BN

محمد عامر خاکوانی

الیکٹ ایبلز سے کیسے جان چھڑائی جا سکتی ہے؟

بدھ 18 جولائی 2018ء
الیکشن کا مرحلہ خاصا آگے جا چکا ہے، اگرچہ مختلف وجوہات کی بنا پر انتخابی مہم میں روایتی گرماگرمی نہیں پیدا ہوئی اور میری زندگی کے یہ سب سے پھیکے اور بے رنگ الیکشن لگ رہے ہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا، اگلے بدھ کو ان شااللہ پاکستانی عوام ووٹ ڈال کر اپنے نئے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہوں گے۔ ایسے میں اصل بحث اب ووٹوں اور الیکشن ٹرینڈز کی ہونی چاہیے کہ کہاں کون جیت رہا ہے اوراس کی وجوہات کیا ہیں؟پارٹیوں کے ٹکٹ دینے کا ایشو اب
مزید پڑھیے


کون طلوع ہوا، کون غروب، فیصلہ ابھی ہونا ہے

منگل 17 جولائی 2018ء
میاں نواز شریف مع اپنی صاحبزادی مریم نواز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل پہنچ چکے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنا عرصہ وہ اسیر رہیں گے ؟ان کے وکلا احتساب عدالت کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کررہے ہیں، اگر اعلیٰ عدالتوںکا فیصلہ اس کی تائید میں آیا توپھر خاصے عرصے کے لئے نواز شریف صاحب کا خاندان مشکلات کا شکار رہے گا۔ بظاہر بڑے میاں صاحب کیلئے سیاسی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ جیل میں رہ کر پارٹی پر گرفت مضبوط رکھ پانا آسان نہیں۔ ان کے جیل جانے کے حوالے سے دو بیانیہ سامنے آئے
مزید پڑھیے


سانحہ مستونگ

اتوار 15 جولائی 2018ء
بعض مناظر اور تصاویر دل میں ایسی ترازو ہوجاتی ہیں کہ برسوں بعد بھی ان کا لگایا زخم مندمل نہیں ہوپاتا۔بھولی بسری یادوں اورزندگی کے پرانے واقعات کویاد کرنااصطلاح میں ناسٹلجیا کہلاتا ہے۔اپنے ناسٹلجیا کے اس دکھی، نہ بھول سکنے والے حصے کو تازہ کروں تو کئی تصاویر لاشعور ، تحت الشعور سے اچھل کر ذہن میں آ جاتی ہیں۔ زلزلے کے دلگداز کہانیاں یاد آتی ہیں جس نے آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے کئی علاقوں کو تہہ وبالا کر دیا تھا۔ زلزلے کے چند دن بعد ان علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لینے گیا
مزید پڑھیے


کیا سول بالادستی کی جنگ ایسے لڑی جاتی ہے؟

جمعه 13 جولائی 2018ء
میاں نواز شریف کی وطن واپسی کی تاریخ سر پر آن پہنچی، یہ کالم جمعرات کی سہہ پہر کو لکھا گیا اور اس وقت تک میاں صاحب کی اپنی صاحبزادی اور کچھ ساتھیوں کے ہمراہ جمعہ کی شام لاہور آمد یقینی سمجھی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن اپنے لیڈر کی واپسی کو گلوریفائی کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیںایسا ہی کرتی ہیں۔ہم نے اختلاف رائے برداشت کرنے اور شخصیت پرستی سے ہٹ کر نظریاتی بنیاد پر سیاست کی طرح ہی نہیں ڈالی۔ پیپلزپارٹی میں ایسے ’’شیر جوان‘‘ آج بھی
مزید پڑھیے


فیصلہ تاریخ ہی کو کرنے دیں

منگل 10 جولائی 2018ء
تاریخ اپنا فیصلہ لازمی سناتی ہے، مسئلہ ان جذباتی لوگوں کا ہے جو اتنا انتظار نہیں کر پاتے۔ پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں ہم لوگ نظریات سے زیادہ شخصیات سے وابستہ رہتے اور گاہے اس پر فخر کرتے ہیں۔ہر ا یک کا اپنا ہیرو اور ولن ہے، ان کے لئے تاریخ میںمقامات بھی اس نے ازخود طے کر رکھے ہیں۔ہیرو ظاہر ہے سنہری الفاظ سے سجے جگمگاتے سنگھاسن پر براجمان ہوگا اور ولن کے مقدر میں ذلت کی اتھاہ گہرائیا ں ہی ہوں گی۔ تاریخ کا فیصلہ ذاتی خواہشات، پسند، ناپسند سے ماورا ہوتا ہے۔تاریخ کا
مزید پڑھیے


