مجاہد بریلوی



"Trap"


ہفتہ اوپر ’’خبروں‘‘میں رہنے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو اُن کے عہدے سے تو ہٹا دیا گیا ہے۔آگے لکھنے سے پہلے یا س ؔیگانہ چنگیزی کا یہ شعر سامنے آگیا: یہ کنارہ چلا کہ ناؤ چلی کہیے کیا بات دھیان میں آئی اب ذرا اس سارے قضیے اور تنازعے کے ایک ایک فرد کے چہرے سامنے لائیں۔اور پھر اس پر غور فرمائیںکہ ’’عدالت و انصاف‘‘ سے کھلواڑ کرنے والے سارے ہی کرداروں کے بارے میں یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ ’’گھنٹی‘‘ کس کے گلے میں باندھی جائے۔یعنی کس پر فر د ِ جرم عائد کر کے
هفته 13 جولائی 2019ء

ایک اور اسکینڈل

بدھ 10 جولائی 2019ء
مجاہد بریلوی
سب سے بڑی اور زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ جہاندیدہ سینئر سیاستداں کئی بار منتخب ہونے والے خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے ن لیگ کے سینئر ترین رہنما شاہد خاقان عباسی ،دائیں بائیں بیٹھے منہ میں ۔۔۔۔ڈالے بیٹھے تھے۔۔اور ان سے کہیں زیادہ جونیئر محض سابق وزیر اعظم ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی صاحبزادی ہونے کے ناطے ن لیگ کی جونیئر نائب صدر مریم نوا ز ایک ایسا انکشاف کررہی تھیں جبکہ اُن کے دائیں ،بائیں بیٹھے ہمارے سابق وزیر اعظم خاقان عباسی اورمحترم
مزید پڑھیے


ایک وہ حکمراں ۔۔۔ایک یہ۔۔۔

هفته 06 جولائی 2019ء
مجاہد بریلوی
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کی جانب سے دئیے جانے والے ہوشربا مالی اثاثوں کو پرنٹ اور اسکرینوں پر پڑھ کر اور دیکھ کر اس بدقسمت قوم پر رحم تو نہیں آنا چاہئے کہ دہائیوںسے یہ انہیں امیر کبیر سیاسی گھرانوں کے آبا اور آل اولاد کو جھولیاں بھر بھر کر ووٹ دے رہے ہیںکہ جنہوں نے ’’عوام کے خون پسینے‘‘کو نچوڑ کر اپنے اور اپنے بعد آنے والی نسلوں کیلئے حویلیاں ،محلات کھڑے کئے اور لوٹ کے مال سے تہ خانے بھر دئیے۔مگر ان امیر کبیر عوامی نمائندوں نے
مزید پڑھیے


رانا ثناء اللہ آف فیصل آباد

بدھ 03 جولائی 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستان مسلم لیگ ن کے فیصل آباد سے پانچ بار منتخب ہونے والے صوبائی اسمبلی اور جولائی2018کے الیکشن میں فیصل آباد ہی سے قومی اسمبلی کے رکن رانا ثناء اللہ جب دوپہر کا کھانا اپنے آبائی گھر سے تناول کر کے لاہور کیلئے موٹروے سے روانہ ہولئے ۔۔۔تو اپنے ارد گرد درجن بھر گاڑیوں کو ساتھ چلتے دیکھ کر انہیں اندازہ تو ہوگیا تھا کہ وہ لاہور میں داخل ہونے سے پہلے ہی پابند سلاسل ہوجائیںگے۔اپنے موبائل فون سے اپنے گھر اور ساتھیوں کو بھی انہوں نے اس کی اطلاع دے دی تھی کہ انہیں گرفتار ی کیلئے
مزید پڑھیے


پہ تماشا نہ ہوا

هفته 29 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
حضرت مولانا فضل الرحمان کی 26جون کو اسلام آباد میںہونے والی کل جماعتی کانفرنس اس اعتبار سے کامیاب رہی کہ اُن کے دائیں بائیں ملک کی دو بڑی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی قیادت پہلو بہ پہلو بیٹھی تھی۔تانگہ، یارکشہ پارٹی ہی سہی مگر حضرت مولانا فضل الرحمٰن اپنی کرشمہ سازشخصیت اور دھیمی مسکراہٹ سے میرحاصل خان بزنجو کی نیشنل پارٹی ،اسفندیار ولی خان کی عوامی نیشنل پارٹی اورسدابہار ناراض پشتون رہنمامحمود خان اچکزئی کو بھی اتحادی بنانے میںکامیاب ہوگئے۔کانفرنس سے پہلا بڑا شورو غوغا مچا ہوا تھا کہ اسلام آباد بند اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے جیسے
مزید پڑھیے




