BN

محمد حسین ہنزل



اے خاصہ خاصان رُسل وقت ِ دعاہے


اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسلمان اس وقت تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔دنیا کے دوسری قوموں کی طرح سائنسی ایجادات اور تعلیم کے شعبے میں مہارت تو کُجا ،یہ قوم آج امن کیلئے بھی ترس رہی ہے۔جنوبی ایشیاء میں اگر افغان خطہ پچھلے چار دہائیوں سے مسلسل شورش اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے تو یہ غیروں کے ساتھ اپنوں کا بھی عمل دخل ہے۔ اسی طرح آج اگر مشرق وسطیٰ کا علاقہ میدان جنگ بن چکاہے تو وہاں پر بھی مسلمان ایک دوسرے کو نیچادکھانے میں مصروف ہیں ۔ جس افغانستان کو
پیر 26 نومبر 2018ء

مِسِ خام کو جس نے کندن بنایا

بدھ 21 نومبر 2018ء
محمد حسین ہنز ل
دنیا جہالت کی گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گھری ہوئی تھی ۔عقل اورخِرد کے ہوتے ہوئے انسانیت تباہی کے دہانے پرپہنچ چکی تھی اورروحانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں تھی ۔ بالخصوص دنیائے عرب تو اس تھرڈ کلاس کی سوسائٹی کامنظر پیش کررہی تھی جہاں کمزوروں اور ناداروں کوانسان کے نام سے پکارنا عار اورطاقت سب کچھ سمجھا جاتاتھا۔جب تمام حدود سے تجاوزفخر اور شرف ٹھہرا اور خوئے ابلیسی انسانیت کی طرف منتقل ہونے لگی۔جب اشرف المخلوقات کا حسین لقب بھی انسان کیلئے نامناسب ٹھہراتورب کائنات کی حکیم ذات کو اس بیمار معاشرے اور قابل رحم سماج پر ترس آیا
مزید پڑھیے


پولیس آفیسر طاہر داوڑ کی شہادت اور چند سوالات

هفته 17 نومبر 2018ء
محمد حسین ہنز ل
پولیس آفیسر محمد طاہر داوڑ کے اغواء اور بعد میں مبینہ شہادت نے ایک سوال کی بجائے کئی سوالات کو جنم دیاہے ۔ ایسے سوالات کا تسلی بخش جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے بشرطیکہ وہ ایک بنانا ری پبلکBanana Republic) )نہ ہو۔اور حال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن وامان کے حوالے سے نمایاں خدمات سرانجام دینے والے نڈر پولیس آفیسر محمدطاہر داوڑ کے اغواء اور شہادت سے پیداہونے والے سوالات کو دوٹوک اور تسلی بخش جواب کہنے سے حکومت تاحال کتراتی نظر آتی ہے۔ ایس پی محمد طاہر داوڑ چھبیس اکتوبر کو اس وقت سیف
مزید پڑھیے


مولانا سمیع الحق شہید

جمعرات 08 نومبر 2018ء
محمد حسین ہنز ل
ایک پہچان اُن کی جامعہ دارالعلوم حقانیہ تھی اور دوسری افغان جہاد اور افغان طالبان۔ دنیا مولانا سمیع الحق کو انہی دو حیثیتوں سے جانتی تھی ۔ جامعہ حقانیہ اکوڑہ میں ہزاروں کی تعداد میں طالبعلموں کی کفالت اور انہیں دینی علوم سے آراستہ کرنا مولانا سمیع الحق کی وہ بیش بہا خدمات تھیں جن کی ایک دنیا معترف رہی ہے ۔ جو لوگ مولانا کی اِن خدمات سے صرف نظر کرتے ہیں ، وہ گویا سورج کو ایک انگلی سے چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔نوشہرہ کے قصبے اکوڑہ خٹک میںدارالعلوم ثانی کے نام سے شہرت رکھنے والاتاریخ علمی
مزید پڑھیے


مولانا فضل الرحمن اور عمران خان ۔ مسئلہ کیاہے ؟

جمعرات 01 نومبر 2018ء
محمد حسین ہنز ل
سیاستدانوں کے درمیان سیاسی اختلافات کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ ایسے اختلافات ہر وقت سیاستدانوں کے بیچ ہوتے رہتے ہیں اور شاید یہی سیاست کا حسن بھی ہے۔سیاسی منظرنامے کا رنگ اس وقت بدصورتی اور بدمزگی کا روپ دھار لیتاہے جب یہ حضرات ایک دوسرے سے سیاسی اختلاف کرنے کی بجائے ذاتی انتقام پر اتر آتے ہیں ۔اس انتقام کا بالآخر نتیجہ یہ نکلتاہے کہ یہ حضرات ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اورایک دوسرے کو ننگی گالیوں سے نوازنے سے بھی احتراز نہیں کرتے۔ مولانا فضل الرحمن اور وزیراعظم عمران خان کی سیاست بھی آج کل اس مرحلے میں داخل
مزید پڑھیے




