BN

مجاہد بریلوی


سو بسم اللہ


خصوصی عدالت کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کا جو مختصر فیصلہ آیا، اُس میں تو محض سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ وہ 2007ء میں انہوںنے ایمرجنسی نافذ کرکے سنگین غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔اور ایسا لگتا ہے کہ مختصر فیصلے پر افواج ِ پاکستان کے ترجمان اور ایک بڑے عوامی حلقے کی جانب سے جو شدید رد عمل آیا ، اُس پر ہمارے خصوصی عدالت کے چیف جسٹس مزید مشتعل ہوگئے۔اتنے مشتعل کہ اٹارنی جنرل انور منصور بھی اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ انہوں
هفته 21 دسمبر 2019ء

16دسمبر۔ ۔ اِک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے

بدھ 18 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
48سال تو گذر ہی چکے ہیں۔پوری ایک بلکہ دو نسلیں رخصت ہو ئیں۔ جنہوں نے ’’ڈھاکہ‘‘ڈوبتے دیکھا۔اس دوران بقول شخصے پُلوں کے نیچے سے خاصہ پانی ہی نہیں ۔ ۔ لہو کا ایک دریابلکہ سمندر بہہ چکا ہے۔مگر لگتا ایسا ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی قیادتوں نے ماضی سے کچھ نہیںسیکھا۔اور اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ کہ برصغیر یعنی پاکستان ،ہندوستان اور بنگلہ دیش کے عوام کی اکثریت کا بھی Mindsetسفاکی اور درندگی کی حد تک پختہ ہوچکا ہے۔دہائی گذر گئی ۔مودی نے جو گجرات میں درندگی کی تھی ، اُس کی تاریخ آج بھارت کے
مزید پڑھیے


ناقابلِ یقین

هفته 14 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کے اوراق الٹ رہا تھا ۔ ۔ ۔ اور کہیں جا کر جسٹس حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پر آیا تھا ،جو پچاس سال بعد بھی شائع نہ ہوسکی۔اور اس وقت مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے نجانے کن الماریوں میںمقید ہے۔ جہاں اسے آہستہ آہستہ دیمک چاٹ رہی ہوگی۔مگر سقوط ِ ڈھاکہ کی خونی تاریخ سے وطن ِ عزیز کی سیاسی تاریخ ہمیشہ سیاہ رہے گی۔ فیض ؔ صاحب نے سقوطِ ڈھاکہ کے پس منظر میں ایک غزل لکھی تھی۔جس کے ایک شعر نے بڑی شہرت پائی۔ کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی
مزید پڑھیے


ذرا انتظارکریں۔۔۔(2)

بدھ 11 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستان میں جمہوری ادارے پنپ نہ سکے ۔پارلیمانی جمہوریت میں تسلسل قائم نہیں رہ سکا اور سیاست پر سات دہائی تک فوج کی بالادستی جو نظر آتی ہے،اُس کا صرف اور صرف ذمہ دار ہمارا ایک خاص Pseudo-intellectualطبقہ صرف فوج کو ہی ٹھہراتا ہے۔لیکن اگر ماضی کی تاریخ کے اوراق ادھیڑے جائیں ،تو اس میں جہاں ہماری سیاسی قیادت کا کردار انتہائی موقع پرستانہ بلکہ معذرت کے ساتھ،گھناؤنا نظر آتا ہے، تو دوسری طرف عدلیہ نے جو مصلحت کشی اختیار کی ،وہ بھی کم نہیں۔ ۔ ۔ عام طور پر بانی ِپاکستان قائد اعظم محمد علی جناح
مزید پڑھیے


ذراانتظار کریں

هفته 07 دسمبر 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستان کی سیاسی و عدالتی تاریخ کا سب سے بڑا تو نہیں ، مگر اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہنگامہ خیز مقدمہ اس وقت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی بینچ پر لگا ہوا ہے۔ہمارے محترم چیف جسٹس اگلے دو ہفتے بعد اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے کے بعد رخصت ہونے والے ہیں۔ اس لئے ان کے بعد چیف جسٹس ،جسٹس گلزار احمد ہی اس کی سماعت کریں گے۔ساری لعن طعن تحریک انصاف کی حکومت ،اُن کے وزیر اعظم اور وزیر ِ قانون پر ہو رہی ہے۔ کہ اپنی نا اہلی کے سبب انہوں نے ایک سیدھی صاف آئینی کارروائی
مزید پڑھیے



