Common frontend top

فیصل مسعود


پہلا ووٹ ، جس کی قدر نہیں کی گئی!


جمال دین کا خیال ہے کہ کہ جیل میں پڑا قیدی کوئی فرشتہ تو ہر گز نہیں۔ پاکستانیوں کے لئے امید کا مگر آخری چراغ تو ہے کہ چالیس عشروں سے دو خاندان جن کی پیٹھوں پرپیر تسمہ پا کی طرح مسلط ہیں۔ مصیبتوں میں گھرے شخص کی اب غلطیاں گنوانے سے کیا حاصل؟ گنوا تے بھی رہیں تو ملے گاکیا؟لاکھ عیب ڈھونڈو، پاکستانی مگر اب کچھ سننے کو تیار نہیں۔8فروری کوملک کے طول وعرض میںپھیلے ہزاروں پولنگ سٹیشنوں کے سامنے جو امڈ آئے تھے۔طویل قطاروں میں کھڑے ووٹ کے ذریعے جنہوں نے انتقام لینے کی ٹھان رکھی تھی۔ اسلام
اتوار 11 فروری 2024ء مزید پڑھیے

ٹھنڈے پیٹوں سوچنے کی ضرورت ہے !

پیر 05 فروری 2024ء
فیصل مسعود
چین میں مقیم ہمارے قدیم دوست نے ازکارِ رفتہ کے گزشتہ کالم’شہر کو اُجاڑنا لازم نہیں‘، پر تبصرہ ایک مصرعے میں لکھا ہے،’حضور کا شوق سلامت رہے، شہر اور بہت‘۔ڈاکٹر صاحب پی ایچ ڈی اور ایک سابق فوجی ہیں، اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے عمران خان کے کبھی حامی نہیں رہے۔ وہ اس قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے جو کسی ایک فرد یا افراد کی محبت یا نفرت میں گرفتار ہوں۔چنانچہ ڈاکٹر صاحب کی بات کا بُرا منانے کی بجائے اس کے اندرچھپے دردکو محسوس کرنا چاہیئے۔ ڈاکٹر صاحب کل بھی سیاسی انجینئرنگ کے خلاف تھے، آج
مزید پڑھیے


شہر کواجاڑنا لازم نہیں !

اتوار 28 جنوری 2024ء
فیصل مسعود
گزشتہ کئی ماہ سے جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے نتیجے میں ملک کے اندرآزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے امکانات تو بہت پہلے ہی دھندلا چکے تھے۔بد قسمتی سے انتخابی نشان کا فیصلہ آنے کے بعدمتاثرہ فریق تو کیا، غیر جانبدار اور متوازن سوچ کے حامل مبصرین بھی فروری کی مشق کواب ’انتخابات ‘ ماننے کے لئے تیارنہیں ۔ سب سے بڑی بد قسمتی اور ہم جیسوں کے لئے دکھ کا سبب یہ امر ہے کہ اس سب کا’ بینیفشری‘ تو کوئی اور ہے مگر غیر جمہوری کاروائیوں کا سارا بوجھ کسی اور کے کندھوں
مزید پڑھیے


ہم ایک دوسرے کے دشمن نہیں!

اتوار 21 جنوری 2024ء
فیصل مسعود
ایرانی اپنی قدیم تاریخ، ثقافت اور زبان پر فخر کرتے ہیں۔ فارس سے ایران بننے میں بھی نسلی زعم ہی کارفرما رہا ہے۔ سائرس سے دارا تک قدیم فارسی سلطنت کی سرحدیں اُس طرف اناطولیا تو ہماری طرف دریائے سندھ سے آملتی تھیں۔ عباسیوں کی خلافت کے قیام اور کوہ قاف کے پہاڑوں تک اسلامی سلطنت کے پھیلائو کے پسِ پشت’ عجمیوں‘کی دانش کا کردار کلیدی رہا۔سولہویں صدی عیسوی کے دوران ملکِ فارس میں صفوی بادشاہت کے زیرِ اثراثنائے عشری کو اسماعیلیوں، زیدیوں اور سنیوں پر برتری حاصل ہونے لگی۔ آزربائیجان ، آرمینیا اور داغستان کے بعدعراق
مزید پڑھیے


جنرل مشرف کی سزائے موت :کچھ تاثرات!

اتوار 14 جنوری 2024ء
فیصل مسعود
جنرل مشرف آرمی چیف بنے توہم جیسے اکثر نوجوان افسر اُن کے نام تک سے واقف نہیں تھے۔خود اُن کا اپنا خیال بھی یہی تھا کہ انہیں آرمی چیف بنائے جانے کی بڑی وجہ اُن کا اردو سپیکنگ ہونے کی بناء پر کسی طاقتور لسانی یا قبائلی پشت پناہی سے محروم ہونا تھا۔ جنرل مشرف نے عہدہ سنبھالا تو بتایا جاتا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم کے لئے کچھ کرنے کو بے چین رہتے۔ جنرل مشرف کے دور میں فوج نے نہروںمیں بھل صفائی کا کام کیا۔ مہینوں مردم شماری کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد
مزید پڑھیے



ایلیٹ گروہوں کا فولادی گٹھ جوڑ!

