BN

محمد عامر خاکوانی



عمران خان کی حکومت‘ دو مختلف تاثر


نومنتخب حکومت اور وزیراعظم عمران خان کی گورننس کے حوالے سے دو مختلف تاثر مل رہے ہیں۔ یہ اب دیکھنے کا فرق ہے یا پھر عینک کے دونوں عدسوں سے دو مختلف منظر نظر آ رہے ہیں یا یہ کہ دونوں ہی باتیں اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔ گڈ اور کنفیوزڈ گورننس کے ملے جلے ،مگر متضاد تاثر۔ ایک طرف ہمیں حکومت بوکھلائی سی لگ رہی ہے، درست طریقے سے کچھ ہاتھ میں آ نہیں رہا۔ ایسا لگتا ہے جیسے اندھیرے میں کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے، ہاتھ میں آ جائے تب بھی اس کا
منگل 02 اکتوبر 2018ء

ہوا

جمعه 28  ستمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلے چند برسوں میں بہت سا وقت سوشل میڈیا پر ضائع کرنے کے بعدیہ سبق سیکھا ہے کہ فیس بک کو زندگی میں شامل رکھناہے، مگر اس کے ساتھ زندگی بسر نہیں کرنی۔ایک معروف صوفی بزرگ کا قول ہے ،’[ہم نے دنیا کو دل میں نہیں آنے دیا، اسے باہر بٹھا دیا ہے، جس چیز کی ضرورت ہو، ہاتھ بڑھا کر لے لی اور دروازہ بند کر دیا۔‘‘اس خوبصورت جملے میں تصوف کا پورا فلسفہ سما گیا ہے۔اس مثال کو بالکل ہی مختلف تناظر میں منطبق کرنے لگا ہوں، میرے خیال میں سوشل میڈیا کی بھی اتنی ہی حیثیت ہونی
مزید پڑھیے


ہم کیوں ہار رہے ہیں؟

منگل 25  ستمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
سوال سادہ اور آسان ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ایشیا کپ میں اس قدر برے طریقے سے کیوں ہار رہی ہے، اتوار کو بھارت کے خلاف کھیلے جانے والے میچ میں شکست کو صرف افسوسناک کہنا کافی نہیں ، اسے شرمناک اور ذلت آمیز کہنا چاہیے۔ کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے، دنیا کی بہترین ٹیمیں بھی کئی بار ہار جاتی ہیں، مگر جو شکست لڑے بغیر قبول کی جائے، مزاحمت کی ہلکی سی جھلک بھی محسوس نہ ہو، وہ قابل تشویش امر ہے۔ویسے سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ کرکٹ میچ میں شکست ایسا موضوع ہے ،
مزید پڑھیے


تخلیقی سوچ

بدھ 19  ستمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
چار پانچ سال پہلے کی بات ہے، ملتان سے ایک عزیز نے فون کیا، ان کا صاحبزادہ میڈیا سٹڈیز کی طرف آنا چاہتا تھا۔ رشتے میں کزن ہیں،مگر عمر میں خاصے بڑے ہونے کی وجہ سے ہم انہیں اپنے بزرگوں میں سے سمجھتے ہیں۔خیر ان کا بیٹا اپنی صلاحیتوں سے گورنمنٹ کالج، لاہور میں داخل ہوگیا، ملنے آتار ہا۔ مستقبل میں میڈیا میں آنا چاہتا تھا، مشورہ مانگا، جو سمجھ میں آیا اس کی رہنمائی کی۔ ایک بات پر زور دیا کہ کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالو۔جوش میں نوجوان ہامی بھر بیٹھا، ہم نے اسے ایک عدد فہرست
مزید پڑھیے


سمجھ سے بالاتر نکتے

اتوار 16  ستمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ہمارے بہت سے دانشوروں، اخبار نویسوں اور تجزیہ کاروں کی کئی باتیں عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ شائد یہ لوگ ایسی معرفت کی زبان میں اظہار کرتے ہیںجنہیں سمجھنا عوام کے بس سے باہر ہے یا پھربعض باتیں ابھی تک ہمارے ان دانشوروںکو بھی سمجھ نہیں آ رہیں۔فریکوئنسی ایک سی نہیں یا دوسرا مسئلہ،کچھ نہ کچھ گڑبڑ بہرحال ضرور ہے۔اس مس کمیونکیشن کی شکایات عام لوگ کر رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے اب پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے طبقات خاصے مختلف ہوچکے۔میڈیا میںکام کرنے والے ایک دوسرے سے دور،مختلف دنیائوں کے باسی ہیں۔باہمی فاصلہ اتنا زیادہ
مزید پڑھیے