فہمیدہ ریاض ۔ ۔ ۔ 2

هفته 30 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
اب یہ وقت نہیں کہ نیپ اور بھٹو صاحب کی لڑائی کی تفصیل میں جایا جائے۔ قصور دونوں طرف کے مہم جو انقلابیوں کا بھی تو تھا۔جس کے نتیجے میںجنرل ضیاء الحق کا چیختا چنگھاڑتا مارشل لاء تو آنا ہی تھا۔فہمیدہ ان شاعروں ،ادیبوں میں تو تھیں نہیں کہ جو بھٹو مخالفت پر ضیاء الحق کے دور میں اکیڈمی آف لیٹر سے خود کو کیش کرا رہے تھے ۔اب وہ ضیاء آمریت کے خلاف کھڑی پیپلز پارٹی کے جیالوں کے ساتھ کھڑی تھیں۔جو جئے بھٹو کا نعرہ لگا کر ننگے پیٹوں پر کوڑے کھا رہے تھے ۔فہمیدہ نے اس
مزید پڑھیے


فہمیدہ ریاض ۔ ۔ ۔ 1

بدھ 27 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
(اردو کے منفرد لہجے کی شاعرہ فہمیدہ ریاض کو رخصت ہوئے ایک سال ہوگیا۔فہمیدہ سے رفاقت اور دوستی کا ایک طویل تعلق اور رشتہ تھا ابھی بھی یقین نہیں آتا کہ وہ مجھ سے دور ہوگئی ہیں۔اس تاثراتی تحریر میں فہمیدہ کی چار دہائی کی شاعری اور شخصیت کو سمیٹنے کی ناتمام کوشش کی ہے۔) کاغذ ترا رنگ فق کیوں ہوگیا شاعر ترے تیور دیکھ کر کاغذ ترے رخسار پہ داغ کیسے ہیں شاعر میں ترے آنسو پی نہ سکا کاغذ میں تجھ سے سچ کہوں شاعر مرا دل پھٹ جائے گا فہمیدہ سے ہماری دوستی کا تعلق شیریں سے رشتہ بننے سے پہلے کئی برسوں سے
مزید پڑھیے


خان صاحب،ذرا صبرسے کام لیں

هفته 23 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
اسکرینوں پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ہشاش بشاش ،خوش باش اپنے بھائی میاں شہباز شریف اور بیٹوںحسن ،حسین کے ساتھ اپنے گھر سے اسپتال آتے جاتے دیکھ رہا ہوں ۔ اور ادھر میاں صاحب کے سبب تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ایک اور محاذ کھل گیا ہے۔ ۔ ۔ ہمارے خان صاحب نے میاں صاحب کی روانگی کے اگلے دن یہ بیان دا غ ڈالا اور وہ بھی براہ راست چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزا ر احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہ وہ عدلیہ کو طاقتوروں سے آزاد کرائیں اور اس حوالے
مزید پڑھیے


میاں صاحب کا سیاسی سفر (2)

بدھ 20 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
اسکرین پر تین بار منتخب سابق وزیرا عظم میاں نواز شریف کو ایئر ایمبولینس کی سیڑھیاں آہستہ آہستہ چڑھتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ جس طرح کی ان کی صحت کے بارے میں خبریں آرہی تھیں،اُس سے تو یہ خیال تھا کہ وہ وہیل چیئر یا اسٹریچر پہ لے جاتے ہوئے دکھائی دیں گے۔لیکن یقینا میاں نواز شریف صاحب نے اسے پسند نہیں کیا ہوگاکہ وہ اتنی قابل ِ رحم حالت میں روانہ ہوں ۔اور اسی لئے انہوں نے شدید بیماری کے باوجودبغیر کسی کا ہاتھ تھامے جہاز میں روانگی پر زور دیا ہوگا۔بدقسمتی سے ،حالیہ برسوں
مزید پڑھیے


میاں صاحب کا سیاسی سفر

هفته 16 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
جس وقت یہ تحریر آپ کے ہاتھ میں ہوگی دعا گو ہوں اور خواہش رکھتا ہوں کہ اُس وقت تک ہمارے تین بار منتخب ہونے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف لندن کے لئے محو ِ پرواز ہوچکے ہوں گے،یا حکومت سمیت تمام متعلقہ اور مقتدر ادارے اُن کی روانگی کے بارے میں ایک پیج پر آچکے ہوں گے۔ہمارے میاں نوا ز شریف اِ س وقت پاکستانی سیاست کے سب سے متنازعہ کردار بن گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج اُن میں اور بانی ِ پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو میں مجھے بڑی مماثلت نظر آرہی ہے
مزید پڑھیے