Common frontend top

BN

محمد صغیر قمر


نا تمام حسرتوں کی قسم !


ہم کشمیریوں اور کشمیر سے محبت کرنیوالوں کا بھی عجب نصیب ٹھہرا؟ الم نصیبی ہے،غم لامتناعی ہے اور دُکھ بلا کا ہے،پوری زندگی خوش کی تمنا میں جیتے رہے،قلم اور زبان کوحوصلے بڑھانے اور خوش کُن زبان استعمال کرنے پر صرف کر دیا۔ادر ادر گھلتے رہے لیکن کبھی شکوہ زبان پر نہیں آنے دیا۔پاک سر زمین سے عشق گھٹی میں ڈال کر پلایا گیا تھا،دل وجاں کو سوا بھی کچھ ہوتا تو اس مٹی پر نچھاور کرے کہ اس سرزمین نے ہماری لُٹی پِٹی مائوں کو پناہ دی تھی۔پاکستان اہل کشمیر کے لیے ایک ملک نہیں،حرمین کے بعد مقدس سرزمین ہے۔یہ
هفته 04 فروری 2023ء مزید پڑھیے

وقتی اُبال۔جذباتی نعرے

جمعه 27 جنوری 2023ء
محمد صغیر قمر
اس ہجوم نما قوم پر جب بھی کوئی مشکل مرحلہ آتا ہے،ریاست حقوق سلب کرتی ہے یاکوئی آفت آتی ہے،نت نئے نجات کے راستے تلاش کرتی ہے۔اس ملک کا ایک طبقہ پہلے دن سے اس ہجوم نما قوم کی منزل کے راستے میں آن کھڑا ہوا تھا۔استعما ر کے پروردہ ان لوگوں کو اس ملک کا قیام ہی کھٹک رہا تھا۔اس طبقے نے ہمیشہ اپنی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔ نشان منزل کی جستجو میں سرگرداں اس ہجوم کو کب سمجھ آئے گی ؟کب اپنے سامان سفر کے ساتھ منزل کی طرف بڑھیں گے، کب
مزید پڑھیے


اے ہمارے رب!

جمعرات 19 جنوری 2023ء
محمد صغیر قمر
بارالہا!!ہم دل سے اعتراف کرتے ہیں،ہم سے بھول ہوئی۔ ہماری حیثیت کچھ بھی نہیں،تو نے ہمیں ا شرف المخلوقات بنایا،تو چاہتاتو کچھ بھی بنا سکتا تھا۔ہمارے رب ہم سب جانتے ہیں کہ اس کائنات کا تو ہی تنہامالک ومختارہے۔تو جسے چاہے جیسا چاہے بنا سکتا ہے۔تجھے معلوم ہے کہ ہم اپنی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تجھ سے زیادہ علیم و خبیر کوئی نہیں‘ تجھ سے زیادہ ہم سے پیار کرنے والابھی کوئی نہیں‘ تجھ سے زیادہ یا کم ہمیں دینے والا بھی
مزید پڑھیے


بسنت کوٹ کا صوفی

جمعرات 12 جنوری 2023ء
محمد صغیر قمر
آج پھر بارش ہوئی، آسمانوں سے بر ف کے گالے اترے، پہاڑوں نے سفید احرام پہنے اور بسنت کوٹ کے صوفی کی یادیں عودبن کر آئیں۔مدت سے دارالحکومت کا نام ملنے کے باوجود اس کی بدحالی تب بھی ایسی تھی جیسی پون صدی گزرنے کے باوجود آج ہے۔جس صبح کا ذکرہے،وہ برسوں بعد اب بھی پوری طرح یاد ہے۔ ابھی فجرکی اذانیں نہیں ہوئی تھیں .بے دلی کے ساتھ دروازہ کھولا تو سامنے’’ صوفی صاحِب‘‘ کھڑے تھے ،.میں نے آنکھیں ملتے ہوئے سلام کیا،انہوں نے سرجھکا رکھا تھا"وعلیکم السلام"کہتے ہوئے ان کی آواز لرز گئی تھی۔’’خیریت‘‘؟میں نے پوچھا۔آنسوئون کی
مزید پڑھیے


کوئی ہے؟

جمعرات 05 جنوری 2023ء
محمد صغیر قمر
میرے دیس کے دین دار علمائے کرام ‘ مفتیان عظام کہاں ہیں آپ ؟بڑھتے اندھیرے میں روشنی کی کوئی کرن زندہ کرو ‘ اس امت کی کچھ تو رہنمائی کرو، جہاں بہ ظاہر اندھیرا ہے ‘ اسلام کو چاہنے والے خود مذمتی کر رہے ہیں ‘ چہار سو طاغوت کی یلغار ہے اور دنیا میں ہر کہیں اہل اسلام کو رکیدا جا رہا ہے۔اہل اسلام نے جو کیا اس کی بھی سزادی جا رہی ہے اور جو نہیں کیا وہ بھی ان کے گلے کا طوق بنایا جا رہا ہے ۔ امریکا جب چاہتا ہے جیسے چاہتا ہے اسلام کانقشہ
مزید پڑھیے



