محمد حسین ہنزل



فیڈل کاسترو کی تیسری برسی!


امریکہ کے دروازے پر کمیونسٹ ریاست کی بنیاد رکھنے والے فیڈل کاسترو کی تیسری برسی گزرگئی ۔ کیوبا کے یہ عظیم لیڈر جس بھی نظریے کے حامل رہے تھے۔ کارل مارکس کے نظریات کو ازبر کرنے والے کاسترو اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر(Fulgencio Batista) کی حکومت کو للکارنے لگے جو غیرآئینی طریقے سے بنی تھی۔ ان کی حکومت کے خلاف کاسترونے تقاریر کیں، تحریک چلائی اور ملک کے کونے کونے سے کم لیکن ثابت قدم انقلابیوں کو اکٹھا کیا۔ اپنے ایک سو پچاس انقلابی ساتھیوں کی مددسے فیڈل کاسترو نے 26 جولائی 1953ء کو کیوبا کی فوجی بیرکوں پر حملہ
اتوار 01 دسمبر 2019ء

ناروے میں توہینِ قرآن کا سانحہ

بدھ 27 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
ریبیزRabies) )کا نام شاید آپ میں سے بہتوں نے سنا ہوگا؟ یہ وہ خطرناک وائرس ہے جو باولا کتا انسان کوکانٹے کے دوران اس کے جسم میں منتقل کرتاہے ۔ اس وائرس کے خاتمے کا اگر بر وقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ شخص کے اعصابی نظام کو متاثرکرکے بائولے پن کا شکار کر دیتاہے ۔اس نوعیت کے مریضوں کی سب سے بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ اسے پانی سے ڈرنے Hydrophobia) ) کا مرض لاحق ہوجاتاہے، یعنی پانی کودیکھتے ہی اسے خوف محسوس ہونے لگتاہے۔ میں جب بھی مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف بڑھتی ہوئی
مزید پڑھیے


کرپٹ سیاسی اشرافیہ اور اخلاقی گراوٹ

هفته 23 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
اسلام آبادمیں مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہونے والے آزادی مارچ اوردھرنے میں اپوزیشن جماعتوں کے بے شمار مطالبات جائز بھی تھے اور جینوئن بھی۔ مثال کے طور پر اپوزیشن جماعتیں ایک عرصے سے یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ انتخابی عمل اوراس کے نتائج منصفانہ ہونا چاہئیں یاملک میں اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے اورمیڈیا کے اوپر قدغنیں نہیں ہونے چاہئیں ،نیزپارلیمان طاقت کا سرچشمہ اورعدلیہ آزاد ہوناچاہیے اور تمام ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں۔لیکن دوسری طرف ہماری انہی جماعتوں کے اکابر سیاستدانوں کی اخلاقی گراوٹ اور شخصی مفادات کے گردگھومنے والی سیاست دیکھ کر
مزید پڑھیے


گلوبل ویلج سے گلوبل وارمنگ تک

پیر 18 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
جب سے دنیاعالمی گائوں (گلوبل ویلج) میں تبدیل ہوگئی ہے تب سے اس کے افق پرماضی کے مقابلے میں عالمی درجہ حرارت کے خطرات کہیں زیادہ منڈلانا شروع ہوگئے ہیں-گلوبل وارمنگ کے مسئلے سے نمٹنااس وقت ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے جس سے نمٹنے کیلئے پچھلے چندسالوں سے عالمی سیمیناروں میں معاہدے کیے جارہے ہیں۔ غور کیا جائے تو آج سے سو سال پہلے لوگ گلوبل وارمنگ اور گلوبل ویلج جیسی اصطلاحات سے واقف نہیں تھے ۔گلوبل ویلج کی اصطلاح سب سے پہلے کینیڈا کے ایک میڈیا تھیورسٹ مارشل میک لوہان نے 1962ء میں اپنی کتاب
مزید پڑھیے


کرتارپور کوریڈوراور یار لوگوں کا مذہب کارڈ

جمعرات 14 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
ننکانہ صاحب (تلونڈی) کے ایک ہندوگھرانے میں 1469ء کو پیدا ہونے والے گرونانک کی خوش قسمتی یہ تھی کہ وہ حددرجہ مُوحداور پوری زندگی حق کے متلاشی رہے ۔کہاجاتاہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد نانک کوگھروالوں کی طرف سے کبھی مویشی چرانے پر مامورکیاجاتااورکبھی ان کو کاروبار کرنے کا کہاجاتا۔ بعد میںجب ان کو کھیتوں میں ہل چلانے کاکہا گیاتو حق کے متلاشی نانک بولے کہ ’’ میں تو اپنے تن کے کھیت میں ہل چلاکر نیک کام کاشت کرنا چاہتاہوںاورجب اس سے فصل تیار ہوگی تو اس کی برکت سے پوری دنیا روشن ہوجائے گی‘‘۔ حق کی تلاش میں
مزید پڑھیے




