BN

محمد عامر خاکوانی


آل پارٹیز کانفرنس، کس کو کیا ملا؟


اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی)پر چاہے تنقید کی جائے یا اس کی ستائش، اس نے کچھ اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس کی اہمیت سے انکار کرنا مناسب نہیں ہوگا۔چار پانچ مختلف پہلو ہیں، ان پر بات کرتے ہیں۔ اے پی سی کا اپوزیشن کو سب سے بڑا فائدہ یہ ملا کہ نیم مردہ ، زندگی سے محروم حزب اختلاف میں جان پڑ گئی ہے۔ ان میں زندگی، تحرک کا احساس پیدا ہوا ہے۔ پچھلے دو برسوں میںاپوزیشن قیادت کایہ سب سے نمایاںسیاسی اکٹھ تھا۔ اس بار اپوزیشن کا موڈ زیادہ سنجیدہ، جارحانہ لگا۔ان کا روڈ میپ بھی واضح
منگل 22  ستمبر 2020ء

غیر مقبول یا غیرمنطقی موقف ؟

اتوار 20  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ایک معروف اور مقبول کالم نگار، اینکر نے اپنے تازہ ترین کالم میں کئی ایسے نکات لکھے ہیں،جن پر بات کرنا ضروری ہے۔اس سے پہلے ضروری ہے کہ اس کالم کے چند اقتباسات پیش کئے جائیں تاکہ جس کسی نے نہیں پڑھے، وہ باخبر ہوجائے اور اپنی ’’اصلاح‘‘فرما لے۔ وہ لکھتے ہیں:’’پنجاب پاکستان کا 60 فیصد ہے‘ یہ 12کروڑ لوگوں کا صوبہ ہے چناں چہ آپ جس طرف بھی نکل جائیں آپ کو وہاں پنجابی سوچ کا غلبہ ملے گا اور ہم پنجابیوں کی سوچ یہ ہے‘ اول ہم خود کچھ کرتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کو کرنے دیتے
مزید پڑھیے


وِکٹم بلیمنگ کیوں غلط ہے ؟

جمعه 18  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
وِکٹم بلیمنگ(Victim Blaiming) یعنی کسی جرم کا نشانہ بننے والے فرد(مرد یا عورت)پر تنقید کرنا، الزام لگانا ہر اعتبار سے غلط ، ناجائز اور ظلم درظلم ہے۔ اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہوگی کہ ایک شخص ظلم اور تشدد کا نشانہ بنا ہے، اوپر سے لوگ اس پر تنقیدشروع کر دیں۔ کسی واردات کاہدف کوئی خاتون بنی ہو تو ہر ایک کو نہایت احتیاط اور ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔ خواتین طبعاً حساس اور نازک ہوتی ہیں۔ اس لئے جب کوئی خاتون خدانخواستہ کسی واردات کا نشانہ بنے تو میڈیا، پولیس ، اہل خانہ، عزیزواقارب، محلے دار
مزید پڑھیے


سانحہ لاہور سے کیا سبق سیکھنے چاہئیں؟

منگل 15  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
سانحہ لاہورکے بعد پچھلے چند دنوں میں کروڑوں لوگ جس تکلیف اور کرب سے گزرے ، اس کے بارے میںکچھ بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔ابھی یہ معاملہ ختم نہیں ہوا۔ ایک مجرم گزشتہ روز گرفتار ہوا۔ انہیںسخت ترین سزائیں دینے کی بات ہو رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے قانون سازی کا عندیہ دیا ہے۔ ایک اور نئی تجویز گینگ ریپ کے مجرموں کی آختہ سازی (خصی کر دینے)کے حوالے سے بھی آئی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس حوالے سے شرعی پہلو کیا ہیں اور کیا یہ ممکن ہے؟ یہ بات بہرحال طے ہے کہ اس
مزید پڑھیے


اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے

اتوار 13  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
وہ سانحہ جس نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ، اس معاملے میں ایک بڑی کامیابی تو یہ حاصل ہوگئی کہ ان مکروہ درندوں کی شناخت ہوگئی۔ وہ دونوں بدبخت جنہوںنے مظلوم خاتون کی زندگی برباد کی ، ان شااللہ اب عبرت ناک سز ا ان کا مقدر بنے گی۔ صوبائی حکومت اور پولیس کو اس کامیابی پر سراہنا چاہیے۔ یہ ایک ایسا جرم تھا جس کے مرتکب ملزموں کو ڈھونڈناآسان نہیں تھا۔ آدھی رات کو اس واردات کے بعد نامعلوم ملزم غائب ہوگئے ، ان تک پہنچنا بڑا چیلنج تھا۔ پولیس
مزید پڑھیے



