BN

قدسیہ ممتاز



رہ زن ہمت ہوا ذوق تن آسانی ترا


دنیا میں قومیں نہ امداد کے سہارے اپنے پیروں پہ کھڑی ہوسکتی ہیں نہ ہی کچھ مضبوط ممالک کی دوستی کسی ملک کی معیشت کو کافی ہوسکتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی معیشت میں تجارت اور سرمایہ کاری سے زیادہ امداد اور معاشی تعاون کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کے بے شمار بیل آوٹ پیکچ،عالمی بینکوں کے قرضوں اور سعودی عرب سے مفت تیل کی کئی بار فراہمی اورمالی امداد کے باوجود پاکستان اب تک اپنے پیروں پہ کھڑا نہ ہوسکا ۔اس میں جہاں پاکستان کی تزویراتی اور جغرافیائی اہمیت کا دخل
منگل 13 نومبر 2018ء

پاک امریکہ تعلقات کی کہانی۔ ایوب خان کی زبانی

هفته 10 نومبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
ظاہر ہے پاکستان بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی میں دخل دینے کی اجازت نہ دے سکتا تھا لہٰذا1954 میں امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ کرلیا گیا جبکہ روس نے اس پہ شدید ردعمل ظاہر کیا۔اس سے قبل روس مسئلہ کشمیر پہ غیر جانبدارانہ موقف اختیار کئے ہوئے تھا۔سلامتی کونسل میں جب بھی پاکستان نے کشمیر مسئلہ پہ قراداد پیش کی تو روس نے ووٹ کا اختیار استعمال نہ کیا ۔ اس بار اس نے سلامتی کونسل میں بھارت کے خلاف قرارداد کشمیر کو ویٹو کردیا۔بھارتی رہنما اکثر کہا کرتے ہیں کہ ان کی
مزید پڑھیے


پاک امریکہ تعلقات کی کہانی۔ ایوب خان کی زبانی

جمعرات 08 نومبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
پاکستان نے امریکہ کے ساتھ1954ء میں باہمی دفاعی تعاون کا پہلا معاہدہ کیا۔ امریکہ تو خیر عسکری محاذوں پہ عشروں سے سرگرم عمل تھا۔ وہ بھاری دفاعی سازو سامان بنا رہا تھا اور سپر پاور ہونے کی حیثیت اور مضبوط معیشت کے ساتھ پاکستان کو ہر لحاظ سے دفاع میں قابل رشک امداد فراہم کرنے کی پوری صلاحیت اور رجحان رکھتا تھا لیکن نو آزا دشدہ مملکت جو ٹھیک سے اپنے پیروں پہ کھڑی بھی نہ ہوئی تھی امریکی دفاع کو کون سا تعاون پیش کرسکتی تھی یہ ایک سوال تھا۔ اسی سوال کے جواب کی تلاش میں مغربی
مزید پڑھیے


ایران پر امریکی پابندیاں اور شوق جہانبانی

منگل 06 نومبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
ایران پہ امریکی اور یورپی پابندیوں کی تاریخ نئی نہیں ہے۔ اس کا آغاز تبھی ہوگیا تھا جب ایران میںامریکی دلارے رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹا گیا ، اسلامی انقلاب آیا اور ایرانی طلبا نے امریکی سفارتخانے پہ قبضہ کرکے امریکی سفارت کاروں کو تاریخ کے طویل ترین عرصے تک یرغمال بنائے رکھا۔ایران پہ اسی زمانے میں پہلی امریکی پابندیاں امریکی صدر جمی کارٹر نے لگائیں اور امریکہ میں ایران کے تمام اثاثے منجمد کردیے۔بعد میں جب الجزائر معاہدے کے تحت یرغمالی رہا ہوئے توامریکہ ایران کلیم ٹریبونل بنایا گیا جس کے تحت نہ صرف کچھ منجمد اثاثے بحال
مزید پڑھیے


فاروق ستار کی نظریاتی ایم کیو ایم

هفته 03 نومبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
بعد از خرابی بسیار، اپنی منجی ڈھانے کے لئے کوئی مناسب بلکہ حسب منشا جگہ دستیاب نہ ہونے کے بعد فاروق ستار نے بالآخر ایم کیوایم کو نظریاتی بنانے کا اعلان کردیا۔مسئلہ یہ تھا کہ ان کی منجی خاصی بڑی تھی اور بھاری بھی۔ کسی گروپ میں فٹ نہیں آرہی تھی ۔ اسکی ایک ہی صورت تھی کہ منجی بچھائی جائے اور وہ جو ضمنی انتخابات میں انہیں ٹکٹ تک دینے کے روادار نہیں تھے، بال بچوں سمیت اس منجی کے نیچے پناہ لے لیں۔ ایسا ہوا نہیں بلکہ نامعقولوں نے فاروق ستار کا استعفیٰ تک منظور کرلیا تو اب
مزید پڑھیے




