BN

بریگیڈیئر(ر)فیصل مسعود


یہی ہے زندگی، کچھ خواب چند اُمیدیں!


کسی زمانے میں دنیا منڈی کی معیشت والے مغربی ممالک ، اور ان ممالک کو ’سامراج ‘کے نام سے یاد کرنے والے ’بائیں بازو‘ کے اشتراکیوں کے درمیان تقسیم تھی۔مغربی ممالک سرخ آندھی کو دو بڑے راستوں (Prongs)سے ’ آزاد دنیا ‘کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ سدِّباب کے طور ،جہاں مشرقی یورپ کے راستے میں نیٹو کے ذریعے عسکری صف بندی کی گئی، تو وہیں اشتراکیت کو جبر کا نظام بتلاتے ہوئے مغربی یورپ میں جمہوریت، انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کے خوش نما تصورات کو اس کے مقابل اجاگر کیا گیا۔ دوسری طرف وسطیٰ ایشیا کے
هفته 16 جنوری 2021ء

اے ہمارے ربّ ، ہم کو بادشاہ چاہیے!

هفته 09 جنوری 2021ء
بریگیڈیئر(ر)فیصل مسعود
سیموئیل نبی سے ان کی قوم بضد ہوئی کہ خدا سے کہو ہمارے لیے ایک بادشاہ اتارے۔بولے،سب قوموں کے ہاں عظیم الشان درباروں میں شان و شوکت والے بادشاہ فروکش ہیں۔ ہمیں بھی ایسے ہی رعب و دبدبے والا بادشاہ چاہیے۔ نبی نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا مگر سب مُصر رہے کہ انہیں تو بس ایک بادشاہ چاہیے جو بڑی شان اور کروفر والا ہو۔نسل در نسل کی غلامی سے بنی اسرائیل کو نجات دلا کر حضرت موسیٰ ؑ چالیس سال کی مسافت کے بعد اپنی قوم کو اس آزاد سر زمین پر لائے تھے کہ مقدس کتابوں
مزید پڑھیے


اداروں کے خلاف مہم جوئی اور سینئر لیگیوں کی ذمہ داری!

هفته 02 جنوری 2021ء
بریگیڈیئر(ر)فیصل مسعود
کچھ اور ہو نہ ہو، پی ڈی ایم نے ایسے گروہوں کو کہ جن کے مفادات سرحد پار وابستہ ہیں، زہر آلود تقریروں کے لئے مرکزی پلیٹ فارم مہّیا کر دیا ہے۔وزیرِاعظم عمران خان نے اداروں کے خلاف تضحیک آمیز بیان بازی پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی کا حکم دیا تو وزیرِ داخلہ نے پاک فوج اور اس کی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی اور بے سبب الزام تراشی کرنے والے جے یو آئی کے مفتی کفایت اللہ کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کئے جانے کا عندیہ ظاہر کیا ۔اگلے ہی روز ،ہمہ وقت برہم رہنے
مزید پڑھیے


کریمہ بلوچ کی موت اور ٹویٹر ٹرینڈ!

هفته 26 دسمبر 2020ء
بریگیڈیئر(ر)فیصل مسعود
سوشل میڈیا پر بدزبانی، کردار کشی اورمہم جوئی اب کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس باب میں ٹویٹر من حیث القوم ہمارے عدم برداشت پر مبنی رویوں کا بھرپور عکاس ہے۔ بے شمار گمنام اکائونٹس صبح و شام حالت جنگ میں رہتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے جتھے ہیں جو ایک دوسرے پر ہمہ وقت حملہ آور دیکھے جاسکتے ہیں۔ اکثر سطحی جملے بازی اور ذاتیات پر مبنی دشنام طرازی ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔افسوس مگر اس وقت ہوتا ہے جب اچھے خاصے قد کاٹھ کی شخصیات نفرت اور بے جا تعصب میں ڈوب کراچانک کہیں سے نمودار ہوجانے والے
مزید پڑھیے


پی ڈی ایم کا یک نکاتی ایجنڈا

هفته 19 دسمبر 2020ء
بریگیڈیئر(ر)فیصل مسعود
وزیرِ اعظم عمران خان غالباََ پہلے منتخب حکمران ہیں کہ جن کو غیر معمولی عوامی پذیرائی کے ساتھ ساتھ اداروں کا بھی بھر پور تعاون حاصل ہیں۔ ہم آپ جسے تعاون سمجھتے ہیں، جمہوریت نواز لبرلز ،مذہبی انتہا پسند اور پی ڈی ایم میں شامل جما عتیں اسے ’گٹھ جوڑ ‘ کہتے ہیں۔اداروں سے ان سب کا مطالبہ ہے کہ ایک کروڑ ستر لاکھ ووٹ لے کر برسرِ اقتدار آ نے والے عمران خان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ہٹاتے نہیں توجمہوری حکومت کی مخالفت میں کم از کم کوئی ایک سرگوشی، ایک آدھ بیان، کو ئی
مزید پڑھیے



عالم بیزاری میں لکھا گیا ایک مضمون!

