BN

محمد عامر خاکوانی



دو دھرنے، ایک انجام ؟


مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد میں دھرنے کو بارہ دن ہوگئے، آج تیرھواں روزہے۔ ابتدائی دنوں میں مولانا فضل الرحمن اور ان کے کارکن اسے دھرنا نہیں مارچ کہتے رہے۔ مارچ سے پہلے مولانا نے بھی ایک دو بار اخبارنویسوںکو کہا کہ ہم نے کبھی دھرنا کا لفظ استعمال نہیں کیا، ہم تو صرف آزادی مارچ کرنا چاہ رہے ہیں ، میڈیا ازخود ہی سے دھرنا کہہ رہا ہے۔ اسلام آباد میں جلسہ کے بعد مولانا بھی دھرنے پر مجبور ہوگئے۔ دو ہفتے ہونے کو ہیں یہ دھرنا جاری ہے۔ مولانا کا دھرنا مگر عمران خان کے پانچ
منگل 12 نومبر 2019ء

مولانا بندگلی میں جا چکے ہیں؟

اتوار 10 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن اپنی سیاسی زندگی کے اہم ترین چیلنج سے نبردآزما ہیں۔ ان کی کامیابی ہی سیاسی ساکھ اور عوامی پزیرائی کی ضامن ہوگی ،جبکہ اندازے کی غلطی ، کوئی ایڈونچر انہیں ہیرو سے زیرو بنا سکتا ہے۔ شائد یہی احساس مولاناکے اعصاب پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ وہ ایک گھاگ، تجربہ کار ، گرم سرد چشیدہ سیاستدان ہیں۔ سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں، واپسی کا راستہ کھلا رکھتے اور سیاسی یوٹرن لینے میں عار نہیں سمجھتے ۔ اگرچہ ہرسمجھدار آدمی کی طرح وہ اسے یوٹرن نہیں کہتے اور نہ اس کا دفاع کرنے کی غلطی کرتے
مزید پڑھیے


مولانا کا پلان بی کہاں ہے؟

جمعه 08 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن کے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاسی مذاکرات آنیاں جانیاں ہی ہوتے ہیں۔مختلف تجاویز پیش کی جاتی ہیں، پھر ان پر اعتراض، جواب در جواب ، اس دوران اعلیٰ سطح سے مشاورت ، پھر نئے ترمیمی نکات، پھر سے بحث۔ یہ سب چلتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں مذاکرات اسی کو کہتے ہیں۔ معروف امریکی صحافی باب وڈورڈ نے اپنی کتاب میں سابق پاکستانی سفیر اور متنازع صحافی کا ایک واقعہ سنایا۔افغانستان کے حوالے سے امریکی جیت چاہتے تھے، پاکستان عدم تعاون سے وہ ناخوش تھے۔امریکی پاکستان پر ڈو مور
مزید پڑھیے


ڈراپ سین ؟

منگل 05 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
کیا مولانا فضل الرحمن کے مارچ/ دھرنے کا ڈراپ سین ہونے جا رہا ہے۔ اتوار کی شام مولانا خاصی تاخیر سے پشاور موڑ جلسہ گاہ میں پہنچے۔وہ مائیک پر آئے تو اگرچہ نیوز چینلز پر خبر چل چکی تھی کہ مولانا کی جماعت نے اے پی سی بلوانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ہر ایک نظریں ان کی تقریر پر تھیں۔مولانا فضل الرحمن کی تقریر ان کے مخصوص انداز کا عمدہ نمونہ تھی، مگرخاصے عرصے بعد ان کی گفتگو بے ربط محسوس ہوئی۔ ذہنی طور پر بھی وہ الجھے ہوئے تھے ،ایک دو بار ڈی ٹریک بھی ہوئے ، مگر
مزید پڑھیے


مولانا کیا کر سکتے ہیں؟

اتوار 03 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کا اہم ترین رائونڈ اب چل رہا ہے۔ اسی پر ان کی کامیابی، ناکامی کا دارومدار ہے۔ حکومت کی کامیابی اور ناکامی بھی اسی سے منسلک ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مولانا کی کامیابی شائد حکومت کی ناکامی ہوگی اور حکومت کی کامیابی مولانا کے لئے پریشان کن نتیجہ لا سکتی ہے۔ ایک تیسری وِن وِن صورتحال(win win Situation)بھی ہوسکتی ہے، جس میں دونوں فریقوںکا بھرم رہ جائے اور کسی کے حصے میں شکست کا داغ نہ آئے۔ افسوس کہ پاکستانی سیاست میں ایسی نوبت کم ہی آتی ہے۔ ہرفریق دوسرے کو
مزید پڑھیے




