Common frontend top

فیصل مسعود


ایلیٹ گروہوں کا گٹھ جوڑ اور امکانات !


پاکستان اس وقت ایلیٹ گروہوں کے آہنی شکنجے کی گرفت (Elite capture) میں ہے۔ آج کا پاکستان اسی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں معاشی اور سیاسی اداروں کے غیر فعال ہونے کی ایک’ٹیکسٹ بک ‘ مثال ہے۔یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں مالی بدعنوانی کا عنصر نیا ہے۔سیاست بھی روزِ اول سے ہمارے ہاںسیاسی خانوادوں کے گھروں کی ہی لونڈی رہی ہے۔ پنجاب میں یہی وہ جاگیردار یونینسٹ تھے، ہندوئوں کے کاروباری غلبے اور نہرو کی زرعی اصلاحات کے امکانی خدشات سے گھبرا کر آخری لمحوں کے اندرجو مسلم لیگ کی گاڑی میں سوار ہو گئے تھے۔ صرف
اتوار 19 مئی 2024ء مزید پڑھیے

’نقوشِ آگہی‘ سے شوقِ آگہی تک !

اتوار 05 مئی 2024ء
فیصل مسعود
کئی ماہ پہلے چائے کے بعد جنرل طیب اعظم نے دستخطوں کے ساتھ اپنے مرحوم والد کی تصنیف ’نقوشِ آگہی‘ عطا کی تو سچی بات ہے ازکارِ رفتہ سپاہی نے کتاب کو ایک عزیز دوست کی طرف سے محض ایک ایسے ’سوونیئر‘ کے طور قبول کیا تھاکہ جسے وہ ایک جگہ سے لا کر دوسری جگہ سجا دیتا، اور بس۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہنے والے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی یاد داشتیں کتابی شکل میں شائع کرواتے ہیں۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عام طور پرایسی خود نوشتیںعموماََ خود ستائی پر ہی مبنی ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے


کچھ اور نہیں،قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں!

اتوار 28 اپریل 2024ء
فیصل مسعود
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جہاں یورپ کی سرحدوں پر نیٹو نامی فوجی اتحاد کھڑا کیا گیا تھا تو وہیں تاریخی سلک روٹ پر سرخ آندھی کو روکنے کے لئے جہادی تنظیموں کی آبیاری کی گئی۔ مسلح مذہبی تحریکیں ہو ں یا تھیوکریٹک ریاستیں ،یہ امرطے شدہے کہ وہاں بالآخر کسی ایک خاص مسلک کی ہی اجارہ داری قائم ہوتی ہے۔صرف ایران ہی نہیں، کئی مثالیں موجود ہیں۔یہ فطری عمل تھا کہ ایرانی انقلاب کے بعد وہاں قائم ہونے والے حکومتی بندوبست میں اکثریتی مذہبی فکر ہی بالا دست رہی۔ اسّی کی دہائی میں جبکہ ایک طرف امریکی چھتری
مزید پڑھیے


فیض آباد دھرنا اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ

اتوار 21 اپریل 2024ء
فیصل مسعود
ایک سیاسی گروہ ، انصاف کے سیکٹر میں اُس کے طرفدار اور میڈیا میں اُس کے حواری کئی برسوں سے ہمیں یہی بتاتے چلے آئے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈفیض حمید نے ہی فیض آباد دھرنے کے ذریعے اس وقت کی حکومت کو کمزور کئے جانے ، عدالتوں پر اثر انداز ہوکر پہلے اسے گرانے اور بعد ازاں باپ بیٹی کو سزا ئیںدلوانے میں کلیدی کردارکیا تھا۔آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں، یقینا دورِ حاضر کی معتوب جماعت کواس افسوس ناک صورتِ حال سے یکسر بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قومی
مزید پڑھیے


کیا عدالتیں کام کر رہی ہیں!

اتوار 14 اپریل 2024ء
فیصل مسعود
احتجاجی شہریوں کے خلاف ہونے والی ریاستی کارروائیوں کا آغاز 9مئی سے بہت پہلے ہو گیا تھا۔چنانچہ یہ جانے بغیر کہ ایک حالیہ افسوس ناک واقعے میں قصور وار کون ہے،اس بات کا اندازہ لگانا کہ عوام کی غالب اکثریت کی ہمدردیاں کس طرف ہیں،ہر گزدشوار نہیں۔ مہینوں ریاست کے ہاتھوں معتوب رہنے والی سیاسی جماعت کے ہمدردوں اور سوشل میڈیا پر اُن کے ’واریئرز‘ میں حسبِ توقع بہت جوش و خروش دیکھنے کو ملا ہے۔ ہر چند کہ وہ پولیس والوںکی دھلائی پر سرشار رہے، مگر ایک ہی سانس میں فریقِ ثانی کو بھی آڑے ہاتھوں لینے کا
مزید پڑھیے



انصاف کی بات کیوں نہیں کرتے!

