BN

محمد عامر خاکوانی


نوجوان صحافیوں کو کیا کرنا چاہیے؟


ونود مہتا نامور بھارتی صحافی اور مشہور میگزین آئوٹ لک کے بانی ایڈیٹر تھے۔ ان کی خودنوشت ’’لکھنو بوائے ‘‘نے بڑی پزیرائی حاصل کی۔ ونود مہتاکا شمار دلیر، بااصول اورڈٹ جانے والے ایڈیٹروں میں کیا جاتا ہے۔ اپنے چالیس سالہ صحافتی تجربے کی روشنی میں انہوں نے نوجوان صحافیوں کے لئے چند مشورے تحریر کئے ۔ ونود مہتا سوال اٹھاتے ہیں: ’’کیا صحافی کو انقلابی ہونا چاہیے؟ ونود کے خیال میں یہ خیال رومانوی ہونے کے باوجود غیر عملی ہے۔ آپ کسی بڑے کاز کے لئے کام کرنے والے انقلابی ہیں یا کسی خاص ایجنڈے کے بغیر انقلابی
جمعه 18 جون 2021ء مزید پڑھیے

نوجوان صحافیوں کے لئے ’’لکھنو بوائے‘‘ کے مشورے

بدھ 16 جون 2021ء
محمد عامر خاکوانی
کتابیں پڑھنا ہمیشہ سے پسند رہا ہے، مگر اب دلچسپی مزیدبڑھ گئی ہے کہ تقریباً ہر روز یہ احساس ہوتاہے کہ بہت سا وقت فضول، غیر اہم، بے کار چیزوں پر ضائع ہوگیا ۔ کتاب واحد چیز ہے، جس پر صرف کیا وقت ضیاع کا احساس نہیں دلاتا۔ غیر دلچسپ اور کمزور کتاب بھی کچھ نہ کچھ سکھا ہی جاتی ہے۔ کچھ نہیں تو اتنا سبق مل جاتا ہے کہ ایسی کتابوں سے آئندہ کس طرح محفوظ رہا جائے؟ آج کل مشہور بھارتی صحافی اور ایڈیٹر ونود مہتا کی کتاب’’ لکھنو بوائے‘‘ پڑھ رہا ہوں۔ونود مہتا جدید بھارتی صحافتی تاریخ
مزید پڑھیے


دہکتا جون

جمعه 11 جون 2021ء
محمد عامر خاکوانی
موسموں کی شدت انسانی زندگی کا حصہ ہے اور اسے برداشت کرنا چاہیے ۔ ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، یہاں شدیدسردی سے تو کبھی کبھار ہی واسطہ پڑتا ہے، مگر شدید گرمی ہر ایک کو بھگتنا پڑتی ہے۔ ویسے صوفی لوگ تو بدلتے موسم سے بے نیاز رہتے ہیں، وہ شکوہ کرتے ہیں نہ شکایت کو پسند کرتے ہیں۔ قبلہ سرفراز شاہ صاحب بتایا کرتے ہیں کہ ایک بار وہ اپنے مرشد جناب یعقوب شاہ صاحب کے پاس بیٹھے تھے ، ایسے ہی بات برائے بات انہوں نے گرم موسم کا ذکر کیا۔ یعقوب شاہ صاحب یہ سن کر
مزید پڑھیے


معصوم بچوں کو دوزخ میں نہ دھکیلیں

بدھ 09 جون 2021ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا مودودی کا مشہور جملہ ہے ، غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں۔ درست بات ہے، ایک غلطی دوسری کو جنم دیتی ہے اور اس سے تیسری غلطی پھوٹتی ہے۔ اسی لئے سیانوں نے یہ جملہ تخلیق کیا کہ غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔ بھئی ایک غلطی پہلے سے بچے دربچے پیدا کئے جارہی ہے، اگر اسی غلطی کو دہرائیں گے تو پھر ہر طرف چھوٹی بڑی غلطیاں ہی نظر آئیں گی۔ خیر کسی مورخ نے جو لگتا ہے عسکریات کے لئے کچھ نرم گوشہ رکھتا تھا ،اس نے پاکستانی تاریخ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ڈکٹیٹر اپنے سے پہلے
مزید پڑھیے


ملالہ یوسف زئی کی وہ باتیں جو شور میں دب گئیں

هفته 05 جون 2021ء
محمد عامر خاکوانی
ملالہ یوسف زئی کے فیش میگزین ووگ کو دئیے گئے انٹرویو کو یہ کالم لکھنے سے پہلے دوسری بارتفصیلی اور تیسری بار طائرانہ انداز میں پڑھا تو اندازہ ہوا کہ ملالہ کے ایک جملے نے اس انٹرویو کی کئی باتیں اوجھل کر دیں۔ ووگ میں چھپنے والا انٹرویودلچسپ اور خاصا طویل ہے، برطانوی صحافی نے عمدگی سے ملالہ کی زندگی کے کئی پہلو سامنے لائے، خاص کر آکسفورڈ میں تعلیم کا تجربہ اور مستقبل میں کیا کرنا چاہتی ہے ۔ ملالہ نے اپنے مستقبل کے حوالے سے ایک دلچسپ بات بتائی کہ اس نے سال میں چوراسی 84))کتابیں پڑھنے کا
مزید پڑھیے



