BN

قدسیہ ممتاز



قلب لاینام


دل جب شکووں سے بھر جائے تو اسے کھلا چھوڑ دینا چاہئے، وہ اپنی راہ خود نکال لیتا ہے۔ زندگی بڑی لچک دار ہوتی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ جتنا ہم اسے سمجھتے ہیں۔ دل اس سے بھی کہیں زیادہ وسعت رکھتا ہے۔جہاں دلیل، منطق، شعور اورادراک تھک کر شل ہوجائیں، وہاں سے اس کا سفر شروع ہوتا ہے۔دل اللہ صمد کا نشان خاص ہے۔ بے نیاز اور وسعت والا۔ اس کے لئے کچھ بھی ناگزیر نہیں۔ ایسا نہ ہو تو زندگی کا سفر رک کر رہ جائے اور کاروبار حیات مکمل ٹھپ۔یہ تو شعور ہے جو ہمیں سمجھاتا ہے
هفته 21  ستمبر 2019ء

آرامکو حملہ اور تیل کی نئی دھار

جمعرات 19  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
سعودی آرامکو پہ ڈرون حملوں کے بعد خلیج کی پہلے سے نازک صورتحال نازک تر ہوگئی ہے۔ ان ڈرون حملوں کی ذمہ داری یمنی حوثیوں نے قبول کرلی تھی لیکن سعودی عرب اور امریکہ بغیر کسی ابہام کے براہ راست ایران کو اس کا ذمہ دارٹھہرا رہے ہیں ۔یعنی اب ایسی ہر کارروائی حوثیوں کی نہیں ایران کی ہی سمجھی جائے گی، اگر اس واقعہ کے بعد کسی اور کارروائی کی گنجائش بچ رہی۔ایران نے حسب معمول برأت کا اظہار کیا ہے لیکن ساتھ ہی حسن روحانی نے تیر نیم کش یہ کہہ کر ترازو کیا کہ آرامکو حملہ دراصل
مزید پڑھیے


میرے مہرباں،میرے چارہ گر

منگل 17  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
یہ چھ عدد شعری مجموعوں اور سات عدد کتابوں کے مصنف، شاعر دلنواز اور یار طرح دار حسن عباس رضا کی کسر نفسی ہے کہ وہ مجھے اپنا دوست کہے، ورنہ مجھ بے ہنر میں تو کوئی عیب ایسا نہیں جو اسے بھاجائے۔ ہم میں سوائے اس کے کوئی قدر مشترک نہیں کہ ابھی زندہ ہیں۔کوئی دن جائے گا جب یہ قدر مشترک ایک اور قدر مشترک میں ڈھل جائے گی کہ ہم نہ ہونگے۔کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے۔حسن عباس رضا کی دلکش شاعری تو اسے زندہ رکھے گی،مجھ دل جو بے ہنر کا کون
مزید پڑھیے


وہ عمران خان کو جانتے ہیں

هفته 14  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
وزیر اعظم عمران خان کی قسمت ایسی رہی ہے کہ انہیں پے درپے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔منیر نیازی کا ایک دریا سے پاراتر کر دوسرے دریا کا سامنا کرنا ممکن ہے شاعرانہ تعلی ہو لیکن مذکورہ شعر جواب حقیقتاًمحاورہ بن گیا ہے، عمران خان پہ صادق آتا ہے۔ وہ جب کرکٹ کے میدان کے شہسوار تھے تب بھی صورتحال مختلف نہ تھی۔ جنوبی ایشیا کی کرکٹ پہ بھارت اپنی اسی طرح اجارہ داری سمجھتا تھا جس طرح آج وہ خطے میں اپنی قوت کا اظہار وقتا ًفوقتاً کرتا رہتا ہے۔اس کی اخلاقیات کا عالم یہ تھا کہ
مزید پڑھیے


وائٹ ہاؤس کا اندرونی خلفشار اور طالبان

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
صدر ٹرمپ کا اپنا ہی مزاج ہے۔ وہ کیا کریں گے اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو ان کے ہم مزاج ہوں۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو انہوں نے کس دباو ٔپہ اچانک ختم کیا یہ میں نے گزشتہ کالم میں لکھا تھا اور یہ بھی کہ ضروری نہیں کہ اب انہوں نے یہ باب بند ہی کردیا ہو چاہے وہ کہتے رہیں کہ بات ختم ہوچکی۔اب کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔ انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں متوقع طالبان رہنماوں کے ساتھ مذاکرات کو پینٹا گون کے دبا ؤپہ اچانک ختم تو کردیا لیکن اس کے ساتھ
مزید پڑھیے




