BN

محمد عامر خاکوانی


عمر سعید شیخ ۔ پراسرار کردار کی ڈرامائی کہانی


پچھلے چند دنوں سے اعلیٰ عدالتوں کے ایک فیصلے نے پاکستان اور امریکہ کے مابین عجیب طرح کی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔اٹھارہ سال پہلے کراچی میں قتل ہونے والے امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کے مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کی رہائی کے عدالتی فیصلے سے یہ مسئلہ پیدا کیا۔احمد عمر سعید شیخ جو عمر شیخ کے نام سے مشہور ہے، اسے ڈینئل پرل قتل کیس میں بارہ فروری 2002کو گرفتار کیا گیا۔تب سے وہ جیل میں اسیر ہے۔ ماتحت عدالتوں سے اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی، تاہم سندھ ہائی کورٹ نے اسے
جمعرات 04 فروری 2021ء

سیاستدانوں پر تنقید کیوں کی جاتی ہے؟

منگل 02 فروری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
اپنے پچھلے کالم میں اس پر تفصیل سے بات کی تھی کہ سیاستدانوں کی کرپشن پر بات کرنا غیر جمہوری قوتوں کی حوصلہ افزائی نہیں۔ اسے جمہوریت دشمنی نہیں کہنا چاہیے۔ بات بڑی واضح ہے، سیاستدانوں کا یہ کام ہے کہ وہ الیکشن لڑیں، عوام سے ووٹ لیں اوراکثریت حاصل ہونے پر اقتدارمیں آئیں۔یہ اسٹیبلشمنٹ کا کام نہیں۔دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ کا ایک خاص کردار ہے، ہمارے ہاں بھی وہی ہونا چاہیے۔ اسٹیبلشمنٹ نیشنل سکیورٹی ایشوز پر اپنی اِن پٹ دیتی اورپالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بناتی ہے ۔پیچھے رہ کر یہ سول حکومت کی معاونت اور مدد کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے


سیاسی تنقید جمہوریت دشمنی نہیں

اتوار 31 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
سب سے پہلے یہ وضاحت کہ میں ذاتی طور پر یکسو ہوں کہ انسانی سماج کو دستیاب نظام میں سے جمہوریت اپنے اندر موجود کچھ خامیوں کے باوجود دوسروں سے بہتر ہے۔پرامن انتقال اقتدار کا اس سے بہتر اور طریقہ موجود نہیں۔ انسانی شعور نے اسے قبول کر لیا ہے اور ایک طرح سے اس پر اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ ہمارے ہاں قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ بنائے جانے کے بعد جمہوریت کا مقدمہ مزید مضبوط ہوگیا ہے ۔ آئینی طو رپر ہمارے ملک میں اسلامی شریعت ہی سپریم ہے اور شریعت سے متصادم کوئی قانون منظور نہیں ہوسکتا۔
مزید پڑھیے


صرف ایک گھنٹہ

جمعه 29 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
مرزا صاحب کئی برسوں سے میرے فیس بک فرینڈ ہیں۔ مرزا صاحب نے اگلے روز ایک تحریر میرے ساتھ شیئر کی۔ ان کے بقول یہ ایک قریبی دوست کی سچی روداد ہے، جسے اس نے ایک ناقابل فراموش تجربے سے گزرنے کے بعد رقم کی۔ تحریرزیادہ طویل نہیں تھی۔ اپنی زندگی کی کہانی لکھنے والے صاحب کا فرضی نام شاہد تصور کر لیں ۔اس تحریر کا خلاصہ یا تلخیص پیش کرنے لگا ہوں۔ شاہد صاحب لکھتے ہیں ،’’ میں کراچی کا رہنے والا ہوں، ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنل ۔لوئر مڈل کلا س خاندان سے تعلق ہے، والد اوسط درجے کی
مزید پڑھیے


مایوسی در مایوسی

منگل 26 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
آج کل عجیب سی صورتحال بنی ہے۔ سیاست اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں سے باقاعدہ چڑ ہونے لگی ہے۔ نیوز چینلز لگائیں تو ہر طرف وہی گھسے پٹے سیاسی بیانیہ پر گفتگو ملے گی۔ آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ٹاک شوز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے کیوں بلائے جاتے ہیں؟ لوگ کسی رکن اسمبلی سے اس کی پارٹی کی پریس ریلیز کیوں سنیں؟ وہی دہرائی ہوئی پامال گفتگو۔ ایک دوسرے پر الزامات،اونچا بول کر اپنے آپ کو پارٹی کا زیادہ بڑا وفادار ثابت کرنا۔ ابکائی آنے لگتی ہے۔ نیوز چینلز سے ہٹ کر انٹرٹینمنٹ چینل لگائیں تو ایک
مزید پڑھیے



