BN

محمد عامر خاکوانی

تخلیقی سوچ


چار پانچ سال پہلے کی بات ہے، ملتان سے ایک عزیز نے فون کیا، ان کا صاحبزادہ میڈیا سٹڈیز کی طرف آنا چاہتا تھا۔ رشتے میں کزن ہیں،مگر عمر میں خاصے بڑے ہونے کی وجہ سے ہم انہیں اپنے بزرگوں میں سے سمجھتے ہیں۔خیر ان کا بیٹا اپنی صلاحیتوں سے گورنمنٹ کالج، لاہور میں داخل ہوگیا، ملنے آتار ہا۔ مستقبل میں میڈیا میں آنا چاہتا تھا، مشورہ مانگا، جو سمجھ میں آیا اس کی رہنمائی کی۔ ایک بات پر زور دیا کہ کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالو۔جوش میں نوجوان ہامی بھر بیٹھا، ہم نے اسے ایک عدد فہرست
بدھ 19  ستمبر 2018ء

سمجھ سے بالاتر نکتے

اتوار 16  ستمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ہمارے بہت سے دانشوروں، اخبار نویسوں اور تجزیہ کاروں کی کئی باتیں عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ شائد یہ لوگ ایسی معرفت کی زبان میں اظہار کرتے ہیںجنہیں سمجھنا عوام کے بس سے باہر ہے یا پھربعض باتیں ابھی تک ہمارے ان دانشوروںکو بھی سمجھ نہیں آ رہیں۔فریکوئنسی ایک سی نہیں یا دوسرا مسئلہ،کچھ نہ کچھ گڑبڑ بہرحال ضرور ہے۔اس مس کمیونکیشن کی شکایات عام لوگ کر رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے اب پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے طبقات خاصے مختلف ہوچکے۔میڈیا میںکام کرنے والے ایک دوسرے سے دور،مختلف دنیائوں کے باسی ہیں۔باہمی فاصلہ اتنا زیادہ
مزید پڑھیے


پہلا تاثر ابتدائی تاثر

منگل 11  ستمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
عمران خان کی حکومت جیسے تیسے آگے کی طرف کھسکتی چلی جا رہی ہے۔ ان کا کوئی حامی چاہے تو اسے دوڑتی بھاگتی بلکہ کلانچیں بھرتی حکومت بھی قرار دے سکتا ہے۔ دل کی کیا ہے، وہ تو کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ خان صاحب کی گرفت حکومت پر مضبوط ہے اور نہ ہی ان کی ٹیم ابھی تک ردھم میں آ سکی ۔کرکٹ میں ہم نے دیکھا کہ بعض ٹیمیں ردھم میں آتے اتنی دیر لگا دیتی ہیں کہ ٹورنامنٹ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ 2007 ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان آئر لینڈ
مزید پڑھیے


کیا ڈیم بنانے کا یہی ایک طریقہ ہے؟

اتوار 09  ستمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
دو باتیں اب ہر ایک کو سمجھ آ رہی ہیں۔ پہلی یہ کہ پاکستان کو بچانا ہے، اپنے مستقبل کی حفاظت کرنی ہے تو بڑے ڈیم بنانے پڑیں گے۔دوسرا یہ کہ عالمی مالیاتی اداروں سے تعاون نہیں ملنے والا، جو کچھ کرنا ہے، خود ہی کرنا پڑے گا۔ جادو سے پیسے بنائیں یا پھرمختلف طریقوں سے اپنے وسائل بڑھائیں ۔بڑے ڈیمز کی ضرورت اور اہمیت کے حوالے سے ہمارے اہل دانش، ماہرین برسوں بلکہ عشروں سے کہہ رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پنجاب کے بیشتر اخبارنویس اور تجزیہ کاروں کی تان صرف کالا باغ ڈیم بنانے پر
مزید پڑھیے


اخبارنویس سب کچھ جانتے ہیں؟

منگل 04  ستمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
صحافیوں کا ایک حلقہ ایسا ہے جسے معلوم نہیں کس وجہ سے یہ غلط فہمی ہے کہ وہ حکمرانوں سے زیادہ ہوشیار ، ذہین اور زیرک ہیں جبکہ ہمارے حکمران ، خاص کر منتخب سیاستدان تو پرلے درجے کے بے وقوف، ناسمجھ اوراچھے مشیر وں کی پہچان نہیں رکھتے۔اپنی تحریروں ، تجزیوں اور ٹاک شوز میں یہ صحافی، اینکر بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے اور اپنی دانست میں دانائی پر مبنی مشورے دیتے ہیں۔ انہیں یہ یاد نہیں رہتا کہ اگر یہ سیاسی لیڈر اتنے ہی ’’مومے کاکے‘‘ ہوتے تو اپنے مخالفوں کو پچھاڑ، الیکشن جیت کر حکومت میں کیسے
مزید پڑھیے


