BN

محمد حسین ہنزل


وہ کس جرم میں ماری گئی؟


پہلا واقعہ: ناہید بی بی ، ارشاد بی بی ، عائشہ بی بی ، جویریہ بی بی اور مریم بی بی کا تعلق بنوں سے تھا اور یہ پانچوں سباوون نامی ایک غیر سرکاری ادارے کے ساتھ سولہ ہزارروپے کی معمولی تنخواہ پر کام کرتی تھیں۔ بائیس فروری کی صبح یہ خواتیںمعمول کی طرح اپنے گھروں سے نکل کرایک گاڑی میں سوارہوگئیںاور میرعلی (شمالی وزیرستان) میں واقع اس ادارے کے دفتر کی طرف روانہ ہوئیں۔ ایپی گاوں (میرعلی) کے علاقے میں جب ان کی گاڑی پہنچی تو مسلح موٹرسائیکل سوار وںنے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی ،
جمعه 05 مارچ 2021ء

قبائلی علاقے : انضمام کے بعد

اتوار 28 فروری 2021ء
محمد حسین ہنز ل
وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات ’’ فاٹا‘‘ (جودوسال قبل صوبہ خیبرپختونخوا کاحصہ بناتھا)کم ازکم ایک صدی پر محیط خوں آشام تاریخ رکھتا ہے۔سن انیس سوایک میں جب انگریز سرکار یہاں پر قابض تھی تو اپنی استعماری پالیسیوں کے خلاف وقتًا فوقتًا غیور پشتونوں کی مزاحمت سے نمٹنے کیلئے کر اس نے ایف سی آر نام کا بدنام زمانہ قانون نافذ کیا۔ ایف سی آر (فرنٹیئرکرائمز ریگولیشن)ایسے قوانین کا مجموعہ تھا جو کسی بھی مہذب معاشرے میں ایک بے رحم اور غیرانسانی قانون تصور کیا جاتا تھا لیکن نام نہاد مہذب انگریز نے اپنے مفادات کیلئے ا سکا نفاذ کر
مزید پڑھیے


احباب جو ہمارے درمیان نہیں رہے

منگل 16 فروری 2021ء
محمد حسین ہنز ل
پچھلے کئی ہفتوں کے دوران کچھ رشتے داروںاور احباب کی موت کی خبریں سن سن کر خود کو بہت دکھی پایا اور پشتو زبان کا یہ ٹپہ بہت یاد آرہا ہے : یارانو! یو تل بل زاریژئی ما د مجلس یاران لیدل چی خاورے شو نہ ... دوستو!ایک دوسرے سے پیار وایثارسے پیش آیا کرو کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے مجلس کے احباب کو رزقِ خاک ہوتے دیکھا ہے''۔ چند ہفتے پہلے پیغام موصول ہوا کہ ’’اے این پی ژوب کے مخلص رہنما جناب عبدالرشید سیال کاکڑاب اس دنیا میں نہیں رہے''۔عبدالرشید صاحب کی موت خبر نے رنجیدہ کردیا تاہم چند لمحے
مزید پڑھیے


یہ درندگی کب تک ۔۔۔؟

بدھ 03 فروری 2021ء
محمد حسین ہنز ل
ژوب سے تعلق رکھنے والاتیرہ سالہ عصمت اللہ صافی معمول کی طرح جمعرات کی صبح بھی اپنی ہتھ گاڑی ( ٹرالی) لے کر مزدوری کیلئے گھر سے نکلا لیکن شام کو معمول کے مطابق اپنے گھر نہیں لوٹا۔کیونکہ اسی دن ایک درندہ صفت انسان اس کے پاس آتا ہے اور اسے ساٹھ روپے کے عوض مزدوری کیلئے اپنے ساتھ لے جاتا ہے ۔ عصمت اللہ صافی کے ساتھ پھر وہی ہوا جو اس ملک کے بچوں کے ساتھ آئے روز ہوتارہتا ہے ۔ عصمت اللہ کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر اس درندہ نما انسان نے
مزید پڑھیے


افغان امن کی کنجی کس کے پاس؟

اتوار 31 جنوری 2021ء
محمد حسین ہنز ل
امریکی صدارت کا منصب سنبھالتے ہی جوبائیڈن نے پہلے دن اپنے پیشرو صدرڈونلڈ ٹرمپ کے قلم سے صادر ہونے والے کئی اہم فیصلوں کو لغو قرار دیا ۔مثلاسابق صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے پہلے دنوں میں سفری پابندیوں (جن میں سات مسلم ممالک سرفہرست تھے) کا اعلان کیاتھاجبکہ صدر جو بائیڈن نے اس کا خاتمہ کر دیا ہے۔ڈونلڈٹرمپ نے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیاتھا،بائیڈن نے اس منصوبے کوبھی موقوف کردیا ۔ٹرمپ نے پیرس ماحولیاتی معاہدے سے امریکہ کو نکال دیاتھااور عالمی ادارہ صحت سے امریکہ کو نکال دیاتھا لیکن جوبائیڈن نے
مزید پڑھیے