گوشت کوترسنے والا افغان بچہ

اتوار 10 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
حاجی سید احمد سیلاب افغانستان میں ایک فلاحی تنظیم چلا رہے ہیں-یہ مشفق اوردرددل رکھنے والاانسان اُن تمام افغانوں سے مالی تعاون کرنا اپنی زندگی کا مشن بناچکے ہیں جوچالیس سالہ فسادات، طویل خانہ جنگی اور بیرونی یلغارکے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں اپاہج ، یتیم ، بے گھراور بے آسرا ہوچکے ہیں۔ویسے توسچ یہ ہے کہ افغان وطن ہرروز دل فگار خبروں کی زد میں رہتا ہے لیکن بعض اوقات اس ملک میں رونما ہونے والے کچھ واقعات دیر تک سوچنے اور رُلانے پر مجبور کر دیتے ہیں-پچھلے دنوں مجھے حاجی سید احمد سیلاب کی زبانی ایک ایسی
مزید پڑھیے


وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

بدھ 06 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
دنیا جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گری ہوئی تھی۔ عقل اور خِرد کے ہوتے ہوئے انسانیت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی اور روحانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں تھی۔ بالخصوص دنیائے عرب تو اس تھرڈ کلاس کی سوسائٹی کا منظر پیش کر رہی تھی جہاں کمزوروں کو انسان کے نام سے پکارنا عار اور طاقت سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔ جب ہر حد سے تجاوز فخر ٹھہرا اور خوئے ابلیسی انسانیت کی طرف منتقل ہونے لگی۔جب اشرف المخلوقات کا حسین لقب بھی انسان کے لئے نامناسب ٹھہرا تو رب کائنات کی حکیم ذات کو اس بیمار
مزید پڑھیے


ریلوے حادثات کب تک۔۔۔؟

پیر 04 نومبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
پاکستان ریلوے کو ایک مرتبہ پھرحادثہ ہوا۔یہ قابل رحم محکمہ ویسے بھی ہروقت مختلف مالی بحرانوں اور حادثات کی زد میں رہتاہے تاہم جمعرات کو پیش آنے والا حادثہ دوہزار پانچ کے بعدریلوے تاریخ کا ایک اندوہناک حادثہ تھا۔ کراچی سے راوالپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس میں لیاقت پور(رحیم یار خان )کے قریب ایسی آگ بھڑک اٹھی کہ پَل بھر میں چوہتر مسافر راکھ اور ساٹھ کے قریب بری طرح گھائل ہوگئے ۔جاں بحق ہونے والے زیادہ تر مسافر وں کا تعلق سندھ کے میرپورخاص اور حیدرآباد سے تھا جو لاہور کے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے کیلئے محو سفر
مزید پڑھیے


خُوگر شکوہ سے تھوڑی سی مدح بھی سن لے

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
کالم کے آغاز میں سب سے پہلے روح ِاقبال سے معذرت خواں ہوںکیونکہ ان کی شہرہ آفاق نظم کے جس مصرعے کو میں نے مضمون کا عنوان چنا ہے،اس میں چند الفاظ کی ترمیم کی جسارت کی ہے-بات مولانا فضل الرحمن اور ان کے آزادی مارچ کے حوالے سے کرنا چاہ رہا ہوں۔میں اپنے مضامین میں بسا اوقات مولانا صاحب کی سیاست کاکئی وجوہات کی بنا پر ناقد رہا ہوں۔لیکن آج ان کے حالیہ مارچ اور ان کے کچھ اوصاف کابھی اعتراف کرناچاہتاہوں۔یہ سطور لکھتے وقت مولانا صاحب کی قیادت میں کراچی سے نکلنے والا آزادی مارچ لاہور
مزید پڑھیے


حکومتی جماعت کا رویہ

پیر 28 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے رویے اور اس حکومت کی ڈانواڈول پالیسیوں پر غلام ہمدانی مصحفی کا ایک مشہور شعر یاد آتا ہے، مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا گویایہ جماعت اب مرحوم مصحفی کے دل کی طرح جگہ جگہ رفو کا تقاضا کر رہی ہے -اسی سے متعلق ایک اور شعر مرحومہ پروین شاکر کا بھی یاد آرہا ہے، ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا اقتدار میں آئے پاکستان تحریک انصاف کی
مزید پڑھیے