BN

محمد عامر خاکوانی


سانحہ لاہور سے کیا سبق سیکھنے چاہئیں؟


سانحہ لاہورکے بعد پچھلے چند دنوں میں کروڑوں لوگ جس تکلیف اور کرب سے گزرے ، اس کے بارے میںکچھ بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔ابھی یہ معاملہ ختم نہیں ہوا۔ ایک مجرم گزشتہ روز گرفتار ہوا۔ انہیںسخت ترین سزائیں دینے کی بات ہو رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے قانون سازی کا عندیہ دیا ہے۔ ایک اور نئی تجویز گینگ ریپ کے مجرموں کی آختہ سازی (خصی کر دینے)کے حوالے سے بھی آئی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس حوالے سے شرعی پہلو کیا ہیں اور کیا یہ ممکن ہے؟ یہ بات بہرحال طے ہے کہ اس
منگل 15  ستمبر 2020ء

اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے

اتوار 13  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
وہ سانحہ جس نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ، اس معاملے میں ایک بڑی کامیابی تو یہ حاصل ہوگئی کہ ان مکروہ درندوں کی شناخت ہوگئی۔ وہ دونوں بدبخت جنہوںنے مظلوم خاتون کی زندگی برباد کی ، ان شااللہ اب عبرت ناک سز ا ان کا مقدر بنے گی۔ صوبائی حکومت اور پولیس کو اس کامیابی پر سراہنا چاہیے۔ یہ ایک ایسا جرم تھا جس کے مرتکب ملزموں کو ڈھونڈناآسان نہیں تھا۔ آدھی رات کو اس واردات کے بعد نامعلوم ملزم غائب ہوگئے ، ان تک پہنچنا بڑا چیلنج تھا۔ پولیس
مزید پڑھیے


منفی شیشوں والی عینک

جمعه 11  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
یہ خاکسار عمر عزیز کے اس موڑ پر عینک لگانے پر مجبور ہوگیا ہے۔ نظر کی عینک لگائے بغیرکچھ نہیں پڑھا جا سکتا۔ موبائل پر میسج دیکھنا ہو اور عینک پاس نہ ہو توخاموشی سے موبائل پرے کھسکانے کے سوا اور آپشن نہیں۔ دور کی نظر ابھی زیادہ کمزور نہیں ہوئی، مگرڈرائیونگ کرتے ہوئے یا ایل ای ڈی پر کرکٹ میچ دیکھتے دور کی عینک لگانا پڑتی ہے۔یہ تمہید اس لئے کہ مجھے اندازہ ہے عینک کی دنیا میں پلس ، مائنس سے کچھ اور مراد لیا جاتا ہے۔ اس کالم کا عنوان مگر نظر کی عینک سے متعلق نہیں،
مزید پڑھیے


اسرائیل کے حوالے سے ہمارا قومی موقف کیا ہونا چاہیے ؟

منگل 08  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
سوال بڑا سادہ ہے، اس کے دو متعین جواب ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کو بھی متحدہ عرب امارات کی طرح اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے یا ہمیں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ دوسرے حصے کا ایک ترمیمی جواب بھی ہوسکتا ہے ،یعنی اسرائیل کو فی الحال تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ہماری عرض صرف یہ ہے کہ آپ کا جو بھی نقطہ نظر ہو، دلیل کے ساتھ اسے بیان کریں اور اپنا مقدمہ ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا مقدمہ تین چار بڑے دلائل پراستوار کیا جاتا ہے۔سب سے بڑی دلیل جو بعض ٹھیٹھ
مزید پڑھیے


تاریخ مسخ کرنے کے بجائے دلیل دی جائے

جمعه 04  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
سوچا تھا کہ غیر جذباتی انداز میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے سوال پر بات کی جائے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہم ہر اہم ایشو پر بات کرتے ہوئے شہنشاہ جذبات کیوں بن جاتے ہیں؟نہایت جذباتی لب ولہجے میں عجیب وغریب دلائل کے انبار لگا دئیے جاتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے تاریخ کے پرخچے اڑا نے میں حرج نہیں سمجھتے۔ تاریخی واقعات کی من پسند تعبیرکر دی جاتی ہے ۔ہمیں ان سب سے نکل آنا چاہیے۔بطور فرد اور بطور قوم اب بالغ ہوجانا چاہیے۔ ایشوز پر سنجیدگی اور متانت سے بات کی جائے۔اسرائیل کو
مزید پڑھیے



