Common frontend top

محمد عامر رانا


تزویراتی تبدیلی ؟


ہمارے خطے کا جیوپولیٹیکل( جغرافیائی سیاسی)منظرنامہ تیزی سے بدلتاچلا جارہا ہے،رجائیت پسند طبقے کا خیال ہے کہ اس تیزی سے بدلتے منظر نامے کی بدولت وہ پاکستان کے جیو سٹریٹیجک(تزویراتی)نقطہ نظر میں تبدیلی کو محسوس کررہے ہیں۔بعض یہ یقین رکھتے ہیں کہ مذکورہ تبدیلی بڑے پیمانے پرجیو اکنامک( جغرافیائی معیشت) کے گردگھوم رہی ہے،اگر ایسا ہی ہے تو یہ بہت واضح نظریاتی تبدیلی ہوگی۔لیکن ہمارے ریاستی اداروں کے بیانات میں اس تیزی سے بدلتے منظرنامے کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا،یا شاید وہ اس کو مختلف طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے خراب معاشی اشارے ایسے خیالات کو وزن نہیں
اتوار 14 جون 2020ء مزید پڑھیے

عام آدمی کے لئے انصاف

پیر 08 جون 2020ء
محمد عامر رانا
پاکستان میں عام آدمی کے لئے انصاف کی بات ایک گھسا پیٹا موضوع لگتا ہے۔ اخبار اور ٹی وی سکرین کے لئے ایسی خبروں میں زیادہ کشش نہیں ہوتی اور سوشل میڈیا پر باسی کڑی میں ابال کی طرح کبھی کبھار اس پر ٹرینڈ چلتا ہے اور چند گھنٹوں میں دم توڑ دیتا ہے۔ عدالتیں ‘تھانے ‘ہسپتال‘ فیکٹری کھیت کھلیان، پہاڑ، صحرا اور حتیٰ کہ دفتر اور گھر کے اندر تک کمزور استحصال کا شکار ہے۔ مختلف ادارے اور تنظیمیں اعداد و شمار جمع کرتی اور شائع کرتی ہیں۔ عام آدمی کے لئے انصاف ریاست اور سماج کی ترجیح نہیں
مزید پڑھیے


شہزاد اکبر کون ہے؟

اتوار 31 مئی 2020ء
محمد عامر رانا
’’شہزاد اکبر کون ہے؟‘‘ جب یہ سوال 2010ء کے لگ بھگ پوچھا جاتا تھا تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہوتا تھا کہ بیرسٹر آزاد رائے رکھنے والا آدمی ہے ،دراصل بیرسٹر شہزاد اکبر اتنی اچانک سے منظر عام پر آیا کہ اس کے کوائف اور حسب نسب کے بارے میں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں۔ امریکی حکومت اور خصوصاً سی آئی اے کے خلاف پانچ سو ملین ڈالر کا دعویٰ دائر کرنا بڑا حوصلے کا کام تھا اور اس نے یہ دعویٰ وزیرستان سے اپنے موکل کریم خان کے کہنے پر ڈرون
مزید پڑھیے


وبا کے دنوں کی عید

اتوار 24 مئی 2020ء
محمد عامر رانا
عید ایک خوف کے عالم میں گزرے گی ۔یہ تو معلوم تھا لاک ڈائون کے عملاً خاتمے کے بعد کورونا کی وبا نے جو کروٹ لی ہے‘ تہوار کے دن کے جو چند معمولات کے بارے میں منصوبہ بندی کی تھی وہ کھٹائی میں پڑتے دِکھ رہے تھے۔لیکن پی آئی اے کے طیارے کے حادثے نے سوگ کا اضافہ بھی کر دیا ہے بلکہ اس سوگ نے تو کورونا کی وبا کا خوف بھی بھلا دیا ہے۔ وقت کی بات ہے ایک سانحے کے دکھ کو کم کر نے کے لئے ایک نئے حادثے کا سہاراہوا ہے ۔شاعر اس پر
مزید پڑھیے


وبا کے دنوں میں دہشت گردی کا خطرہ

اتوار 17 مئی 2020ء
محمد عامر رانا
اس وقت جب دنیا کورونا کی وبا کے خلاف جنگ میں مصروف عمل ہے‘ اقوام اور عالمی تنظیمیں وبا کے انسانوں ‘معیشت اور سماج اور نفسیات پر منفی اثرات کا جائزہ لینے میں جتی ہوئی ہیں‘وبا کے خوف کے سایے میں بھی سکیورٹی خطرات موجود ہیں گو غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز پر دنیا کی توجہ کم ہے۔ مثال کے طور پر کورونا وبا کے دوران بھی دہشت گردی کے خطرے میں کوئی کمی نہیں دکھائی دیتی بلکہ کچھ علاقوں میں تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا جیسا کہ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔عالمی برادری افغانستان پر
مزید پڑھیے