کچھ پشتو اکیڈمی کوئٹہ کے بارے میں

جمعرات 14 جنوری 2021ء
محمد حسین ہنز ل
تقسیم ہند کے بعد بدقسمتی سے ہمارے مقتدر طبقے نے علاقائی مادری زبانوں کو اس حد تک قربان کرنے کا فیصلہ کرلیاکہ نتیجے میں نئی نسل کو اپنی مادری زبان سے علاقہ محض اپنے گھر کی چار دیواری تک محدود ہوکر رہ گیا۔قیام پاکستان کو اب سات دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ بیت چکاہے لیکن بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دینا اب بھی ایک خواب و خیال تصور کیا جاتا ہے۔ اب اگر کوئی ریاست سے اپنی مادری زبان میں بچوں کو تعلیم کا مطالبہ کر تاہے تو انہیں خود بھی یقین نہیں آتاکہ ان کا یہ
مزید پڑھیے


اپنی برادری کے بارے میں قیوم چنگیزی کی تجویز

هفته 09 جنوری 2021ء
محمد حسین ہنز ل
امن ،انسانیت اور دین کے دشمنوں نے ایک بارپھر ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا۔اب کی بار اس کمیونٹی کے وہ قابل رحم کان کنوں شہید کردیئے گئے جنہوں نے اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالنے کی خاطراپنے گھر سے میلوں دور زمیں کی تہہ میں اپنی زندگیاں گزارنے کا رسک لیاہواتھا۔تین جنوری کومچھ کے علاقے میں گیارہ کان کنوں کو اغوا کرنے کے بعد ان کے ہاتھ پشت پر باندھ کراس بے دردی کے ساتھ کچھ کو گولیاں مارکراور کچھ تہہ تیغ کرکے شہید کردیئے گئے کہ انسانیت شرما گئی۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی بہت سے گھرانے اجڑ
مزید پڑھیے


جے یوآئی سے مولانا شیرانی کی رحلت

جمعرات 31 دسمبر 2020ء
محمد حسین ہنز ل
مولانا محمدخان شیرانی مزید جے یو آئی کی دنیا میں نہیں رہے۔جمعیت علماء اسلام سے اس بزرگ سیاستدان کا رشتہ ایک ایسے وقت میں ختم ہواجب ان کی سیاسی توانائی تقریباًجواب دے چکی ہے۔عمر کے اس حصے میں ایک معمر سیاستدان عموما ًپارٹی میں پیہم محبتیں اور عزت سمیٹتا ہے لیکن بدقسمتی سے مولانا شیرانی کے حق میں یہ سعادت نہیں آئی۔ سماجی رابطوں کے اس بے رحمانہ دور میں ہر کس و ناکس کو اُن کی ذات پر ایک دو جملے کھسنے کا موقع مل گیایہاں تک کہ انہیں ننگی گالیاں تک سننا پڑیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیںکہ
مزید پڑھیے


پی ڈی ایم کالاہور شو اورمحمود اچکزئی کی تقریر!!

بدھ 16 دسمبر 2020ء
محمد حسین ہنز ل
لاہور کے مینار پاکستان گراونڈ میں پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم )کا جلسہ حکومت ِ وقت کی اجازت اور رکاوٹوں کے بغیر کامیاب ہوکر رہا۔حسب معمول اس تحریک میں شامل تمام سیاسی اور ۵مذہبی جماعتوں کے رہنماووں نے اپنی اپنی تقاریر میں حکومت کی نالائقی اور اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی پرکھل کر بات کی اوراسی فلور سے حکومت سے مذاکرات نہ کرنے اور اگلے مرحلے میں اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ اور استعفے پیش کرنے کا اعلان بھی کردیا۔تحریک کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں آنے والے دنوں میں ملک میں انارکی کی بات کی
مزید پڑھیے


اگرمولانا اپوزیشن کا حصہ نہ ہوتے ۔۔۔؟

جمعرات 10 دسمبر 2020ء
محمد حسین ہنز ل
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کے نام سے بننے والی گیارہ اپوزیشن جماعتوں کی تحریک اپنی عروج پرپہنچ چکی ہے۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پی ٹی آئی حکومت کو چلتا کرنے اورجمہوری نظام کوشفاف بنانے پرمُصر یہ تحریک اب اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہوکربات ایوان زیریں اورایوان بالا اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں تک جاپہنچی ہے۔ استعفوں کے بارے میںابتداء میں دونوںبڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ میں ہچکچاہٹ کاشکار تھیں تاہم منگل کے پی ڈی ایم اجلاس کے دوران میاں نواز شریف کی تجویز کی حمایت
مزید پڑھیے