BN

محمد عامر خاکوانی



عمران خان کی ٹیم پر تنقید کیوں؟


وزیراعظم عمران خان کوا پنے نقادوں سے یہ شکوہ ہے کہ وہ انہیں بے رحم تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اپوزیشن کے زمانے میں بھی خان صاحب یہ کہا کرتے تھے کہ سیاسی مافیاز ان کی کردار کُشی کررہے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی شکایت اور شکوے پہلے سے بڑھ رہے ہیں۔ ڈیڑھ سالہ حکومتی دور میں انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان اپنے مخالفین کو مافیاز کہہ کر پکارتے ہیں۔ ہر دو چار دنوں کے بعد وہ اپنے کسی تندوتیز بیان میں لوگوں کو یاد دلاتے ہیں کہ
منگل 21 جنوری 2020ء

ملفوظات

اتوار 19 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلے کالم میں احمدپورشرقیہ کے ممتاز عالم دین اور مدرس علامہ عبداللہ کا ذکر آیا۔ مولانا عبداللہ کی کتابوں کے حوالے سے گزشتہ نشست میں لکھا تھا۔ ان کا مجموعہ ’’تالیفات علامہ عبداللہ‘‘کے نام سے شائع ہوا ہے۔خلافت وملوکیت پر نقد کے حوالے سے ان کی کتاب’’ صحابہ کرامؓ پر تنقید‘‘ مشہور ہوئی۔مولانا عبداللہ نے’ ’خطبات بہاولپور کا علمی جائزہ‘‘کے نام سے ڈاکٹر حمیداللہ کے مشہور خطبات میں بیان کئے گئے بعض علمی تفردات پر گرفت کی اور حق ادا کر دیا۔ مولانا عبداللہ کے سوانح اور افکار کی تفصیل ’’تذکرہ مولانا عبداللہ ‘‘ کے نام سے ایک کتاب میںموجود
مزید پڑھیے


ذاتی محرومی

جمعه 17 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلے ہفتے ذاتی صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔ بزرگوں کی دعائیں اس کٹھن زندگی کو آسان بناتی اور تاریکیوں میں امید کی کرن جگاتی ہیں۔ ان دعائوں سے محرومی ایسا بڑا صدمہ ہے جس کا متبادل نہیں۔زندگی کا سفر کچھ ایسا ہے کہ جذباتی دھچکے، صدمے اٹھا کر پھر سے چلنا شروع کردیتے ہیں، وہ گھائو مگر مندمل نہیں ہوتے۔ ہر اہم موقعہ پرقلب وجاں سے پھر لہو رسنے لگتا ہے۔ پچھلے سال دو جون کو والدہ محترمہ ستائیس رمضان کی صبح دنیا ئے فانی سے رخصت ہوگئیں، اسی شام احمد پورشرقیہ کے ہمارے آبائی قبرستان میں تدفین
مزید پڑھیے


تبدیلی کی ت

جمعه 10 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
امریکہ کے بارے میں مشہور ہے کہ دنیا کے حوالے سے بیشتر اہم فیصلے وہاں ہوتے ہیں یا ان کے ہونے نہ ہونے میں امریکہ کا ہاتھ ہے۔ کچھ پر امریکہ کا بس نہیں بھی چلتا، حالات یا تاریخ کا جبرکئی جگہوں پر روک دیتا ہے۔ کیوبا کا فیڈل کاسترو امریکہ کے بغل میں بیٹھ کر پچاس سال سپرپاور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا رہا، امریکی صدور دانت پیسنے کے سواکچھ نہ کر پائے۔ کاسترو پر کئی قاتلانہ حملے کرائے گئے،تختہ الٹنے کی کوششیں ہوئیں، سب ناکام رہیں۔ ایک بڑی وجہ سوویت یونین کا کیوبا کے پیچھے کھڑا ہونا
مزید پڑھیے


یک طرفہ سیاسی رومان مایوس ہی کرتا ہے

منگل 07 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بل پر دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے جو طرز عمل اپنایا، اس سے ان کے پرجوش کارکنوں اور نظریاتی حامیوں کو دھچکا لگا ہے۔ پیپلزپارٹی سے حسن ظن رکھنے والے بھی اب کچھ شرمائے شرمائے، آنکھیں جھکائے پھر تے ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل یا تاویل نہیں بچی۔ دو چار نے بلاول بھٹو کی اس دلیل کی آڑ لینے کی کوشش کی کہ ہم نے بل پارلیمانی قاعدے کے مطابق منظور کرانے پر زور دیا ہے اور صرف اسی صورت میں حمایت کر رہے
مزید پڑھیے




