BN

محمد عامر خاکوانی


اندھا کنواں


چند ہفتے قبل بھارت کے ایک مقبول نوجوان اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے خودکشی کرنے کی خبر آئی۔ جس کسی نے وہ خبر سنی، حیران ہوا۔اس لئے بھی کہ سوشانت سنگھ خاصا مشہور اداکار تھا، اس کی کئی فلمیں ہٹ ہوئیں اور وہ نوجوان نسل میں مقبول تھا۔ ایک بظاہر کامیاب اور کروڑوں روپے سالانہ کمانے والا شخص اچانک زندگی کیوں ختم کر لے گا، یہ خیال ہر ایک کے ذہن میں پیدا ہوا۔ بھارت میں اس واقعے کے بعد دو طرح کے طوفان اٹھے۔ سوشانت کے مرنے کے بعد پتہ چلا کہ اس کو تین چار بڑے فلم ساز
جمعه 24 جولائی 2020ء

بنیادی مقدمات

منگل 21 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
کیا پاکستان میں سیاست دم توڑ چکی ہے؟نظام معاشرت باقی نہیں رہا؟سیاسی عمل سیاسی اقدار کا پابند نہیں ہے؟پاکستانی سیاست کے بنیادی مقدمات ہیں جن کی طرف لوٹے بغیر بہتری نہیں آ سکتی؟ یہ اور اس جیسے دیگر سوالات پر ہمارے دانشور حضرات پریشان ہوتے ہیں، انہیں یہ فکر بھی لاحق رہتی ہے کہ سیاسی نظام چل رہا ہے،مگرجمہوریت حقیقی شکل میں موجود نہیں۔ ایک محترم قلمکار دوست نے گزشتہ روز انہی نکات پر لکھا ، انہوں نے لکھا کہ چند بنیادی مقدمات پر فکری یک سوئی جب تک نہیں ہوگی، سیاست کی فطری ساخت بحال نہیں ہوسکتی۔ چار پانچ
مزید پڑھیے


دس بیس آدمی

اتوار 19 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ندا فاضلی کا مشہور شعر ہے ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا اسے کئی حوالوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے، ان میں سے ایک سیاست بھی ہے۔سیاستدان انسان ہیں اور ان کے بھی کئی شیڈز ہوتے ہیں ، بیک وقت کئی چہرے، کئی انسان جو ایک وجود میں سمائے ہیں۔ کسی کا منفی چہرہ ہمارے سامنے ہوتا ہے، مگر اس کے اندر دل موہ لینے والا مثبت انسان بھی موجود ہے، صرف اسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح ہم بطور مداح کسی لیڈر کی محبت
مزید پڑھیے


مادر ملت انتخابی معرکہ کیوں ہاریں؟

جمعه 17 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستان کی قومی سیاسی تاریخ کے حوالے سے کچھ باتیں بار بار دہرانے کی ضرورت رہتی ہے۔ ہر چند برسوں کے بعد پروپیگنڈے کی ایک لہر آتی ہے ، جس کا مقصد حقائق کو مٹانا اور اپنی پسند کی چیزیں نمایاں کرنا ہوتا ہے۔ اگر انہیں بروقت چیلنج نہ کیا جائے تو کچھ عرصے بعد انہیں درست تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ پچھلے کالم میں لکھا کہ محترمہ فاطمہ جناح کے حوالے سے یہ تاثر درست نہیں کہ انہیں ریاستی یا قومی سطح پر غدار قرار دیا گیا تھا ۔ اگرچہ اسی کالم میں یہ وضاحت کر دی تھی
مزید پڑھیے


حقائق بدلنے کی کوشش نہ کریں

منگل 14 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ہمارے ہاں دوتین قسم کے رجحانات عام ہو رہے ہیں،کسی بے بنیاد اور غلط تھیوری کوایسے زور شور کے ساتھ پھیلانا کہ کچھ عرصے بعد لوگ اسے سچ ماننے لگیں بلکہ ان کی حیثیت عالمگیر سچ کی ہوجائے۔ دوسرا ہر وقت اپنی قوم پر لعنت ملامت کے تیر برساتے رہنا ۔تیسرا اپنی پسند کے موقف کو ترویج دینا اور تصویر کے دوسرے رخ کوسامنے نہ آنے دینا۔مختلف طبقات اپنی اپنی وجوہات کی بنا پریہ ایسا کرتے ہیں۔ کسی پر سیاسی تعصبات غالب آجاتے ہیں، لیڈر کی محبت منفی پہلوئوں کی طرف دیکھنے کی توفیق نہیں دیتی۔بعض لوگ
مزید پڑھیے



