BN

قدسیہ ممتاز



فوز العظیم


وہ دو اشخاص تھے جن کا قصہ کتاب صادق میں رب ذوالجلال نے بیان کیا۔ اس میں سے ایک کو اس نے انگور کے دو باغ عطا کئے تھے۔گہرے سبز،گھنے اور پھلوں سے لدے ہوئے۔یہی نہیں انہیں سیراب کرنے کے لئے نہر بھی جاری کردی وہ بھی آس پاس یا دائیں بائیں نہیں دونوں باغوں کے عین درمیان،تاکہ دونوں کو یکساں سیرابی حاصل ہو اور پانی کی دستیابی میں مشکل پیش نہ آئے۔موسم بھی موافق تھا اور تمام اسباب پورے تھے۔اس بار فصل شاید توقع سے بھی اچھی ہوئی ہو تبھی باغ کا مالک اس میں داخل ہوتے ہی
هفته 26 جنوری 2019ء

مگرمچھ کے آنسو

جمعرات 24 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
سچ پوچھیںتو سانحہ ساہیوال پہ آواز اٹھانے کا حق صرف اس کو ہے جس نے اس سے قبل رینجرز کے ہاتھوں نہتے سرفراز کے دل چیر دینے والے قتل پہ آواز اٹھائی۔ایم کیو ایم کی نشاۃ ثانیہ پہ برپابارہ مئی کی بے گوروکفن لاشوں کا نوحہ لکھا۔بلدیہ فیکٹری کی سوختہ لاشوں پہ چیخ اٹھا۔نقیب اللہ پہ ہی نہیں راو انوار کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل ہونے والے ہر نوجوان پہ رویا۔سانحہ ماڈل ٹاون پہ چلا اٹھا۔خروٹ آباد میں چوکی کے سامنے آسمان کی سمت انگلی اٹھائے دم توڑتی حاملہ چیچن عورت پہ آنسو بہائے۔لال مسجد سانحے پہ اشکبار ہوا۔اے پی
مزید پڑھیے


بہادر بچے

منگل 22 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
کچھ منظر آنکھ کی پتلی پہ نقش ہوجاتے ہیں۔ لیڈی میکبتھ کے ہاتھ پہ جمے لہو کی طرح جو کسی طرح نہیں دھلتا۔نوے کی دہائی تھی۔کراچی میں آپریشن جاری تھا۔ساتھ ہی ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم حقیقی کے جانثار ایک دوسرے کے ہی نہیں تیسرے کے خون کے پیاسے ہورہے تھے۔رینجرز پولیس اور فوج اس کے علاوہ سرگرم تھے۔کون کس کو مار رہا تھا، کسی کو علم نہیں تھا۔بس لاشیں مل جاتی تھیں۔ کبھی ثابت و سالم۔ کبھی کٹی پھٹی ۔ہمارا گھر گو کینٹ کے ڈیری فارمز سے متصل تھا لیکن درمیان میں ایک خانہ ساز قسم کی
مزید پڑھیے


بات کرنی ہوگی

هفته 19 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
جسٹس ثاقب نثار اب سابق چیف جسٹس ہوچکے۔ ان کا دور منصفی کئی اعتبار سے ہنگامہ پرور رہا۔اس دوران ایک وزیر اعظم اپنے ہی دور حکومت میںسابق اور نااہل و سزایافتہ ہوئے۔ ایک سابق صدر اور ان کے رفقا کے خلاف جے آئی ٹی بنی۔ابھی اس کا ہنگام اپنے عروج پہ ہی تھا کہ وقت رخصت آن پہنچا۔اب ان مقدمات کا فیصلہ نئے چیف جسٹس محترم آصف کھوسہ کی سربراہی میں ہوگا۔جسٹس افتخار چوہدری نے کئی تحفظات کے باوجود سو موٹو کے حوالے سے جس عدالتی فعالیت کا آغاز کیا تھا، دیکھا جائے تو جسٹس ثاقب نثار اسی کا تسلسل
مزید پڑھیے


یہ ناشکری قوم!

جمعرات 17 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
آخر مملکت خداداد کے عوام ایسے ناشکرے کیوں ہیں؟انہیں اپنے محسنوں کی قدر کب آئے گی؟انہیں یہ ادراک کب ہوگا کہ یہ زرداری یہ شریف اور ان کی آل اولاد ان کی بھلائی کے لیے کیسے کیسے کشٹ اٹھاتی ہے،جھوٹے مقدمے بھگتتی ہے ،دل شکن الزامات سہتی ہے پھر بھی اس قوم کی بھلائی اور بہبود کا خیال نہیں چھوڑتی۔بلاول کو عوام کا درد نہ ہوتا تو کاہے کو ناشکروں کے دیس میں اپنی گلابی اردو کا مضحکہ اڑوانے آتا۔وہیں کہیں لندن میں چار گرہ کا فلیٹ اپنے والد گرامی کی گرہ سے خرید، رہ پڑتا اور باقی عمر
مزید پڑھیے




