BN

مجاہد بریلوی

بیگم کلثوم نواز


پاکستان جیسے معاشرے میںبڑے لوگوں ۔۔۔ خاص طور پر سیاستدانوں کی بیگمات کی ذاتی زندگی عموماً بلکہ ہمیشہ ایک مسلسل امتحان میں رہتی ہے۔ شوہر اگر سربراہ مملکت کے عہدۂ جلیلہ پر پہنچ جائے تو آرام و آسائش کی وقتی خوشی تو مل جاتی ہے مگر اس سے زیادہ اُن کی فکر مندی اپنے شوہر سے منسوب اسکینڈلز اور اقتدار کے ڈانواڈول ہونے پر رہتی ہے۔ اور پھر اگر نوبت جیل ،جلاوطنی بلکہ شہادت تک پہنچ جائے تو اس کیلئے ایک دوسری عام عورت کی طرح ممکن نہیں ہوتا کہ وہ آسانی سے دوسرا گھر بسا لے۔ ذاتی
هفته 15  ستمبر 2018ء

’’صدرِ پاکستان‘‘

منگل 11  ستمبر 2018ء
مجاہد بریلوی
تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے اْس کا پاکستان ہے جو صدرِپاکستان ہے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دور میں کسی مبتدی شاعر نے یہ پھبتی شعر کی شکل میں کسی تھی جسے۔۔۔ شاعرِعوام حبیب جالب سے منصوب کرکے عام طورپر پڑھا جاتا تھا کہ اس قسم کی جرأت کا مظاہرہ کوئی دوسرا شاعر کر نہیں سکتا تھا۔۔۔ جالب صاحب یہ شعر سن کر بڑا کْڑھتے تھے کہ بہر حال اْن کی سیاسی نظموں میں زبان و بیان کا بڑاخیال رکھا جاتاتھا۔ ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا یاپھر بیس گھرانے ہیں آباد اور پانچ
مزید پڑھیے


حکومت آگئی۔۔۔ پارٹی کہاں گئی؟

جمعه 07  ستمبر 2018ء
مجاہد بریلوی
تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدوار ڈاکٹر عارف علوی صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں۔ اسپیکر، وزیراعظم اور پھرصدر کے انتخاب میں اپوزیشن جماعتوں میں جو انتشار رہا اْس نے تحریک انصاف کی ان تینوں اہم عہدوں پر کامیابی کوآسان بنادیا۔ تاہم اگر اپوزیشن تقسیم نہ بھی ہوتی تو اْسے متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کے سبب سادہ اکثریت سے بھی کامیابی مل جاتی۔ تحریک انصاف کی قیادت اور خود وزیراعظم عمران خان گاہے بگاہے بیانوں میں یہ کہتے ہوئے پھولے نہیں سماتے کہ اپوزیشن بھاری عددی اکثریت کے باوجود اتنی کمزور ہے کہ اْن کی حکومت
مزید پڑھیے


وفاداری

جمعرات 30  اگست 2018ء
مجاہد بریلوی
سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے پرتکلف ڈرائنگ روم میں ذرامحتاط الفاظ میں سوال کیا:’’گورنر‘‘ کے عہدے کیلئے ’’وفاداری‘‘ ضروری ہے یا اہلیت۔۔۔ اپنے حوالے سے تو وہ مطمئن تھے کہ جیل میں موجود سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا انہیں گورنر بنانے کافیصلہ میرٹ پر تھا۔۔ مگر ان کی جگہ لینے والے تحریک انصاف کے گورنر عمران اسماعیل پر جو انہوں نے تابڑ توڑ حملے کئے اسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ صرف ایک بات ان کی دل کو لگی کہ ایک میٹرک ’’پاس‘‘ آغاخان میڈیکل کالج ،آئی بی اے، زیبسٹ اور کراچی یونیورسٹی سمیت کم سے کم درجن
مزید پڑھیے


وزیراعظم عمران خان۔۔۔ آغازتو اچھاہے

اتوار 26  اگست 2018ء
مجاہد بریلوی
ایوان صدرکے پرشکوہ وسیع وعریض ہال میں ہزار کے قریب مہمانوں کے باوجود اتنی خاموشی تھی کہ کوئی ذرا کھنکھارتا بھی تو دور تک آواز گونجتی۔ میاں نوازشریف کے بنائے ہوئے صدر ممنون حسین کے جلو میں نومنتخب وزیراعظم عمران خان کی آمد کاجب لمحہ لمحہ گِنا جارہاتھا تو میرے سامنے ماضی کی فلم چلنے لگی۔۔۔ 2003ء میں، میں نے اسی ایوان صدر میں مسلم لیگ ق کے وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی کووزیراعظم بنتے دیکھا۔۔۔ جو بمشکل 172کی گنتی پوری کرپائے تھے۔ اور اس کا بھی سارا اہتمام و انتظام صدر جنرل پرویزمشرف کی چھڑی سے ہواتھا۔ 2008ء
مزید پڑھیے


