محمد عامر خاکوانی


کچھ نمکین کا ذکر ہوجائے


یونیورسٹی کے زمانے میں ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے۔ کھانے پینے کا ازحد شوق تھا۔ ان کا ایک مشہور قول تھا کہ جسم میں نمکین اور میٹھے کا بیلنس برقرار رکھنا بڑااہم ہے۔موصوف ذوق شوق سے کچھ نمکین پکوان کھاتے ۔تھوڑی دیر بعد فرماتے کہ میں نمکین کو بیلنس کرنے کے لئے میٹھا کھانا چاہتا ہوں۔ جب میٹھے میں کھیر،ربڑی، آئس کریم یاگرم گرم گلاب جامن کی ایک دو پلیٹیں ہڑپ کر لیتے پھر انہیں خیال آتا کہ جسم میں میٹھے کی مقدار کچھ زیادہ ہوگئی ،اسے کچھ نمکین سے بیلنس کرنا چاہیے۔ یوں یہ سلسلہ جاری رہتا۔ اسی
منگل 31 دسمبر 2019ء

چند اچھوتے ذائقے

جمعه 27 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
محکمہ موسمیات والے شدید سردی کی خبردے رہے ہیں، بتایا جا رہا ہے کہ صرف دو دن بعد ٹھنڈ کی ایک اور شدید لہر پنجاب اور ملک کے بعض دیگر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ ہم لاہوری تو پہلے ہی اس بار معمول سے بہت سرد ، خون جما دینے والے دسمبر کا سامنا کر رہے ہیں۔سردیوں کے یہی دن نت نئے پکوانوں اور روایتی ڈشز کے ہیں۔ سیاست اور کرنٹ افیئرز کی اس دلدل میں کھانے پکانے کی باتیں شائد اجنبی لگیں، مگر اجنبی کیوں ہوں گی، انسان کی جدوجہد کا ایک مقصد تو لذت کام ودہن
مزید پڑھیے


سرد موسم، ٹھنڈی سیاست، گرم پکوان

منگل 24 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
آج کل شدید سردی کی لہر آئی ہے، لاہورسمیت پنجاب، کے پی، بلوچستان اور سندھ کے بیشتر شہردھنداور یخ بستہ ہوائوں کی زد میں ہیں۔ گلگت بلتستان میں تو خیر ان دنوں ویسے بھی درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے کا رخ کرنے لگتا ہے۔ کراچی کے سوا شائد ملک بھر میں زبردست قسم کی برفیلی ہوائیں چل رہی ہیں۔ کراچی میں بھی یار لوگوں نے اپنے کوٹ نکال لئے کہ یہی چند دن ہی انہیں اس کے لئے مل پاتے ہیں۔لاہور میں رہتے تیئس چوبیس سال ہونے کو آئے ہیں، بڑے طویل عرصے بعد دسمبر میں اتنی سردی
مزید پڑھیے


بدترین فیصلہ

جمعه 20 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
دو دن پہلے دوستوں کی ایک محفل میں گفتگو ہو رہی تھی، ہم اس پر کڑھ رہے تھے کہ نجانے بطور قوم ہم اس قدر غیر ذمے دار اور لاابالی کیوں بن چکے ہیں کہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے ہیں، اسے بے ڈھنگے پن سے بگاڑ دیتے ہیں۔ فائدہ پہنچنے کا امکان ہو تب بھی ہمارے حصے میں نقصان ہی آتا ہے۔مثالیں تو بے شمار دی جاسکتی ہیں، مگر ہماری بحث حالیہ کوالامپور کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم کی عدم شمولیت کے حوالے سے تھی۔ یہ پورا معاملہ بدترین مس ہینڈلنگ کا شاخسانہ ہے۔ ذاتی طور پر میں اس کے
مزید پڑھیے


انصاف سے کام لینا ہوگا

بدھ 18 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
وکلا کے پی آئی سی پر حملے کے حوالے سے شدید مذمت ہوچکی ، یہ سلسلہ جاری ہے۔ وکلا کو ملک کے کسی بھی طبقہ سے حمایت حاصل نہیں ہو رہی۔ یہ بات وکلا رہنمائوں کو ہضم نہیں ہو رہی ۔ انہیں شائد یہ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ وہ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے ہیں۔ جہاں انہوں نے قدم جما رکھے ہیں، وہ زمین دلدلی ہے۔ جتنا زور لگائیں گے اتنا وہ اس میں مزید دھنسیں گے۔بہترین طریقہ یہی تھا کہ اپنی غلطی تسلیم کرتے اورگناہ کی دلدلی زمین سے ہٹ کر اصلاح کی پکی شاہراہ پر
مزید پڑھیے



