Common frontend top

فیصل مسعود


بقا کا یہی ایک راستہ بچاہے !


حال ہی میں’ مجرم ‘قرار دیئے جانے والے صدر ٹرمپ پر الزام محض کسی پورن سٹار سے ناجائز تعلقات استواررکھنا، یا ’ہش منی ‘ کے ذریعے اس کا منہ بند کرنا نہیںبلکہ ان کا اصل جرم سال 2016ء کی انتخابی مہم کے دوران اس’ ذاتی معاملے‘ کوپوشیدہ رکھتے ہوئے امریکی عوام کے ’حقِ انتخاب ‘ کو متاثر کرنا ہے۔چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ عوام کے ’حق انتخاب‘ کو کسی بھی’ غیر قانونی عمل کے ذریعے متاثرکر نا ہی ایک آزاد جمہوری معاشرے میں ناقابل ِمعافی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا
اتوار 09 جون 2024ء مزید پڑھیے

پاکستان کا مقدمہ کیا ہے !

اتوار 02 جون 2024ء
فیصل مسعود
گزشتہ پانچ صدیوں کے اندر ارتقاء پذیر ہونے والی ’قومی ریاستوں‘ کی تاریخ کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ناکام یا ناکامی کے دہانے پر کھڑی ریاستوں میں وسائل اور اختیارات پرجس قدر الیٹ گروہوں کی گرفت سخت ترہوتی ہے ، اسی نسبت سے قومی ادارے غیر فعال ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہاں کے الیٹ گروہ امیر سے امیر تر اور عوام غربت کے گہرے سمندر میں غرقاب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ فطری طور پراِن الیٹ گروہوں کا پہلا حدف آزاد عدلیہ ہوتی ہے۔جہاں اپنی پسندکے ججوں کی تعیناتی کے لئے ججوں کی تعداد یا متعین عمر یا عہدے
مزید پڑھیے


’کنڈکٹ آف وار‘ ۔ ایک اجمالی جائزہ !

اتوار 26 مئی 2024ء
فیصل مسعود
دس بارہ برس کی سروس کے بعدبیسیوں کی تعداد میں فوجی افسر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں چلائے جانے والے ’سٹاف کورس‘میں شمولیت کے لئے’مقابلے کے امتحان ‘ کی طرز پر منعقدہ سالانہ’اینٹرنس ایگزیم‘ کی مہینوں جاں گسل تیاری کیا کرتے ہیں۔ اب کا ہمیں معلوم نہیں، ہمارے زمانے میں تو برطانوی جنرل فریڈرک فُلرکی ’ کنڈکٹ آف وار ‘ انٹرنس ایگزیم میں شامل ملٹری ہسٹری کے پرچے کا لازمی حصہ ہوتی تھی۔بہر صورت، کتاب میں زیرِ بحث لائے گئے موضوعات کی اہمیت ، کلاز وٹز جیسے عسکری مفکروں کی تھیوریاں اور نپولین جیسے جرنیل کی’ گرینڈ جنگی
مزید پڑھیے


ایلیٹ گروہوں کا گٹھ جوڑ اور امکانات !

اتوار 19 مئی 2024ء
فیصل مسعود
پاکستان اس وقت ایلیٹ گروہوں کے آہنی شکنجے کی گرفت (Elite capture) میں ہے۔ آج کا پاکستان اسی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں معاشی اور سیاسی اداروں کے غیر فعال ہونے کی ایک’ٹیکسٹ بک ‘ مثال ہے۔یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں مالی بدعنوانی کا عنصر نیا ہے۔سیاست بھی روزِ اول سے ہمارے ہاںسیاسی خانوادوں کے گھروں کی ہی لونڈی رہی ہے۔ پنجاب میں یہی وہ جاگیردار یونینسٹ تھے، ہندوئوں کے کاروباری غلبے اور نہرو کی زرعی اصلاحات کے امکانی خدشات سے گھبرا کر آخری لمحوں کے اندرجو مسلم لیگ کی گاڑی میں سوار ہو گئے تھے۔ صرف
مزید پڑھیے


’نقوشِ آگہی‘ سے شوقِ آگہی تک !

اتوار 05 مئی 2024ء
فیصل مسعود
کئی ماہ پہلے چائے کے بعد جنرل طیب اعظم نے دستخطوں کے ساتھ اپنے مرحوم والد کی تصنیف ’نقوشِ آگہی‘ عطا کی تو سچی بات ہے ازکارِ رفتہ سپاہی نے کتاب کو ایک عزیز دوست کی طرف سے محض ایک ایسے ’سوونیئر‘ کے طور قبول کیا تھاکہ جسے وہ ایک جگہ سے لا کر دوسری جگہ سجا دیتا، اور بس۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہنے والے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی یاد داشتیں کتابی شکل میں شائع کرواتے ہیں۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عام طور پرایسی خود نوشتیںعموماََ خود ستائی پر ہی مبنی ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے



کچھ اور نہیں،قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں!