مولانا کا مارچ، چند تاثرات

جمعه 01 نومبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانافضل الرحمن کا آزادی مارچ اپنے اہم ترین حصے میں داخل ہوگیا۔ سندھ اور پنجاب سے ہوتے ہوئے وہ اسلام آباد پہنچ گئے ۔ ان سطروں کے پڑھے جانے تک ان کے اسلام آباد میں قیام کے حوالے سے اپ ڈیٹس آپ کے سامنے آ چکی ہوں گی۔ میں صرف ان کے اس مارچ کے حوالے سے اپنے چند تاثرات بیان کرنا چاہوں گا۔مولانانے اب تک کیا حاصل کیا، کیا کھویا؟ پہلے مثبت نکات پر بات کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے اس مارچ کے ذریعے سیاسی طور پر خاصا کچھ حاصل کیا ہے۔ شارٹ
مزید پڑھیے


احمد جاوید سے ایک خصوصی مکالمہ

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں، اس کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ نئی بات، فکر انگیز جملہ سننے، پڑھنے کو نہیں ملتا۔ فکری سطح پر ایسا خوفناک قسم کا جمود طاری ہے کہ اب تو اسے توڑنا بھی محال لگنے لگا۔ تازہ ہوا کا جھونکا تک نہیں آتا۔ایسے میں اگر کہیں پر فکرافروز گفتگو پڑھنے کو ملے تو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کی خرابیاں بہت سی، مگر اس سے چند ایک ویب سائٹس ایسی پھوٹیں جنہوں نے بہت سے نئے لکھنے والوں کو پلیٹ فارم دیا، ان کی تربیت، تہذیب کی جبکہ کئی پرانے لکھنے والوں
مزید پڑھیے


بیماری پر سیاست نہ کریں

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
میاں نواز شریف کی شدید علالت اور ہسپتال میں ہنگامی صورتحال کی خبر سے دھچکا سا لگا۔میاں صاحب ہماری سیاست کا بہت اہم مرکزی کردار ہیں، ان سے اختلاف، اتفاق اپنی جگہ، مگر ان کے نقوش بڑے گہرے ہیں اور سیاسی موقف سے اختلاف کرنے والے بھی نواز شریف کی شخصیت، سیاست میں ان کے اثرات اور اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے۔میاں صاحب کے حوالے سے اچانک ایسی تشویشناک خبریں چلنا ہر ایک کے لئے پریشانی کا باعث بنیں۔ یہ موضوع خاصا نازک اور مشکل ہے، کھل کر کہنا آسان نہیں ۔ کسی بھی حوالے سے کچھ کہا جائے
مزید پڑھیے


معافی کون مانگے ؟

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
آج کل ہر جگہ سیاسی بحثیں اور مکالمہ چل رہا ہے۔ کوشش کرتا ہوں کہ اتوار والا کالم غیر سیاسی لکھا جائے، مگر جب چاروں طرف دھواں دھار تقریریں، بیانیہ چل رہا ہو، تب آنکھیں بند کر کے کیسے لکھا جا سکتا ہے؟ اس لئے اس اتوار کی تو معذرت۔ آئندہ سے کوشش ہوگی کہ سنڈے والا’’ زنگار‘‘ سیاست سے ہٹ کرہلکا پھلکا، کتابوں یا زندگی کے مختلف پہلوئوں پر لکھا جائے۔ عمران خان کی حکومت کو ایک سال سے زائد عرصہ ہوگیا۔ خان صاحب کی کارکردگی سب کے سامنے ہیں۔ان کے پرجوش حامیوں کے پاس بھی کچھ زیادہ
مزید پڑھیے


یہ پوزیشن لینے کا وقت ہے

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستانی سیاست میں پوزیشنیں بہت پہلے سے لی جاچکی ہیں۔ فریقین اپنے اپنے کیمپو ں میں باقاعدہ بنکر بنا کر مورچہ زن ہیں۔ تحریک انصاف والوں کا اپنا کیمپ ہے، نوجوانوں سے گھرا ہوا، غصیلے، پرجوش تیرانداز جس کی باہر کی جانب پہلی صف میں موجود ہیں، نیزے بازوں کی بھی کمی نہیں۔ مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی ، جے یوآئی، اے این پی، پختون خوا میپ ،نیشنل پارٹی اور دیگرچھوٹے دھڑوں کے اپنے اپنے کیمپ ہیں، معروضی حالات کے مطابق اس کی بیرونی دیوار گرتی، بنتی رہتی ہے۔ بہرحال ان کا سیاسی موقف اور سٹینڈ بہت واضح ہے۔ عمران
مزید پڑھیے