BN

قدسیہ ممتاز



مرد کی عزت اور سماج


مرد بیچارہ ساری عمر اپنی عزت کی چارپائی سر پہ ڈھوئے گوشہ ء عافیت ڈھونڈتا رہتا ہے جہاں دو گھڑی اسے بچھا کر سستا سکے۔غریب کو علم ہی نہیں کہ ایسا نادر موقع ہاتھ لگ بھی جائے تب بھی سکون اس کے نصیب میں نہیں ہے۔ ہمارے سماج نے اس چارپائی میں ابہام، اوہام، دشنام اور الزام کے یہ موٹے موٹے کھٹمل ڈال رکھے ہیں جو اس کا خون چوستے اور اسے بے کل کرتے رہیں گے۔ کردار کشی بدترین انتقام ہے۔ اس الزام کا شکارکسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔ مرد کی مجبوری یہ ہے کہ
منگل 22 اکتوبر 2019ء

منحصردھرنے پہ ہو جس کی امید

هفته 19 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
حکومت ہی نہیں خود مولانا فضل الرحمن بھی مخمصے میں معلوم ہوتے ہیں کہ آخر اس چڑھائی کا جسے وہ آزادی مارچ کا نام دیتے ہیں مقصد ہے کیا۔میں نے خلوص دل سے جاننا چاہا کہ مولانا چاہتے کیا ہیں اور ان کی اس چاہت میں اپوزیشن ان کا نیم دلی سے ساتھ کیوں دے رہی ہے۔ایک بات تو طے ہے کہ مولانا جن کی فہم و فراست کی مثالیں دی جاتی ہیں،یونہی تو کوئی قدم اٹھانے سے رہے۔ انہوں نے اپنے اسی تاثر کو ترپ کا پتا بنا لیا ہے اور باقی اپوزیشن کو الجھن میں ڈالا ہوا ہے۔
مزید پڑھیے


اپنوں اور غیروں کی گرے لسٹ میں

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
پاکستان کو پیرس میں ہونے والی فیٹف میٹنگ میں ایک بار پھر چار ماہ کی مہلت مل گئی ہے ۔اب پاکستان اگلے سال فروری تک گرے لسٹ میں رہ سکے گا۔اس کا رسمی اور باضابطہ اعلان اٹھارہ اکتوبر کو کیا جائے گا۔تب تک اسے فیٹف کی طرف سے تفویض کردہ احکامات بجا لانے ہونگے اور ان معیارات پہ پورا اترنا ہوگا جو جدید دنیا نے مقرر کر رکھے ہیں۔تب تک پاکستان کے سر پہ تلوار لٹکی رہے گی۔ بات دلچسپ اور تضادات سے بھرپور ہے لیکن اس سے پہلے یہ سمجھ لیا جائے کہ فیٹف کس طرح کام کرتا
مزید پڑھیے


ہم آپ کے ممنون ہیں

منگل 15 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
وہ قریب المرگ اور مایوس بزرگوں کی ایک سادہ مگر باوقار محفل تھی۔یعنی اتنے قریب المرگ کہ تھوڑی ہی دیر میں آسمان پہ چیلیں منڈلاتی نظر آئیں ۔ بزرگ حسب توقع زیادہ ڈھیٹ ثابت ہوئے اور چیلوں کو ایک بار پھر مایوس لوٹنا پڑا۔ولایت فقیہہ کے صدقے جاؤں جس نے امریکہ کو شیطان بزرگ کا لقب دے کر اس لفظ کے درست معنی ہم کم علموں پہ آشکار کئے ورنہ برصغیر میں تو ہمیں ہر بزرگ کی محض اس لئے عزت کرنی پڑتی ہے کہ وہ ہم سے پہلے پیدا ہوکراپنی بونس کی زندگی چارپائی پہ بیٹھ کر
مزید پڑھیے


ایرانی اور سعودی تیل پہ حملے

هفته 12 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
کل علی الصبح مجھے ذریعہ نے اطلاع دی کہ بحر احمر میں ایرانی آئل ٹینکر سبطی پہ میزائل حملہ ہوا ہے۔ مذکورہ آئل ٹینکر اس وقت سعودی عرب کی ساحلی پٹی جدہ پورٹ سے گزررہا تھا۔ میرے ذریعے کا تبصرہ تھا کہ شیطان جنگ کروا کے ہی دم لیں گے۔ شیطا ن اس نے کس کو کہا یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے۔ ایران اور سعودی عرب جنگ کس کے مفاد میں ہے اس کی تفصیل میں نے اس وقت بیان کی تھی جب سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پہ حملہ کے نتیجے میں اسے بھاری
مزید پڑھیے




