BN

مجاہد بریلوی



پہ تماشا نہ ہوا


حضرت مولانا فضل الرحمان کی 26جون کو اسلام آباد میںہونے والی کل جماعتی کانفرنس اس اعتبار سے کامیاب رہی کہ اُن کے دائیں بائیں ملک کی دو بڑی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی قیادت پہلو بہ پہلو بیٹھی تھی۔تانگہ، یارکشہ پارٹی ہی سہی مگر حضرت مولانا فضل الرحمٰن اپنی کرشمہ سازشخصیت اور دھیمی مسکراہٹ سے میرحاصل خان بزنجو کی نیشنل پارٹی ،اسفندیار ولی خان کی عوامی نیشنل پارٹی اورسدابہار ناراض پشتون رہنمامحمود خان اچکزئی کو بھی اتحادی بنانے میںکامیاب ہوگئے۔کانفرنس سے پہلا بڑا شورو غوغا مچا ہوا تھا کہ اسلام آباد بند اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے جیسے
هفته 29 جون 2019ء

بھائی پھر بچ گئے…… (آخری قسط)

بدھ 26 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
گزشتہ سے پیوستہ کالم میں متحدہ قومی موومنٹ کے ’’قائد ‘‘اوراُن کے جانثاروں کے اپنی قوم پر ڈھائے جانے والے مصائب و آلام کے ذکر کے بعد یہ بھی تو ضروری تھا کہ اُن اسباب و محرکات پر بھی گفتگو ہو جس کے سبب اسکولوں سے نکلے گلیوں ،سڑکوں میں گلی ڈنڈا کھیلتے چند سر پھرے نوجوان وطن عزیز کی تیسری اور صوبے کی دوسری بڑی قوت کیسے بن گئے؟ اگر اُن محرومیوں اور مسائل کو ختم نہیں کیا گیا۔جیسا کہ اس وقت وفاق اور سندھ کی حکومت کی پالیسیوں کے سبب ہو بھی رہا ہے۔تو کوئی بانی متحدہ
مزید پڑھیے


بھائی پھر بچ گئے۔۔۔ 3

هفته 22 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
متحدہ قومی موومنٹ اور اُس کی تین دہائی پر مبنی سیاست اور اُس کے بکھرنے ،ٹوٹنے کا تفصیلی جائزہ گزشتہ کالموں میں تو لے چکا۔۔۔مگر سندھ کی سیاست میں معروف اصطلاح میں اردو اسپیکنگ یا شہری علاقوں کا ہفتوں ،مہینوں میں دوسری بڑی قوت بننے کے محرکات اور اسباب کو بھی تو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یہ درست ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد مہاجروں کی اکثریت جب خصوصاً سندھ کے شہری علاقوں ، خاص طور پر کراچی ،حیدر آباد میں آکر پناہ گزین ہوئی تو وہ تعلیمی اور ایک حد تک مالی
مزید پڑھیے


بھائی پھر بچ گئے۔۔۔2

بدھ 19 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کی متکبرانہ سیاست بلکہ دہشت اور پھر اس کے ٹوٹنے اور بکھرنے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔پھر یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بعد کے برسوں میں جب متحدہ قومی موومنٹ نے بلدیاتی اداروں اور سندھ میں مخلوط حکومتوں میں جو برسہا برس راج کیا ۔۔۔تو اس سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ،لاہور نہ بھی بنتا تو کم ا ز کم 70کی دہائی کا کراچی تو رہتا۔ہاں ایک میئر مصطفی کمال کے دور میں ضرور کراچی کا چہرہ نکھرا ۔مگر آج جو یہ شہرِ ناپرساں بنا
مزید پڑھیے


بھائی پھر بچ گئے

هفته 15 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستان کے معتبر انگریزی اخبار کے میٹرو پیج پر چھ کالمی تصویر کے ساتھ یہ کیپشن لگا تھا ’’یہ تصویر 12جون2014کی ہے جب پہلی بار لندن میں منی لانڈرنگ کے الزام میں بانی متحدہ کی گرفتاری کی خبر آئی تو شہر کی مرکزی شاہراہ فیصل ہُو کا عالم پیش کر رہی تھی۔۔۔اور صرف تین سال بعد 11جون کی صبح جب بانی متحدہ کی گرفتاری کی خبر آئی تو اسی شاہراہ پر ٹریفک بمپر ٹو بمپر چل رہی تھی‘‘۔جلاؤ گھیراؤ تو دور کی بات کسی کی نکسیر بھی نہیں پھوٹی ۔محاورے کی زبان میں ان تین برسوں میں پلوں کے
مزید پڑھیے




