BN

محمد حیدر امین


نیا پاکستان انقلابی فیصلوں کا منتظر ہے


وزیراعظم نے ایک روزہ دورہ لاہور کے دوران مہنگائی کا ایک بار پھرسخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔ گندم اور اشیائے ضروریہ کی خریداری کو منصوبہ بندی کے تحت یقینی بنایا جائے تا کہ مہنگائی نہ ہو۔ عوام کے لیے ہونے والی مہنگائی کی وجہ سے مجھے سب سے زیادہ تکلیف محسوس ہوتی ہے۔وزیراعظم کے بار بار نوٹس لینے کے با وجود ملک میں مسلسل ساتویں ہفتے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔یہ وزیر اعظم کا گیارہواں نوٹس تھا، جس کے بعدگزشتہ ایک ہفتے میں چینی، آٹا،مرغی،انڈے
جمعه 23 اکتوبر 2020ء

کیاسب اچھا ہے؟

جمعه 16 اکتوبر 2020ء
محمد حیدر امین
کئی دہائیوں سے پاکستانی معیشت کو ایک طرف قرضوں اور سود کی ادائیگی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ کمر توڑ رہا ہے،دوسری جانب کالے دھن کی معیشت اسے اندر سے کھائے چلی جا رہی ہے۔ماہرین معیشت کے پاس معیشت کو اس سود کے چنگل سے نکالنے کا کوئی حل نہیں ۔73برس میں کئی حکومتیں بدل چکیں بہت سے وزرائے خزانہ اپنی باریاں لگا چکے لیکن نہ تو محنت کشوں کی حالت بہتر ہو ئی نہ ہی ملک سے قرضوں کا بوجھ اتر سکا۔کالے دھن کے معیشت میں سرایت کر جانے کی وجہ سے جہاں معیشت کا کردار
مزید پڑھیے


رکاوٹ کہاں ہے؟

جمعه 09 اکتوبر 2020ء
محمد حیدر امین
کسی بھی ملک کی معاشی بہتری جانچنے کے دو پیمانے ہوتے ہیں‘ لوگوں کی انکم بڑھ جائے یا عام استعمال کی چیزیں سستی ہوں۔وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے یہی کہتے رہے ہیں کہ غریبوں کا معیار زندگی بلند اور غربت ختم کرنی ہے۔ وہ اس سلسلے میں ہمیشہ چین کی مثال دیتے ہیں،چین70کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے نکال چکا ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے وزیر اعظم نے 2سنہری خواب دکھائے۔ پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا دعویٰ ،اس تواتر سے ہوا کہ لوگوں نے عمران خان کو ووٹ دے
مزید پڑھیے


سفر جاری ہے

جمعه 02 اکتوبر 2020ء
محمد حیدر امین
قومی اور بین الاقوامی اقتصادی اشاریوں کے مطابق پاکستان کی معیشت بتدریج بہتری کی جانب رواں دواں ہے لیکن اس کی مکمل بحالی میں ابھی وقت لگے گا۔ حکومت کا پہلا سال تو یہ دیکھنے میں گزر گیا کہ پچھلی حکومتوں نے جو قرضے لیے انہیں واپس کیسے کیا جائے۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا لیکن حکومت نے کسی نہ کسی طرح قرضے واپس بھی کئے اور ملک بھی چلایا لیکن اس دوران معیشت پر برے اثرات مرتب ہوئے۔مہنگائی بڑھی‘ مزید قرضے لئے گئے، یہی وجہ تھی کہ ٹیکس کے جو اہداف رکھے گئے تھے وہ پورے نہ ہو
مزید پڑھیے