BN

محمد عامر خاکوانی



پہلے سو دن، کامیابیاں، ناکامیاں


یہ اعتراف کرنا ضروری ہے کہ پہلے سو دنوں کی کارکردگی پر کسی حکومت کے حوالے سے فیصلہ دینا آسان نہیں اور کسی قدر غیر منصفانہ بھی لگتا ہے۔ مغربی جمہوریت میں پہلے سو دنوں کو ہنی مون پیریڈ سمجھاجاتا ہے، ایسے دن جن میں دلہن کے ناز اٹھائے ، چونچلے سہے جاتے ہیں، اس کی خوبیوں اور خامیوں پر نظر نہیں رکھی جاتی۔ سودنوں کے بعد البتہ محاسبہ کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ پہلے سو دن البتہ حکومت کی ترجیحات اور حکمران کے سیاسی ایجنڈے کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آنے والے دنوں
منگل 27 نومبر 2018ء

کیا وزیراعلیٰ عثمان بزدار سرائیکیوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں؟

جمعه 23 نومبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
سرائیکی خطے کو درپیش مسائل، وہاں موجود محرومیوں اور مشکلات کے حوالے سے سوچا تھا کہ کالموں کی ایک سیریز شروع کی جائے۔ اس سلسلہ کا پہلا کالم تین دن پہلے(منگل ، بیس نومبر)کو شائع ہوا۔ دو تین باتیں عرض کرنے کی کوشش کی تھی کہ پنجاب کی سب سے پسماندہ تحصیل تونسہ کے عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا اہم منصب سرائیکی وسیب کا فرزند ہونے کی وجہ سے ملا۔ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے دور اقتدار میں جہاں تک ممکن ہوسکے،حرماں نصیب، پریشاں حال سرائیکیوں کے مسائل دور کریں، ان کے زخموں پر مرہم
مزید پڑھیے


وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو کیا کرنا چاہیے ؟

منگل 20 نومبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
سرائیکی صحافیوں اور لکھاریوں کے ایک واٹس ایپ گروپ میں اس سوال پر بحث ہوئی کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو سرائیکی علاقوں کے مسائل حل کرنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟ مختلف لوگوں نے تجاویز اور مشورے دئیے، ایک دوست نے وہ بحث مجھے فارورڈ کی اور اس سوال کا جواب مانگا۔یہ کالم بنیادی طور پر اس سوال کا جواب پانے کی ایک جستجو ہے۔ جس کسی کو سرائیکی وسیب (خطے)میں رہنے، سفر کرنے یا وہاں کے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا، وہ یہ بات تسلیم کریں گے کہ وہاں کے مسائل بہت زیادہ ہیں اور اسی
مزید پڑھیے


یوٹرن

اتوار 18 نومبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے ابتدائی برسوں میں کسی امریکی اخبارنے اپنی رپورٹ میںان کے ایک ایڈوائزر کے حوالے سے لکھا ’’ جب جنرل مشرف اخبارنویسوں سے گفتگو کرنے کے لئے منہ کھولتا ہے، ہمیں شدید پریشانی لاحق ہوجاتی ہے کہ ابھی کوئی غلط بات کہی اور پھر اس کی تردید ، وضاحت پر گھنٹوں ضائع ہوں گے۔‘‘ یہ بات بالکل درست تھی ، جنرل پرویز مشرف متنازع بیانات دینے کے ماہر تھے۔ ایسے درجنوں بیانات ان کے ریکارڈ پر ہیں، جن کا آج تک کوئی دفاع نہیں کیا جا سکا۔ نواب اکبر بگٹی کے حوالے سے یہ
مزید پڑھیے


شاہد آفریدی کی اصل غلطی آدھا سچ بتانا ہے

جمعه 16 نومبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
کرکٹر شاہد آفریدی نے تین بنیادی غلطیاں کیں۔ اس معاملے میں زبان کھولی، جو اس کا شعبہ نہیں۔جس موضوع پر بات کی، اس کا علم نہیں۔تیسراایک حساس معاملے پر بات کرنے سے پہلے مناسب معلومات جمع نہیں کیں۔ ایک سوال پوچھا گیا، جواب نہیں معلوم، معذرت کر لیتا، اس کے بجائے اپنی ترنگ میں جو ذہن میں آیا ، وہ بول دیا۔ اندازہ ہی نہیں کہ وہ سیلبریٹی ہے۔ اس کے منہ سے نکلا ہر متنازع جملہ خبر بن جائے گا۔ویسے ان تینوں غلطیوں سے بڑی غلطی آدھاسچ بولنا ہے۔ اسی سے غلط تاثر قائم ہوا۔ شاہد خان آفریدی کرکٹر
مزید پڑھیے