ایک شہر جس سے کسی نے محبت نہیں کی

پیر 29 اکتوبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
ہم اردو بولنے والوں کا ایک بڑا المیہ ہے۔ ہم جہاں رہتے ہیں وہاں اکثر نہیں رہتے۔ہم اپنی نفسیات میں مہاجر ہیں۔ یہ ہجرت ہمارے دلوں پہ کسی نہ ختم ہونے والے موسم کی طرح طاری رہتی ہے۔ یہ ہجرت مسلسل ہے ۔ بنگلہ ادب کی آبرو ٹیگور نے لکھا تھا کہ جو پرانے ٹھکانوں کو چھوڑ دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں،نئی بستیاں بسانے کی ہمت بھی ان ہی میں ہوتی ہے ۔ ہم نے ایک نئے وطن کو ہجرت کرنے کا حوصلہ کیا۔ یہ آسان کام نہیں تھا۔ کراچی سے لاہور شفٹ ہونا پڑا توا س کا اندازہ ہوا۔وہ
مزید پڑھیے


محمد بن سلمان کا جرم کیا ہے؟

هفته 27 اکتوبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹیو کانفرنس سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے معروف وژن 2030ء کا ایک اہم حصہ ہے ۔ جب انہوں نے عنان اقتدار سنبھالی گو روایتی حکمران اب بھی شاہ سلمان ہی ہیں، تب ہی انہیں مغرب کا کھلم کھلا دلارا سمجھا جانے لگا تھا حتی کہ سعودی شاہی خاندان کی تاریخ میں کبھی کسی فرمانروا کو مغرب نے اس بے تکلفی سے مخاطب نہیں کیا جس سے سعودی ولی عہد پکارے جاتے ہیں۔ انہوں نے آتے ہی، اور یہ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ وہ کیسے آئے، سعودی شاہی خاندان کی عوام سے روایتی دوری کو
مزید پڑھیے


نیا پاکستان ۔ نیا سعودی عرب۔امداد نہیں تجارت

جمعرات 25 اکتوبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
یہ ایک دل خوش کن منظر تھا۔پاکستان کا وزیر اعظم جس کے اپنے ملک میں اپوزیشن اس کے خلاف متحد ہوگئی ہے،ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو کانفرنس سے اپنے مخصوص سادہ ، واضح اور دو ٹوک انداز میں بغیر پرچی کھولے سوالات کے جوابات دے رہا تھا۔ اس کا ملک اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار تھا جو اس کی حکومت کا پیدا کردہ نہیں تھا۔ اسے ہر طرف سے طعن و تشنیع کا سامنا تھا۔ اپنے بھی خفا اس سے تھے بے گانے بھی ناخوش۔ اس کے ملک کو لوٹ کھسوٹ، کرپشن اور نااہلی سے مال مفت
مزید پڑھیے


افغانستان میں خونیں انتخابات اور امریکی منافقت

منگل 23 اکتوبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
بالآخر بعد از خرابی بسیار افغانستان میں خونیں انتخابات اپنے اختتام کو پہنچے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ انتخابات امن و امان کی جس صورتحال کی وجہ سے گزشتہ تین سال سے ملتوی ہورہے تھے ،ان سے بھی بدتر حالات میں منعقد کروائے گئے۔ ووٹ ڈالنا اتنا اہم فریضہ تھا کہ اس کے لئے عوام اور متعلقہ حکام کی جان تک دائو پہ لگا دی گئی جبکہ کابل میں اقتدار کے مرکز کا رہائشی کئی بار کہہ چکا تھا کہ وہ اپنے صدارتی محل میں بھی محفوظ نہیں ہے۔اس کے علاوہ افغانستان میں طالبان کا کنٹرول اب پہلے
مزید پڑھیے


میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

هفته 20 اکتوبر 2018ء
قدسیہ ممتاز
گزشتہ سال اپنے عروج پہ پہنچنے والی می ٹو تحریک کوجس کی ابتدا موجودہ دہائی کے شروع میں افریقی سماجی کارکن ترانہ برکیا نے کی ، ایک سال پورا ہوگیا۔ اس تحریک کو اس وقت بے پناہ شہرت حاصل ہوئی جب ہالی ووڈ کے مشہور پروڈیوسر ڈائریکٹر اور میرا میکس پروڈکشن کے بانی ہاروے وائنسٹین پہ یکے بعد دیگرے ایک دو نہیں اسی سے زائد خواتین نے جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ۔ جس مرد پہ اتنی کثرت سے معروف اور حسین خواتین الزام لگائیں ، اسے بدنامی کی فکر سے زیادہ الزام
مزید پڑھیے