Common frontend top

BN

محمد عامر رانا


ہوم لینڈ سکیورٹی اور پاکستان


امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی طرز پرملک میں داخلی سلامتی کا ڈھانچہ قائم کرنے کا مطالبہ گزشتہ ہفتے اس وقت دوبارہ گونج اٹھا ،جب وفاقی دارالحکومت میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوا۔متعدد رکاوٹوں کے باوجود مالی منفعت سے بھرپور اور بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا داخلی سلامتی کا بنیادی ڈھانچہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کو ہمیشہ متاثر کرتا ہے۔ بیوروکریٹک ذہنیت نے مقامی سیاق و سباق، ضرورت اور موجودہ مالی اور ادارہ جاتی حدود کو مدنظر رکھے بغیر مغرب سے متاثر ہوکر نئے اقدامات تجویز کرنے کی عادت ڈال رکھی ہے۔ان کے ہاں سیکورٹی
پیر 19 دسمبر 2022ء مزید پڑھیے

احتجاج کا حق اور محکمہ پولیس کا چیلنج

منگل 15 نومبر 2022ء
محمد عامر رانا
ایسا لگتا ہے کہ عمران خان نے دانستہ اسلام آباد کی جانب اپنی پارٹی کے لانگ مارچ کی رفتار کو کم کر دیا ہے۔بہر حال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کا چیلنج بڑھتا جا رہا ہے، خاص طور پر قاتلانہ حملے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے زخمی ہونے کے بعد سے سکیورٹی کے لیے مزید انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ان حالات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کو ہائی الرٹ کر دیا گیاہے۔ پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں پی
مزید پڑھیے


نفرت کا کاروبار

هفته 01 اکتوبر 2022ء
محمد عامر رانا
پاکستان کی معیشت دہائیوں سے دباؤ کا شکار ہے۔ ملک کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے ہمیں ناگزیر بنیادی ساختیاتی اصلاحات لانے کے لیے قدم ابھی بڑھانے ہیں اور کاروبارِ معیشت کو سمت ابھی دینی ہے۔ تاہم، وہ ہو یا نہ ہو ملک میں کاروبارِ نفرت پھل پھول رہا ہے، اور ریاست اور معاشرہ دونوں اس سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف کے احمدی مخالف بیانات، جن کا مقصد سابق وزیراعظم عمران خان کو بدنام کرنا اور ان کے خلاف عوامی رائے کو مشتعل کرنا تھا،
مزید پڑھیے


خلیجی ریاستوں میں تبدیلی کے آثار اور مسلم معاشرے

منگل 20  ستمبر 2022ء
محمد عامر رانا
21 سال پہلے، امریکا میں ہونے والے نائن الیون کے حملوں نے مسلم معاشروں میں سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کے ایک سلسلے کی بنا رکھی تھی۔دنیا بھر میں مسلم معاشرے ان سے متاثر ہوئے۔وہ جن کو الزام دیا گیا اور وہ بھی جو اس ساری صورتحال سے لا تعلق تھے ۔راہ چلتے ہر اس فرد کو نفرت کا نشانہ بنایا جانے لگا جو حلیئے سے مسلمان یا مسلمانوں جیسا نظر آتا تھا۔بتایا گیا کہ اس حملے کے پیچھے القاعدہ تھی۔ مشرق وسطیٰ اْس وقت نقطہِ اشتعال پہ تھا، کیونکہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ القاعدہ کے نظریے کی
مزید پڑھیے


ٹی ٹی پی سے مذاکرات

جمعرات 14 جولائی 2022ء
محمد عامر رانا
اگر پارلیمنٹ کالعدم ٹی ٹی پی کو محفوظ راستہ دیتی ہے تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔بظاہر دہشت گرد گروپ کے ساتھ امن مذاکرات کا بوجھ اور ذمہ داری پارلیمنٹ پر ڈالی گئی ہے جو کہ کمزور ہے اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کندھا دینے کو تیار نظر آتی ہے۔ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات خطے کے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں شامل محض سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔بلکہ یہ پاکستان کی روح کا معاملہ ہے۔ ریاست اور سماج دونوں نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں ایک نادر اتفاق رائے پیدا کیا ہے،ملک کو اپنے نظریاتی نمونے پر
مزید پڑھیے