افغانستان اور وار آن ٹیرر

جمعه 19 اکتوبر 2018ء
محمد حسین ہنز ل
امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ اٹھارہ برس پہلے رونما ہوا ۔اس واقعے کے بعد امریکہ نے دہشتگردی کے خلاف ایک جنگ شروع کرنے کی ٹھان لی جس کانام وار آن ٹیرررکھا گیا۔ وار آن ٹیرر کے تحت امریکہ نے ان لوگوں سے نمٹنا تھا جو القاعدہ کی طرح ورلڈ ٹریڈ سنٹرپر حملوں میں براہ راست ملوث تھے یا پھر افغان طالبان کی شکل میں اس تنظیم کے سہولت کار تھے۔ وار آن ٹیرر کے آغاز میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے اعلان کیا تھا کہ امریکی حکومت صرف چند ہفتوں میں دہشتگردوں سے نمٹے گی۔ نائن
مزید پڑھیے


انقلاب لانے کا ایک سستا حل

پیر 15 اکتوبر 2018ء
محمد حسین ہنز ل
کیا ہم نے کبھی سوچاہے کہ ہماری اکثریت انقلاب اور تبدیلی چاہتی ہے۔ہم میں سے جو لوگ کسی مذہبی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں تو ان کا مطمح نظر بھی انقلاب ہوتا ہے۔ جن حضرات کاکسی قوم پرست پارٹی سے تعلق ہو تو ان کے دلوں میں بھی انقلاب اور تبدیلی کی تمنائیں انگڑائیاں لیتی رہتی ہیں۔ہمارے ڈاکٹر ز حضرات بھی انقلاب چاہتے ہیںاور ہمارے اساتذہ ، وکیل ، انجینئر ،مولوی ،پیر وفقیر غرض سبھی انقلاب کی راہ تک رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک انقلاب کو سمجھابھی نہیں ہے ۔ہماری ڈکشنریوں
مزید پڑھیے


حوا کی بیٹی کی بدنصیبی

اتوار 14 اکتوبر 2018ء
محمد حسین ہنز ل
پرانے پاکستان میں حوا کی بیٹی کوان گنت مسائل درپیش تھے۔ کیونکہ اس معصوم ذات کے اوپر گھر کی چاردیواری کے اندر بھی مظالم ڈھائے جاتے تھے اور باہر بھی ۔ غیرت کے نام پر اس کا قتل گناہ سمجھا جاتاتھا نہ ہی چند پیسوں کے عوض اس کی نیلامی برائی کے زمرے میںآتاتھا۔قصورکی زینب کی طر ح اسے اغوا اور ریپ کرنے کے بعدموت کے گھاٹ اتارنابھی معمول کی بات تھی اورڈیرہ اسماعیل خان کی شریفاں بی بی کی صورت میں اس جنس کو برہنہ کرکے گلیوں میں گھمانا بھی ایک معمولی واقعہ تصور ہوتاتھا۔حواکی بیٹی کو ہرکونے میں
مزید پڑھیے


میں فیس بک ہوں

اتوار 16  ستمبر 2018ء
محمد حسین ہنز ل
میرا نام فیس بک ہے جبکہ مجھے سماجی رابطے کی ایک مشہور ویب سائٹ بھی کہا جاتاہے ۔میں 34 سالہ امریکی نوجوان مارک زکر برگ کی ایجاد ہوں ۔ مارک میرا مُحسن ہے کیونکہ مارک ہی کی خداداد صلاحیتوں کی برکت سے آج میرا استعمال دنیا کے کونے کونے میں ہوتاہے ۔ موجودہ دور میں مفید اطلاعات کے پھیلائو، تفریح اور علم کے حصول کے لئے میں ایک موثر ذریعہ بن چکی ہوں۔پل پل بدلتی خبروں کے رَسیا لوگ مجھے آن کرتے ہی دنیا کے ہر کونے میں پیش آنے والی نت نئی خبریں پڑھ اور سن لیتے ہیں۔
مزید پڑھیے


خودکُشی نہیں ، زندگی سے پیار

پیر 10  ستمبر 2018ء
محمد حسین ہنز ل
ا پنی پیاری زندگی کا خود اپنے ہاتھوں خاتمہ کرنا ایک مشکل ترین کام ہے۔بدقسمتی سے یہی مشکل ترین فعل آج کل اتنا آسان بن چکاہے کہ دنیا میںہرسال دس لاکھ کے قریب افراد اپنی زندگی کا خاتمہ اپنے ہاتھوں سے کرلیتے ہیں ۔خودسوزی کرنا،گلے میں پھندا ڈال کر خود کو لٹکانایااپنے سینے پر پستول سے گولی چلاناجیسے المناک واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔دس ستمبر دنیا بھر میںخودکشی کی روک تھام کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتاہے ۔ لفاظی طورپریہ دن ہمارے ہاں بھی منایا جاتاہے اور اس انتہائی فعل کی مذمت کی جاتی ہے لیکن
مزید پڑھیے