BN

محمد حسین ہنزل



بلوچستان یونیورسٹی۔ ہو کیارہاہے؟


چند روز پہلے بھی میں نے اپنے ایک کالم میں ملک کے تعلیمی اداروں میں غیراخلاقی سرگرمیوں اور منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں لکھاتھا۔آج پھر مکررعرض کرتاہوں کہ اس ملک کے ذمہ دار لوگ آخر اِن اداروں میں پڑھنے والوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے پر کیوںتلے ہوئے ہیں؟ کیا تعلیمی اداروں میں ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے بچے اور بچیاں اپنے والدین کی امانت نہیںہیں؟اگر یہ امانت ہے تو پھرسوال یہ بھی ہے کہ ان امانتوں میں خیانت کرنے والوں کے خلاف ریاست مستقل بنیادوں پر اقدامات اب بھی نہیں تو کب اٹھائے
منگل 22 اکتوبر 2019ء

ہمارے چراغوں کامستقبل ؟

پیر 14 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
نوجوان صرف اپنے والدین کی آنکھوں کے تارے نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں-اس بیدار مغزاور تواناطبقے پراقوام کے روشن مستقبل کادارومدار ہوتاہے ۔لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ ہماری یہ کھیپ بے راہ روی کی ایک خطرناک ڈگرپر چل نکلی ہے ۔نوجوان نسل کو اس وقت منشیات کے ناسور کی ایسی لَت پڑگئی ہے کہ ہر تیسرا اور چوتھانوجوان اس میں مبتلا نظرآتاہے۔بدقسمتی تویہ ہے کہ منشیات کی یہ شرح ان نوجوانوں میں سب سے اوپرہے جوتعلیم یافتہ ہیں اورمہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔منشیات کے ان عادی نوجوانوں میں سترفیصد وہ ہیں جن
مزید پڑھیے


تقریر فوبیا لوگوں کے نام۔۔۔

هفته 05 اکتوبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
دل کی بے شمار بیماریوں میں ایک بیماری کا نام بے جا انتقام بھی ہے۔اس بیماری کے دوران مریض کونہ صرف اپنے مخالف پر بے سر و پا الزامات لگانے کی لت بھی پڑجاتی ہے بلکہ کتمانِ حق کا مرتکب بھی ہوتاہے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںوزیراعظم عمران خان کی حالیہ تقریر کے بعد مجھ پربہت سے نامور سیاستدانوں، لکھاریوںاور دانشور حضرات کی حقیقت عیاں ہوگئی جو اس مہلک بیماری میں مبتلا تھے۔بلاشبہ عمران خان کی بہت سی پالیسیوں اوراُن کی ناتجربہ کار ٹیم کے اقدامات کوتنقید کاہدف بناناہرکسی کاحق ہے لیکن ناقدمیں کم ازکم اتنی جرات بھی ہونی
مزید پڑھیے


پشتون کلچر ڈے

اتوار 29  ستمبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
سماجی ماہرین اور اہل علم نے ثقافت کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ برطانوی ماہر بشریات ای بی ٹائلر کے مطابق ثقافت اُس علم ، فن ، اخلاقیات ، خصائل اور صلاحیتوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو کوئی معاشرے کے رکن ہونے کے ناطے اسے حاصل کرتا ہے ۔ جبکہ رابرٹ ایڈفیلڈر نے انسانی گروہ کے علوم اور خود ساختہ فنون کے ایک ایسے متوازن نظام کو ثقافت کہا ہے جو باقاعدگی سے کسی معاشرے میں جاری وساری رہتا ہے ۔ عربی زبان میں ثقافت کا لفظ فطانت ، زیرکی اور تجربے وہنر کے
مزید پڑھیے


خطرے میں اسلام نہیں ۔۔۔

جمعرات 19  ستمبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
جمعیت علماء اسلام (ف) ان دنوں موجودہ پی ٹی آئی حکومت کو ساقط کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں-اس معرکے میںدوسری اپوزیشن جماعتیں بالخصوص پی پی پی اور مسلم لیگ ن ساتھ دے یا نہ دیں لیکن مولانا فضل الرحمن کی جماعت بہرصورت میدان میں اترنے والی ہے ۔ کیونکہ مولاناکے پاس کسی بھی دوسری مذہبی جماعت کے مقابلے میں دینی مدارس کے طلباء کی صورت ایک بڑی فورس موجود ہے۔ مدارس کے تعلیمی بورڈوفاق المدارس کے پاس اس وقت ملک کے بیس ہزار چھ سوپچاس مدارس بشمول ان کی شاخیں بھی رجسٹرڈ ہیں۔لگ بھگ بیس لاکھ طلباء
مزید پڑھیے