اور کس فیصلے کی توقع تھی

اتوار 08 جولائی 2018ء
میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں فیصلہ آنے سے اس عمل کا ایک منطقی، فطری دائرہ مکمل ہوگیا، جس کا آغاز سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت سے شروع ہوا تھا۔ان لوگوں کو ’’داد ‘‘ دینی چاہیے، جنہیں نواز شریف صاحب کے خلاف فیصلے پر حیرت ہوئی۔بھلے لوگو، یہ تو ہونا ہی تھا، دیوار پر لکھا تھا۔ قانون سے معمولی سا تعلق رکھنے والا بھی سمجھ چکا تھا کہ اگر کوئی ڈیل نہ ہوئی اور آزادانہ فیصلہ کرنے دیا گیا تو ایسا ہی کچھ سامنے آئے گا۔ میاں
مزید پڑھیے


دو راہا

جمعه 06 جولائی 2018ء
آج ، جمعہ کے دن کا اہم ترین سوال یہی ہے کہ نیب ریفرنسز میں احتساب عدالت سے کیا فیصلہ آ رہا ہے؟ کیا میاں نواز شریف اور ان کی اولاد ،مع داماد کیپٹن صفدر ، سب کو سزائیں ہوجائیں گی یا ان میں سے کچھ کے خلاف سزا اور بعض کے خلاف نرم فیصلہ آئے گا؟اخبار صبح سویرے گھروں میں پہنچ جاتا ہے، ویب سائٹ پر اپ لوڈ البتہ چند گھنٹوں بعد ہوتا ہے، امکان یہی ہے کہ اخبار اور یہ کالم پڑھ لینے کے کہیں بعد ہی فیصلہ سامنے آئے گا۔عدالتی فیصلوں کے بارے میں پیش گوئی
مزید پڑھیے


سیاسی اون کا الجھا گولہ

منگل 03 جولائی 2018ء
آج کل کی نئی نسل کے مشاہدے میں یہ چیزیں نہیں آ سکیں، مگر ہم نے اپنے بچپن اور لڑکپن میں والدہ محترمہ اور دیگر بزرگ خواتین کو بچوں کے لئے سوئیٹر وغیرہ بنتے دیکھا۔ اس زمانے میں ریڈی میڈ گارمنٹس زیادہ عام نہیں تھے۔نوزائیدہ اور ننھے بچو ں کے لئے موزے، سوئیٹر وغیرہ بنانے کا رواج آج بھی کسی حد تک ہے، مگر بڑے لڑکوں اور مردوں کے لئے گھر میں سوئیٹر کوئی نہیں بناتا اور نہ ہی اون کے گولے عام نظر آتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں سردیوں کی دھوپ سینکتے ہوئے خواتین اکثر ہاتھ میں سلائیاں پکڑے
مزید پڑھیے


جماعتوں کی اندرونی لڑائیاں

اتوار 01 جولائی 2018ء
انتخابات میں مشکل سے چوبیس پچیس دن رہ گئے، اس میں بھی انتخابی مہم دو دن پہلے ختم ہوجاتی ہے، یعنی سیاسی جماعتوں کے پاس کئی سو نشستوں پر مشتمل عام انتخابات کے لئے مشکل سے تین ہفتے ہی رہ گئے ہیں ۔ انتخابی مہم مگر نہایت ٹھنڈی ٹھار چل رہی ہے، جلسوں کا سلسلہ شروع تو ہوگیا، مگر ابھی رنگ نہیں جم پایا۔ سیاسی قائدین ابھی تک ٹکٹوں کے مسائل اور ان کے آفٹر شاکس سے نہیں نکل پائے۔ عمران خان چونکہ سیاستدانوں والی روایتی مصلحت پسندی اور ہوشیاری کے حامل نہیں، اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے وہ پھٹ
مزید پڑھیے


کیاطیب اردوان کے ماڈل کو پاکستان میں دہرایا جا سکتا ہے

جمعه 29 جون 2018ء
ترکی میں طیب اردوان کی شاندار کامیابی کے بعد دنیا بھر میں ان کی شخصیت ، سیاسی ماڈل اور وژن کے حوالے سے گفتگو ہو رہی ہے۔ مغربی میڈیا میں انہیں زیادہ پسند نہیں کیا جاتا ، حالیہ الیکشن میں ان کے خلاف بھرپور مہم چلائی گئی۔ ممتاز امریکی اور یورپی اخبارات وجرائد نے طیب اردوان کے خلاف بہت سے آرٹیکل شائع کئے اور ان کے مدمقابل اپوزیشن لیڈر محرم انجے سے توقعات وابستہ کی گئیں۔ انتخابی نتائج نے ان سب کو بری طرح مایوس کیا ۔ یورپ اور امریکہ ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس انداز میں
مزید پڑھیے