اپنی قسمت

جمعرات 29 دسمبر 2022ء
محمد صغیر قمر
یہ قوم اپنے زخموں کا مرہم چاہتی ہے ‘مگرکس سے؟ بیری کے درخت پر کبھی آم اگے ہیں بھلا ؟ کبھی ریت کے ٹیلوں سے ہریالی ابھری ہے؟ کبھی اخروٹ کے چھلکے سے رس ٹپکا۔ کارگل کی چوٹیوں پر بکھرے لہو کا خراج کون دے گا؟لال مسجد کے معصوم لہو کا جواب کون دے گا‘ محسن پاکستان کی اسیری میں موت کس کے ذمے ؟ وانا لہو میں نہا یاتو اس کا ذمے دار کون ہے ؟کراچی کے ہزاروں انسانوں کا لہو کس کی گردن پر ہے؟قوم فکر مند ہے کہ ان کا جینا دوبھر کر دیا گیا۔غریب کا چولہا
مزید پڑھیے


کس سے کہوں؟

جمعرات 22 دسمبر 2022ء
محمد صغیر قمر
حضرت عمر ؓ نے عمال کا تقرر فرمایا اور ایک ایک سے عہد لیا۔ ’’ تم میں سے کوئی ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا ‘ چھنا ہوا آٹا نہ کھائے گا ‘ باریک لباس نہ پہنے گا‘ اپنے دروازوں پر دربان نہ بٹھائے گا ‘ حاجت مندوں کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے گا۔‘‘ عمر فاروقؓ امور سلطنت کی مشقت میںجکڑے ایک بار کہیں جا رہے تھے معاً آواز آئی: ’’ اے عمر ؓ! کیا یہ معاہدے تمہیں اﷲ کے حضور نجات سے ہم کنار کردیں گے؟ تمہیں خبر ہو کہ تمہارا عامل عیاض بن غنم باریک لباس زیب تن کرتا
مزید پڑھیے


پہاڑوں سے جپھیاں

جمعرات 15 دسمبر 2022ء
محمد صغیر قمر
مجھے یا د آیا،جون ۱۹۸۴ء کے تپتے ایام تھے۔ ملک پر مارشل لاء کا راج تھا۔ افغانستان میں خون آشام روسی جارحیت عروج پر تھی اور یہ خطہ آگ کے شعلوں میں جل بھن رہا تھا۔ امیر محمد مقبوضہ کشمیر کے شہر راجوری سے ہجرت کے لیے نکلا اور وادی بناہ کے اس پار سے سیز فائرلائن عبور کر کے آزاد کشمیر آ گیا۔جس روز امیر محمد سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔اس وقت اسے مقبوضہ کشمیر سے آزاد خطے میں آئے ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصہ بیت گیا تھا۔اس پورے ایک مہینے میں وہ یہاں’’جاسوسی‘‘ کے جرم کی سزا
مزید پڑھیے


ایک تھا بادشاہ

جمعرات 08 دسمبر 2022ء
محمد صغیر قمر
ایک تھا بادشاہ۔ سارے بادشاہوں کی طرح بہت امیر‘بہت خوب صورت سرخ و سفید.... ملکوں ملکوں گھومتا‘اللہ کی زمین کی سیر کرتا‘ خوب صورتیوں اور دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتا۔ جہاں جاتا وہاں سے خیالات سمیٹ کر لاتا‘پھر اپنے ملک میں تجربے کرتا‘ الغرض بادشاہ اور اس کے عزیز و اقارب بڑے مزے سے زندگی بسر کر رہے تھے۔ ان کے دن عید اور راتیں شب برات تھیں ۔مال ومتاع سے اتنا کہ قیامت تک مفلسی کا کوئی ڈر نہیں تھا۔ اس کے اشارے پر نیچے کی زمین اوپر اور اوپر کی نیچے کر دی جاتی۔ گویا سب
مزید پڑھیے


ڈراوے

جمعرات 01 دسمبر 2022ء
محمد صغیر قمر
رات بھیگ چکی تھی ‘ میں نے لا پرواہی سے کتاب کے ورق الٹے ‘ پڑھتے پڑھتے بور ہونے لگا تھا۔ نیند بھی غائب تھی ۔ معاً ایک صفحے پر نظریں جم گئیں، کہانی کا عنوان تھا ’’دہشت کے پتلے‘‘ اور لمحوں میں یہ کہانی پڑھ ڈالی ۔ کتنی باراپنا بچپن یاد آیا ۔ کتنی بار اﷲ رکھا آنکھوں کے سامنے گھومتا رہا ۔ مدت بعد اس کی یاد آئی ہے وہ اس دنیا میں نہیں اپنے رب کے پاس پہنچ چکا ہے ۔ یہ چالیس برس ادھر کی بات ہے ۔جیسے کل کی بات لگتی ہو۔ ایک روز جو
مزید پڑھیے








اہم خبریں