غسان کنفانی ۔مزاحمتی ادب کاروشن ستارہ

جمعه 13  ستمبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
غسان کنفانی فلسطین کے مزاحمتی ادب کا ایک روشن ستارہ ہے۔زندگی کی کل چھتیس بہاریں دیکھنے والا یہ مشہور فلسطینی کہانی نویس، نقاد،لکھاری اورسیاستدان اسرائیلی ریاست کے قیام سے بارہ برس قبل 8اپریل 1936ء کوفلسطین کے شمالی علاقے عکامیں پیدا ہوئے۔ کنفانی محض بارہ سال کے تھے کہ ارض ِفلسطین پر اسرائیل کے نام کی ایک ناجائز ریاست وجود میں آئی اوریہیںسے فلسطینیوں کاجینا دوبھرہوناشروع ہوا۔ان کے والد فائز عبدالرزاق کنفانی اگرچہ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے،تاہم وہ سیاسی طورپربھی کافی متحرک تھے۔والد کی سیاسی تربیت کانتیجہ تھاکہ غسان کنفانی بعدمیںایک مزاحمتی ادیب
مزید پڑھیے


افغان سویلین ہلاکتیں: کیا حکومتی فورسز بری الذمہ ہیں ؟

هفته 07  ستمبر 2019ء
محمد حسین ہنز ل
افغان قضیے کے بارے میں پچھلے چند برسوں سے میں مسلسل لکھتا آ رہاہوں۔اس قابل ِ رحم ملک میں امن میرا دیرینہ خواب اور وہاں پرخوشحالی ہروقت میری تمنا رہی ہے۔ یوں اس بارے میں لکھنامیںاپنا دینی ،انسانی اور اخلاقی فریضہ سمجھتاہوں۔میرے مضامین گواہ ہیں کہ اس موضوع پرمیں نے جب بھی قلم اٹھایاہے تو امریکہ اور عسکریت پسندوں کو زیادہ ذمہ دارٹھہرایاہے۔ میرا ہر وقت یہ اصرار رہاہے کہ افغان طالبان اس جنگ میں بے گناہ افغانوں کومزید قربانی کے بکرے بنانے کے بجائے خود اَناکی قربانی دے کر بین الافغان مذاکرات میں حصہ لیں اور اس جنگ کے
مزید پڑھیے


رشوت کو حق کیوں سمجھتے ہیں؟

هفته 31  اگست 2019ء
محمد حسین ہنز ل
پہلی دلیل : یہ ملک چونکہ مکمل طور پر اسلامی فلاحی ریاست نہیں ہے لہذا یہاں ہر ناجائز طریقے سے مال بنانا اور بدعنوانی کرنا حرام کے زمرے میں نہیں آتا ۔ دوسری دلیل : یار،قومی خزانے کے بارے میں اتنامحتاط رہنے کی ضرورت نہیںہے ، ویسے بھی کوئی دوسرا طاقتور بندہ اس پر ہاتھ صاف کرے گا،سواس سے بہتر یہ ہے کہ آپ خود یہ کام کرلیں ۔ تیسری دلیل: اس ملک میں قانون صرف کاغذات تک ہے،پوچھنے والا کوئی نہیں ہے بلکہ قانون بنانے والے خود بھی قانون کی گرفت میں نہیں آتے ہیں، لہذا قانون کی دھجیاں
مزید پڑھیے


نیم حکیم اور نیم ملا

جمعرات 29  اگست 2019ء
محمد حسین ہنز ل
ذات انسان ابتدائے آفرینش سے دوحیثیتوں کی حامل رہی ہے ۔ایک جسمانی حیثیت اور دوسرا روحانی ۔جسم کو بھی مرض لاحق ہوسکتاہے اور روح بھی مختلف امراض میں گھر سکتی ہے ۔جسمانی امراض کی مسیحائی ماضی میں حکیم اور آج کل ڈاکٹر حضرات کراتے ہیں جبکہ روحانی امراض کا علاج ان لوگوں کاکام ہوتاہے جو الٰہامی والٰہی علوم کے ماہر ہوتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاشرے میں ان دو مسیحاوں کا کردار ہر دورمیں انتہائی اہم اور ناگزیر رہاہے ۔ اول الذکر مسیحا یعنی حکیم اگر نااہل ہو اور علاج کرانے میں غلطی وکوتاہی
مزید پڑھیے


کشمیریت،انسانیت اور جمہوریت کی نفی

جمعرات 08  اگست 2019ء
محمد حسین ہنز ل
نسلی اعتبار سے ہندوستان کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بھی ہندو تھے اوران کا سیاسی رشتہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی ) سے تھا۔وہ بہت کم عرصے کیلئے دومرتبہ ہندوستان کے وزیراعظم رہے لیکن تیسری مرتبہ انہوں نے پانچ سال کی مدت پوری کردی ۔واجپائی شاعربھی تھے اورسچ یہ ہے کہ ان کاشمارہندوستان کے قد آور رہنماوں میں ہوتاتھا۔کشمیرکا مسئلہ اگرچہ انہوں نے اپنی زندگی میں حل نہیں کیا لیکن ان کے دل میں اس قابل رحم قوم کیلئے درد ضرور تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ کشمیری کے لوگ انسان بھی ہیں ، کشمیری بھی ہیں
مزید پڑھیے