منفی شیشوں والی عینک

جمعه 11  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
یہ خاکسار عمر عزیز کے اس موڑ پر عینک لگانے پر مجبور ہوگیا ہے۔ نظر کی عینک لگائے بغیرکچھ نہیں پڑھا جا سکتا۔ موبائل پر میسج دیکھنا ہو اور عینک پاس نہ ہو توخاموشی سے موبائل پرے کھسکانے کے سوا اور آپشن نہیں۔ دور کی نظر ابھی زیادہ کمزور نہیں ہوئی، مگرڈرائیونگ کرتے ہوئے یا ایل ای ڈی پر کرکٹ میچ دیکھتے دور کی عینک لگانا پڑتی ہے۔یہ تمہید اس لئے کہ مجھے اندازہ ہے عینک کی دنیا میں پلس ، مائنس سے کچھ اور مراد لیا جاتا ہے۔ اس کالم کا عنوان مگر نظر کی عینک سے متعلق نہیں،
مزید پڑھیے


اسرائیل کے حوالے سے ہمارا قومی موقف کیا ہونا چاہیے ؟

منگل 08  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
سوال بڑا سادہ ہے، اس کے دو متعین جواب ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کو بھی متحدہ عرب امارات کی طرح اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے یا ہمیں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ دوسرے حصے کا ایک ترمیمی جواب بھی ہوسکتا ہے ،یعنی اسرائیل کو فی الحال تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ہماری عرض صرف یہ ہے کہ آپ کا جو بھی نقطہ نظر ہو، دلیل کے ساتھ اسے بیان کریں اور اپنا مقدمہ ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا مقدمہ تین چار بڑے دلائل پراستوار کیا جاتا ہے۔سب سے بڑی دلیل جو بعض ٹھیٹھ
مزید پڑھیے


تاریخ مسخ کرنے کے بجائے دلیل دی جائے

جمعه 04  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
سوچا تھا کہ غیر جذباتی انداز میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے سوال پر بات کی جائے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہم ہر اہم ایشو پر بات کرتے ہوئے شہنشاہ جذبات کیوں بن جاتے ہیں؟نہایت جذباتی لب ولہجے میں عجیب وغریب دلائل کے انبار لگا دئیے جاتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے تاریخ کے پرخچے اڑا نے میں حرج نہیں سمجھتے۔ تاریخی واقعات کی من پسند تعبیرکر دی جاتی ہے ۔ہمیں ان سب سے نکل آنا چاہیے۔بطور فرد اور بطور قوم اب بالغ ہوجانا چاہیے۔ ایشوز پر سنجیدگی اور متانت سے بات کی جائے۔اسرائیل کو
مزید پڑھیے


مسئلہ فلسطین، براہ کرم تاریخ سے کھلواڑ نہ کریں

منگل 01  ستمبر 2020ء
محمد عامر خاکوانی
کالم نگار ہوں یا تجزیہ کار ہر کوئی اپنے مطالعہ، نظریے،مشاہدات، تجربات اور کبھی مخصوص افتاد طبع کے تحت لکھتا ہے۔بہت بار لکھنے والوں کی رائے ایک دوسرے سے انتہائی مختلف ہوتی ہے۔ انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ ہر کوئی اپنی سمجھ بوجھ، فہم اور سوچ کے تحت لکھتا ہے۔ بسا اوقات کسی تحریر میں حقائق مسخ ہوجاتے ہیں، تاریخ کے حوالے غلط اور مجموعی تاثر ایسا بنتا ہے جس سے قارئین مغالطوں کا شکار ہوجائیں۔ تب مجبوراً صورتحال کو واضح کرنے کے لئے لکھنا پڑتا ہے تاکہ ریکارڈ درست رہے اور غلط اطلاعات آگے چل کر کسی بے
مزید پڑھیے


عمران خان کی غلطیوں سے ہمیں کیا سبق ملتے ہیں؟

منگل 25  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
عمران خان کی حکومت کو دو سال ہوگئے۔ میڈیا میں دو برسوں کے حوالے سے تجزیے پیش کئے جارہے ہیں۔ تیز دھار رپورٹراور اینکرحضرات اپنی چھریاں، چاقو تیز کئے خان صاحب کے وزیراعظم بننے سے پہلے کے بلند وبانگ دعوئوں اور دو سالہ کارکردگی کا موازنہ کررہے ہیں۔ میڈیا کو اس کا پورا حق حاصل ہے۔ سیاستدان وعدے کر کے اقتدار میں آتے ہیں، اگر ان پر پورا نہ اتریں تو محاسبہ کرنا جائز اور منطقی ہے۔ عمران خان جیسے بڑبولے اور بغیر سوچے سمجھے بیان داغ دینے والے سیاستدا ن کے لئے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ اگلے روز ایک
مزید پڑھیے