BN

محمد عامر خاکوانی


کابل کہانی: حکمت یار سے ملاقات


کتابوں سے آراستہ ایک ہال میں ہم آٹھ دس صحافی بیٹھے افغانستان کے ممتاز گوریلا کمانڈر اور رہنما گلبدین حکمت یارکا انتظار کر رہے تھے۔ کابل کے جس علاقہ میں ان کا وسیع وعریض مگر سادہ گھر واقع ہے، وہاں پہنچنے سے پہلے چوک اور دیواروں پر حکمت یار کی تصویریں اور تعریف آمیز فقرے لکھے نظر آنے لگے۔کابل میں یہ بات نوٹ کی کہ وال چاکنگ کابڑے منظم اور بھرپور انداز میںاستعمال کیا جاتا ہے۔ شائد ہی کسی ملک میں ایسا دیکھا ہو کہ حکومت اور انتظامیہ اپنے مختلف اعلانات اور پبلک سروس میسجز کے لئے اتنے زور شور
هفته 24  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

کابل کہانی : گلبدین حکمت یار

جمعه 23  ستمبر 2022ء
محمد عامر خاکوانی
کابل میں حزب اسلامی کے لیڈر اور نامور کمانڈر گلبدین حکمت یار سے ملاقات کا پتہ چلا تو اشتیاق بڑھ گیا ۔ گلبدین حکمت یار کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا، کئی واقعات ان سے منسوب ہیں۔ سوویت یونین کے خلاف افغان تحریک مزاحمت میں حکمت یار بہت اہم اور نمایاں کمانڈر تھے۔ مجاہدین کا سات جماعتی اتحاد مشترکہ جدوجہد کر رہا تھا۔ ان میں سے چار جماعتیں زیادہ نمایاں تھیں، حزب اسلامی یونس خالص گروپ، حزب اسلامی حکمت یار گروپ، پروفیسر برہان الدین ربانی کی جمعیت اسلامی( تاجک کمانڈر احمد شاہ مسعود ربانی کی پارٹی کا حصہ تھے)
مزید پڑھیے


کابل کہانی ـ :ماحول، ثقافت ،عام زندگی

جمعرات 22  ستمبر 2022ء
محمد عامر خاکوانی
کابل مجموعی طور پر ایک خوبصورت شہر ہے، پہاڑوں میں بسا تاریخی، کلچرل۔، صدیوں کے ورثے اور روایتوں کا امین۔ کابل اگرچہ زیادہ بلند نہیں ، مگر یہاں موسم نسبتاً بہتر ہے،موسم گرما میں تپش رہتی ہے، مگر شام خنک ہوجاتی ، سردیوں میں برف باری عام ہے۔ کابل کے آس پاس کے پہاڑ خشک اور سنگلاخ ہیں، شہر سے باہر نکلیں توخالص دیہاتی علاقہ کا نقشہ نظر آتا ہے، میلوں دور تک کشادگی ۔ کابل سحر خیز شہر ہے، لوگ صبح جلدی اٹھ جاتے ہیں اور آٹھ نو بجے دفاتروغیرہ میں میٹنگز، سمینار بھی شروع ہوجاتے ہیں۔ ہم نے غرجستان
مزید پڑھیے


کابل کہانی : تین تنقیدی سوال

بدھ 21  ستمبر 2022ء
محمد عامر خاکوانی
افغانستان کے حوالے سے ہر ایک کے ذہن میں پہلاسوال یہی آتا ہے کہ کیا طالبان افغانستان میں مستحکم حکومت قائم کر چکے ہیں، ان کی گورننس کیسی ہے؟ اس پر اپنے پچھلے دونوں کالموں میں بات ہوئی۔ سروائیول کی جنگ کے بعد اگلے تین سوال بہت اہم اور بنیادی ہونے کے ساتھ تنقیدی نوعیت کے بھی ہیں۔ افغان طالبان پر ان تینوں حوالوں سے خاصی تنقید ہوتی ہے۔طالبان ترجمان کوشش کرتے ہیں کہ اس حوالے سے اپنا جامع بیانیہ دیں، مگر اس پرحرف زنی کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ پہلا سوال کثیر القومی حکومت یعنی Inclusive Govt کا
مزید پڑھیے


کابل کہانی : کون کہاں کھڑا ہے ؟

منگل 20  ستمبر 2022ء
محمد عامر خاکوانی
افغانستان کے حوالے سے سب سے اہم سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ وہاں طالبان کی پوزیشن کے بارے میں ہے۔ افغانستان میں قائم طالبان حکومت کس قدر مضبوط اور مستحکم ہے؟ اسے کیا خطرات لاحق ہیں؟ کیا طالبان مخالف اتحاد حکومت گرا کر خود قابض ہوسکتا ہے؟ طالبان کے ہمسایہ ممالک کا کیا رویہ ہے؟کیا طالبان کثیر القومی یا Inclusive حکومت بنائیں گے ؟طالبان کے اندر کس قدر اختلافات یا تنازعات موجود ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے کابل میں قیام کے دوران ان سوالات کے جواب پانے کی ہرممکن کوشش کی۔ طالبان رہنمائوں سے انٹرویوز، غیر رسمی گفتگو،
مزید پڑھیے



