BN

محمد عامر خاکوانی



تصویر کے مختلف ٹکڑے


تجزیہ کرنے کا بنیادی اصول ہے کہ زیرنظر معاملے کا مختلف پہلوئوں سے جائزہ لیا جائے اور پھر ایک مکمل تصویرپڑھنے، دیکھنے والوں کے سامنے پیش کی جائے۔ہر کوئی جانتا ہے کہ تصویر کے مختلف ٹکڑے ہوتے ہیں، ان میں سے ایک ٹکڑا مسنگ ہو تو تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ ادھورا، نامکمل اور کنفیوژ کر دینے والا تاثر سامنے آئے گا۔یہی حالت سیاسی تجزیوں کی ہے۔ اگر رائے دیتے وقت جان بوجھ کر یا پھر نادانستگی میں تمام فیکٹرز کا جائزہ نہیں لیا جا سکا تو تجزیے کاحق ادا نہیں ہوگا۔ اب تحریک انصاف کی حالیہ حکومت ہی کو
اتوار 20 جنوری 2019ء

گزارا کرنا سیکھ لیں

جمعه 18 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
افواہوں،غلط بیانیوں،گھٹیا سازشی نظریات اورپلانٹیڈ خبروں کا ایک ریلا ہے جو حقائق اور سچ کی فصیلوں سے سر پٹخ پٹخ کر اندر گھسنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد تجزیوں اور طعنے، کوسنے دینے سے کبھی سچ مغلوب ہوا؟ وقتی طور پرچند آنکھیں ضرورچندھیائی جا سکتی ہے، مگر یہ ممکن نہیں کہ زیادہ دیر تک ہر ایک کو بے وقوف بنایا جائے۔ بلبلہ خواہ کسی قدر بڑا ہو، اسے چند لمحوں بعد پھٹنا ہی ہے،سورج نکلنے،دھوپ پڑنے سے گھاس پر گری نمی رخصت ہوجاتی ہے۔یہ قوانین قدرت ہیں۔ کسی کی خواہش یا چاہنے سے تبدیل نہیں
مزید پڑھیے


جماعت اسلامی کیوں ناکام ہو رہی ہے؟

منگل 15 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
جماعت اسلامی کے حوالے سے پچھلے تین چار دنوں میں بہت سے لوگوں سے بات ہوتی رہی۔ سوشل میڈیا کے آنے سے جہاں سماج کے دیگر شعبوں میں تبدیلی آئی، جماعت اسلامی جیسی سخت ڈسپلن والی جماعت پر بھی اس کے اثرات پڑے۔ اب جماعت اسلامی کے اراکین اور ہمدرد حضرات بلا ججھک اپنی رائے سوشل میڈیا پر دے دیتے ہیں، اندرونی حلقے میں تو خیر تنقید چلتی رہتی ہے، مگر اب اس کی لہریں باہر بھی چھلک آتی ہیں۔کراچی، پشاور اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں مقیم بعض جماعتی احباب سے بھی ڈسکشن چلتی رہی۔ ایک بات میں
مزید پڑھیے


جماعت اسلامی کی واپسی

جمعه 11 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
جماعت اسلامی کی جانب سے غیر رسمی انداز میں بتا دیا گیا کہ وہ ایم ایم اے سے الگ ہی کام کرے گی، یہ صرف انتخابی اتحاد تھا اور اس پلیٹ فارم سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی تو اس کے ڈسپلن کے پابند رہیں گے، مگر مجموعی طور پر جماعت اسلامی اپنے فیصلے خود کرے گی اور اپنے انداز میں سیاسی جدوجہد کی جائے گی۔ اسے یو ٹرن کہا جائے یا جماعت اسلامی کی درست ٹریک پر واپسی ، … اپنی فہم کے مطابق آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ میرے نزدیک جماعت اسلامی کا ایم ایم اے میں
مزید پڑھیے


سائنسی تصدیق

منگل 08 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
صاحبو! سائنس کی افادیت پر تو خیر کوئی کلام نہیں، یہ بڑی دلچسپ بھی ہے۔ ایسی ایسی مزے کی تھیوریز اس میں ملتی ہیں جس کا آدمی پہلے تصور بھی نہیں کر رہا ہوتا۔ ہم نے گریجوایشن سائنس (ڈبل میتھ،فزکس)کے ساتھ کر رکھی ہے، اگرچہ اس کے بعد قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر صحافت میں آ دھمکے ۔ سائنس سے بہرحال محبت بھرا یک طرفہ تعلق ہمیشہ رہا۔یعنی خود آگے سائنس نہیں پڑھی، لیکن اگر کوئی اس کے لئے بضد ہو تو ہم اسے روکتے نہیں۔ ابن انشا نے کہا تھا’’سچ اچھا ، پر سچ کے لئے
مزید پڑھیے




