BN

محمد عامر خاکوانی


سیاسی اجتماعات کا اب کوئی جواز نہیں


ملک میں کورونا کی صورتحال جس قدر بگڑ گئی ہے، جس تیزی سے روزانہ ہزاروں لوگ شکار ہو رہے ہیں، اموات کی شرح بھی بڑھ رہی ہے، اس کے بعد ملک میںسیاسی اجتماعات کا کوئی جواز نہیں۔کوروناکا ہمارے ہاں بہت لوگ مذاق بھی اڑاتے رہے ہیں، ایسی کئی مثالیں دیکھیں کہ جو ایسا کرتے تھے، وہی بعد میں نشانہ بنے۔غیر سنجیدہ رویہ رکھنے والے بعض لوگ دنیا سے رخصت بھی ہوگئے۔ اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے، مگراتنے خطرناک حالات میں آخر ہماری سیاست قیادت کیوں اتنا غیر سنجیدہ، غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہے؟ صرف پی ڈی ایم
منگل 01 دسمبر 2020ء

نجکاری پر اعتراض کیوں؟

اتوار 29 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
بعض اوقات کسی خاص موضوع پر کالم لکھنا چاہ رہے ہوتے ہیں ،اتنے میں ایسی مختلف خبریں سامنے آتی ہیں جن پر کچھ لکھنا یا کہنا ضروری لگتا ہے۔ آج کا یہ کالم ایسی پہ ایک خبر اور اس پر تبصرے کے حوالے سے ہے۔ خبر سٹیل ملز سے ساڑھے چار ہزار سے زائد ملازمین نکالنے کے حوالے سے ہے۔تفصیل کے مطابق پاکستان سٹیل ملز انتظامیہ نے 4544 ملازمین کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے، تاہم سٹیل ملز کے سکول اور کالج کے سٹاف کو نہیں نکالا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جون میں وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ
مزید پڑھیے


ہم کورونا سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

جمعه 27 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
میں دو ماہ پہلے کورونا کے مرض کا شکار ہوا تھا۔ تیئس ستمبر کو ایک کھانے میں شرکت سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ۔ اگلے تین ہفتے اس مسئلے کا شکار رہا، ٹیسٹ نیگیٹو آنے پر جان چھوٹی ۔ مجھے نسبتاً ہلکا(MILD)اٹیک ہوا تھا، ا س لئے الحمدللہ تکلیف زیادہ نہیں ہوئی۔ سانس کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوا۔کورونا مگر ہلکا ہو تب بھی اعصاب توڑ دیتا ہے۔ خاصی کمزوری ہوجاتی ہے بلکہ ٹیسٹ نیگیٹو ہوجانے کے کئی ہفتوں بعد تک جسم پر اس کے اثرات رہتے ہیں۔کورونا سے متاثر ہونے والے بعض دوستوں نے بتایا کہ جسم کے دیگر
مزید پڑھیے


تاریخ انسانی کا عظیم ترین ناول

منگل 24 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
’’ول ڈیوراں (Will Durant) نامور لکھاری اور فلسفی گزرے ہیں۔ انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ لکھا :’’ ایک بار مجھے کچھ لیکچرز دینے کے سلسلے میں دوسرے ملک جانا پڑا۔ میں مہینے بعد گھر واپس لوٹا۔ شام کو بیوی کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے میں نے پوچھا کہ تم آج کل میری لائبریری سے کیا پڑھ رہی ہو۔ اس نے جواب دیا دنیا کا بہترین ناول۔ میں نے جواباً کہا کہ تم غلط کہہ رہی ہو کیونکہ دنیا کے بہترین ناول فیودور دستوئیفسکی(دوستو فسکی) کے لکھے ’’برادرز کراما زوف ‘‘کو تو میں خود پڑھ رہا ہوں اور اسے
مزید پڑھیے


جنازوں کا فرق

اتوار 22 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
مینار پاکستان گرائونڈ میں ہونے والا علامہ خادم حسین رضوی کا جنازہ افراد کی شرکت کے حوالے سے ایک غیر معمولی ، تاریخ ساز اجتماع تھا۔پاکستان کی تاریخ کے چند یادگار جنازوں میں سے ایک۔لاہور کی تاریخ میںجنازے کے دو چار بہت بڑے اجتماع ہوئے ہیں، علامہ خادم رضوی کا جنازہ ان سے زیادہ نہیںتو، ان میں سے ایک ضرور ہے۔ تقسیم سے پہلے غازی علم الد ین شہید کا جنازہ تاریخ ساز تھا، ویسے اجتماع کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی ۔ عاشق رسول ﷺ کے آخری سفر کے لئے خلق خدا امڈآئی تھی۔ علامہ اقبال کا جنازہ
مزید پڑھیے