اتوار 07 اپریل 2024ء
فیصل مسعود
وطنِ عزیز کو درپیش بحران معاشی نہیں، سیاسی یا قومی سلامتی کا بھی نہیں۔ مسئلہ اخلاقیات کے باب میں دیوالیہ پن کا ہے۔ سر زمینِ پاک کو اللہ نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے۔ مسلسل نا انصافی کے رویے مگرجس دھرتی پرروا رہیں، وہاں سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ خوشے خالی اور پھلوں میں سے رَس اُڑ جاتا ہے۔ نوجوان ہیں، منتظر ہیں کہ کسی سبز چراہ گاہ کو اُڑ جائیں۔ 8فروری والے دن جو جوق در جوق گھروں سے نکلے تھے۔ وہی پرانے چہرے مگر ایک بار پھر مسلط ہیں۔ اپنے ہی حلقے سے ہار گئے تو
مزید پڑھیے


پاک امریکہ عجب تعلقات، عجب مجبوریاں(2)!

اتوار 31 مارچ 2024ء
فیصل مسعود
امریکی صدر نے طویل انتظار کے بعد بالآخر بذریعہ خط شہباز حکومت کے قیام پر گرم جوشی اور کئی معاملات پر تعاون کے اعادے کا اظہار کیا ہے۔اپنے 17مارچ کے اسی عنوان سے لکھے گئے کالم میں ہم پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کے ایک اجمالی جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ امریکہ جمہوریت کا دشمن ہرگزنہیں ،پاکستان کے باب میں بس کچھ مجبوریاں آڑے آجاتی رہی ہیں۔ہم نے یہ بھی دیکھا کہ امریکہ کی پاکستان میں دلچسپی تاریخی طور پر واقعاتی (Transactional)رہی ہے۔چنانچہ سرخ آندھی کے خلاف سلک روٹ پر بندباندھنا ہو، گرم پانیوں تک چین
مزید پڑھیے


راج نیتی کا کھیل اور ہمارے شہدائ!

اتوار 24 مارچ 2024ء
فیصل مسعود
16مارچ کی شب مائوں کے جگر گوشے گھروںکی عافیت سے میلوں دُور سنگلاخ گھاٹیوں میں وطن کی سرحدوں کی نگہبانی پرمامور تھے۔ اسی رات کے پچھلے پہر جب روشنیوں میں نہاتے شہر اور بستیاں سحری کے لئے بیدار ہوئے تو وطن کے بیٹے تاریکی میں حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں کے ساتھ نبرد آزما تھے۔ معرکے میں سات خاکی پوشوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان شہیدوں کا تعلق کسی ایک صوبے، ایک شہر، ایک مسلک یا کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں تھا۔ یہ سب پاک فوج کے افسر اور جوان تھے۔ شہید کرنل کے جسدِخاکی کو صدرِ
مزید پڑھیے


پاک امریکہ عجب تعلقات، عجب مجبوریاں !

اتوار 17 مارچ 2024ء
فیصل مسعود
مذہبی طبقے سمیت پاکستانیوں کی ایک معقول تعداد امریکہ کی مسلم مخالف عالمی پالیسیوںکی ہمیشہ سے ناقد رہی ہے۔ امریکی بھی پاکستان پر بھروسہ کرنے سے کتراتے اور خطے میں اس کے عمومی طرزِ عمل پر شاکی رہے ہیں ۔امریکہ سے دوستی ہماری یکطرفہ کاوشوں کا نتیجہ تھی۔ پہلی فوجی آمریت کے دَور میں مگر پاکستان امریکی امداد لینے والا ایک بڑا اتحادی بن چکاتھا۔تاہم سال 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران جہاں ہمیں امریکی امداد کی بندش نہیں بھولتی تو وہیں سقوطِ ڈھاکہ سے پہلے امریکی بحری بیڑے کے نہ پہنچنے کا ہمارادکھ بھی دائمی
مزید پڑھیے


نگران حکومتیں اور سینٹر صاحب کا شکوہ!

اتوار 10 مارچ 2024ء
فیصل مسعود
ن لیگ کے سینٹر عرفان صدیقی صاحب نے اگلے روز سینٹ کے فلور پراظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا ،’ نہیں معلوم نگران حکومتوں میں شامل افراد کہاں سے آتے ہیں اور پھر کہا ں چلے جاتے ہیں‘۔جہاں تک سینٹر صاحب کے سوال کے پہلے حصے یعنی’ نگرانوں کے آنے‘ کا سوال ہے تواس باب میں ہم تو یہی جانتے ہیں کہ ان کا انتخاب آئین کے مطابق متعلقہ قائدین ایوان و حزبِ اختلاف خاصی چھان پھٹک کے بعدکرتے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد جتنی نگران حکومتیں وجود میں آئیں، با لخصوص اب کی بار جو نگران حکومتیں قائم
مزید پڑھیے








اہم خبریں