کابل کہانی: کل اور آج میں فرق

اتوار 18  ستمبر 2022ء
محمد عامر خاکوانی
کابل کا میرا تیسرا سفر تھا، پچھلی دونوں بار حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ادوار میں جانا ہوا۔ تب اور آج کے کابل میں بہت نمایاں فرق دیکھنے کو ملا۔ سب سے بڑا فرق تو سکیورٹی اور امن وامان کی صورتحال کا ہے ۔ چند سال سال افغانستان گئے تو کابل ائیرپورٹ پر غیر معمولی سکیورٹی کا سامنا کرنا پڑا۔ انتہائی سخت چیکنگ اور وہ بھی کئی جگہوں پر ہوئی، بیلٹ اور جوتے تک اتار کر چیک کرائے گئے اور جب سامان لے کر باہر نکلے تو کم وبیش آدھا کلومیٹر سامان گھسیٹ کر پیدل چلنا پڑا ۔ باہر
مزید پڑھیے


کابل کہانی

هفته 17  ستمبر 2022ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلے پانچ روز کابل، افغانستان میں گزرے۔میرا افغانستان کا یہ تیسرا سفر تھا۔پچھلے دونوں سفر چند سال قبل حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ادوار میں کئے ۔ طالبان کے افغانستان میں پہلی بار جانا ہوا۔ طالبان کے حوالے سے ماضی میں بہت کچھ لکھتا رہا ، امریکہ کے افغانستان سے نکلنے اور طالبان حکومت قائم ہونے پر بھی لکھا۔ ابتدائی دنوں میں وہاں جانے کا موقعہ بنا، مگر کسی ذاتی مصروفیت کی وجہ سے نہیں جا سکا۔ اب چونکہ پندرہ اگست کو طالبان حکومت کاایک سال مکمل ہوگیا، اس لئے ایک سال کے بعد یہ کہاں کھڑے ہیں، کیا
مزید پڑھیے


بدلتی تہذیب، بدلتے شہروں کا قصہ …(2)

منگل 13  ستمبر 2022ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلی نشست میں میرے آبائی شہر احمد پورشرقیہ ، بہاولپور اور ملتان کا تذکرہ کیا تھا۔ بات ان تینوں شہروں کی بدلتی ہئیت کی چھیڑی تھی۔ ان تین چار عشروں میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ بدقسمتی سے بہت کچھ اچھا، خوبصورت، پرلطف حصہ چلا گیا، اس کی جگہ زیادہ بھدے،کم صورت، کرخت ، کھردرے حصے نے لے لی۔ سب سے اہم اور نمایاں کمی شہر کے اندر موجود وہ ٹھیرائو، سکون اور کم آمیز ی کا تحلیل ہوجانا ہے۔ بہاولپور شہر جب بھی جاتے ، یہی محسوس ہوتا کہ جدیدسہولتوں سے آراستہ کسی پرسکون کلاسیکل سے
مزید پڑھیے


بدلتی تہذیب، بدلتے شہروں کا قصہ

پیر 12  ستمبر 2022ء
محمد عامر خاکوانی
میرا تعلق سرائیکی وسیب یا جنوبی پنجاب کے تین شہروں سے ہے۔ ان میں میرا آبائی شہر احمد پورشرقیہ ،بہاولپور جو نوابوں کا شہر کہلاتا ہے ، تیسرا شہر ملتان ہے جہاں سے خاکوانیوں کا رشتہ بڑا گہرا اور قریبی ہے۔ میں نے ان تینوں شہروں کو قریب سے دیکھا اور پچھلے تین عشروں میں انہیں پہلے دھیرے دھیرے اور پھر تیزرفتاری سے تبدیل ہوتے دیکھا۔ تبدیل سے زیادہ درست لفظ ہیئت بدلنا ہے۔ میرے بچپن اور لڑکپن کی یادیں ستر کے عشرے کے اواخر سے اسی کے عشرے تک ہیں۔احمد پورشرقیہ تو ظاہر ہے میرااپنا آبائی شہر تھا۔ ملتان
مزید پڑھیے


قدرت اللہ شہاب کے خلاف منفی مہم کیوں ؟

جمعرات 08  ستمبر 2022ء
محمد عامر خاکوانی
ریشم دلان ِ ملتان کانفرنس میں ایک مقرر نے بیوروکریٹس کا تذکرہ کرتے ہوئے قدرت اللہ شہاب کا ذکر کیا تو ان کی شاندار کتاب شہاب نامہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔ کانفرنس میں بیٹھے ہوئے تین سطروں کی ایک فیس بک پوسٹ کر دی کہ شہاب نامہ نے میری زندگی پر گہرا اثر ڈالا ، آپ میں سے کس کس نے پڑھی؟ اس کے بعد اگلے دن تک اتنا مصروف رہا کہ فیس بک کھول ہی نہ سکا۔ ملتان سے واپسی پر وہ پوسٹ دیکھی تو ڈیڈھ دو ہزار کے قریب کمنٹس اور ہزاروں لائیکس آچکے تھے۔ حیرت
مزید پڑھیے








اہم خبریں