BN

محمد حسین ہنرمل


زیرِعتاب بھارتی مسلمان ۔پس چہ باید کرد ؟


بھارت میں انڈین نیشنل کانگریس ایک قدیم سیاسی جماعت ہے جو برطانوی راج کے زمانے میں 1885 ء میں قائم ہوئی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد کانگریس بھارت میں اب تک سات آٹھ مرتبہ اقتدار میں آئی ہے ۔انیس سوباون میں لوک سبھا کے پہلے انتخابات ہوئے تو کانگریس نے کلین سویپ کیا اور جواہرلال نہرو پہلی بار ہندوستان کے منتخب وزیراعظم بنے ۔ پانچ سال بعد پھر انتخابات ہوئے تو کانگریس کو پھر برتری ہوئی اور نہرو دوسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے ۔ باسٹھ کے انتخابات میں اس جماعت کو پھر برتری ملی اور پھرنہرو وزیراعظم بن
جمعرات 26 دسمبر 2019ء مزید پڑھیے

تاریخ کے لاڈلے حکمران

اتوار 22 دسمبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
اسلامی تاریخ میں خلفائے راشدین کا دورہر لحاظ سے قابل رشک تھا۔ خلافت راشدہ کے بعدرفتہ رفتہ عالم اسلام میں خلافت کی بجائے ملوکیت کاسکہ رائج ہوا۔ باری باری اموی خاندان کے بااثر لوگ خلیفہ کی صورت میں بادشاہ بنتے گئے یوں اس خاندان کایہ سلسلہ تقریبا بیانوے برس تک جاری رہا۔ اس پورے عرصے میں کم وبیش دس بارہ حکمران آئے، حکمرانی کی اور چلے گئے۔ 750 میں امیوں کی حکومت ساقط کردی گئی اور اس کی جگہ عباسیوں نے سنبھالی۔عباسی ملوکیت تقریبا پانچ سو چوبیس برس قائم رہی،اس عرصے میں تقریبا سینتیس تخت نشین گزرے۔تاریخ کامزاج عموماً
مزید پڑھیے


کچلاک ۔ژوب شاہراہ ،حادثات اور حکومتی غفلت

بدھ 18 دسمبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
پچھلے چھ مہینوں میں یہ میرا تیسرا کالم ہے جو شدید کرب کے عالم میں لکھ رہا ہوں ۔ تین روز پہلے علی الصبح کچلاک ژوب شاہراہN-50 نے پھر سے رونگھٹے کھڑے کرنے والے ایک المناک حادثے کا مژدہ سنایا ۔ بیک وقت تیرہ انسانی جانوں کو پل بھر میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے والا یہ حادثہ مسلم باغ کے قریب کان مہترزئی کے مقام پر پیش آیا - ایرانی پٹرول سے لدی پک اپ گاڑی مخالف سمت سے آنے والی مسافر بردار کوچ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں دونوں گاڑیاں آگ کی لپیٹ میں
مزید پڑھیے


افگار بخاری کی شہادت

اتوار 15 دسمبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
گزشتہ کالم میں مولانا قیام الدین خادم کی رحلت اور شاعری پر روشنی ڈالی گئیبیسویں صدی میں افغانستان کے ادبی افق پر جن چھ ادیبوں اورشعراء نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، ادبی حلقوں میں وہ ستاروں کے نام سے مشہور ہیںان میں مولانا قیام الدین خادم بھی شامل ہے۔مولاناخادم ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے کیونکہ وہ بیک وقت عالم دین بھی تھے ،پکے نیشنلسٹ بھی تھے ،شاعر وادیب اور ایک اچھے انسان بھی تھے۔ اُن کے نثری اور شعری فن پارے پڑھنے کے بعدقاری پہلی فرصت میں ان کی افغانیت،وطن دوستی اور ملی تفاخر کو بھانپ لیتا ہے
مزید پڑھیے


مولانا قیام الدین خادم کون تھے؟

اتوار 08 دسمبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
بیسویں صدی میں افغانستان کے ادبی افق پر جن چھ ادیبوں اورشعراء نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، ادبی حلقوں میں وہ ستاروں کے نام سے مشہور ہیںان میں مولانا قیام الدین خادم بھی شامل ہے۔مولاناخادم ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے کیونکہ وہ بیک وقت عالم دین بھی تھے ،پکے نیشنلسٹ بھی تھے ،شاعر وادیب اور ایک اچھے انسان بھی تھے۔ اُن کے نثری اور شعری فن پارے پڑھنے کے بعدقاری پہلی فرصت میں ان کی افغانیت،وطن دوستی اور ملی تفاخر کو بھانپ لیتا ہے اور ساتھ ساتھ ان کی انسان دوستی اور روشن فکری کامعترف بھی ہوجاتاہے۔پشتون ملاووں
مزید پڑھیے