وبا سے کچھ پہلے

اتوار 10 مئی 2020ء
محمد عامر رانا
سیاست اور صحافت ایسے موضوعات ہیں جن پر کوئی بھی لمبی بحثیں کر سکتا ہے۔ اس کے لئے ان موضوعات پر مہارت حاصل کرنے کے لئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری زندگیاں ویسے بھی سیاست کرتے ہی گزرتی ہیں ۔کون سا ایسا ادارہ ہے ‘ دفتر‘ سکول‘ مدرسہ‘ یونیورسٹی‘ مارکیٹ یا فیکٹری جہاں چوبیس سات(24/7) سیاست نہ ہوتی ہو۔ جتنا وقت سیاست کرنے میں گزارتے ہیں اپنے کام اور اصل موضوع پر دیں تو پاکستان کی تعلیم‘ صحت ‘ معیشت ‘ صنعت اور گورننس کے ناصرف سارے مسئلے حل ہو جائیں بلکہ وہ تخلیقی توانائی سے بھر پور
مزید پڑھیے


وبا کے دنوں میں نفرت

اتوار 03 مئی 2020ء
محمد عامر رانا
کورونا کی وبا کے باعث دنیا سکڑ کر حقیقی معنوں میں گلوبل ویلیج بن چکی ہے ۔کرۂ ارض پر بسنے والے انسانوں کی اکثریت کو جس قسم کے مشترکہ خوف تشویش کشمکش اور چیلنجز کا سامنا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر ایک نئے احساس کو جنم دیا ہے جس نے ذہنوں کو جکڑ رکھا ہے اور دنیا جس قسم کے جذباتی ہیجان میں مبتلا ہے اس کا اثر توقع سے زیادہ طویل المدتی ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف جذباتی عدم توازن سے ایک خاص قسم کی نرگسیت پسندی جنم لے رہی
مزید پڑھیے


وبا کے بعد کی دنیا

اتوار 26 اپریل 2020ء
محمد عامر رانا
امید تو تھی کہ عالمی وبا کا پھیلائو دنیا کو متحد کر دے گا ۔ اگر عالمی ‘ علاقائی اور قومی سیاست کے دھارے کو مکمل طور پر نہ بھی بدل سکا تو کم از کم اس کی تلاطم خیزی کو تو کم کرے گا تاکہ اس وبا کا تدارک کیا جا سکے۔ فی الحال ایسا ہوا نہیں‘ وبائیں‘ آفتیں اور تباہی انسانی مزاج پر اثر انداز ہوتیں تو شاید آج دنیا بالکل مختلف ہوتی۔ وبا ہو یا قدرتی آفت انسان اس کو روکنے کے اسباب کر ہی لیتا ہے لیکن ساتھ ہی اپنا پرانا کھیل بھی جاری رکھتا ہے۔
مزید پڑھیے


کورونا اور افغان امن

اتوار 19 اپریل 2020ء
محمد عامر رانا
کورونا کی وبا نے دنیا بھر کے معمولات زندگی کو بہت متاثر کیا ہے لیکن اس وبا کا اثر خانہ جنگی کے شکار معاشروں میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ بیانیہ افغانستان پر بھی صادق آتا ہے۔ جہاں کورونا وائرس سیاسی کشیدگی پر اثر پذیر ہوتا نہیں دکھائی دیتا۔ افغانستان کے سیاسی بحران کی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ افغانستان کی متحارب قوتیں کورونا وائرس کی ہیلتھ ایمرجنسی کو خاطر میں لانے پر آمادہ نہیں اور ان کو کورونا کے بجائے اپنے سیاسی مستقبل کی زیادہ فکر محسوس ہوتی ہے۔29فروری کے بعد جب سے امریکہ اور افغان طالبان
مزید پڑھیے


وبائیں اور توہم پرستی

بدھ 01 اپریل 2020ء
محمد عامر رانا
وبائیں نا صرف انسان کی قوت مدافعت اور مضبوطی کا امتحان لیتی ہیں بلکہ وہ ان کی انسانوں کی قوت تخیل کی بھی جانچ کرتی ہیں۔ سازشی نظریات اور پیشگوئیاں بھی اسی طرح پھیلتی ہیں جس طرح کوئی وباء پھیلتی ہے اور موت کے خوف کو اجاگر کرنے سے لے کر انسانی روح کی بالیدگی تک ہر دائرہ کار ِ حیات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ تاہم قوت متخیلہ اور خواب دیکھنے کی صلاحیت کا دارومدار افراد کے ذاتی عقائد اور سماج کے مجموعی شعور پر منحصر ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز گردش کررہی ہیں
مزید پڑھیے








اہم خبریں