مسئلہ فلسطین، براہ کرم تاریخ سے کھلواڑ نہ کریں

منگل 01  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
کالم نگار ہوں یا تجزیہ کار ہر کوئی اپنے مطالعہ، نظریے،مشاہدات، تجربات اور کبھی مخصوص افتاد طبع کے تحت لکھتا ہے۔بہت بار لکھنے والوں کی رائے ایک دوسرے سے انتہائی مختلف ہوتی ہے۔ انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ ہر کوئی اپنی سمجھ بوجھ، فہم اور سوچ کے تحت لکھتا ہے۔ بسا اوقات کسی تحریر میں حقائق مسخ ہوجاتے ہیں، تاریخ کے حوالے غلط اور مجموعی تاثر ایسا بنتا ہے جس سے قارئین مغالطوں کا شکار ہوجائیں۔ تب مجبوراً صورتحال کو واضح کرنے کے لئے لکھنا پڑتا ہے تاکہ ریکارڈ درست رہے اور غلط اطلاعات آگے چل کر کسی بے
مزید پڑھیے


عمران خان کی غلطیوں سے ہمیں کیا سبق ملتے ہیں؟

منگل 25  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
عمران خان کی حکومت کو دو سال ہوگئے۔ میڈیا میں دو برسوں کے حوالے سے تجزیے پیش کئے جارہے ہیں۔ تیز دھار رپورٹراور اینکرحضرات اپنی چھریاں، چاقو تیز کئے خان صاحب کے وزیراعظم بننے سے پہلے کے بلند وبانگ دعوئوں اور دو سالہ کارکردگی کا موازنہ کررہے ہیں۔ میڈیا کو اس کا پورا حق حاصل ہے۔ سیاستدان وعدے کر کے اقتدار میں آتے ہیں، اگر ان پر پورا نہ اتریں تو محاسبہ کرنا جائز اور منطقی ہے۔ عمران خان جیسے بڑبولے اور بغیر سوچے سمجھے بیان داغ دینے والے سیاستدا ن کے لئے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ اگلے روز ایک
مزید پڑھیے


وِل سمتھ کے ساتھ چند لمحات

اتوار 23  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
دو روز قبل کالم میں اپنی پسندیدہ موضوعات اور دلچسپیوں کا تذکرہ کیا۔ ایک بات رہ گئی تھی کہ سپورٹس بھی میرا پسندیدہ شعبہ ہے۔کھیلوں میں سب سے زیادہ کرکٹ سے دلچسپی ہے، مگر ٹینس، فٹ بال بھی پسند ہیں۔ فٹ بال کے ورلڈ کپ میچز اور ٹینس کے گرینڈ سلم ٹورنامنٹ خاص کر ومبلڈن ۔ایک زمانے میں ہاکی میچز بھی شوق سے دیکھتے تھے۔ریسلنگ البتہ سخت ناپسند ہے ۔ اپنے آپ کو عقلمند نہیں سمجھتے ، مگر یہ قطعی خواہش نہیں کہ کوئی اتنی شدت سے ہمیں بے وقوف بنائے ۔صاف نظر آرہا ہوتا ہے کہ یہ نورا
مزید پڑھیے


جو آپ جانتے ہیں، وہی آپ کو بچائے گا

جمعه 21  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جن کی زندگی میں صر ف ایک دلچسپی ہوتی ہے یا جو صرف ایک ہی مضمون یا موضوع کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ یہ کسی محقق کے لئے شائد اچھی بات ہو کہ ایک ہی مضمون میں سینکڑوں، ہزاروں گھنٹے گزارنے والے لوگ اس میں غیر معمولی مہارت حاصل کر لیتے ہیں، اگرچہ وہ محقق جس کا علم وسیع ہو اور اپنے خاص شعبہ کے علاوہ بھی کچھ دوسرے مضامین کے بارے میں عمومی علم ہو، وہ زیادہ بہتر علمی کام کر سکتا ہے۔ میری اپنی دلچسپی کئی موضوعات میں رہتی ہے۔ ادب
مزید پڑھیے


خبر کو ماننے سے پہلے جانچ لینا چاہیے

بدھ 19  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
میڈیا کے مستعداور فعال ہونے اور سوشل میڈیا کی موجودگی سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بہت سی خبریں جو پہلے دبا دی جاتی تھیں، اب وہ کسی نہ کسی شکل میں سامنے آ جاتی ہیں۔ ایک بڑا نقصان مگر یہ ہورہا ہے کہ بہت سی غلط، بے بنیاد اور فیک خبریں پھیل جاتی ہیں۔ شروع میں دھماکہ خیز خبر آتی ہے، لوگ اس جانب متوجہ ہوجاتے ہیں۔ چند گھنٹے گزرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ حقائق کچھ اور تھے۔ایسی غلط خبریں اتنے میں پھیل جاتی ہیں اور واضح تردید نہ ہونے کے باعث ان پر کالم اور
مزید پڑھیے