ہر حال میں فاتح

منگل 10  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ اس بار مذاکرات کی میز طالبان نے نہیں صدر ٹرمپ نے الٹ دی ہے اور طالبان سے زیادہ کون جانتا ہے کہ دوسروں کی الٹی ہوئی میز سیدھی کیسے کی جاتی ہے۔ وہ اس میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ وہ تو آئے ہی اس لئے تھے کہ کابل پہ قبضے کے خواہشمندوں کو جنہوں نے افغانستان کو اپنی ہوس ملک گیری میں جہنم بنا رکھا تھا ، باہر کا راستہ دکھا سکیں۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کوئی واشنگٹن جا بیٹھا اور کوئی ایران میں نظربندی کے دوران ریڈیو تہران پہ درس
مزید پڑھیے


آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

هفته 07  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
کیا اب بھی ہمیں سمجھ نہیں آئے گی۔دنیا سفارت کی زبان سمجھتی ہے نہ اصول کی۔ اس دہربے مہر کو اگر کوئی زبان سمجھ آتی ہے تو وہ طاقت کی زبان ہے۔معلوم تاریخ اس پہ گواہ ہے۔نامعلوم بھی خاک بہ سر یہی پکارتی پھرتی ہے۔مائٹ از رائٹ کا محاورہ انہوں نے ہی ایجاد کیا جنہوں نے طاقت کے بل بوتے پہ ساری دنیا میں آگ لگائے رکھی۔جب قوت ماند پڑنے لگی اور زمام زمانہ پہ گرفت کمزور ہوئی تو بڑی چابکدستی سے زیر نگین مملکتوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا اور خود معیشت پہ قبضہ کرکے بیٹھ
مزید پڑھیے


مذاکرات کا نواں دور

جمعه 06  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
ایک نہیں دو نہیں پورے نو ۔نو مذاکرات کے ادوار وہ بھی وہ جو ریکارڈپہ ہیں، میڈیا پہ نظر آرہے ہیں اور جن پہ تجزیہ نگار حسب توفیق اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ بجا اور گا رہے ہیں۔ طالبان حسب معمول مزے میں ہیں۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور چند دیگر تقریبا ہر روز ہی کسی نہ کسی اہم علاقے یا چوکیوں پہ طالبان کے قبضے کی نوید سناتے ہیں۔ دو دن قبل ہی پل خمری ضلع میں کارروائیوں کے نتیجے میںمختلف چوکیوں اور اہم اڈوں پہ طالبان کے قبضے کے نتیجے میں بڑی
مزید پڑھیے


زود پشیماں کی پشیمانی

منگل 03  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ بعد از خرابی بسیار محبوبہ مفتی کو دو قومی نظریہ یاد آیا تو اس پہ کیا گزری۔کچھ اس قدرگراں،کہ مجھے ان کے بیان کے اس حصے سے قانونی اور اصولی اختلاف بھی بھول گیا،جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ تقسیم کے وقت پاکستان کی بجائے بھارت کے ساتھ الحاق کشمیر کی غلطی تھی۔اس پہ بحث ہوتی رہے گی کہ کیا واقعی کشمیر نے بھارت کے ساتھ الحاق کرلیا تھا؟کب اور کیسے یہ واقعہ رونما ہوا ؟ تاریخ اس پہ خاموش کیوں ہے؟آزادانہ استصواب رائے کب منعقد ہوا اور پاکستان نے کشمیر سے اپنا
مزید پڑھیے


عمران خان نے ابھی بس شروع ہی کیا ہے

اتوار 01  ستمبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
اصل بات وہی ہے جو وزیر اعظم عمران خان اپنے خطاب میں کہہ گئے ہیں۔یعنی یہی کہ کشمیریوں پہ ٹوٹ پڑنے والی قیامت پہ اگر عالمی ضمیر خاموش ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔یہ بات کہنے کے لئے جو ہمت اور حوصلہ درکار ہے اس سے عمران خان پوری طرح متصف ہیں۔وہ حوصلہ جو ایک مسجد کے خطیب کے پاس وافر ہوتاہے ، ایک اسلامی جماعت کے امیر کے قلب میں ہمہ وقت موجزن رہتا ہے اور ایک اپوزیشن لیڈر کے پاس بھی اس کی کوئی کمی نہیں ہوتی لیکن اسلامی جمہوریہ
مزید پڑھیے