بھائی پھر بچ گئے…… (آخری قسط)

بدھ 26 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
گزشتہ سے پیوستہ کالم میں متحدہ قومی موومنٹ کے ’’قائد ‘‘اوراُن کے جانثاروں کے اپنی قوم پر ڈھائے جانے والے مصائب و آلام کے ذکر کے بعد یہ بھی تو ضروری تھا کہ اُن اسباب و محرکات پر بھی گفتگو ہو جس کے سبب اسکولوں سے نکلے گلیوں ،سڑکوں میں گلی ڈنڈا کھیلتے چند سر پھرے نوجوان وطن عزیز کی تیسری اور صوبے کی دوسری بڑی قوت کیسے بن گئے؟ اگر اُن محرومیوں اور مسائل کو ختم نہیں کیا گیا۔جیسا کہ اس وقت وفاق اور سندھ کی حکومت کی پالیسیوں کے سبب ہو بھی رہا ہے۔تو کوئی بانی متحدہ
مزید پڑھیے


بھائی پھر بچ گئے۔۔۔ 3

هفته 22 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
متحدہ قومی موومنٹ اور اُس کی تین دہائی پر مبنی سیاست اور اُس کے بکھرنے ،ٹوٹنے کا تفصیلی جائزہ گزشتہ کالموں میں تو لے چکا۔۔۔مگر سندھ کی سیاست میں معروف اصطلاح میں اردو اسپیکنگ یا شہری علاقوں کا ہفتوں ،مہینوں میں دوسری بڑی قوت بننے کے محرکات اور اسباب کو بھی تو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یہ درست ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد مہاجروں کی اکثریت جب خصوصاً سندھ کے شہری علاقوں ، خاص طور پر کراچی ،حیدر آباد میں آکر پناہ گزین ہوئی تو وہ تعلیمی اور ایک حد تک مالی
مزید پڑھیے


بھائی پھر بچ گئے۔۔۔2

بدھ 19 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کی متکبرانہ سیاست بلکہ دہشت اور پھر اس کے ٹوٹنے اور بکھرنے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔پھر یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بعد کے برسوں میں جب متحدہ قومی موومنٹ نے بلدیاتی اداروں اور سندھ میں مخلوط حکومتوں میں جو برسہا برس راج کیا ۔۔۔تو اس سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ،لاہور نہ بھی بنتا تو کم ا ز کم 70کی دہائی کا کراچی تو رہتا۔ہاں ایک میئر مصطفی کمال کے دور میں ضرور کراچی کا چہرہ نکھرا ۔مگر آج جو یہ شہرِ ناپرساں بنا
مزید پڑھیے


بھائی پھر بچ گئے

هفته 15 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستان کے معتبر انگریزی اخبار کے میٹرو پیج پر چھ کالمی تصویر کے ساتھ یہ کیپشن لگا تھا ’’یہ تصویر 12جون2014کی ہے جب پہلی بار لندن میں منی لانڈرنگ کے الزام میں بانی متحدہ کی گرفتاری کی خبر آئی تو شہر کی مرکزی شاہراہ فیصل ہُو کا عالم پیش کر رہی تھی۔۔۔اور صرف تین سال بعد 11جون کی صبح جب بانی متحدہ کی گرفتاری کی خبر آئی تو اسی شاہراہ پر ٹریفک بمپر ٹو بمپر چل رہی تھی‘‘۔جلاؤ گھیراؤ تو دور کی بات کسی کی نکسیر بھی نہیں پھوٹی ۔محاورے کی زبان میں ان تین برسوں میں پلوں کے
مزید پڑھیے


مگر مچھ کے آنسو۔۔۔3

بدھ 12 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
سویلین کپڑوں میں جو بھی اقتدار میں بیٹھا ہے یا اُس کا خواہشمند ہے ۔ ۔ ۔ اُسے سب سے پہلے اُن کے حضور سجدہ ریز ہو کر حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا لازمی شرط ہوگا۔یہ لیجئے ، میں بھٹکتا ہوا آگے نکل گیا۔ذکر وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار کا تھا کہ جس میں’’صدر‘‘لانا ان کا جمہوری حق تھا مگر ’’عدلیہ‘‘ میں انہوں نے براہ راست مداخلت کر کے ایک بار پھر معذرت کے ساتھ خود اپنے اقتدار کے تابوت میںپہلی کیل ٹھونکی۔ ۔ ۔ سینارٹی کے اعتبار سے محترم جسٹس سجاد جان کو چیف
مزید پڑھیے