BN

محمد حسین ہنرمل


گلوبل ویلج سے گلوبل وارمنگ تک


جب سے دنیاعالمی گائوں (گلوبل ویلج) میں تبدیل ہوگئی ہے تب سے اس کے افق پرماضی کے مقابلے میں عالمی درجہ حرارت کے خطرات کہیں زیادہ منڈلانا شروع ہوگئے ہیں-گلوبل وارمنگ کے مسئلے سے نمٹنااس وقت ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے جس سے نمٹنے کیلئے پچھلے چندسالوں سے عالمی سیمیناروں میں معاہدے کیے جارہے ہیں۔ غور کیا جائے تو آج سے سو سال پہلے لوگ گلوبل وارمنگ اور گلوبل ویلج جیسی اصطلاحات سے واقف نہیں تھے ۔گلوبل ویلج کی اصطلاح سب سے پہلے کینیڈا کے ایک میڈیا تھیورسٹ مارشل میک لوہان نے 1962ء میں اپنی کتاب
پیر 18 نومبر 2019ء مزید پڑھیے

کرتارپور کوریڈوراور یار لوگوں کا مذہب کارڈ

جمعرات 14 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
ننکانہ صاحب (تلونڈی) کے ایک ہندوگھرانے میں 1469ء کو پیدا ہونے والے گرونانک کی خوش قسمتی یہ تھی کہ وہ حددرجہ مُوحداور پوری زندگی حق کے متلاشی رہے ۔کہاجاتاہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد نانک کوگھروالوں کی طرف سے کبھی مویشی چرانے پر مامورکیاجاتااورکبھی ان کو کاروبار کرنے کا کہاجاتا۔ بعد میںجب ان کو کھیتوں میں ہل چلانے کاکہا گیاتو حق کے متلاشی نانک بولے کہ ’’ میں تو اپنے تن کے کھیت میں ہل چلاکر نیک کام کاشت کرنا چاہتاہوںاورجب اس سے فصل تیار ہوگی تو اس کی برکت سے پوری دنیا روشن ہوجائے گی‘‘۔ حق کی تلاش میں
مزید پڑھیے


گوشت کوترسنے والا افغان بچہ

اتوار 10 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
حاجی سید احمد سیلاب افغانستان میں ایک فلاحی تنظیم چلا رہے ہیں-یہ مشفق اوردرددل رکھنے والاانسان اُن تمام افغانوں سے مالی تعاون کرنا اپنی زندگی کا مشن بناچکے ہیں جوچالیس سالہ فسادات، طویل خانہ جنگی اور بیرونی یلغارکے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں اپاہج ، یتیم ، بے گھراور بے آسرا ہوچکے ہیں۔ویسے توسچ یہ ہے کہ افغان وطن ہرروز دل فگار خبروں کی زد میں رہتا ہے لیکن بعض اوقات اس ملک میں رونما ہونے والے کچھ واقعات دیر تک سوچنے اور رُلانے پر مجبور کر دیتے ہیں-پچھلے دنوں مجھے حاجی سید احمد سیلاب کی زبانی ایک ایسی
مزید پڑھیے


وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

بدھ 06 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
دنیا جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گری ہوئی تھی۔ عقل اور خِرد کے ہوتے ہوئے انسانیت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی اور روحانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں تھی۔ بالخصوص دنیائے عرب تو اس تھرڈ کلاس کی سوسائٹی کا منظر پیش کر رہی تھی جہاں کمزوروں کو انسان کے نام سے پکارنا عار اور طاقت سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔ جب ہر حد سے تجاوز فخر ٹھہرا اور خوئے ابلیسی انسانیت کی طرف منتقل ہونے لگی۔جب اشرف المخلوقات کا حسین لقب بھی انسان کے لئے نامناسب ٹھہرا تو رب کائنات کی حکیم ذات کو اس بیمار
مزید پڑھیے


ریلوے حادثات کب تک۔۔۔؟

پیر 04 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
پاکستان ریلوے کو ایک مرتبہ پھرحادثہ ہوا۔یہ قابل رحم محکمہ ویسے بھی ہروقت مختلف مالی بحرانوں اور حادثات کی زد میں رہتاہے تاہم جمعرات کو پیش آنے والا حادثہ دوہزار پانچ کے بعدریلوے تاریخ کا ایک اندوہناک حادثہ تھا۔ کراچی سے راوالپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس میں لیاقت پور(رحیم یار خان )کے قریب ایسی آگ بھڑک اٹھی کہ پَل بھر میں چوہتر مسافر راکھ اور ساٹھ کے قریب بری طرح گھائل ہوگئے ۔جاں بحق ہونے والے زیادہ تر مسافر وں کا تعلق سندھ کے میرپورخاص اور حیدرآباد سے تھا جو لاہور کے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے کیلئے محو سفر
مزید پڑھیے