لنگر خانے بھیک نہیں ہیں

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
ریاست عوام کے نان و نفقہ کی ذمہ دارہے۔ اس کی اولین ذمہ داری ہے کہ اس کی عملداری میں کوئی شہری بھوکا نہ سوئے۔خوف خدا اعلی ترین معیار پہ حاصل ہوجائے تو بحر و بر کی وسعتوں پہ پھیلی اسلامی ریاست کا حاکم خشیت الہیہ سے بوجھل لہجے میں اعلان کرتا ہے کہ اگر فرات کے کنارے کتا بھی بھوکا مر جائے تو عمر اس کا ذمہ دار ہے۔ وقت نے دیکھا کہ جب مدینہ میں قحط پڑا تو خلیفہ وقت نے روغن سے ہاتھ کھینچ لیا کہ یہ اس کی مملکت کے ہر فرد کو میسر نہ تھا۔
مزید پڑھیے


دھرنے سے دھرنے تک

منگل 08 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
عمران خان نے جس وقت دھرنے کا آغاز کیا بات چار حلقوں سے شروع ہوئی تھی۔ادھر ڈاکٹر طاہر القادری ماڈل ٹاون سانحہ کے متاثرین کے لئے انصاف کے طلب گار تھے۔دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں کامیابی کے بعد نواز شریف اپنی حکمران اشرافیہ کے ساتھ اعتماد کی بلندیوں پہ تھے۔ انہیں علم تھا کہ یہ انتخابات ان کے پلڑے میں ڈالے گئے ہیں اور یہی کافی تھا۔ تائید غیبی ان کے حق میں سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی تھی۔ ملک میں ایک ساتھ کئی آپریشن جاری تھے۔ عمران خان طالبا ن خان ہونے کی بھپتی سہہ رہے تھے
مزید پڑھیے


چاہے کتنا ہی ناگوار گزرے

هفته 05 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
جس وقت صدرٹرمپ نے طالبان کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں مذاکرات سے انکار کیا تھا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اب کہ تجدید وفا کا نہیں امکاںجاناںتو عاجز نے عرض کی تھی کہ ملاقات نہ سہی، مذاکرات تو ہو کر رہیں گے چاہے پینٹاگون کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ ایسا ہی ہوا ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل کرتے ہی صدر ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو ایک ہاتھ سے بذریعہ ٹویٹ فارغ خطی پکڑائی اور دوسرے ہاتھ سے زلمے خلیل زاد کو اشارہ کردیا کہ ذرا دیکھنا معاملہ ہاتھ سے نہ
مزید پڑھیے


سرمائے کی دنیا میں عمران خان کا سچ

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
عمران خان نے بھری بزم میں راز کی بات اپنے روایتی دبنگ انداز میں کہی تو اقوام عالم کی باگ ڈور تھامنے اور اسے اپنے قطب نما کی سوئی کی سمت ہانکنے والوں کے ماتھے پہ بل پڑنے لازمی تھے۔ ان کا کہنا بجا بھی تھا کہ جس منی لانڈرنگ کی تلوار مغربی ممالک نے پاکستان کے سر پہ لٹکا رکھی ہے، وہ جاتی کہاں ہے۔ اسے تحفظ کون دیتا ہے۔اس تک رسائی کس کے قوانین ناممکن بناتے ہیں اور غریب ممالک کو غریب تر کرنے میں ہمارے کرپٹ حکمرانوں کا ہاتھ کون بٹاتاہے؟یہ دولت کہاں استعمال ہوتی ہے
مزید پڑھیے


درد دل مسلم اور عمران خان

منگل 01 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
فرض کریں آپ برسوں سے ایسے مسائل کا شکار ہیں جو آپس میں باہم الجھے ہوئے ہیں۔اس پہ مستزادکوئی آپ کی بات سننے کو تیار ہے نہ آپ کی مجبوریاں سمجھنے کو۔ آپ کو یہ بھی علم ہے کہ آپ کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑا دی جائے گی۔اس کے باوجود اگر آپ کو کسی ایسے فورم پہ اپنی بات کہنے کا موقع ملے جہاں آپ اپنے تمام ترحوصلے، جرأت اظہار اور حکمت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنا مافی الضمیر بیان کرسکیں تو آپ کیا کریں گے؟آپ یقینا اپنے مسائل کے بیان کی
مزید پڑھیے