BN

محمد عامر خاکوانی



اخوان المسلمین کی خطا کیا تھی؟


سابق مصری صدر ڈاکٹر مرسی کی المناک موت کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اخوان المسلمین ایک بار پھر سے زیربحث آ رہی ہے۔ اخوان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ غیروں نے تو ظلم کرنا ہی تھا، اپنوں نے بھی قیامت ڈھائی ۔ مغربی میڈیا میں اخوان المسلمین کے موقف کو کبھی درست انداز سے سمجھا یا پیش ہی نہیں کیا گیا۔’’ پولیٹیکل اسلام‘‘ کی اصطلاح تخلیق کر کے اخوان کو مغربی تہذیب کے لئے ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا۔عرب میڈیا(انگریزی، عربی دونوں طرح کے اخبارات، چینلز) نے مغربی میڈیا
اتوار 23 جون 2019ء

اخوان المسلمون کو جانے بغیر رائے نہ دیں

جمعه 21 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
لکھنے والے بسا اوقات کئی باتیں ایک خاص انڈسٹینڈنگ کے تحت لکھتے ہیں ، اندازہ ہوتا ہے کہ قارئین اس ایشو کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتے ہوں گے اور کچھ لوگوں کا اس حوالے سے سے مطالعہ زیادہ تفصیلی ہوگا۔بہت سی باتیں انڈرسٹڈ سمجھی جاتی ہیں کہ پڑھنے والے اس بارے میں جانتے ہی ہوں گے۔جیسے آج کل اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاح بہت زیادہ سننے، بولنے میں آ رہی ہے۔ کالم نگار اسٹیبلشمنٹ کے کردار ، اس کی سوچ ، غلطیوں وغیرہ کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی لکھنے والا ہر بار پہلے ایک کالم
مزید پڑھیے


جوہر امتحان میں سرخرو ہوا

بدھ 19 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
یہ دس سال پہلے ،دسمبرکی ایک سہہ پہر تھی جب مجھے قاہرہ میں اخوان المسلمین (Muslim Brotherhood)کے دفتر وزٹ کرنے کا موقع ملا۔مصرپر ان دنوں بدترین مصری ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت تھی، ٹھیک سوا سال بعد قاہرہ کی سڑکیں ’’ارحل یا مبارک (مبارک چلے جائو)‘‘کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی تھیں۔ یہ عرب سپرنگ کا آغاز تھا، جس نے مڈل ایسٹ کو ہلا کر رکھ دیا، تیونس ، مصر، لبیا، یمن کی حکومت الٹ گئیں، شام میں خوفناک خانہ جنگی شروع ہوئی جس نے یہ حسین ملک لاشوں کا ڈھیر اور کھنڈر بنا دیا۔خیروہ لمحات ابھی مستقبل
مزید پڑھیے


شکست کی ذلت

منگل 18 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
صاحبو! ہم اس کے قائل نہیں کہ’’ قومی کرکٹ ٹیم تم ہارو یا جیتو، ہمیں تم سے پیار ہے‘‘۔ ہرگز نہیں ہمارا پیار اتنا بھی غیر مشروط نہیں، پہلے خود کو اس کا مستحق ثابت کریں۔یہ بھی ایک بیکارجملہ ہے کہ کھیل میں ہارجیت ہوتی رہتی ہے، اس لئے جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔پہلی بات تو یہ کہ جذبات سے بے بہرہ کون ہوسکتا ہے؟صرف مجسمے، مجنوں ،اورمردہ ہی اس سے پاک ہوسکتے ہیں۔ ہار جیت بے شک سکے کے دو رخ ہیں، ایک ٹیم نے ہارنا، ایک نے جیتنا ہے۔ ہمارا مطالبہ یہ نہیں کہ ہمیشہ جیتتے رہو۔ کوئی احمق
مزید پڑھیے


تقریر اور اس کے بعد

جمعه 14 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
کالم نگاروں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کالم کا موضوع،مواد، اس کے لئے وقت سب کچھ میسر ہے، مگر اس دن کالم نہیں دے سکتے کہ ہر کالم نگار کو مخصوص دن الاٹ ہوتے ہیں۔ جیسے ہمارا کالم جمعہ، اتوار، منگل کو شائع ہوتا ہے۔عمران خان کی تقریر کے اگلے روز اس پر لکھنے کا ارادہ تھا، مگر ممکن نہیں ہوسکا، اب دو دن گزر گئے ، کئی سینئر ساتھیوں نے اس پر لکھ بھی ڈالا۔ اس کے باوجود ہم بھی اپنا کتھارسس کر یں گے، اس لئے کہ اس رات اپنے زیادہ دلچسپ، مفید کام
مزید پڑھیے




