BN

محمد عامر خاکوانی



معافی کون مانگے ؟


آج کل ہر جگہ سیاسی بحثیں اور مکالمہ چل رہا ہے۔ کوشش کرتا ہوں کہ اتوار والا کالم غیر سیاسی لکھا جائے، مگر جب چاروں طرف دھواں دھار تقریریں، بیانیہ چل رہا ہو، تب آنکھیں بند کر کے کیسے لکھا جا سکتا ہے؟ اس لئے اس اتوار کی تو معذرت۔ آئندہ سے کوشش ہوگی کہ سنڈے والا’’ زنگار‘‘ سیاست سے ہٹ کرہلکا پھلکا، کتابوں یا زندگی کے مختلف پہلوئوں پر لکھا جائے۔ عمران خان کی حکومت کو ایک سال سے زائد عرصہ ہوگیا۔ خان صاحب کی کارکردگی سب کے سامنے ہیں۔ان کے پرجوش حامیوں کے پاس بھی کچھ زیادہ
اتوار 20 اکتوبر 2019ء

یہ پوزیشن لینے کا وقت ہے

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستانی سیاست میں پوزیشنیں بہت پہلے سے لی جاچکی ہیں۔ فریقین اپنے اپنے کیمپو ں میں باقاعدہ بنکر بنا کر مورچہ زن ہیں۔ تحریک انصاف والوں کا اپنا کیمپ ہے، نوجوانوں سے گھرا ہوا، غصیلے، پرجوش تیرانداز جس کی باہر کی جانب پہلی صف میں موجود ہیں، نیزے بازوں کی بھی کمی نہیں۔ مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی ، جے یوآئی، اے این پی، پختون خوا میپ ،نیشنل پارٹی اور دیگرچھوٹے دھڑوں کے اپنے اپنے کیمپ ہیں، معروضی حالات کے مطابق اس کی بیرونی دیوار گرتی، بنتی رہتی ہے۔ بہرحال ان کا سیاسی موقف اور سٹینڈ بہت واضح ہے۔ عمران
مزید پڑھیے


تخلیق کا موسم

منگل 15 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
اپنے گزشتہ پچھلے کالم میں محترمہ منیزہ ہاشمی کے انٹرویوز پر مبنی کتاب ’’کون ہوں میں‘‘کا ذکر آیا تھا۔ یہ دراصل پی ٹی وی پر بہت سی ممتاز شخصیات کے کئے گئے انٹرویوز تھے، جو اب کتابی صورت میں شائع ہوئے۔اپنے اپنے شعبوں کی نامور خواتین سے کی گئی یہ گفتگو آج بھی پہلے جیسی تروتازہ ہے۔ ان میں محترمہ بے نظیر بھٹو، بلقیس ایدھی، جذام کے لئے بے پناہ سماجی خدمات انجام دینے والی مادام ُرتھ فائو، سیاسی شخصیت بیگم نسیم ولی خان،آپا بانو قدسیہ ،مظہرعلی خان کی اہلیہ اور ادیب دانشور طارق علی کی والدہ طاہر ہ مظہر
مزید پڑھیے


کتابوں کی صحبت میں

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
میرے نزدیک دنیا کے تین بہترین کاموں میں سے ایک کتاب پڑھنا ہے۔کتابوں کی دنیا ایسی سحرانگیز، دلکش اور رنگارنگ ہے کہ اس میں اترنے کے بعد آپ کی کیفیات، حسیات اورچیزوں کو جانچنے کے پیمانے ہی بدل جاتے ہیں۔وہ دیکھتے ہیں جو موجود نہیں ، فضا میں موجود آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں جو ہماری قوت سماعت سے ماورا ہیں۔ چکھے بغیر ہی اشیاء کی لذت جان جاتے اور بہت بار تو وہ خوشبوئیں بھی سونگھ لیتے ہیں جو ابھی ایجاد بھی نہیں ہوئیں۔ کتاب سے رابطہ (Connectivity)نئے جہان میں لے جاتا ہے۔ وہاں کیا ملتا ہے، یہ
مزید پڑھیے


دھرنا اور اس سے متعلق اہم سوالات

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن کے مارچ اور دھرنے کے حوالے سے ہر جگہ بات ہو رہی ہے۔ ٹاک شوز میں بھی یہی معاملہ زیربحث ہے۔ سیاست سے زیادہ دلچسپی نہ رکھنے والے احباب کو یقینا کوفت ہورہی ہوگی، مگر جب ایک اہم واقعہ ہونے لگتا ہے تو اس پر بحث ہونا فطری امر ہے۔ چند سوال ہیں، ان کے جواب ہر کوئی کھوج رہا ہے ۔معلومات، تجزیہ، قیاس، رائے … ان سب کے امتزاج سے کام چلانا پڑے گا۔ مولانا احتجاجی مارچ کیوں کر رہے ہیں؟ یہ بڑا اہم اور بنیادی نوعیت کا سوال ہے کہ مولانا فضل الرحمن آخر کیوں
مزید پڑھیے