ملالہ یوسف زئی کا ’’ ووگ‘‘ کو انٹرویو

جمعه 04 جون 2021ء
محمد عامر خاکوانی
نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی چند سال پہلے آنے والی بائیو گرافی ’’آئی ایم ملالہ ‘‘ نے ہلچل مچائی تھی، اس پر بہت کچھ لکھا گیا۔ تنقید میں زیادہ اور توصیف میں قدرے کم۔ بدقسمتی سے زیادہ تر نے کتاب پڑھے بغیر صرف میڈیا میں آنے والے اس کے اقتباسات پڑھ کر لکھا ۔ یوں کتاب کی تنقید اور تعریف میں لکھے گئے مضامین ازخود یک رخے ہوگئے۔ ہم اردو میڈیم لکھنے والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اردو کتابوں میں تو چلو کچھ دال دلیہ کر لیتے ہیں،انگریزی کتابیں پڑھنے کی رفتار کوشش کے باوجود زیادہ تیز
مزید پڑھیے


کیا شہباز شریف کامیاب ہو پائیں گے؟

بدھ 02 جون 2021ء
محمد عامر خاکوانی
مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ایک بار پھر سے فعال ہوئے ہیں۔ ان کے ملک سے باہر جانے کی کوشش تو تحریک انصاف کی حکومت نے بھرپور کوشش کر کے ناکام بنا دی یا کم از کم التوا میں ضرورڈال دی ،مگر شہباز شریف کی تھیوری یا ڈاکٹرائن نے بہت سوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ سیاسی مبصرین اس پر سوچ رہے ہیں کہ کیا شہباز شریف اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا پائیں گے یا ایک بار پھر بڑے بھائی کے آگے ان کی کچھ نہیں چل سکے گی۔ ایجنڈے کو چھپانے
مزید پڑھیے


شمس تبریز، رومی اور درویش

اتوار 30 مئی 2021ء
محمد عامر خاکوانی
مولاناجلال الدین رومی تصوف کی دنیا کی عظیم شخصیت ہیں اور اتنے ہی بڑے شاعر بھی۔سکول، کالج کے زمانے سے مولانا روم اور حضرت شمس تبریز کی شخصیت کے حوالے سے ایک انوکھی سی کشش محسوس ہوتی رہی ہے۔والد محترم نے شائد یہ واقعہ پہلی بار سنایا تھا، بعد میں بہت بار مختلف جرائد میں اسے پڑھا۔ کہا جاتا ہے کہ جناب شمس تبریز پہلی بار مولانا رومی کے مکتب میں ان سے ملے۔گرمی کا موسم تھا، مولانا اس وقت خانقاہ کے صحن میں تالاب کے قریب بیٹھے کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے، ان کے گرد بلند پایہ
مزید پڑھیے


شکر گزاری

جمعه 28 مئی 2021ء
محمد عامر خاکوانی
اشفاق احمداپنے آپ کو بابا نہیں کہنے دیتے تھے۔ان میں بابوں والے تمام عناصر موجود تھے۔ ان کی کہی باتیں، لکھی تحریریں آج بھی پہلے جیسی تروتازہ ہیں۔ ان کاٹی وی پروگرام زاویہ بہت مقبول ہوا تھا۔ آج کے نجی چینلز کے زمانے میں ہوتے تو شائد زاویہ کا رنگ ڈھنگ اور سحر ہی اور ہوتا۔ پی ٹی وی کے عام سے ڈیزائن والے سیٹ میں بھی اشفاق صاحب نے اپنی گفتگو کا وہ فسوں جگایا کہ آج تک لوگ سرشار ہیں۔ زایہ پروگرام کتابی شکل میں شائع ہو کر پزیرائی حاصل کر چکا ہے، اس کے اقتباسات اکثر
مزید پڑھیے


جن کازمانہ چلا گیا

منگل 25 مئی 2021ء
محمد عامر خاکوانی
یہ پی ٹی وی ایوارڈ شو تھا یا ویسے ہی پی ٹی وی کی کوئی تقریب تھی ، گلوکار عالمگیر نے گانا گایا،’’میں نے تمہاری گاگر سے کبھی پانی پیا تھا ، پیاسا تھا میں یاد کرو، سن لوذرا گوری ،تم شرما کے تھوڑا سا بل کھائی تھیں، وہ دن یاد کرو،گوری تم وہ دن یاد کرو،…۔‘‘عالمگیر کا یہ گیت سپر ہٹ ثابت ہوا۔ اگلے دن ہر طرف سنا جانے لگا۔ عالمگیر کا ایک اور گانا اس سے پہلے بہت مشہور ہوچکا تھا،’’دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سماں…۔‘‘یہ نغمہ میگا سپر ہٹ تھا،اس زمانے میں لاکھوں نوجوانوں نے
مزید پڑھیے








اہم خبریں