سرائیکی وسیب میں چند دن

منگل 11 جون 2019ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلا پورا ہفتہ سرائیکی وسیب میں گزرا۔’’وسیب ‘‘کی اصطلاح سرائیکی خطے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ ستائیس رمضان سے لے کر عید کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد تک احمدپورشرقیہ، بہاولپور اور پھر ملتان میں رہا۔سخت گرمی نے ہر ایک کے حواس مختل کر رکھے تھے۔ چھیالیس، اڑتالیس ڈگری سینٹی گریڈ میں آدمی آخر کیا کر سکتا ہے؟روزمرہ معمولاتِ زندگی مگر موسموں کی سختی سے بے نیاز ہیں۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی سخت گرمی پڑتی ہے،جنوبی پنجاب میں مگر صحراکے اثرات سے’’ آتشی مزاج لو‘‘میں تندی، کاٹ بڑھ جاتی ہے۔ ملتان میں تو خاص طور سے
مزید پڑھیے


عہد جو زندگی بدل سکتے ہیں

جمعه 31 مئی 2019ء
محمد عامر خاکوانی
زندگی میں بعض واقعات، مکالمے یا لمحات ایسے بھی آتے ہیں جن کے نقش کبھی مدھم نہیں پڑتے۔جب کبھی ان کا خیال آیا، دل انبساط سے سرشار ہوجاتاہے۔ ہمارے ہاں یہ عام رواج بن گیا ہے کہ اِدھر اُدھر سے منفی واقعات ڈھونڈ، انہیں یکجا کر کے سماج کی ایک بدہئیت، سیاہ تصویر بنا دی جاتی ہے۔ لفظوں کا کچھ ایسا تانا باناتحریر کر دیا گیا جسے پڑھنے کے بعد آدمی ڈپریشن اور مایوسی کی خوفناک دلدل میں دھنستا چلا جائے۔ ایسا نہیں کہ ہمارے آس پاس ظلم، نفرت،وحشت موجود نہیں۔ بہت کچھ ناپسندیدہ ہے۔ خاصا کچھ مگر وہ بھی
مزید پڑھیے


وزیرستان میں کسی بلنڈر کی گنجائش نہیں

بدھ 29 مئی 2019ء
محمد عامر خاکوانی
والدہ محترمہ کی علالت کی وجہ سے پچھلے چند دنوں سے بری طرح الجھا ہوا ہوں۔ ماں اگر آئی سی یو میں ہو تو ظاہر ہے تما م تر توجہ ادھر ہی مرکوز ہوگی۔انتظار گاہ میں بیٹھے سامنے لگے ٹی وی سیٹ پر البتہ نظر پڑ جاتی توخبروں کے ٹکرز دیکھ لیتا۔وزیرستان میں جس طرح اچانک کشیدگی بڑھی ، اس سے بڑی تشویش ہو رہی ہے۔ فورسز اور مقامی آبادی کے درمیان ٹکرائو ہمیشہ خطرناک اور نہایت نقصان دہ ہوتاہے ،خواہ اس کا دائرہ کار جتنا بھی محدود ہو۔ محسن داوڑ اور اس کے ساتھیوں کی جانب
مزید پڑھیے


مولانا فضل الرحمن کیا کر سکتے ہیں ؟

بدھ 22 مئی 2019ء
محمد عامر خاکوانی
مولانا فضل الرحمن ہماری سیاست کا ایک اہم اور معروف کردار ہیں۔ کوئی تین عشروں سے ان کی سیاست میں مختلف فیز آئے ہیں۔ ابتدا انہوں نے اپوزیشن سے کی۔ جنرل ضیاء کے دورحکومت میں وہ اپوزیشن اتحاد ایم آر ڈی کا حصہ رہے، غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ بھی کیا۔ جنرل ضیا ء کے حادثے کے بعد ملک میں جماعتی سیاست شروع ہوئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے مابین سخت سیاسی کشمکش چلتی رہی۔ مولانا فضل الرحمن ابتدا میںکچھ عرصہ اپوزیشن میں رہے، مگر پھر انہوں نے کمال ہوشیاری کے ساتھ موقعہ دیکھ کر اپنا
مزید پڑھیے


جنوبی پنجاب صوبہ ۔ چند اہم سوالات

اتوار 19 مئی 2019ء
محمد عامر خاکوانی
سب سے پہلے تو یہ وضاحت کہ اس موضوع پر سردست یہ آخری کالم ہوگا،کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں نئے صوبے کی بحث کے سوا۔ جنوبی پنجاب صوبہ کی جب بھی بات چھیڑی جاتی ہے، ہر بار دو تین سوالات لازمی پوچھے جاتے ہیں۔ اس بار ایک دو کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان سوالات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں ،نیوز ٹاک شوز کی زبان میں کوئیک ریویو کہہ لیں۔ جنوبی پنجاب بنانا ہے تو پھر سندھ، بلوچستان ، خیبر پختون خوا کو بھی تقسیم کیا جائے۔ یہ عجیب وغریب اعتراض ہے۔ ایسے ہی کہ اگر کسی
مزید پڑھیے