مولانا کے پاس کیاآپشنزموجودہیں؟

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالے سے اگر ان کے حامیوں سے بات کی جائے تو وہ دو باتیں کہتے ہیں۔پہلی یہ کہ عمران خان یا تحریک انصاف کو اس مارچ، دھرنا یا لاک ڈائون پر احتجاج کا کوئی حق نہیں کیونکہ انہوں نے خود یہ سب کیا تھا اور اس پر کبھی شرمندہ بھی نہیں ہوئے بلکہ طنزاً یہ بھی کئی بار کہا کہ اپوزیشن احتجاج کرنے آئے تو ہم انہیں کنٹینر دینے کو تیار ہیں۔ دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ احتجاج ان کا جمہوری حق ہے اور کوئی سیاسی حکومت ایسا کرنے سے نہیں
مزید پڑھیے


مولانافضل الرحمن سیاسی دوراہے پر

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن اس بار ایک عجیب مشکل سے دوچار ہیں۔وہ اپنی سیاسی زندگی کی سب سے مشکل جنگ کے چیلنج سے نبردآزما ہیں۔ ایسی لڑائی جس میں جیت شکست کے مترادف ہے اور شکست تو خیر تباہ کن ہو گی ہی۔ ستم ظریفی یہ کہ ان کے لئے اب اسی جگہ پر رکے رہنا بھی مشکل ہے ۔انہوں نے ایسی لہر پیدا کی ہے جو بتدریج آگے کی طرف ہی بڑھے گی، اسے جامد کر دینا آسان نہیں رہا۔ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں جس کسی سے بات کی جائے ، ان کی سمجھداری، دانشمندی اورذہانت کی تعریف
مزید پڑھیے


مایوس کن ردعمل

منگل 01 اکتوبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ وزیراعظم عمران خان کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر پر ان کے سیاسی مخالفین کے ردعمل نے شدید مایوس کیا ہے۔ پاکستان میں پچھلے چارپانچ برسوں سے جیسی سیاسی تقسیم بڑھی ہے، اس صورتحال میں اپنے مخالفیں کے کسی اچھے اقدام پر سراہنے کی توقع کم تھی، مگر بہرحال یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایسی دیدہ دلیری سے سامنے کی چیز کا انکار کیا جائے گا۔ بعض چیزیں، بعض کام امر واقعہ ہوتے ہیں۔ ایک چیز ہوئی ہے تو ہوئی ہے، اس کا انکار آخر کیوں کیا جائے؟ میاں نواز شریف نے
مزید پڑھیے


گیم چینجرتقریر

اتوار 29  ستمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
عمران خان کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر گیم چینجر(Game Changer) ثابت ہوگی۔ خان صاحب کو شائد خود بھی اندازہ نہیں کہ اپنی پون گھنٹے سے زائد کی تقریر میں انہوں نے بیک وقت کئی اہداف حاصل کئے۔ کرکٹ میں کئی بار ہم نے دیکھا کہ کوئی بلے باز آیا،ایک دو اوورز ہی میں اس نے یوں پے درپے چھکے لگائے کہ میچ کا رخ بدل گیا۔اسی طرح کسی بائولر نے چند گیندوں میں یوںوکٹیں اڑائیں کہ ہارا ہوا میچ یکایک گرفت میں آگیا۔ 1992ء کا ورلڈ کپ ہماری نسل شائد کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ اس کے فائنل
مزید پڑھیے


عمران خان، ایک سال میں کیا حاصل کیا؟

منگل 24  ستمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
کسی موضوع پر ایک سے زیادہ کالم لکھنا پسند نہیں،مجبوری کے عالم میں ایسا کرنا پڑے توکوشش ہوتی ہے کہ اس موضوع کے مختلف پہلوئوں پر الگ الگ مکمل کالم لکھ دئیے جائیں۔ جس زمانے میں پی ٹی وی شوق سے دیکھا کرتے ، ان دنوںمختلف سٹیشنوں سے سلسلہ وار ڈرامہ سیریل نشر ہوتے ، کبھی کبھار مکمل ڈراموں کی سیریز بھی چلتی ۔اندھیرا اجالا، الف نو ن جیسے مقبول ڈرامے سیریز کی شکل ہی میں تھے،مستقل کردار،مگر ہر بار نئی کہانی۔ اندھیرا اجالا میں تو سیٹ بھی ہر بار ایک ہی ہوتا، تھانے کا منظر جس میں ڈائریکٹ حوالدار
مزید پڑھیے