اتوار 07 جنوری 2024ء
فیصل مسعود
معروف مئورخ ڈرک کولیئر کا خیال ہے کہ تاریخ میں شیر شاہ سوری جیسے بہت کم ایسے کردار گزرے ہیں جو میکیاولی کے آئیڈیل مطلق العنان ’پرنس‘ کی تعریف پریوں پورا اترتے ہوں۔تاہم آج شیر شاہ سوری کو ہم اس کے ’میکیاولین اوصاف‘ کی وجہ سے نہیں بلکہ’گورننس کے اس تصور‘کی بناء پرجانتے ہیں کہ جو اُس نے اپنے محض پانچ سالہ دور حکمرانی میں پیش کیا تھا۔ اکبر اعظم جیسے بادشاہ نے حکمرانی کے انہی اصولوں پر عظیم الشان ہندوستانی سلطنت کی عمارت کھڑی کی۔ صدیوں کے بعد انگریزوں نے برصغیر میںجدید ایڈمنسٹریشن کے ڈھانچے کی بنیاد رکھی
مزید پڑھیے


اُفق کے اس پار!

اتوار 31 دسمبر 2023ء
فیصل مسعود
سائنسی تحقیقات روح کی حقیقت کا کھوج لگانے میں ناکام ہیں۔قرآنِ حکیم نے فرمایا:’’روح میرے پروردگار کے حکم سے ہے۔اور تمہیں اس کا بہت کم علم دیا گیا ہے‘‘۔زندگی جسم اور روح کے تعلق کا نام ہے اور اسی تعلق کے ٹوٹنے کو موت کہتے ہیں۔ قرآن میں موت کو نیند سے مشابہت دی گئی ہے۔ سائنس کے مطابق موت کسی بھی ذی روح کی طبیعاتی حرکیات اور حیاتیاتی افعال کے رک جانے کا نام ہے۔موت مگر اچانک برپا ہونے والا ایک حادثہ نہیں، ایک تدریجی عمل ہے۔ حواسِ خمسہ ایک طے شدہ ترتیب کے تحت معدوم ہونا شروع
مزید پڑھیے


دائرے میں سفر!

اتوار 24 دسمبر 2023ء
فیصل مسعود
اگلے روز ایک تقریب میں پیارے دوست توقیر جدون نے کھانے کی میز پر مجھے گزرے ’خاکی دنوں‘ پر لکھنے کو کہا۔یوں بھی دکھائی دیتا ہے کہ پاکستانی مڈل کلاسیوںکی بڑی تعداد جوگزشتہ چند برسوں سے بوجہ ملکی معاملات پرمتحرک دکھائی دے رہی تھی، ایک بارپھر لاتعلقی کے خول میں واپس لوٹ رہی ہے۔توآئیے پھر کچھ ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہیں۔ ساڑھے تین سال ازکارِ رفتہ سپاہی نے جو فاٹا کی تین ایجنسیوں بالخصوص شمالی اور جنوبی وزیرستان میں گزارے،دل وجان پر گزری ایک داستان ہے جسے ایک عرصہ سے قلم بند کرنے کی آرزورہی ہے۔نوک پلک ٹھیک کرنے
مزید پڑھیے


سفیرِمحترم کے ساتھ غیررسمی گفتگو !

اتوار 17 دسمبر 2023ء
فیصل مسعود
جنرل فرحت عباس ثانی کے ساتھ ازکارِ رفتہ سپاہی کی رفاقت کا سفر چار عشروں سے زائدعرصے پر محیط ہے۔ جنرل صاحب اب برادر اسلامی ملک برونائی دارالسلام میں پاکستان کے سفیر کی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ بیرونِ ملک ہونے کی بناء پر ان کے ساتھ ایک عرصے سے با لمشافہ ملاقات تو نہیںہوسکی، تاہم بذریعہ فون رابطہ مسلسل برقرار ہے۔ کئی مواقع پراہم قومی اور عالمی معاملات پر ان کے فکر انگیز خیالات ہمارے متعدد کالموں کی تخلیق کا سبب بھی بنے۔زیرِ نظر مضمون کا بنیادی محرک سفیر محترم کی طرف سے دی جانے والی
مزید پڑھیے


نام نہاد جمہوریت پسند لبرلز کا دوغلا پن!

اتوار 10 دسمبر 2023ء
فیصل مسعود
مغربی جمہوریت کہ جس شکل میں ہم اس سے واقف ہیں، اس کی آبیاری لبرل ازم کے فلسفے نے کی تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں روس کے اندر سوشلسٹ انقلاب کے اثرات بھی مغربی یورپ تک پہنچنے لگے تھے۔سرد جنگ کے عشروں کا آغاز ہواتومغربی ممالک نے امریکہ کی سربراہی میں خود کو آزاد دنیا جبکہ سوشلزم کو جبر کا نظام قرار دیتے ہوئے محکوم قوموں کی آزادی کا بیانیہ ترتیب دیا۔ آج ہم سب جانتے ہیں کہ اس پراپیگنڈے کے پسِ پشت اعلیٰ انسانی و جمہوری اقدار نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی اہداف کا رفرما تھے۔سرد جنگ
مزید پڑھیے








اہم خبریں