میڈیامنصفانہ تجزیے کا مستحق ہے

منگل 13 نومبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ہمارے سیاستدانوں کو ہمیشہ یہ شکوہ رہتا ہے کہ میڈیااکثر اوقات ان کے حوالے سے یک طرفہ رپورٹنگ کرتا ہے ۔ان کے خلاف مبینہ کرپشن سکینڈل دانستہ طورپر شائع یا نشر کئے جاتے ہیں تاکہ سیاسی قوتیں کمزور ہوں اور غیر سیاسی قوتوں کو فائدہ پہنچے۔ کسی بھی معروف سیاسی لیڈر کا انٹرویو ٹی وی پر سنیں، یہ بات وہ ضرور کہے گا۔ پیپلزپارٹی کے لیڈر یہ پچھلے تین عشروں سے کہہ رہے ہیں ، چند ایک برسوں سے مسلم لیگ ن کے لوگوں نے بھی یہی گیت گنگنانا شروع کر دیا، ہمارے قوم پرستوں کو تو’’انسانی تاریخ‘‘ کے پہلے
مزید پڑھیے


آصف زرداری اور عمران خان نے کیا سکھایا؟

جمعه 09 نومبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ایک مشہور فارسی شاعر( غالباانوری)نے کہا تھا کہ آسمان سے جو بھی مصیبت نازل ہوتی ہے، نیچے آ کر پہلے یہ پوچھتی ہے کہ انوری کا گھر کہاں ہے ، تاکہ وہاں کا رخ کیا جائے۔ الحمدللہ ہمارے ساتھ مصیبت والا معاملہ تو نہیں، مگر بہرحال حالات حاضرہ کا ہمارے کالم کے ساتھ ایک خاص قسم کا سمبندھ ضرور ہے۔ جب ہم کوشش کرتے ہیں کہ کسی بڑے ،پھیلے ہوئے ایشو پر لکھیں اورایک کالم میں بات سمٹ نہ سکے تو دوسرے کالم میں اس پر لکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ اکثر اس کے فوری بعد حالات کچھ
مزید پڑھیے


حقیقت کے مختلف رخ

منگل 06 نومبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
برسوں پہلے ایک محفل میں سیاسی حالات پر بحث کرتے ہوئے ایک دانا نے کہا تھا،’’ ہم ملٹی ریالٹی ورلڈ میں جی رہے ہیں، یہاں کئی بار ایک سادہ حقیقت نہیں ، اس کے مختلف رخ ہوتے ہیں، اپنی اپنی جگہ پر لوگ اسے سچ اورحقیقت مان کر دوسرے تمام رخ نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک باقی سب باطل ، غلط اور فیک یعنی جعلی ہے۔‘‘ لاہور کے سفید بالوں والے اس پروفیسر کی بات آج کل کے حالات میں بار بار یاد آتی ہے۔ہمارے ہاں آئے روز نئے تنازعات اور مسائل جنم لے رہے ہیں، ایک
مزید پڑھیے


فیصلہ، ہنگامہ، معاہدہ۔ کس نے کیا حاصل کیا؟

اتوار 04 نومبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
پچھلے پانچ دنوں میں بہت کچھ ہو گیا اور خدا کا شکر ہے کہ بہت کچھ جو ہوسکتا تھا ، نہ ہوا۔ایک وقت آیا، جب یہ لگ رہا تھا کہ شائد ہمیں ایک اور لال مسجد، جامعہ حفصہ ٹائپ خونی آپریشن دیکھنے کو ملے۔شکر ہے یہ نوبت نہیں آئی۔معاہدہ ہوگیا، جس کے بعد فوری طور پر ٹکرائو کا خطرہ ٹل گیا۔ مستقبل میں کیا ہوتا ہے ، کیا نہیں، وہ الگ ایشو ہے۔ سردست تو ملک بھونچال سے باہر آگیا۔ اب ہمارے پاس وقت ہے کہ آنے والے خطرات کو ٹالنے کے لئے پہلے سے سوچ سکیں۔ اس کے
مزید پڑھیے


نئی حقیقتیں

منگل 30 اکتوبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
کہتے ہیں آدمی اگر سیکھنا چاہے تو وہ اپنے اردگردموجود کسی بھی چیز، معاملہ یاواقعے سے سبق سیکھ سکتا ہے۔ ایک دانا کا قول ہے ،’’میں نے نادان لوگوں کی گفتگو سے خود بولنا سیکھا، جو غلطیاں وہ کرتے تھے ، ان سے گریز کیا اور زمانے نے مجھے بہترین گفتگو کرنے والا تسلیم کرلیا۔‘‘یہ تو خیر دانائوں اور دانش مندوں کی بات تھی، ہمارے جیسے عام اخبار نویسوں کے لئے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ہے، اگر اپنے دائیں بائیں نظر رکھیں اور غور کریں۔ہمارے بعض رہنمائوں اور حکمرانوں نے حکومت اور سیاست کے حوالے سے میرے بعض
مزید پڑھیے