کالعدم ’تحریکِ طالبان پاکستان‘ کے ساتھ مذاکرات

پیر 04 جولائی 2022ء
محمد عامر رانا
’تحریکِ طالبان پاکستان‘ (TTP) کے ساتھ معاہدے کے اقدام پر تحفظات رکھنے والے شہریوں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ہلکی پھلکی دہائی تہائی کے بعد عسکری قیادت نے سیاسی رہنماؤں کو یقین دلایا ہے کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ آئین سے ماورا کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔دوہفتے قبل ’قومی سلامتی کمیٹی‘ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کا خفیہ اجلاس بلایا جائے گا، جس میں قائد ایوان یعنی وزیر اعظم، دیگر رہنماؤں کو اس میں شامل کریں گے۔ اس بیان سے یہ تاثر ملا ہے کہ ٹی
مزید پڑھیے


سی پیک اور کثیرالثقافتی میل جول کا پہلو

پیر 15 فروری 2021ء
محمد عامر رانا
جغرافیائی اور علاقائی باہمی رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ ہونے کے تناظر سے قطع نظر پاک چین اقتصادی راہداری نے اس بات کی بھی امید پیدا کردی تھی کہ اس سے پاکستان کی معاشی اٹھان ممکن ہوگی اور صنعتی شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی۔ لیکن یہ امید آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ نہ صرف یہ کہ مقتدر اشرافیہ اس منصوبے کی حقیقی طاقت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے اور اس کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ منصوبے کا ڈھانچہ بھی مربوط و منضبط حیثیت میں متشکل نظر نہیں آیا۔ سی
مزید پڑھیے


دہشت گردی کا بدلتا منظر نامہ

جمعرات 17  ستمبر 2020ء
محمد عامر رانا
کچھ ایسے اقدامات ہیں جو ممکنہ طور پر حالیہ دنوں میں بڑھنے والی متشدد دہشتگردانہ کاروائیوں کی وضاحت کرسکتے ہیں۔حالیہ کچھ دنوں میں ہونیوالے واقعات ایسے ہیں ، جن کے سبب پاکستان میں تشدد پسندی کا منظرنامہ خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔کا لعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہوجانے والے دو متحارب گروہوں نے ایک بار پھر اس تنظیم سے اتحاد کرلیا ہے۔ خطے میں سرگرم نام نہاد دولت اسلامیہ نے اپنے نئے سربراہ کا اعلان کیا ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں برسرپیکار قوم پرست عناصر ایک بار پھر سندھ میں سرگرم ہوئے ہیں۔دریں اثناء حکومت کی جانب سے
مزید پڑھیے


گمشدہ سیاسی فکر

اتوار 12 جولائی 2020ء
محمد عامر رانا
دہشت گردی کے حالیہ واقعات بالخصوص بلوچستان اور سندھ میں نسل پرستوں کی طرف سے دہشت گردانہ کارروائیوں سے دو پہلو نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ پہلا یہ کہ دہشت گردی کا خطرہ چاہے وہ مذہبی شدت پسندوں کی طرف سے ہو یا پھر قوم پرست تشدد پسندوں کی طرف سے ابھی تک موجود ہے۔ دوسرے یہ کہ دہشت گردی کے حالیہ اسباب کو محض طاقت کے استعمال سے ختم کرنا ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے جامع حکمت عملی جس میں مصالحت اور مذاکرات دونوں شامل ہوں اس کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں ریاست نے نیم
مزید پڑھیے


رشید مصباح کے لئے

اتوار 05 جولائی 2020ء
محمد عامر رانا
’’کبوتر بازی اور غزل بازی میں کیا فرق ہے‘‘جب تین چار شاعر اکٹھے ہو جاتے اور کوئی اپنے نئے شعر سنا رہا ہوتا تو وہ درمیان میں یہ سوال اچھالتا۔ غزل دھری کی دھری رہ جاتی اور بحث شروع ہو جاتی۔ ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے مخصوص انداز چچلی انگلی میں سگریٹ پھنسا کر مٹھی سے زور دار کش لگاتا۔ایسا بارہا ہوا اور شاعر ہر بار اس کے جال میں پھنس گئے۔ بات ویسے پھینکنے والی نہیں کہ کبوتر بازی اور غزل کہنے کے عمل میں کیا مماثلت ہے؟ کبوتر اڑانے کے فن میں بھی مخصوص گردانوں میں مہارت
مزید پڑھیے








اہم خبریں