اتوار 28 اپریل 2024ء
فیصل مسعود
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جہاں یورپ کی سرحدوں پر نیٹو نامی فوجی اتحاد کھڑا کیا گیا تھا تو وہیں تاریخی سلک روٹ پر سرخ آندھی کو روکنے کے لئے جہادی تنظیموں کی آبیاری کی گئی۔ مسلح مذہبی تحریکیں ہو ں یا تھیوکریٹک ریاستیں ،یہ امرطے شدہے کہ وہاں بالآخر کسی ایک خاص مسلک کی ہی اجارہ داری قائم ہوتی ہے۔صرف ایران ہی نہیں، کئی مثالیں موجود ہیں۔یہ فطری عمل تھا کہ ایرانی انقلاب کے بعد وہاں قائم ہونے والے حکومتی بندوبست میں اکثریتی مذہبی فکر ہی بالا دست رہی۔ اسّی کی دہائی میں جبکہ ایک طرف امریکی چھتری
مزید پڑھیے


فیض آباد دھرنا اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ

اتوار 21 اپریل 2024ء
فیصل مسعود
ایک سیاسی گروہ ، انصاف کے سیکٹر میں اُس کے طرفدار اور میڈیا میں اُس کے حواری کئی برسوں سے ہمیں یہی بتاتے چلے آئے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈفیض حمید نے ہی فیض آباد دھرنے کے ذریعے اس وقت کی حکومت کو کمزور کئے جانے ، عدالتوں پر اثر انداز ہوکر پہلے اسے گرانے اور بعد ازاں باپ بیٹی کو سزا ئیںدلوانے میں کلیدی کردارکیا تھا۔آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں، یقینا دورِ حاضر کی معتوب جماعت کواس افسوس ناک صورتِ حال سے یکسر بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قومی
مزید پڑھیے


کیا عدالتیں کام کر رہی ہیں!

اتوار 14 اپریل 2024ء
فیصل مسعود
احتجاجی شہریوں کے خلاف ہونے والی ریاستی کارروائیوں کا آغاز 9مئی سے بہت پہلے ہو گیا تھا۔چنانچہ یہ جانے بغیر کہ ایک حالیہ افسوس ناک واقعے میں قصور وار کون ہے،اس بات کا اندازہ لگانا کہ عوام کی غالب اکثریت کی ہمدردیاں کس طرف ہیں،ہر گزدشوار نہیں۔ مہینوں ریاست کے ہاتھوں معتوب رہنے والی سیاسی جماعت کے ہمدردوں اور سوشل میڈیا پر اُن کے ’واریئرز‘ میں حسبِ توقع بہت جوش و خروش دیکھنے کو ملا ہے۔ ہر چند کہ وہ پولیس والوںکی دھلائی پر سرشار رہے، مگر ایک ہی سانس میں فریقِ ثانی کو بھی آڑے ہاتھوں لینے کا
مزید پڑھیے


انصاف کی بات کیوں نہیں کرتے!

اتوار 07 اپریل 2024ء
فیصل مسعود
وطنِ عزیز کو درپیش بحران معاشی نہیں، سیاسی یا قومی سلامتی کا بھی نہیں۔ مسئلہ اخلاقیات کے باب میں دیوالیہ پن کا ہے۔ سر زمینِ پاک کو اللہ نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے۔ مسلسل نا انصافی کے رویے مگرجس دھرتی پرروا رہیں، وہاں سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ خوشے خالی اور پھلوں میں سے رَس اُڑ جاتا ہے۔ نوجوان ہیں، منتظر ہیں کہ کسی سبز چراہ گاہ کو اُڑ جائیں۔ 8فروری والے دن جو جوق در جوق گھروں سے نکلے تھے۔ وہی پرانے چہرے مگر ایک بار پھر مسلط ہیں۔ اپنے ہی حلقے سے ہار گئے تو
مزید پڑھیے


پاک امریکہ عجب تعلقات، عجب مجبوریاں(2)!

اتوار 31 مارچ 2024ء
فیصل مسعود
امریکی صدر نے طویل انتظار کے بعد بالآخر بذریعہ خط شہباز حکومت کے قیام پر گرم جوشی اور کئی معاملات پر تعاون کے اعادے کا اظہار کیا ہے۔اپنے 17مارچ کے اسی عنوان سے لکھے گئے کالم میں ہم پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کے ایک اجمالی جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ امریکہ جمہوریت کا دشمن ہرگزنہیں ،پاکستان کے باب میں بس کچھ مجبوریاں آڑے آجاتی رہی ہیں۔ہم نے یہ بھی دیکھا کہ امریکہ کی پاکستان میں دلچسپی تاریخی طور پر واقعاتی (Transactional)رہی ہے۔چنانچہ سرخ آندھی کے خلاف سلک روٹ پر بندباندھنا ہو، گرم پانیوں تک چین
مزید پڑھیے








اہم خبریں