BN

محمد عامر خاکوانی



باریک لکیر


میڈیا کے شور شرا بے اور سیاسی زور آزمائی میں ہر روز بحث مباحثے کی ایک نئی فصل نمودار ہوتی ہے، شام سات سے رات گیارہ بجے تک کے ٹاک شوز میں اینکرز اورمہمان حضرات اپنی کاوش سے اس فصل کو ٹھکانے لگاتے ہیں۔ اگلے روز کوئی نیا شوشہ، مسئلہ یا تنازع موجود ہوتا ہے، ایک بار پھر پورے جوش وخروش سے سب اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔میڈیا کی دیکھا دیکھی سوشل میڈیا خاص کر فیس بک کے ایکٹوسٹ حضرات نے بھی یہ وتیرہ اپنایا ہے۔ ان کے ایشوز البتہ مختلف ہیں۔ وہاں سیاسی ماراماری بھی فیشن کا حصہ
بدھ 29 جنوری 2020ء

کیا تصوف کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیے؟

اتوار 26 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
وزیراعظم عمران خان نے چند دن پہلے یہ بیان دیا کہ تصوف کا نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ ویسے تووزیراعظم کی سطح کی شخصیت ’’چاہیے ‘‘والا بیان دینے کے بجائے ہمیں صرف یہ بتائے کہ وہ ایسا کر رہے ہیں۔یہ ہونا چاہیے، وہ ہونا چاہیے وغیرہ کی خواہشات تو ہم عام لوگ کرتے ہیں۔ وزیراعظم فیصلہ ساز ہیں،وہ تو فیصلہ کر کے اس پر عملدرآمد کرائیں۔ خیر تصوف کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے اور الگ سے کسی ادارے میں اس کی اعلیٰ تعلیم کی بات پر ہمارے ہاں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے تھی۔ اس کے بجائے یہ اہم تجویز
مزید پڑھیے


زندگی بدلنے والے

بدھ 22 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
یہ عجب انداز کی محفل تھی۔ بظاہر تولاہور کے ایک مشہور روایتی کھابے کے مرکز پر کھانے کے لئے سب اکٹھے ہوئے تھے۔ایک ہٹا کٹا دیسی مرغ منتخب کر کے اپنے سامنے ذبح کرایا اور ٹکڑے کرائے، کڑاہی گوشت بننے کا عمل شروع ہو گیا۔ عام طور پر جب ایسا کھانے کا آرڈر دیا جائے تب کھانا آنے تک کے انتظار کو گپ شپ کے ذریعے گزارا جاتا ہے۔ تجربہ مگر یہی ہے کہ ایسی گفتگو بے جان اور بے ربط رہتی ہے کہ سب کے تصور میں دیسی مرغ کا مکھن میںتیار کردہ گوشت، بھنے تکے اوردل ، گردہ
مزید پڑھیے


عمران خان کی ٹیم پر تنقید کیوں؟

منگل 21 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
وزیراعظم عمران خان کوا پنے نقادوں سے یہ شکوہ ہے کہ وہ انہیں بے رحم تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اپوزیشن کے زمانے میں بھی خان صاحب یہ کہا کرتے تھے کہ سیاسی مافیاز ان کی کردار کُشی کررہے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی شکایت اور شکوے پہلے سے بڑھ رہے ہیں۔ ڈیڑھ سالہ حکومتی دور میں انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان اپنے مخالفین کو مافیاز کہہ کر پکارتے ہیں۔ ہر دو چار دنوں کے بعد وہ اپنے کسی تندوتیز بیان میں لوگوں کو یاد دلاتے ہیں کہ
مزید پڑھیے


ملفوظات

اتوار 19 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلے کالم میں احمدپورشرقیہ کے ممتاز عالم دین اور مدرس علامہ عبداللہ کا ذکر آیا۔ مولانا عبداللہ کی کتابوں کے حوالے سے گزشتہ نشست میں لکھا تھا۔ ان کا مجموعہ ’’تالیفات علامہ عبداللہ‘‘کے نام سے شائع ہوا ہے۔خلافت وملوکیت پر نقد کے حوالے سے ان کی کتاب’’ صحابہ کرامؓ پر تنقید‘‘ مشہور ہوئی۔مولانا عبداللہ نے’ ’خطبات بہاولپور کا علمی جائزہ‘‘کے نام سے ڈاکٹر حمیداللہ کے مشہور خطبات میں بیان کئے گئے بعض علمی تفردات پر گرفت کی اور حق ادا کر دیا۔ مولانا عبداللہ کے سوانح اور افکار کی تفصیل ’’تذکرہ مولانا عبداللہ ‘‘ کے نام سے ایک کتاب میںموجود
مزید پڑھیے




