور حادثے کے بعد چیئرمین سینٹ نے صدر مملکت اورجنرل بیگ نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا۔ملک میں نئے انتخابات کا اعلان ہوا۔ انتخابات کے نتیجے میںسویلین وزیرِ اعظم کے منتخب ہو جانے کے بعدوردی پوش حکمرانی کی جگہ’ اقتدار کی تکون ‘نے لے لی ۔ نوے کی دہائی کی تاریخ ابھی کل کی بات ہے، لہٰذا یہاں دہرائے جانے کی محتاج نہیں۔تاہم سیاسی بے یقینی، لوٹا کریسی ، مالی بدعنوانی، خام ریاستی پالیسیوں اور ان سب کے نتیجے میں زندگی کے ہر شعبے میں رونما ہونے والے زوال کو سامنے رکھتے ہوئے اس عشرے کو جب ’عشرہ زیاں‘ کہا
مزید پڑھیے


استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر! (7)

اتوار 22 جنوری 2023ء
فیصل مسعود
ستر کے عشرے میں کمیشن پانے والی ’پاکستانی نسل‘ کے افسران ’برٹش اور امریکی جنریشنز‘ کے برعکس انڈین آرمی کے ساتھ معمول کے تعلقاتِ کارکا تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ انہیں برٹش اور امریکی افواج کوقریب سے دیکھنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔ اس جنریشن کے افسروں کے رویوں میںعمومی طور پر بھارتیوں سے متعلق درشتگی اور دلوں میں بھارت سے بدلہ لینے کی خواہش پائی جاتی۔ یہ نسل پاکستان آرمی میں اس وقت شامل ہوئی تھی جب پاکستان آرمی سقوطِ ڈھاکہ کے بعد شدیدعوامی دبائو کا شکار تھی۔ دوسری طرف بھارت کی قید میں رہنے والوں کی اکثریت بھٹو
مزید پڑھیے


استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر!(6)

اتوار 15 جنوری 2023ء
فیصل مسعود
یحییٰ خان کو امریکہ اور چین کی طرف سے مدد نہ آنے پر دکھ تھا۔دوسری طرف چین پاکستان کے عسکری اور سیاسی رہنمائوں کی طرف سے معاملے کا سیاسی حل نکالے جانے میںتساہل پر اپنی جگہ سخت مایوس تھا۔ایک خیال ہے کہ 3دسمبر کواگر تمام محاذوں پر جنگ کا اعلان نہ کیا جاتا تو بھارت بین الاقوامی سرحد پار نہ کرتا اور یوں ممکن تھا کہ معاملے کا کوئی سیاسی حل نکل آتا۔سقوطِ ڈھاکہ سے قبل کلیدی دنوں کے اندربھٹو صاحب کے اقوامِ متحدہ میں طرزِعمل پر بھی کئی سوالیہ نشانات موجود ہیں۔ تاہم پاکستان کوعالمی حزیمت اور عسکری شکست
مزید پڑھیے


استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر! (5)

اتوار 08 جنوری 2023ء
فیصل مسعود
ایوب خان نے اقتدار سنبھالا تو نہرو حکومت کے ساتھ ان کا’ ورکنگ ریلیشن شپ‘ بن گیا۔سندھ طاس معاہدہ ہوا۔ کشمیر پر بات چیت کسی نہ کسی شکل میں جاری رہی۔ بھارت اور چین کی جنگ کے دوران اگرچہ امریکی دبائو کے زیرِ اثر ہی سہی، پاکستان نے موقع سے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی۔ مشرقی پاکستان کے باب میں ایوب خان کا خیال تھا کہ اگر بنگالی اپنا راستہ چننا چاہتے ہیں تو انہیں اس کا اختیار ہے۔دوسری طرف ایوب خان کشمیر کے معاملے پربھی پاک بھارت جنگ چھیڑے جانے کے حق میں نہیں تھے۔ اس
مزید پڑھیے



استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر! (4)