خراب معاشی صورتحال اور جھوٹ کا کاروبار

منگل 15 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
انصاف سے کام لیا جائے تو ا س نومولود حکومت کے ساتھ صحافتی بددیانتی کی جارہی ہے۔ گزشتہ حکومت نے مئی میں اپنی آئینی مدت ختم ہونے سے پہلے اپریل میں جو بجٹ پیش کیا اس کا کوئی اخلاقی جواز نہ تھا۔طرہ یہ کہ یہ بجٹ ایک ایسے شخص نے پیش کیا جو خود ایک انڈسٹری چلا رہا تھا اور نہ ہی سینیٹر تھا نہ منتخب وزیر۔اس نے بجٹ پیش کرنے کے لئے حلف اٹھایا اور چار ماہ کے لئے پورے سال کا بجٹ پیش کردیا۔ جو کچھ بھگتنا تھا وہ آنے والی حکومت نے بھگتنا تھا
مزید پڑھیے


دنیائے اسباب میں انسان کی بے بسی

هفته 12 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
آپ اس کا نام ارسلان فرض کرلیں۔اس کے بعداس کی کہانی سنیں۔اس میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ ارسلان سے میرا تعلق غائبانہ ہر گز نہیں کیونکہ ایک دوبار ہماری ملاقات ہوچکی ہے البتہ براہ راست تعلق کوئی نہیں ہے کیونکہ وہ گزشتہ آٹھ سالوں سے میری ہمشیرہ عالیہ ممتاز کے زیر علاج ہے۔ اس سے یہ اندازہ نہ لگایئے کہ اسے کوئی سنگین مرض لاحق ہے۔دراصل عالیہ ممتاز ایک کامیاب ریکی ماسٹر ہیں۔ریکی قدیم جاپانی طریقہ علاج ہے اور پاکستان میں پچھلے ایک عشرہ سے اس کی گونج سنی جارہی ہے۔ اس
مزید پڑھیے


عمران خان کی کامیاب خارجہ پالیسی

جمعرات 10 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
عمران خان نے انتخابات میں کامیابی کے بعد متوقع وزیراعظم کی حیثیت سے قوم سے غیر رسمی خطاب میں اپنی متوقع حکومت کی خارجہ پالیسی کے اہم نکات واضح کئے تھے جن میں افغانستان میں امن کی خواہش اور اس میں حتی القدور معاونت، بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات اور اسے کشمیر سمیت دیگر معاملات پہ مذاکرات اور بہتر تعلقات کی پیشکش، امریکہ کو مزید ڈو مور سے گریز کا مشورہ اور آئندہ کسی کی بھی جنگ کا حصہ نہ بننے کا عزم اور تمام مسلمان ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے عزائم کا اظہار کیا تھا۔انصاف کی بات تو
مزید پڑھیے


عمران خان کا جرم کیا ہے

منگل 08 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
کچھ صحافتی برزجمروں نے تہیہ کررکھا ہے کہ کسی کام کا کریڈٹ عمران خان کو نہیں دینا ہے۔ یہ وہ عظیم صحافتی لائٹ ہاوس ہیں جن کی مستعار روشنی میں گزشتہ حکومتیں آنکھ پر پٹی باندھے اقتدار کی کشتیاں امن و شانتی سے کھیتی رہی ہیں۔معاف کیجیے گا ان میں سے کچھ نے تو باقاعدہ ان کشتیوں کے لئے چپو کا کام بھی دیا ہے۔ان ہی میں سے چند کو جمہوریت ہر آن خطرے میں محسوس ہوتی ہے کیونکہ عمران خان برسراقتدار آگئے ہیں۔ میثاق جمہوریت کی گاڑی کس روانی سے شاہراہ دستور پہ بگٹٹ دوڑتی پھر رہی
مزید پڑھیے


یہ تماشہ بھی خوب ہے

هفته 05 جنوری 2019ء
قدسیہ ممتاز
جمہوریت کی علمبردار ،سوشلزم سے متاثر پیپلز پارٹی کی جب بنیاد رکھی گئی تو اس کے اساسی اصولوں میں سے ایک اصول تھا:طاقت کا سرچشمہ عوام ہیںجو بعد میں نعرہ بن گیا ۔اسی عوامی جمہوری پارٹی کے منشور میں لکھا ہے:اسلام ہمارا مذہب اور سوشلزم ہماری سیاست ہے۔اس نعرے پہ مذہبی جماعتیں بہت جزبز ہوئیں جو اسلام کے ایک ضابطہ حیات کے طور پہ مدعی تھیں اور ملک میں شریعت کے نفاذ کی علمبردار تھیں۔ اسی نعرے کی گونج میں بھٹو کے خلاف تحریک نظام مصطفی چلائی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سوشلسٹ بھٹو ایک سیاسی مقدمے کی
مزید پڑھیے