پہلا تاثر ابتدائی تاثر

منگل 11  ستمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
عمران خان کی حکومت جیسے تیسے آگے کی طرف کھسکتی چلی جا رہی ہے۔ ان کا کوئی حامی چاہے تو اسے دوڑتی بھاگتی بلکہ کلانچیں بھرتی حکومت بھی قرار دے سکتا ہے۔ دل کی کیا ہے، وہ تو کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ خان صاحب کی گرفت حکومت پر مضبوط ہے اور نہ ہی ان کی ٹیم ابھی تک ردھم میں آ سکی ۔کرکٹ میں ہم نے دیکھا کہ بعض ٹیمیں ردھم میں آتے اتنی دیر لگا دیتی ہیں کہ ٹورنامنٹ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ 2007 ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان آئر لینڈ
مزید پڑھیے


کیا ڈیم بنانے کا یہی ایک طریقہ ہے؟

اتوار 09  ستمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
دو باتیں اب ہر ایک کو سمجھ آ رہی ہیں۔ پہلی یہ کہ پاکستان کو بچانا ہے، اپنے مستقبل کی حفاظت کرنی ہے تو بڑے ڈیم بنانے پڑیں گے۔دوسرا یہ کہ عالمی مالیاتی اداروں سے تعاون نہیں ملنے والا، جو کچھ کرنا ہے، خود ہی کرنا پڑے گا۔ جادو سے پیسے بنائیں یا پھرمختلف طریقوں سے اپنے وسائل بڑھائیں ۔بڑے ڈیمز کی ضرورت اور اہمیت کے حوالے سے ہمارے اہل دانش، ماہرین برسوں بلکہ عشروں سے کہہ رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پنجاب کے بیشتر اخبارنویس اور تجزیہ کاروں کی تان صرف کالا باغ ڈیم بنانے پر
مزید پڑھیے


اخبارنویس سب کچھ جانتے ہیں؟

منگل 04  ستمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
صحافیوں کا ایک حلقہ ایسا ہے جسے معلوم نہیں کس وجہ سے یہ غلط فہمی ہے کہ وہ حکمرانوں سے زیادہ ہوشیار ، ذہین اور زیرک ہیں جبکہ ہمارے حکمران ، خاص کر منتخب سیاستدان تو پرلے درجے کے بے وقوف، ناسمجھ اوراچھے مشیر وں کی پہچان نہیں رکھتے۔اپنی تحریروں ، تجزیوں اور ٹاک شوز میں یہ صحافی، اینکر بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے اور اپنی دانست میں دانائی پر مبنی مشورے دیتے ہیں۔ انہیں یہ یاد نہیں رہتا کہ اگر یہ سیاسی لیڈر اتنے ہی ’’مومے کاکے‘‘ ہوتے تو اپنے مخالفوں کو پچھاڑ، الیکشن جیت کر حکومت میں کیسے
مزید پڑھیے


سمجھ نہیں آ رہی

جمعه 31  اگست 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ہمارے ہاں اکثر یہ ہوتا ہے کہ کوئی خاص جملہ کسی نے بول دیا اور وہ اس قدر مشہور ہوا یا دانستہ طور پرکر دیا گیا کہ پھر ہر جگہ وہی سننے میں آتا ہے۔ ایسے کئی فقرے سیاسی بحثوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فلاں صاحب تو جنرل مشرف کی حکومت میں شامل رہے ہیں۔ یہ یاد رہے کہ جنرل مشرف کی حکومت میں شامل رہنے والا طعنہ صرف تحریک انصاف کے لوگوں کے لئے مختص ہے۔ ایسا کوئی بھی سابق رکن اسمبلی یا لیڈر خواہ وہ جنرل مشرف کے کتنا ہی
مزید پڑھیے


عمران خان کورعایت نہیں مل سکتی

بدھ 29  اگست 2018ء
محمد عامر خاکوانی
عمران خان کی حکومت کے شروع کے دن ہیں۔ پارلیمانی روایت کے مطابق پہلے سو دن یعنی سوا تین ماہ ہنی مون پیریڈ سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ، انگلینڈ جیسے جمہوری ممالک میں ، جہاں پریس بہت طاقتور اور سیاسی روایات جاندار ہیں، وہاں بھی تجزیہ کار ، میڈیا اور اپوزیشن جماعتیں شروع کے تین ماہ سخت تنقید سے گریز کرتے ہیں۔ سیاسی ہنی مون پیریڈ ختم ہوجانے کے بعد یہ رعایت ختم ہوجاتی ہے اور پھر ہر غلطی کا بے رحمی سے احتساب کیا جاتا ہے۔ عمران خان کو حلف اٹھائے ابھی صرف دس دن ہوئے ہیں اور ان پر
مزید پڑھیے