اتوار 01 جنوری 2023ء
فیصل مسعود
ممتاز مورخ سٹیفن پی کوہن پاکستان آرمی کو تین جنریشنز میں تقسیم کرتے ہیں۔ نوزائیدہ مملکت کی فوج کا حصہ بننے والے افسران بنیادی طور پر برٹش انڈین آرمی کا ورثہ تھے، چنانچہ اسی بناء پروہ انہیں ’برٹش جنریشن‘ کہا گیا۔ ان افسروں کی اکثریت کا تعلق جاگیر دارانہ پس منظر رکھنے والے ، مغربی بود و باش کے حامل ،نسبتاََ سیکولر اور وفادار سمجھے جانے والے متمول گھرانوں سے ہوتا تھا۔ اس دور میں کہ جہاں پاکستان آرمی روایات تو برٹش انڈین آرمی کی لے کر چل رہی تھی ، اس کا مادی انحصار امریکہ پرمنتقل ہو رہاتھا۔
مزید پڑھیے


استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر! (3)

اتوار 25 دسمبر 2022ء
فیصل مسعود
ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کو اکثر ’طاقتور‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ کیا طاقتور ہونا ہی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کا بنیادی سبب ہے؟پاکستان جن سنگین معاشی اور سلامتی خطرات کے سائے تلے وجود میں آیا تھا، وسائل کی کمیابی کے باوجود ایک طاقتور فوج کاقیام ملک کی مجبوری تھی۔ دنیا کی تمام ریاستیں اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ اپنی دفاعی ضروریات پر صرف کرتی ہیں۔ یورپ کی ترقی کے پسِ پشت جہاںکئی عوامل کار فرما رہے، و ہیں خطے کی تکنیکی میدان میں ایجادات اورترقی کوان ملکوں میں دفاعی صنعتوں کے قیام اور اس کے نتیجے میںپیدا ہونے
مزید پڑھیے


استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر! (2)

اتوار 18 دسمبر 2022ء
فیصل مسعود
برٹش انڈین آرمی کی تقسیم کی طے شدہ سکیم کے مطابق پاکستانی علاقوں کے ہندو افسروں اور جوانوں کو چوائس دی گئی کہ وہ چاہیں تو انڈین آرمی میں شمولیت اختیار کر لیں۔ اسی طرح بھارتی علاقوں کے مکین مسلمان اہلکاروںکوپاکستان آرمی کے انتخاب کا موقع دیا گیا۔ انڈین آرمی کا حصہ بننے والی یونٹس کے مسلمان افسروں اور جوانوں کی اکثریت نے جہاں پاکستان آرمی میں شمولیت کا فیصلہ کیا تووہیں ایک بڑی تعداد نے بھارت میں ہی رہنا پسند کیا۔ جب نامزدیونٹس نے اپنے اپنے ملک روانگی کا عمل شروع کیا تو بے حد خوش دلی، فوجی روایات
مزید پڑھیے


استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر!

اتوار 11 دسمبر 2022ء
فیصل مسعود
ازکارِ رفتہ سپاہی کسی کا ترجمان نہیںہے۔ٹھیک سے یہ بھی نہیں جانتا کہ ادارے کے اندرکیا سوچ پنپ رہی ہے۔تاہم اپنے جیسوں میں رہتا ہوں۔ اسی لئے جانتا ہوں کہ ہم جیسے اکثر کیا سوچ رہے ہیں۔ہمارے اندر سے ہی مگرآج کل کچھ ایسے بھی متحرک ہیں جو خود کو’ پوپ سے زیادہ پرہیز گار‘ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم جیسے مگر جانتے ہیں کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ رنجشیں گو جلد ہی جاتی رہتیں۔اگرچہ چند استثنائی ہر زمانے میں پائے گئے کہ جوکچھ تعصب ،کچھ لاعلمی تو یا پھر ذاتی مفادات و وجوہات کی بناء پر ادارے سے
مزید پڑھیے


نئے سپہ سالار کو در پیش تین بڑے چیلنجز!

اتوار 27 نومبر 2022ء
فیصل مسعود
کئی ہفتوں کی قیاس آرائیوں اور چند اعصاب شکن دنوںکے بعد با لآخر پاکستان آرمی کے نئے سپہ سالار کی نامزدگی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو سروس میں retain کرتے ہوئے فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی ہے۔ یوں اب وہ 27 نومبر کو ریٹائر ہونے کی بجائے دو روز بعد اپنے نئے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔اگرچہ حکومت کا اصرار ہے کہ اس تعیناتی میں سنیارٹی کا اصول مدِ نظر رکھا گیا ہے، تاہم گزرے دنوں کے واقعات اورزیرِ زمین سرگرمیوں
مزید پڑھیے








اہم خبریں