گلگت بلتستان الیکشن: اپوزیشن جماعتیں کیوں ہاریں؟

بدھ 18 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ایک ویب شو کے اینکر نے سوال اٹھایا گیا، گلگت بلتستان (GB)کے انتخابات میں پاکستانی اپوزیشن جماعتوں کو شکست کیوں ہوئی؟ میں نے جوابی سوال کیا، آپ کن اپوزیشن جماعتوں کی بات کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا، وہی اپوزیشن جو سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کا حصہ ہے۔ اس پر عرض کیا کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں دانشمندی سے کام نہیں لیا، خودغرضی ان کی سیاسی فراست پر غالب آگئی ، بطور پی ڈی ایم اتحاد نہیں لڑا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ سچ پوچھیں تو گلگت بلتستان میں دھاندلی کے گھسے پٹے الزامات لگانے کے بجائے اپوزیشن اپنا
مزید پڑھیے


بیانئے کی غلطی

اتوار 15 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستانی سیاست اور پاکستانی سیاستدانوں پر بات کرنی ہے، مگر پہلے حالیہ امریکی انتخابات میں ہونے والے ایک اہم عنصر پر نظرڈالتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے کالم نگار اور معروف امریکی تجزیہ نگار نکولس کرسٹوف کا امریکی صدارتی الیکشن پر تجزیہ چند دن پہلے پڑھا۔ کرسٹوف اپنی تحقیقی رپورٹس پر دوبارمشہور صحافتی پلٹرز ایوارڈ حاصل کر چکا ہے۔ کرسٹوف نے اپنے کالم میں بڑے تاسف اور ایک طرح کی حیرت کے ساتھ لکھا کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ امریکی عوام جو پچھلے چار برس سے صدر ٹرمپ کو دیکھ رہے تھے، کورونا کے حوالے سے
مزید پڑھیے


صدر ٹرمپ اور عمران خان میں کیا فرق ہے؟

منگل 10 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
امریکی صدر ٹرمپ الیکشن کیسے ہارے، بائیڈن کیوں جیتے؟ …اس حوالے سے آپ بہت سے ٹی وی ٹاک شوز دیکھ چکے ہوں گے۔ کالم اور تجزیے بھی شائع ہورہے ہیں، بیشتر باتیں کہی جا چکیں، میں آپ کو اس پر بور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایک نکتہ جس پر ہماری اپوزیشن جماعتیں زور دے رہی ہیں، اس پر بات ہوسکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی شکست کے بعد پی ڈی ایم کے رہنمائوں کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ٹرمپ چلا گیا، اب عمران خان کی باری ہے۔ تاثر دینے کی کوشش ہوئی کہ دونوں ایک سے ہیں،
مزید پڑھیے


موروثی سیاست پر اعتراض کیوں؟

اتوار 08 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
یہ چند سال پہلے کی بات ہے ، اخبار کے میگزین کے لئے معروف خاتون سیاستدان بیگم عابدہ حسین کا انٹرویو کرنا تھا۔ ان دنوں وہ سیاست میں خاصی فعال تھیں۔ عابدہ حسین کا انٹرویو کرنے والے جانتے ہیں کہ ان کا ایک خاص دبنگ سا ، کیئر فری سٹائل ہے۔ جو بات وہ کہنا چاہتی ہے، بغیر لگی لپٹی کہہ ڈالتی ہیں۔ ان کی سیاست روایتی انداز کی ہے، عام سیاستدانوں جیسی، مگر شخصیت عام سیاستدانوں والی نہیں۔ موروثی سیاست کے حوالے سے سوال کیا تو بیگم عابدہ حسین نے بھرپور دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا ، اگر
مزید پڑھیے


ڈاکٹراعجاز قریشی بھی چلے گئے

جمعه 06 نومبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی صاحب سے پہلی ملاقات پچیس سال پہلے سردیوں کی ایک خنک دوپہر میں ہوئی۔ اردو ڈائجسٹ جوائن کئے مجھے کچھ دن ہوچکے تھے۔ ڈاکٹر اعجازقریشی ان دنوں پاکستان سے باہر کسی کاروباری دورے پر گئے تھے، ان کی جگہ انتظامی معاملات ان کے صاحبزادے طیب اعجاز قریشی کے ہاتھ میں تھے، طیب اعجاز نے الطاف حسن قریشی صاحب سے میرامختصر انٹرویو کرایا اور یوں بطور سب ایڈیٹر صحافتی سفر کا آغاز ہوگیا۔آج کل یہی طیب اعجاز قریشی ہی اردو ڈائجسٹ کے تمام معاملات سنبھالے ہوئے ہیں، ان کی ہمت ہے کہ بزرگوں کی نشانی عمدگی سے
مزید پڑھیے