وزیراعظم عمران خان۔۔۔چند یادیں

جمعه 17  اگست 2018ء
مجاہد بریلوی
سال2002ء ہی تھا۔۔۔ مہینہ یاد نہیں۔۔۔ میں ان دنوں پاکستان کے پہلے نجی چینل انڈس نیوز سے وابستہ تھا۔۔۔ قلم کی گھسائی کرتے دودہائی ہوچکی تھیں۔ مگر اس جوتوں کی گھسائی کے باوجود’’یافت‘‘ بس اتنی ہوتی کہ ساتھ عزت کے گھر کا چولہا جلتا یا چلتارہتا۔ انڈس کیوں کہ پہلا نجی چینل تھا اس لئے سرکاری ٹی وی سے ہٹ کر کہ اس میں آزادی ہی آزادی تھی۔ یوں مہینے دو میں ہماری تنخواہ کامیٹر بڑھنے لگا۔ اور شہر میں ہر تیسرا چوتھا۔۔ سلام بھی دینے لگا۔۔ 2003ء کے الیکشن کی آمد آمد تھی۔۔۔ بڑے مرکزی سیاسی رہنما اس لئے
مزید پڑھیے


مولانا

اتوار 12  اگست 2018ء
مجاہد بریلوی
قیام پاکستان کے بعد یوں تو بہت سے ’’علما‘‘ نے شہرت پائی مگر بیشتر کی شہرت اور مقبولیت وقت گزرنے کے ساتھ گہنا گئی مگر دو’’مولانا‘‘ ایسے ہیں جن کی شہرت کا ایک بڑا سبب اپنے اپنے میدان میں بلند و بالا مقام تو ہے ہی مگر مولانا کا لاحقہ لگائے بغیر ان کی شخصیت کا مکمل احاطہ ممکن نہیں۔۔۔ صحافت میںمولانا چراغ حسن حسرت اور سیاست میں مولانا فضل الراحمن۔۔۔ ذکر تومیں سیاست کے مولانا فضل الرحمن کا ہی آگے چل کرکروں گا۔۔۔ مگر مولانا چراغ حسن حسرت اس لئے یاد آگئے کہ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میںمولانا
مزید پڑھیے


متحدہ… مائنس’’بھائی‘‘

جمعرات 09  اگست 2018ء
مجاہد بریلوی
جمعۃ المبارک کو بنی گالہ میں تحریک انصاف کے قائد اور متوقع وزیراعظم محترم عمران خان کے دائیں ہاتھ پر بیٹھی متحدہ پاکستان کی قیادت کو دیکھ کر منفرد لہجے کے شاعر احمد مشتاق کا شعر بے ساختہ زبان پرآگیا ؎ دِل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن عمر بھر کون حسیں کون جواں رہتاہے متحدہ قومی موومنٹ کا اپنی بد ترین مخالف تحریک انصاف سے بنی گالہ میں جو معاہدہ ہوا اس پر1988ء میں ہونے والے اس معاہدے کی یاد تازہ ہوگئی جب کم و بیش ایسی ہی محاذ آرائی اور اقتدار کیلئے ووٹوں کی
مزید پڑھیے


دینی، مذہبی جماعتیں…منزل ہے کہاں تیری؟

پیر 06  اگست 2018ء
مجاہد بریلوی
25جولائی2018ء کے انتخابات نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی انتخابات میں پہلی ترجیح دینی ومذہبی جماعتیں نہیں ہوتیں۔اور یہ روایت 1970ء سے ہے۔جب وطن عزیز میں قیامِ پاکستان کے 23سال بعد بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے انتخابات ہوئے تھے اور جس میں معروف اصطلاح میں دائیں بازو کی کٹّر مذہبی تنظیم جماعت اسلامی کو معذرت کے ساتھ عبرت ناک شکست ہوئی تھی۔ 1970ء کے انتخابات اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت Theocratic Stateیعنی کٹّر مذہبی ریاست نہیں۔بلکہ ایک ترقی پسند ،
مزید پڑھیے


انصاف کی کامیابی2

جمعرات 02  اگست 2018ء
مجاہد بریلوی
فیصلہ کن معرکہ تو بہرحال پنجاب میں ہی ہونا تھا۔ جہاں قومی اسمبلی کی 272 میں سے 143 نشستیں ہیں۔ یعنی اگر تینوں صوبوں کی ساری نشستیں بھی کسی ایک جماعت کو مل جائیں تو اکثریت کیلیے اسے پنجاب کے پاس ہی جانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پنجاب کی حکمراں سویلین ، فوجی قیادت نے 1954ء میں مشرقی پاکستان میں ہونے والے پہلے انتخابات کے بعد جس میں مسلم لیگ کو 302 میں سے صرف 9 نشستیں ملی تھیں۔۔۔ یہ بات پلّے سے باندھ لی تھی کہ مشرقی پاکستان سے چھٹکارا حاصل کئے بغیر وہ اسلامی جمہوریہ
مزید پڑھیے