هفته 12 دسمبر 2020ء
بریگیڈیئر(ر)فیصل مسعود
یہاںکسی کی ذات کو زیرِ بحث لانا ہر گز مقصود نہیں تھا،لیکن میاںنواز شریف پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہیں جنہیں یوں نظر انداز کرناممکن نہیں۔ میاں صاحب گزشتہ چالیس برسوں میں وطنِ عزیز کو در پیش ہر بحرانی صورتِ حال کا مرکزی اور مستقل کردار رہے ہیں۔ آج قوم ایک بار پھر گرداب میں ہے اور میاں صاحب اپنے سامنے موجود ہر شے کو تہہ وبالا کرنے پر تلے ہیں۔ اسّی کی دہائی کے کسی پہلے سال اپنے زیرِ تعمیر مکان پر کھڑے جنرل جیلانی لاہوری صنعت کار کے نوجوان بیٹے سے یوں متاثر ہوئے کہ
مزید پڑھیے


اردو سروس کے لئے پیمانہ مختلف کیوں ہے!

هفته 05 دسمبر 2020ء
بریگیڈیئر(ر)فیصل مسعود
مجھے یقین ہے کہ یہ محض ایک اتفاق ہے کہ پشاور جلسے کے اگلے روز پاکستانی لبرلز کے ترجمان انگریزی اخبار نے جو سرخی جمائی ،وہی الفاظ برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو سروس میں اس سے اگلے روز اسی جلسے سے متعلق شائع ہونے والی خصوصی سٹوری کا بھی عنوان تھے۔ ہر دو نے کٹھ پتلی حکومت (Puppet Rule) کو ہٹائے جانے کے پی ڈی ایم کے مطالبے کو جلی حروف میں نمایاں کیا۔ دونوں معتبر صحافتی اداروں سے متعلق مجھے تو کوئی خاص بدگمانی نہیں، تاہم سوشل میڈیا صارفین بالخصوص ٹویٹر استعمال کرنے والے پاکستانیوں نے
مزید پڑھیے


جسے چاہیں اس کو نواز دیں!

هفته 28 نومبر 2020ء
بریگیڈیئر(ر)فیصل مسعود
اعتزاز احسن کا خیال ہے کہ برِّ صغیر کا وہ علاقہ جسے آج پاکستان کہا جاتا ہے، تہذیبی طور پر کبھی بھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا ۔’ انڈس ساگا‘ نامی اپنی کتاب میں ،شمال میں واقع گورداسپور اور جنوب میں کاٹھیا واڑ کو ملا کر کھینچی گئی لکیر کے جنوب مشرق میں واقع خطے کو وہ ’انڈیا ‘ جبکہ شمال مغرب میں موجودہ پاکستان کو وہ ’انڈس ‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اعتزاز صاحب کے خیال میں،بعد از مسیح ابتدائی صدیوں کے دوران مشرقی حصے میں جہاں بادشاہت کا نظام رائج تھا تو اس کے برعکس انڈس
مزید پڑھیے


’میتھڈ اداکاروں ‘ کی نہیں، سیاستدا نوں کی ضرورت ہے!

هفته 21 نومبر 2020ء
بریگیڈیئر(ر)فیصل مسعود
نواز شریف صاحب کے خلاف فیصلہ لکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے سیسلین مافیا کا ذکر کیا تو’ گاڈ فادر‘ نامی ناول پاکستان میں زبان زدِ عام ہوگیا۔ اسی ناول پر بننے والی فلم میں مافیا ڈان کا کردار مارلن برانڈو نے ادا کیا۔ درجنوں شہرا ٓفاق فلموں میں کئی لازوال کردار ادا کرنے کے باوجود مارلن برانڈو کو بنیادی طور پر ڈان کورلیان کے کردارکے حوالے سے ہی جانا جاتا ہے۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ فرانسس فورڈ کپولا نے برینڈو کو ان کے گھر پر جا کر جب ڈان کا رلیان کا کردار سنایا تو عظیم اداکار
مزید پڑھیے


پاک فوج کے ’ جذباتی‘ افسر

هفته 14 نومبر 2020ء
بریگیڈیئر(ر)فیصل مسعود
بریگیڈئر صاحب اور میں ایک دوسرے کو اس وقت سے جانتے ہیںجب ہماری مسّیں بھی نہیں بھیگی تھیں۔ بذلہ سنج اور زندہ دل ۔ حیران کن حد تک نڈر اور راست گو۔ہیرے کی طرح بے داغ۔ کئی سالوں بعد باجوڑ ایجنسی جب ہمارے ہاتھوں سے تقریباََ نکل چکی تھی تو سفاک دہشت گردوں کے گھیرے میں آئے ہوئے دستوں کی قیادت کرنل صاحب کر رہے تھے۔ لرنل صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جانیں ہتھیلیوں پر رکھیں اور کچھ ہی ہفتوں میںکایا پلٹ دی۔کچھ عرصہ گزرا تو ان کی تعیناتی باجوڑ سے کسی اور مقام پر ہو گئی ۔قبائلیوںکے دلوں
مزید پڑھیے