BN

محمدعلی حیدر


ہمت کرو، جینے کو اک عمر پڑی ہے


23 سے 24 سال کی عمر میں ایک نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے، تویک دم حیرت اور بے یقینی کے کئی مناظر ،یہ دنیا اسے دکھانا شروع کرتی ہے۔ وہ عملی اورعلمی زندگی ، دونوں کو یکسر مختلف پاتا ہے۔ اُسے ہر جانب ایک عجیب سی دوڑ دکھائی دیتی ہے۔ یہ دوڑ پچھلی دوڑ سے بہت مختلف ہوتی ہے، کیوں کہ اب کے بار مقابلہ زیادہ نمبر لینے کا نہیں، بلکہ اِس معاشرہ میں اپنی جگہ بنانے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا ہوتا ہے۔ پھر معاشرہ بھی ایسا، جہاں کام کرنے کے
اتوار 20 جون 2021ء مزید پڑھیے

صحافت اور ریاست

اتوار 06 جون 2021ء
محمدعلی حیدر
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے۔ البتہ کسی بات کو کہنے اور اسے ماننے میں بڑا فرق ہے۔ چند روز سے پاکستان میں ریاست اور صحافت کی آویزش کچھ گرم سی ہے۔ ایک صحافی پر حملہ کے ردِعمل میں ایک سینئر صحافی کے کہے گئے جملوں نے سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی میں طوفان برپا کر رکھا ہے۔ دوسری جانب ایک بین الاقوامی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ہمارے وزیر اطلاعات کایہ بیان، کہ ہمارے ملک کا میڈیا بالکل آزاد ہے نے ملک کے کئی طبقات کو حیران کر دیا ہے۔تھڑوں پہ بیٹھ کر گپیں ہانکنے
مزید پڑھیے


تجربہ او رمشاہدہ

اتوار 13 دسمبر 2020ء
محمدعلی حیدر
یہ انیسویں صدی قصہ ہے جب امریکہ خانہ جنگی میں گھرا ہوا تھا،ان حالات میں چند بڑی جنگوں میں سے ایک جنگ چانسلرزویل میں لڑی گئی۔یہ خانہ جنگی کا تیسراسال تھا جب کانفڈریٹ جنرل رابرٹ لی اور کمانڈر یونینزآرمی جوئے حوکر مدِمقابل ہوئے۔رابرٹ لی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی جنگی صلاحیتوں میں،اپنے دور میں یکتا تھا۔اس کی تمام جنگی فتوحات کی وجہ اس کی تیز دماغی اور ذہانت رہی۔اس کا خاصہ یہ تھا کہ وہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر،فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال تھا۔ دوسری جانب،جوئے حوکربھی کسی سے کم نہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں