BN

محمد عامر خاکوانی



کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے ؟


ایک اخبارنویس اور کالم لکھنے والے کی حیثیت سے ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ تصویر کے دونوں رخ دیکھے جائیں اور کسی بھی معاملے پر اگرایک سے زائد آرا موجود ہیں تو انہیں ضرور پڑھا، سنا، سمجھا جائے۔ ہر سوچنے، سمجھنے، لکھنے والے کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ مختلف اسباب کی بنیاد پر وہ سوچ بنتی ہے، خاندانی پس منظر، تعلیم، اساتذہ، طبعی میلان،نوجوانی میں ایام کس حلقہ فکر میں گزرے؟ پسندیدہ ادیب، شاعر، مفکر اور ان سے بڑھ کر زندگی میں حاصل ہونے والے تجربات، مشاہدات اور احساسات۔آپ کے والدین کی سیاسی سوچ کیا تھی، یہ فیکٹربڑا
اتوار 30 دسمبر 2018ء

اب حیرت کیوں نہیں ہوتی؟

جمعه 28 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
چند دن پہلے ایک معروف تجزیہ نگار نے بڑے تاسف سے لکھا کہ اب کسی اہم واقعے پر حیرت نہیں ہوتی ۔ انہوں نے اسے قومی المیہ قرار دیتے ہوئے لکھا،’’ ہم لوگ اداس ہوتے ہیں، خوش ہوتے ہیں، لیکن حیران نہیں ہوتے ۔حیرت اضطراب اور جستجو کو جنم دیتی ہے، حیرت کھو جائے تو جستجو دم توڑ جاتی ہے اور جستجو کی موت بے حسی کا جنم ہے۔‘‘اس تجزیے کے پس منظر میں ایک واقعہ انہوں نے بیان کیا، جس میں ایک صاحب نے میاں نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلہ آنے اور میاں صاحب کے واپس جیل چلے
مزید پڑھیے


محرومی صرف وعدوں سے دور نہیں ہوتی

جمعه 21 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستان میں مختلف حوالوں سے وسائل سے محرومی اور اس حوالے سے لوگوں میں پائی جانے والی فرسٹریشن کی سطح بہت بلند ہے۔ جس کسی سے بات ہو، اس کے پاس ایک ایسی دردناک کہانی ملے گی، جسے سن کر دل دکھ سے پھٹنے لگے۔اخبارنویسوں کا مختلف علاقوں کے قارئین سے رابطہ رہتا ہے، وہ اپنے دکھ ، درد شیئر کرتے رہتے ہیں، اس امید پر کہ شائد کہیں شنوائی ہوجائے۔ ادھر ہمارا وہ حال ہوچکا کہ بقول شاعر ایک روز کا رونا ہو تو رو کے چین آوے ہر روز کے رونے کو کہاں سے جگر آوے سرائیکی وسیب کے
مزید پڑھیے


انتخاب آپ کو کرنا ہے

منگل 18 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ٹی وی چینلز پہلے ہی زیادہ دیکھنے کو جی نہیں چاہتا تھا، عزت ماب چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم سے پڑوسی ممالک کے چینل مکمل طورپر بند ہوگئے، ہمارے لئے ایک آپشن اور کم ہوگئی۔ پیمرانے جس مستعدی اورولولے سے اس پر عمل درآمد کرایا، اس سے حیرت ہوئی ، یقینا اس پھرتی کے پیچھے کچھ اور فیکٹرز بھی پس پردہ کارفرما ہوں گے۔ پاکستانی انٹرٹینمنٹ چینلز کو اس سے یقیناً فائدہ پہنچے گا۔ اس پابندی کے چکر میںمگر سپورٹس اورڈاکومینٹری چینل بھی بین ہوگئے۔پاکستانی ڈرامہ چینلزکو مجبوراً کبھی چند منٹ کے لئے دیکھنا پڑے تو وحشت ہونے
مزید پڑھیے


جو راستے میں ہمت ہار بیٹھے

اتوار 16 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
آج کا کالم ایک شاندار کتاب کی نذر ہے۔’’حرفِ شوق‘‘ اردو کے لافانی نثرنگار مختار مسعود کی آخری کتاب ہے۔’’ آواز دوست ‘‘جیسی سحرانگیز کتاب سے تین عشرے قبل ان کا سفر شروع ہوا۔ اللہ نے پہلی تخلیق ہی کو غیر معمولی پزیرائی بخشی۔ اس کے درجنوں ایڈیشن فروخت ہوچکے ہیں، شائد ہی کوئی باذوق ہوگا، جس نے ’’آوازِ دوست ‘‘کو نہ پڑھا ہو۔ ’’سفرنصیب ‘‘ دوسری کتاب تھی ،اس میں ان کے سفری مشاہدات ہیں۔ ’’لوح ایام‘‘مختار مسعود کی ایک اور غیر معمولی کتاب ہے۔ انقلاب ایران کے دنوں کا چشم کشا مشاہدہ ۔ لوح ایام ایسی کتاب
مزید پڑھیے




Devil,s Advocate

جمعه 14 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
کتابیں پڑھنا ہمارا شوق، مشغلہ اور اب تو پیشہ ورانہ ضرورت بھی ہے۔ کتاب پڑھنے کا عمل کسی بیرونی موسم کا محتاج نہیں،ہر رُت میں بھلا لگتا ہے۔ دل میں بہار کا موسم چل رہا ہو تو مطالعہ کی سرشاری اور لذت سَوا ہوجاتی ہے۔ خزاں کی حزن آلود، اداس رُت کچھ اور اندازکی چیزیں پڑھنے پر اکساتی ہے، دھیمی موسیقی کے ساتھ جس کے سُر دل کی تاروں کو چھیڑیںاوراداسی دھل جائے۔یہ سب اپنی جگہ، مگر سردیوں کی گلابی شامیںاوریخ بستہ راتو ں میں کتابیں پڑھنے کا کچھ اپنا ہی لطف ہے۔ کسی ایسی یخ
مزید پڑھیے


معاشی ماڈل جسے کامیاب ہونا چاہیے

اتوار 09 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
دو دن پہلے شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا کہ پاکستان میں دو طرح کے معاشی ماڈل یا سکول آف تھاٹ اہمیت رکھتے ہیں۔ پہلا وہ جو کلاسیکل کیپیٹل ازم کاحامی ہے یعنی ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیاجائے، سرمایہ داروں کی حوصلہ افزائی ہو، حکومت کاروبار نہ کرے اور مارکیٹ کو آزاد چھوڑ دے۔بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمی سے نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی، معیشت ترقی کرے گی جس کے ثمرات نچلی سطح تک بھی پہنچ جائیں گے۔ یہ وہ ماڈل ہے جسے فالو کر کے پورے مغرب نے ترقی کی، ملائشیا، برازیل، بھارت جیسی ابھرتی بڑی معیشتیں
مزید پڑھیے


پہلا ماڈل

جمعه 07 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ہمارے ہاں عملی طور پر دو معاشی ماڈل یا تصورات موجود ہیں۔ پہلا کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی ، ان کی سرپرستی اور ہر قیمت پر معاشی سرگرمیاں بڑھانے کا ماڈل ہے۔ اس تصور پر یقین رکھنے والوں کے خیال میں کاروباری سرگرمیاں جاری رہنی چاہئیں، ملکی معیشت چلتی رہے، میگا پراجیکٹ لگتے رہیں، ا س سے روزگار ملے گا، ترقی ہوگی جس کے نتیجے میں عام آدمی کو بھی فائدہ پہنچے گا۔پرویز مشرف کے دور میں شوکت عزیز اس تصور کے حامی تھے، وہ اسے ٹریکل ڈائون ایفکٹ کہتے تھے کہ جب معاشی سرگرمی عروج پر ہوگی تو کچھ
مزید پڑھیے


ان لکھی ڈائری کے چنداوراق

اتوار 02 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ہماری نسل کے لوگ جو آج جوان ہیں نہ بڑھاپے کی سرحد میں داخل ہوئے ،ان کے اپنے ہی مسائل اور اپنی ہی دنیا ہے۔گزرتے وقت نے بہت کچھ چھین لیا، دل تو خیرابھی تک نوخیزی اور نوجوانی کے درمیان میں کہیں بھٹکتا پھرتا ہے، مگر دماغ اسے بے قابو نہیں ہونے دیتا۔ اب تو سر کے بالوں میں چاندی جھلکنے لگی اورایسے گستاخ دکانداروں سے واسطہ پڑنے لگ گیا ہے جو خاصی بے شرمی سے منہ بھر کر انکل کہہ دیتے ہیں۔ اوروں کا پتہ نہیں، ہمارے سینے میں یہ منحوس لفظ خنجر بن کر لگتا ہے ۔ ماضی
مزید پڑھیے


عمران خان سو دن میں کیا ڈیلیور کر پائے؟

جمعه 30 نومبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
پہلے سو دنوں میں حکمران جماعت تحریک انصاف کی کامیابیوں کی فہرست مرتب کرنا خاصا دشوار کام ہے۔جمعہ والا کالم میں نے جمعرات کی شام تک دے دینا ہوتا ہے۔ جمعرات کو دن بھر کئی اخبارنویس دوستوں سے بات ہوئی، ان میں وہ بھی تھے جو تحریک انصاف کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ان تمام دوستوں سے یہی درخواست کی کہ براہ کرم مجھے وزیراعظم عمران خان کی کامیابیوں کے حوالے سے آگاہ کریں تاکہ اپنے کالم میں یہ تفصیلات درج کر سکوں۔یہ سوال کسی کو پسند نہیں آیا، اکثر نے ٹکا سا جواب دے دیا کہ ہمارے پاس اتنا
مزید پڑھیے