خُوگر شکوہ سے تھوڑی سی مدح بھی سن لے

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
کالم کے آغاز میں سب سے پہلے روح ِاقبال سے معذرت خواں ہوںکیونکہ ان کی شہرہ آفاق نظم کے جس مصرعے کو میں نے مضمون کا عنوان چنا ہے،اس میں چند الفاظ کی ترمیم کی جسارت کی ہے-بات مولانا فضل الرحمن اور ان کے آزادی مارچ کے حوالے سے کرنا چاہ رہا ہوں۔میں اپنے مضامین میں بسا اوقات مولانا صاحب کی سیاست کاکئی وجوہات کی بنا پر ناقد رہا ہوں۔لیکن آج ان کے حالیہ مارچ اور ان کے کچھ اوصاف کابھی اعتراف کرناچاہتاہوں۔یہ سطور لکھتے وقت مولانا صاحب کی قیادت میں کراچی سے نکلنے والا آزادی مارچ لاہور
مزید پڑھیے


حکومتی جماعت کا رویہ

پیر 28 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے رویے اور اس حکومت کی ڈانواڈول پالیسیوں پر غلام ہمدانی مصحفی کا ایک مشہور شعر یاد آتا ہے، مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا گویایہ جماعت اب مرحوم مصحفی کے دل کی طرح جگہ جگہ رفو کا تقاضا کر رہی ہے -اسی سے متعلق ایک اور شعر مرحومہ پروین شاکر کا بھی یاد آرہا ہے، ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا اقتدار میں آئے پاکستان تحریک انصاف کی
مزید پڑھیے


بلوچستان یونیورسٹی۔ ہو کیارہاہے؟

منگل 22 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
چند روز پہلے بھی میں نے اپنے ایک کالم میں ملک کے تعلیمی اداروں میں غیراخلاقی سرگرمیوں اور منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں لکھاتھا۔آج پھر مکررعرض کرتاہوں کہ اس ملک کے ذمہ دار لوگ آخر اِن اداروں میں پڑھنے والوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے پر کیوںتلے ہوئے ہیں؟ کیا تعلیمی اداروں میں ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے بچے اور بچیاں اپنے والدین کی امانت نہیںہیں؟اگر یہ امانت ہے تو پھرسوال یہ بھی ہے کہ ان امانتوں میں خیانت کرنے والوں کے خلاف ریاست مستقل بنیادوں پر اقدامات اب بھی نہیں تو کب اٹھائے
مزید پڑھیے


ہمارے چراغوں کامستقبل ؟

پیر 14 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
نوجوان صرف اپنے والدین کی آنکھوں کے تارے نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں-اس بیدار مغزاور تواناطبقے پراقوام کے روشن مستقبل کادارومدار ہوتاہے ۔لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ ہماری یہ کھیپ بے راہ روی کی ایک خطرناک ڈگرپر چل نکلی ہے ۔نوجوان نسل کو اس وقت منشیات کے ناسور کی ایسی لَت پڑگئی ہے کہ ہر تیسرا اور چوتھانوجوان اس میں مبتلا نظرآتاہے۔بدقسمتی تویہ ہے کہ منشیات کی یہ شرح ان نوجوانوں میں سب سے اوپرہے جوتعلیم یافتہ ہیں اورمہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔منشیات کے ان عادی نوجوانوں میں سترفیصد وہ ہیں جن
مزید پڑھیے


تقریر فوبیا لوگوں کے نام۔۔۔

هفته 05 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنرمل
دل کی بے شمار بیماریوں میں ایک بیماری کا نام بے جا انتقام بھی ہے۔اس بیماری کے دوران مریض کونہ صرف اپنے مخالف پر بے سر و پا الزامات لگانے کی لت بھی پڑجاتی ہے بلکہ کتمانِ حق کا مرتکب بھی ہوتاہے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںوزیراعظم عمران خان کی حالیہ تقریر کے بعد مجھ پربہت سے نامور سیاستدانوں، لکھاریوںاور دانشور حضرات کی حقیقت عیاں ہوگئی جو اس مہلک بیماری میں مبتلا تھے۔بلاشبہ عمران خان کی بہت سی پالیسیوں اوراُن کی ناتجربہ کار ٹیم کے اقدامات کوتنقید کاہدف بناناہرکسی کاحق ہے لیکن ناقدمیں کم ازکم اتنی جرات بھی ہونی
مزید پڑھیے








اہم خبریں