پانچواں چولہا

منگل 19 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
اپنے گزشتہ کالم میں مینجمنٹ اور ورک ، لائف بیلنس کے حوالے سے مشہور فور برنرز تھیوری پر بات کی تھی۔ اس تھیوری کے مطابق آپ کی زندگی سے چار چولہے یا برنر منسلک ہیں، انہیں آپ کے وجود ہی سے انرجی یا گیس ملتی ہے۔پہلا چولہافیملی(اہل خانہ)، دوسرا کیرئر، تیسرا صحت اور چوتھا دوست احباب۔ انسان کی زندگی کے یہ چار اہم ترین گوشے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ ان سب کو کس طرح بیلنس رکھنا ہے تاکہ کوئی اہم شعبہ نظرانداز نہ ہو۔ فور برنر تھیوری کے مطابق ہر کامیاب آدمی کو کم از کم ایک چولہے
مزید پڑھیے


زندگی کے چار چولہے

اتوار 17 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
ہفتہ کی صبح فیس بک پر سکرولنگ کرتے ایک دلچسپ تصویر دیکھی۔ ایک گیس کا سیلنڈر ہے اور اس کے پائپ کے ساتھ چار چولہے(Burners) جل رہے ہیں۔ پہلے پر فیملی لکھا ہے، دوسرے پر کام ، تیسرا دوست اور چوتھا صحت ہے۔یہ ممتاز ٹرینر، ماہر نفسیات، مصنف عارف انیس ملک کی پوسٹ تھی۔ عارف انیس(Arif Anis) کو دیو ہزار دست ہی کہنا چاہیے۔ ماشااللہ قدرت نے انہیں اتنی انرجی اور فوکس عطا کیا ہے یا یوں کہہ لیں قدرت کی مہربانی سے انہوں نے اپنے اندر یہ صلاحیتیں پیدا کر لی ہیں کہ بیک وقت کئی بڑے
مزید پڑھیے


بھٹو ، ضیا اور ایم کیو ایم

جمعه 15 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
بریگیڈئر(ر) صولت رضا آج کل قومی اخبارات میں کالم نگاری کر رہے ہیں، ان کے کالموں کا مجموعہ ’’غیر فوجی کالم ‘‘شائع ہوچکا ہے، پچھلے دنوں اس پر چند ایک ریویوز بھی چھپے۔، صولت رضا صاحب کی ایک کتاب ’’کاکولیات‘‘کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کے درجنوں ایڈیشن شائع ہوئے۔یہ کاکول اکیڈمی میں گزرے دنوں کی دلچسپ روداد ہے۔ ان دونوں کتابوں پر پھر کبھی بات کریں گے۔ آج ان کے بہت دلچسپ ، تفصیلی انٹرویو پر بات کرنی ہے جو چند دن قبل مجیب الرحمن شامی صاحب کے جریدے ماہانہ قومی ڈائجسٹ (جنوری 2021) میں شائع ہوا۔
مزید پڑھیے


کیا پی ڈی ایم ’’ٹریپ ‘‘سے باہر آ چکا؟

منگل 12 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
آج کل سیاست پر بحث ہو تو پہلا سوال یہی سامنے آتاہے کہ کیا اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم اپنی سیاست میں کامیاب ہو گا اور ایسی صورت میں عمران خان اور ان کی جماعت کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟ میرے نزدیک اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ پی ڈی ایم نے اپنے مختصر سیاسی سفر میں جو غلطیاںکیں، کیا ان کی تلافی ہوپائے گی؟اگلے روز پی ڈی ایم کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے ایک صحافی دوست نے اپنے سوشل میڈیا بلاگ میں لکھا ،’’ پی ڈی ایم آہستہ آہستہ استعفوں کے ٹریپ سے باہر آ رہا
مزید پڑھیے


وبا کے موسم میں ٹوٹتے تارے

اتوار 10 جنوری 2021ء
محمد عامر خاکوانی
کورونا کی وبا کے دوران پچھلے چند ماہ میں کئی عزیز دوست، مہربان بزرگ بچھڑ گئے۔ کچھ کورونا کا نشانہ بنے تو بعض براہ راست کورونا کا شکار نہیں ہوئے ، مگر قیاس ہے کہ وباکے دنوں کے اعصابی تنائو اور گھٹن نے سفر مختصر کر دیا۔ نام لکھے جائیں تو طویل فہرست بن جائے گی۔ اس سال کی ابتدا ہی میں ہمارے عزیز دوست،مہربان سینئر رئوف طاہر انتقال کر گئے۔ رئوف بھائی کے جانے پر کئی کالم لکھے گئے،لکھے جاتے رہیں گے۔ ان جیسے باغ وبہار ، شگفتہ مزاج ، دوستوں کی خوشی غمی
مزید پڑھیے