اس بار تو انصاف ملنا چاہیے

جمعه 13 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
چند ماہ پہلے والدہ محترمہ شدید علیل ہوئیں اور ایک ہفتے تک ایک نجی ہسپتال کے آئی سی یو میں رہیں۔ وہ اپنے ہوش میں نہیں تھیں اور مسلسل آکسیجن لگی رہی۔ یہ سات روز ہم دونوں بھائیوں کے لئے زندگی کے شائد سب سے کٹھن دن تھے۔ آئی سی یو(انتہائی نگہداشت وارڈ)کا اپنا ایک میڈیکل پروٹوکول ہوتا ہے، وہاں مریض کے اٹینڈنٹ کو بھی ٹھیرنے کی اجازت نہیں۔ بار بار ہم بھائی جاتے اور غشی کی حالت میں سوئی والدہ کو پرامید نظروں سے تکتے رہتے۔ اس امید پر کہ شائد ابھی کوئی معجزہ ہوجائے اور وہ آنکھیں کھول
مزید پڑھیے


اختتام

منگل 10 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
بعض منظر چاہے آپ نے دیکھے ہوں یا محض تخئیل کی پیداوار ہوں، وہ ذہن میں نقش رہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ محو نہیں ہوتے۔ چند سال پہلے مغلپورہ کی شالیمار لنک روڈ پر ایک قتل کے بعد کا منظر کبھی نہیں بھلا سکتا۔کسی کام سے جارہا تھا، اچانک دو تین فائر ہوئے، آواز سن کر رک گیا۔اتنے میں ایک سفید کار نہایت تیز رفتاری سے قریب سے گزر گئی۔ کسی راہ گیر نے اشارہ کر کے بتایا کہ اس گاڑی والوں نے پیچھے کسی کو گولی ماری ہے۔ تجسس کے پیش نظر میں بھی دیکھنے چلا گیا۔ وہاں
مزید پڑھیے


خدا کی بنائی دنیا

اتوار 08 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
سوشل میڈیا کی دو اہم ویب سائٹس میں فیس بک اور ٹوئٹر شامل ہیں۔ فیس بک استعمال کرتے مجھے دس سال گزر گئے، چند دن پہلے فیس بک نے اپنے ایک فیچر کے تحت پرانی پوسٹوں کی یاد دلائی تو پتہ چلا کہ نومبر 2009ء میں فیس بک جوائن کی تھی۔ اپنے دس سالہ سفر پر کبھی الگ سے کچھ لکھوں گا۔ ٹوئٹر میں استعمال کرتا ہوں، اگرچہ ہر کچھ عرصے کے بعد اس سے اکتا کر بریک لینا پڑتی ہے۔ فیس بک استعمال کرنے والوں کو شائد ٹوئٹر زیادہ پرکشش نہیں لگتا۔ٹوئٹر ویسے ون لائنر لکھنے والوں کا
مزید پڑھیے


طلبہ یونین کی بحث، چند وضاحتیں

جمعه 06 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے کالموں کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ اخبارات میں بحث کو طول دینا ذاتی طور پر پسند نہیں۔ہر جگہ مناظرہ سجانے کا موقعہ نہیں ہوتا، بہتر طریقہ یہی ہے کہ اپنا نقطہ نظر بیان کر کے آگے بڑھ جائیں۔جوابی طور پر کچھ سامنے آئے، تب ایک آدھ اور تحریر لکھ دی جائے۔ پچھلے کالم میں طلبہ تنظیموں کے حوالے سے چند ناخوشگوار مشاہدات لکھے تھے۔ اس پر آنے والا ردعمل خاصا وسیع اور توقعات سے زیادہ رہا۔ بہت سے لوگوں نے میرے فیس بک پیج پر اپنے مشاہدات اور تاثرات لکھے۔
مزید پڑھیے


طلبہ سیاست، چند ناخوشگوار مشاہدات

بدھ 04 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
یہ نومبر1995ء کا واقعہ ہے۔ لاہور پہلی بار آنا ہوا تھا۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج اپنے ایک دوست سے ملنے گیا۔ڈاکٹرہاسٹل کے فرسٹ فلورپر جانا تھا۔ ابھی کمرے میں پہنچا ہی تھا کہ نیچے سے فائرنگ کی آواز آئی۔ سب لڑکے نیچے بھاگے ،دیکھا کہ سیڑھیوں کے نیچے جہاں موٹر سائیکل ٹھیرانے کی جگہ تھی، وہاں ایک بائیک پر نوجوان اوندھے منہ گرا پڑا ہے، سر کی پچھلی طرف سے خون بہہ رہا تھا۔پتہ چلا کہ دو نوجوان اسے گولیاں مار کر موٹرسائیکل بھگاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کوئی سٹوڈنٹ لیڈر ہے، شائد کسی دوست
مزید پڑھیے