افغانوں کے مسیحا کابے رحمانہ قتل

جمعه 06 دسمبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
در بدر افغانوں کی خدمت کے جذبے سے سَرشار جاپانی ڈاکٹرٹیٹسو ناکا مورا کے بہیمانہ قتل نے مجھ سمیت لاکھوں انسانوں کو دکھی کردیا-ڈاکٹرناکاموراکے سفاک قاتل یقینا اس خوش فہمی میں مبتلا ہونگے کہ انہوں نے ایک غیر ملکی اور غیر مذہب انسان کو قتل کرکے اپنے لیے جنت واجب کرلی لیکن حقیقت میں یہ ان کی بھول ہے- اول تو کسی بھی مذہب کے ماننے والے بے گناہ افراد کی جان ومال کو تحفظ فراہم کرناہمارے دین کی اولین ترجیح ہے،سو بغیر کسی شرعی جواز کے ایک مسلمان کیلئے کسی عیسائی ، یہودی یا دوسرے غیر مذہب کو مارناقطعاً ناجائز
مزید پڑھیے


خان عبدالصمد اچکزئی کون تھے؟

منگل 03 دسمبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
وہ بھی اچکزئی تھے یوںدیگر اچکزئیوں کی طرح ان کے سامنے بھی نارمل زندگی گزارنے کا خاصااچھاآپشن موجودتھا۔وہ تجارت میں وقت لگاتے تو بڑا مال اکٹھا کرتے۔ گلہ بانی اور زراعت کے پیشے سے منسلک ہوتے تب بھی زندگی آسودہ اور پرآسائش گزرجاتی۔انگریز سرکار سے وفاداری تو اسی زمانے کا بہترین انتخاب ہواکرتاتھا لیکن اس بدقسمت اچکزئی نے اس نوعیت کی بہترین نوکری کوبھی قبول نہیں کیا ۔ کیوں ؟ کیونکہ انہوں نے خود کو اپنی ذات سے بے نیاز کردیاتھا۔نام بھی ان کا ’’عبدالصمد‘‘ تھا یعنی بے نیاز ذات کا بندہ ۔عبدالصمدخان اچکزئی نے کل چھیاسٹھ برس عمر
مزید پڑھیے


فیڈل کاسترو کی تیسری برسی!

اتوار 01 دسمبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
امریکہ کے دروازے پر کمیونسٹ ریاست کی بنیاد رکھنے والے فیڈل کاسترو کی تیسری برسی گزرگئی ۔ کیوبا کے یہ عظیم لیڈر جس بھی نظریے کے حامل رہے تھے۔ کارل مارکس کے نظریات کو ازبر کرنے والے کاسترو اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر(Fulgencio Batista) کی حکومت کو للکارنے لگے جو غیرآئینی طریقے سے بنی تھی۔ ان کی حکومت کے خلاف کاسترونے تقاریر کیں، تحریک چلائی اور ملک کے کونے کونے سے کم لیکن ثابت قدم انقلابیوں کو اکٹھا کیا۔ اپنے ایک سو پچاس انقلابی ساتھیوں کی مددسے فیڈل کاسترو نے 26 جولائی 1953ء کو کیوبا کی فوجی بیرکوں پر حملہ
مزید پڑھیے


ناروے میں توہینِ قرآن کا سانحہ

بدھ 27 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
ریبیزRabies) )کا نام شاید آپ میں سے بہتوں نے سنا ہوگا؟ یہ وہ خطرناک وائرس ہے جو باولا کتا انسان کوکانٹے کے دوران اس کے جسم میں منتقل کرتاہے ۔ اس وائرس کے خاتمے کا اگر بر وقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ شخص کے اعصابی نظام کو متاثرکرکے بائولے پن کا شکار کر دیتاہے ۔اس نوعیت کے مریضوں کی سب سے بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ اسے پانی سے ڈرنے Hydrophobia) ) کا مرض لاحق ہوجاتاہے، یعنی پانی کودیکھتے ہی اسے خوف محسوس ہونے لگتاہے۔ میں جب بھی مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف بڑھتی ہوئی
مزید پڑھیے


کرپٹ سیاسی اشرافیہ اور اخلاقی گراوٹ

هفته 23 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
اسلام آبادمیں مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہونے والے آزادی مارچ اوردھرنے میں اپوزیشن جماعتوں کے بے شمار مطالبات جائز بھی تھے اور جینوئن بھی۔ مثال کے طور پر اپوزیشن جماعتیں ایک عرصے سے یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ انتخابی عمل اوراس کے نتائج منصفانہ ہونا چاہئیں یاملک میں اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے اورمیڈیا کے اوپر قدغنیں نہیں ہونے چاہئیں ،نیزپارلیمان طاقت کا سرچشمہ اورعدلیہ آزاد ہوناچاہیے اور تمام ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں۔لیکن دوسری طرف ہماری انہی جماعتوں کے اکابر سیاستدانوں کی اخلاقی گراوٹ اور شخصی مفادات کے گردگھومنے والی سیاست دیکھ کر
مزید پڑھیے








اہم خبریں