مگر مچھ کے آنسو۔۔۔3

بدھ 12 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
سویلین کپڑوں میں جو بھی اقتدار میں بیٹھا ہے یا اُس کا خواہشمند ہے ۔ ۔ ۔ اُسے سب سے پہلے اُن کے حضور سجدہ ریز ہو کر حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا لازمی شرط ہوگا۔یہ لیجئے ، میں بھٹکتا ہوا آگے نکل گیا۔ذکر وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار کا تھا کہ جس میں’’صدر‘‘لانا ان کا جمہوری حق تھا مگر ’’عدلیہ‘‘ میں انہوں نے براہ راست مداخلت کر کے ایک بار پھر معذرت کے ساتھ خود اپنے اقتدار کے تابوت میںپہلی کیل ٹھونکی۔ ۔ ۔ سینارٹی کے اعتبار سے محترم جسٹس سجاد جان کو چیف
مزید پڑھیے


مگر مچھ کے آنسو۔ ۔ ۔ 2

اتوار 09 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
سیاسی جماعتوں کی قیادت کے وقت کے ساتھ موقف کی تبدیلی کو محاورے کی زبان میں ’’مگر مچھ کے آنسو‘‘کہہ تو بیٹھا ۔ ۔۔مگر برصغیر پاک و ہند میں یہ چلن کوئی نیا تو نہیں۔ہاں مگر مہذب ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں کم از کم ’’عدلیہ‘‘ایک ایسا ضرور مقدس ادارہ ہوتا ہے جس سے یہ توقع کی جاتی ہے اور جس کے آئینی ہی نہیں اخلاقی فرائض میں بھی شامل ہے کہ وہ سیاست دانوں کی طرح رنگ نہ بدلے۔بات عدلیہ کے حوالے سے محترم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس سے شروع ہوئی تھی جو اب
مزید پڑھیے


مگر مچھ کے آنسو

بدھ 05 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
’’ججز کے خلاف ریفرنسز ٹارگٹ کلنگ ہیں‘‘۔ ۔ ۔ واہ وا! ’’ حکومت جمہوریت پسند ججوں کو فارغ کرنا چاہتی ہے۔‘‘سبحان اللہ! اپریل 2018ء میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بر طرفی اور پھر جولائی 2018ء کے بعد زرداریوں کے جلسوں، ریلیوں ،اخباری بیانوں اور اسکرینوں پر ’’عدلیہ ‘‘ کے خلاف موشگافیوں کو اگر ترتیب دیا جائے تو فائلوں کے انبار چھتوں کیا،آسمان کو چھولیں۔مگر ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دوسرے جسٹس آغا کے خلاف حکومت نے دو ریفرنسز کیا دائر کئے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ساری بریگیڈ ’’عدلیہ‘‘ کی سربلندی اور تحفظ کے
مزید پڑھیے


اور اب فوج میں بھی احتساب

هفته 01 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
یقینا اسے قابل ِ ستائش اور تحسین ہی قرار دیا جائے گا کہ افواج ِ پاکستان کے ترجمان جنرل آصف غفو ر نے اسکرینوں پر لائیو سینئر اور اہم عہدوں پر فائز فوجی افسران کو عمر قید اور سزائے موت جیسی کڑی سزائیں دے کر وہ سارے منہ بند کردئیے ہیں جن کا یہ بیانیہ ہوا کرتا تھا کہ صرف سیاستدان ہی قابل گردن زدنی کیوں قرار دئیے جاتے ہیں۔موضوع حساس بھی ہے ، اور ایک طول طویل تاریخ میں بھی لے جاتا ہے۔ماضی میں بھی اعلیٰ فوجی افسرا ن کی ایک پوری تاریخ ہے جو ملازمتوں سے سبکدوش
مزید پڑھیے


اب صاحبِ انصاف ہے خود طالب ِانصاف

بدھ 29 مئی 2019ء
مجاہد بریلوی
نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو یعنی نیب کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال سے منسوب اسکینڈل کے شوروغل سے اسلام آباد کے مقتدر اداروں کی چھتیں اڑ گئی ہیں۔ہر چند کہ بہت کچھ آچکا ہے۔مگر اسلام آباد کے سیاسی پنڈت کہہ رہے ہیںکہ ’’ابھی بہت کچھ آنا باقی ہے‘‘۔ اس بات میں قطعی دورائے نہیں کہ ہرشخص کی اپنی ایک ذاتی زندگی ہوتی ہے۔کنوارا ہو کہ شادی شدہ۔بھلے قبر میں ہی پیر لٹکے ہوں۔لیکن سیاست بڑی سفاک ہوتی ہے۔مخالفین انتقام کی آگ میں بہت دور تک چلے جاتے ہیں۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ آگ ان کے اپنے دامن تک بھی
مزید پڑھیے