ذاتی محرومی

جمعه 17 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلے ہفتے ذاتی صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔ بزرگوں کی دعائیں اس کٹھن زندگی کو آسان بناتی اور تاریکیوں میں امید کی کرن جگاتی ہیں۔ ان دعائوں سے محرومی ایسا بڑا صدمہ ہے جس کا متبادل نہیں۔زندگی کا سفر کچھ ایسا ہے کہ جذباتی دھچکے، صدمے اٹھا کر پھر سے چلنا شروع کردیتے ہیں، وہ گھائو مگر مندمل نہیں ہوتے۔ ہر اہم موقعہ پرقلب وجاں سے پھر لہو رسنے لگتا ہے۔ پچھلے سال دو جون کو والدہ محترمہ ستائیس رمضان کی صبح دنیا ئے فانی سے رخصت ہوگئیں، اسی شام احمد پورشرقیہ کے ہمارے آبائی قبرستان میں تدفین
مزید پڑھیے


تبدیلی کی ت

جمعه 10 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
امریکہ کے بارے میں مشہور ہے کہ دنیا کے حوالے سے بیشتر اہم فیصلے وہاں ہوتے ہیں یا ان کے ہونے نہ ہونے میں امریکہ کا ہاتھ ہے۔ کچھ پر امریکہ کا بس نہیں بھی چلتا، حالات یا تاریخ کا جبرکئی جگہوں پر روک دیتا ہے۔ کیوبا کا فیڈل کاسترو امریکہ کے بغل میں بیٹھ کر پچاس سال سپرپاور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا رہا، امریکی صدور دانت پیسنے کے سواکچھ نہ کر پائے۔ کاسترو پر کئی قاتلانہ حملے کرائے گئے،تختہ الٹنے کی کوششیں ہوئیں، سب ناکام رہیں۔ ایک بڑی وجہ سوویت یونین کا کیوبا کے پیچھے کھڑا ہونا
مزید پڑھیے


یک طرفہ سیاسی رومان مایوس ہی کرتا ہے

منگل 07 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بل پر دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے جو طرز عمل اپنایا، اس سے ان کے پرجوش کارکنوں اور نظریاتی حامیوں کو دھچکا لگا ہے۔ پیپلزپارٹی سے حسن ظن رکھنے والے بھی اب کچھ شرمائے شرمائے، آنکھیں جھکائے پھر تے ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل یا تاویل نہیں بچی۔ دو چار نے بلاول بھٹو کی اس دلیل کی آڑ لینے کی کوشش کی کہ ہم نے بل پارلیمانی قاعدے کے مطابق منظور کرانے پر زور دیا ہے اور صرف اسی صورت میں حمایت کر رہے
مزید پڑھیے


مایوسی کی دھند میں لپٹا کالم

جمعه 03 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ایک اور سال گزر گیا۔نئے سال کو تین دن ہوچکے ہیں، کچھ ہی عرصہ میں ایک بار پھر دسمبر کے آخری دن ہمیں یاد دلائیں گے کہ یہ سال بھی بیت گیااور نیا سال آن پہنچا۔ وقت کی رفتار کچھ زیادہ تیز ہوگئی ہے یا ہمارا روزمرہ کے معمول ایسے مشینی ہوچکے کہ ہفتے دنوں میں اور مہینے ہفتوں میں تبدیل ہوگئے۔ سال شروع ہونے کے کچھ ہی دنوں بعد غور کریں تو معلوم ہوتاہے کہ چارپانچ ماہ چلے گئے۔ وقت کے توشہ خانے میں معلوم نہیں کس کے لئے کیا بچا ہے، بس اس مہلت کو غنیمت سمجھ کر
مزید پڑھیے


کچھ نمکین کا ذکر ہوجائے

منگل 31 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
یونیورسٹی کے زمانے میں ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے۔ کھانے پینے کا ازحد شوق تھا۔ ان کا ایک مشہور قول تھا کہ جسم میں نمکین اور میٹھے کا بیلنس برقرار رکھنا بڑااہم ہے۔موصوف ذوق شوق سے کچھ نمکین پکوان کھاتے ۔تھوڑی دیر بعد فرماتے کہ میں نمکین کو بیلنس کرنے کے لئے میٹھا کھانا چاہتا ہوں۔ جب میٹھے میں کھیر،ربڑی، آئس کریم یاگرم گرم گلاب جامن کی ایک دو پلیٹیں ہڑپ کر لیتے پھر انہیں خیال آتا کہ جسم میں میٹھے کی مقدار کچھ زیادہ ہوگئی ،اسے کچھ نمکین سے بیلنس کرنا چاہیے۔ یوں یہ سلسلہ جاری رہتا۔ اسی
مزید پڑھیے