نیا صوبہ، فوری طور پر کیا ہوسکتا ہے ؟

جمعه 04 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
کہتے ہیں سیاست دلفریب وعدوں اور پھر انہیں بھول جانے کا نام ہے۔ کم از کم پاکستانی سیاست میں تو ہم نے یہی دیکھا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا سیاست دان نئے وعدوں کی پٹاری لے کر آتا، اس میں سے دل خوش کن سپنے نکال کر عوام کو سناتا اور پھر ووٹ لے کر چلتا بنتا ہے۔ ووٹروں کو وہ پٹاری اگلے الیکشن میں نظرآتی ہے ،جس میں بے وقوف بنانے کے لئے کچھ نیا طلسمی وعدہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے سرائیکیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوتا
مزید پڑھیے


پہلا دن

منگل 01 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
جب یہ سطریں لکھ رہا ہوں، دوہزار اٹھارہ کا آخری سورج ڈوبنے والا ہے۔ زندگی کا ایک اور سال بیت گیا۔یہ کالم آپ سال کے پہلے دن پڑھیں گے۔ 2019ئ، شروع کے چند دن ڈیٹ لکھتے وقت غلطی سے 2018 لکھا جائے گا، پھر نئے سال کے وجود اور اس کی حقیقت پر یقین آ جاتا ہے۔ یہ اور بات کہ بارہ مہینے، باون ہفتے اور تین سو پینسٹھ دن نہایت تیز رفتاری سے گزر جاتے ہیں۔ وقت مٹھی میں قید نہیں رہ سکتا، پھسلتی ریت کی طرح سائیڈسے نکل جاتا ہے، لیکن کبھی تو اسے چھونے کا موقعہ
مزید پڑھیے


کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے ؟

اتوار 30 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ایک اخبارنویس اور کالم لکھنے والے کی حیثیت سے ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ تصویر کے دونوں رخ دیکھے جائیں اور کسی بھی معاملے پر اگرایک سے زائد آرا موجود ہیں تو انہیں ضرور پڑھا، سنا، سمجھا جائے۔ ہر سوچنے، سمجھنے، لکھنے والے کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ مختلف اسباب کی بنیاد پر وہ سوچ بنتی ہے، خاندانی پس منظر، تعلیم، اساتذہ، طبعی میلان،نوجوانی میں ایام کس حلقہ فکر میں گزرے؟ پسندیدہ ادیب، شاعر، مفکر اور ان سے بڑھ کر زندگی میں حاصل ہونے والے تجربات، مشاہدات اور احساسات۔آپ کے والدین کی سیاسی سوچ کیا تھی، یہ فیکٹربڑا
مزید پڑھیے


اب حیرت کیوں نہیں ہوتی؟

جمعه 28 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
چند دن پہلے ایک معروف تجزیہ نگار نے بڑے تاسف سے لکھا کہ اب کسی اہم واقعے پر حیرت نہیں ہوتی ۔ انہوں نے اسے قومی المیہ قرار دیتے ہوئے لکھا،’’ ہم لوگ اداس ہوتے ہیں، خوش ہوتے ہیں، لیکن حیران نہیں ہوتے ۔حیرت اضطراب اور جستجو کو جنم دیتی ہے، حیرت کھو جائے تو جستجو دم توڑ جاتی ہے اور جستجو کی موت بے حسی کا جنم ہے۔‘‘اس تجزیے کے پس منظر میں ایک واقعہ انہوں نے بیان کیا، جس میں ایک صاحب نے میاں نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلہ آنے اور میاں صاحب کے واپس جیل چلے
مزید پڑھیے


محرومی صرف وعدوں سے دور نہیں ہوتی

جمعه 21 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستان میں مختلف حوالوں سے وسائل سے محرومی اور اس حوالے سے لوگوں میں پائی جانے والی فرسٹریشن کی سطح بہت بلند ہے۔ جس کسی سے بات ہو، اس کے پاس ایک ایسی دردناک کہانی ملے گی، جسے سن کر دل دکھ سے پھٹنے لگے۔اخبارنویسوں کا مختلف علاقوں کے قارئین سے رابطہ رہتا ہے، وہ اپنے دکھ ، درد شیئر کرتے رہتے ہیں، اس امید پر کہ شائد کہیں شنوائی ہوجائے۔ ادھر ہمارا وہ حال ہوچکا کہ بقول شاعر ایک روز کا رونا ہو تو رو کے چین آوے ہر روز کے رونے کو کہاں سے جگر آوے سرائیکی وسیب کے
مزید پڑھیے