سمجھ نہیں آ رہی

جمعه 31  اگست 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ہمارے ہاں اکثر یہ ہوتا ہے کہ کوئی خاص جملہ کسی نے بول دیا اور وہ اس قدر مشہور ہوا یا دانستہ طور پرکر دیا گیا کہ پھر ہر جگہ وہی سننے میں آتا ہے۔ ایسے کئی فقرے سیاسی بحثوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فلاں صاحب تو جنرل مشرف کی حکومت میں شامل رہے ہیں۔ یہ یاد رہے کہ جنرل مشرف کی حکومت میں شامل رہنے والا طعنہ صرف تحریک انصاف کے لوگوں کے لئے مختص ہے۔ ایسا کوئی بھی سابق رکن اسمبلی یا لیڈر خواہ وہ جنرل مشرف کے کتنا ہی
مزید پڑھیے


عمران خان کورعایت نہیں مل سکتی

بدھ 29  اگست 2018ء
محمد عامر خاکوانی
عمران خان کی حکومت کے شروع کے دن ہیں۔ پارلیمانی روایت کے مطابق پہلے سو دن یعنی سوا تین ماہ ہنی مون پیریڈ سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ، انگلینڈ جیسے جمہوری ممالک میں ، جہاں پریس بہت طاقتور اور سیاسی روایات جاندار ہیں، وہاں بھی تجزیہ کار ، میڈیا اور اپوزیشن جماعتیں شروع کے تین ماہ سخت تنقید سے گریز کرتے ہیں۔ سیاسی ہنی مون پیریڈ ختم ہوجانے کے بعد یہ رعایت ختم ہوجاتی ہے اور پھر ہر غلطی کا بے رحمی سے احتساب کیا جاتا ہے۔ عمران خان کو حلف اٹھائے ابھی صرف دس دن ہوئے ہیں اور ان پر
مزید پڑھیے


فکشن کی طلسماتی دنیا

منگل 28  اگست 2018ء
محمد عامر خاکوانی
آج کل یہ حال ہوچکا ہے کہ جب کمپیوٹر یا موبائل کے ذریعے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر نظرڈالی جائے تو ایک نیا ہنگامہ، نئی قسم کا طوفان آپ کا منتظر ہوتا ہے۔ آدمی نے بیوی کی آنکھ بچا کر چند منٹ نکالے ہوتے ہیں کہ چلیں اپ ڈیٹ ہوجائیں ، دوستوں میں کیا چل رہا ہے؟ہوش اس وقت آتا ہے جب گھنٹہ گزر جانے پر بیگم کی نوکیلی برمے جیسے تیز نگاہوں سے واسطہ پڑتا ہے، ساتھ ہی دھیمے سروں میں یہ شکوہ کہ کم بخت فیس بک گھر میں بھی جان نہیں چھوڑ رہی۔
مزید پڑھیے


ناولوں کی دنیا

اتوار 26  اگست 2018ء
محمد عامر خاکوانی
سیاسی موضوعات پر مسلسل لکھتے ہوئے یہ خیال آیا کہ کچھ ہٹ کر بھی لکھا جائے۔ ایک اخبارنویس دوست اور لکھاری اقبال خورشید نے فیس بک پر اپنے پسندیدہ ناولوں کی ایک فہرست مرتب کی اور پڑھنے والوں کو مدعو کیا کہ وہ بھی اپنے پسندیدہ ناول بتائیں۔ کچھ وقت میسر تھا، اسی وقت اپنے پسندیدہ ناولوں کی ایک فہرست بنائی اور پھر فیس بک وال پر پوسٹ لگا دی۔ بعد میں کئی نام یاد آئے ، کمنٹس میں بعض دوستوں نے سوالات اٹھائے، بعض ادیبوں کے بارے میں پوچھا کہ انہیں شامل کیوں نہیں کیا گیا؟ان کے جواب
مزید پڑھیے


تاریخ ساز تقریر

منگل 21  اگست 2018ء
محمد عامر خاکوانی
وزیراعظم عمران خان کا قوم سے پہلا خطاب غیرمعمولی، نہایت پراثر اور دل کو چھو لینے والا تھا۔ ایک ایسی تقریر جو کئی عشروں بعد سننے کو ملتی ہے۔ بائیس تیئس سال مجھے صحافت میں ہوگئے، اس سے پہلے کالج یونیورسٹی کے زمانے سے سیاسی تقریریں سنتے آئے ہیں، ہر نئے حکمران کے قوم سے خطاب کو پوری سنجیدگی، دلچسپی اور غور سے سنا، بعد میں اسے جانچنے، پرکھنے کی کوشش بھی کرتے رہے۔ بیشتر اوقات مایوسی ہوئی۔ عمران خان کی تقریر کا درست اندازہ تو چند ماہ بعد ہی ہوگا، مگر دو باتیں اس میں نئی اور
مزید پڑھیے