کراچی کو سپیشل سٹیٹس ملنا چاہیے

جمعه 10 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
آج کراچی کی بات کرنی ہے، مگر پہلے پچھلے دونوںکالموں کے فیڈ بیک پر مختصر تبصرہ ۔جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے جب بھی لکھا جائے ، کچھ لوگ دو تین سوال ضرور پوچھتے ہیں۔ ان میں سے ایک سوال تو بچوںجیسا ہے۔ آپ اپنے گھر میں بچوں پر کوئی پابندی لگائیں، کسی بچے سے ویڈیو گیم لے لیں، موبائل نہ اٹھانے کا حکم جاری کر دیں تو اس کا پہلا ردعمل یہی ہوگا ، مجھ سے لیا ہے تو فلاں بچے سے بھی لیں۔انہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہر ایک کا معاملہ مختلف ہوتا ہے۔سات سالہ بچے اور
مزید پڑھیے


جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ منزل نہیں، پہلا قدم ہے

بدھ 08 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
تحریک انصاف کی حکومت نے جنوبی پنجاب کے ووٹرز کے ساتھ ایک اہم وعدہ تو پورا کر دیا ہے۔ نیا صوبہ بنانے کے لئے اسمبلیوں میں اکثریت ان کے پاس نہیں ، وہ نہیں بنا سکتے ، مگر ریجنل سیکریٹریٹ بنانا ممکن تھا، وہ بنا دیا گیا۔ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد یعنی پچھلے پچاس برسوں میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کسی حکومت نے جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے ریجنل سیکریٹریٹ بنا دیا ہے۔شہباز شریف صاحب نے وعدہ کیا تھا، مگر عملی قدم اٹھانے سے دانستہ گریز کیا، ورنہ ان جیسے مضبوط ایڈمنسٹریٹر کے لئے یہ کوئی مسئلہ
مزید پڑھیے


جنوبی پنجاب ریجنل سیکریٹریٹ کا فیصلہ

منگل 07 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
آخرکار تحریک انصاف کی حکومت سے کوئی اچھی خبر بھی سننے کو ملی ۔ عمران خان نے الیکشن سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ بنا ئیں گے۔ انہوںنے اپنے تمام دعوے اور وعدے ابتدائی سو دنوں سے منسلک کئے تھے۔ اس وقت خان صاحب کے وہم وگماں میں بھی نہیں ہوگا کہ حکومت ہوتی کیا ہے، اسے چلانے کے لئے کیا عملی مشکلات آتی ہیں اور کہاں کہاں رکاوٹیں درپیش ہوں گی۔ 2013ء میں تحریک انصاف مرکز میں توقع کے مطابق نشستیں نہیں لے پائی تھی، مگر خیبر پختون خوا میں اسے حکومت مل گئی
مزید پڑھیے


کہانیوں کی طلسماتی دنیا

اتوار 05 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
بعض کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جوایک بار پڑھنے کے بعد آدمی بھول نہیں سکتا۔ ان کا نشتر یوں رگ وجاں میں پیوست ہوجاتا ہے کہ نکالے نہیں نکلتا۔ ان کہانیوں کی دلکشی، کاٹ اور مرکزی خیال زہن کے نہاں خانوں میں محفوظ رہتا ہے۔ ایسی بہت سی کہانیاں ہیں۔ انہی کہانیوں میں سے ایک کہانی بہت عرصہ پہلے پڑھی۔ شدید کساد بازاری کے دنوں میں ایک منگول شہزادی کا قصہ ۔ وہ اپنے محبوب خاوند شہزادہ ایوان سمیت سب کچھ کمیونسٹوں کے ہاتھوں لٹا بیٹھی، اس نے یورپ کا رخ کیا۔ اس کے پاس صرف تین بیش قیمت ہیرے بچے
مزید پڑھیے


قوم پرستوں کے پنجاب کے میڈیاسے شکوے

جمعه 03 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
سوشل میڈیا پرموجود بلوچ قوم پرست احباب ایک شکوہ عام طور سے کرتے ہیں کہ ان کے مسائل اور ایشوز مین سٹریم میڈیا اور خاص طور سے پنجاب کے کالم نگار، تجزیہ نگار بات نہیں کرتے۔ یہ شکوہ انہیں کراچی اور خیبر پختون خوا کے صحافیوں سے بھی ہوگا، مگر پنجاب کا نام آتے ہی ہمارے تمام قوم پر ستوں کی زبان اور قلم میں خاص قسم کی تلخی نمودار ہوجاتی ہے۔ اس لئے روئے سخن پنجاب کے اہل قلم کی طرف رہتا ہے۔ ایک دوسری طرح کا شکوہ پچھلے کچھ عرصے سے پی ٹی ایم کے حامی پشتون احباب
مزید پڑھیے