مایوسی کی دھند میں لپٹا کالم

جمعه 03 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ایک اور سال گزر گیا۔نئے سال کو تین دن ہوچکے ہیں، کچھ ہی عرصہ میں ایک بار پھر دسمبر کے آخری دن ہمیں یاد دلائیں گے کہ یہ سال بھی بیت گیااور نیا سال آن پہنچا۔ وقت کی رفتار کچھ زیادہ تیز ہوگئی ہے یا ہمارا روزمرہ کے معمول ایسے مشینی ہوچکے کہ ہفتے دنوں میں اور مہینے ہفتوں میں تبدیل ہوگئے۔ سال شروع ہونے کے کچھ ہی دنوں بعد غور کریں تو معلوم ہوتاہے کہ چارپانچ ماہ چلے گئے۔ وقت کے توشہ خانے میں معلوم نہیں کس کے لئے کیا بچا ہے، بس اس مہلت کو غنیمت سمجھ کر
مزید پڑھیے


کچھ نمکین کا ذکر ہوجائے

منگل 31 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
یونیورسٹی کے زمانے میں ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے۔ کھانے پینے کا ازحد شوق تھا۔ ان کا ایک مشہور قول تھا کہ جسم میں نمکین اور میٹھے کا بیلنس برقرار رکھنا بڑااہم ہے۔موصوف ذوق شوق سے کچھ نمکین پکوان کھاتے ۔تھوڑی دیر بعد فرماتے کہ میں نمکین کو بیلنس کرنے کے لئے میٹھا کھانا چاہتا ہوں۔ جب میٹھے میں کھیر،ربڑی، آئس کریم یاگرم گرم گلاب جامن کی ایک دو پلیٹیں ہڑپ کر لیتے پھر انہیں خیال آتا کہ جسم میں میٹھے کی مقدار کچھ زیادہ ہوگئی ،اسے کچھ نمکین سے بیلنس کرنا چاہیے۔ یوں یہ سلسلہ جاری رہتا۔ اسی
مزید پڑھیے


چند اچھوتے ذائقے

جمعه 27 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
محکمہ موسمیات والے شدید سردی کی خبردے رہے ہیں، بتایا جا رہا ہے کہ صرف دو دن بعد ٹھنڈ کی ایک اور شدید لہر پنجاب اور ملک کے بعض دیگر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ ہم لاہوری تو پہلے ہی اس بار معمول سے بہت سرد ، خون جما دینے والے دسمبر کا سامنا کر رہے ہیں۔سردیوں کے یہی دن نت نئے پکوانوں اور روایتی ڈشز کے ہیں۔ سیاست اور کرنٹ افیئرز کی اس دلدل میں کھانے پکانے کی باتیں شائد اجنبی لگیں، مگر اجنبی کیوں ہوں گی، انسان کی جدوجہد کا ایک مقصد تو لذت کام ودہن
مزید پڑھیے


سرد موسم، ٹھنڈی سیاست، گرم پکوان

منگل 24 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
آج کل شدید سردی کی لہر آئی ہے، لاہورسمیت پنجاب، کے پی، بلوچستان اور سندھ کے بیشتر شہردھنداور یخ بستہ ہوائوں کی زد میں ہیں۔ گلگت بلتستان میں تو خیر ان دنوں ویسے بھی درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے کا رخ کرنے لگتا ہے۔ کراچی کے سوا شائد ملک بھر میں زبردست قسم کی برفیلی ہوائیں چل رہی ہیں۔ کراچی میں بھی یار لوگوں نے اپنے کوٹ نکال لئے کہ یہی چند دن ہی انہیں اس کے لئے مل پاتے ہیں۔لاہور میں رہتے تیئس چوبیس سال ہونے کو آئے ہیں، بڑے طویل عرصے بعد دسمبر میں اتنی سردی
مزید پڑھیے


بدترین فیصلہ

جمعه 20 دسمبر 2019ء
محمد عامر خاکوانی
دو دن پہلے دوستوں کی ایک محفل میں گفتگو ہو رہی تھی، ہم اس پر کڑھ رہے تھے کہ نجانے بطور قوم ہم اس قدر غیر ذمے دار اور لاابالی کیوں بن چکے ہیں کہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے ہیں، اسے بے ڈھنگے پن سے بگاڑ دیتے ہیں۔ فائدہ پہنچنے کا امکان ہو تب بھی ہمارے حصے میں نقصان ہی آتا ہے۔مثالیں تو بے شمار دی جاسکتی ہیں، مگر ہماری بحث حالیہ کوالامپور کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم کی عدم شمولیت کے حوالے سے تھی۔ یہ پورا معاملہ بدترین مس ہینڈلنگ کا شاخسانہ ہے۔ ذاتی طور پر میں اس کے
مزید پڑھیے