BN

مستنصر حسین تارڑ



’’میں رویت ہلال کمیٹی کا چاند، تو میری چاندنی‘‘


میں بہ قائمی ہوش و حواس یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں ایک عدد محب الوطن پاکستانی ہوں اگرچہ میرے پاس حب الوطنی کا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ نہ ہی میں فخر سے اعلان کرسکتا ہوں کہ میں نے ملک و قوم کی بے حد خدمت کی ہے اور میری کوئی قدر نہیں کی گئی اور میری شرافت کا کوئی مول نہیں پڑا۔ اگرچہ میں سفیررہا، وزیر رہا، شاعر رہا، ادیب رہا تو ایک محب الوطن کے طور پر میرے پاس کچھ نادر مشورے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم اس ملک کو معاشی بحران سے باہر لاسکتے
بدھ 14 نومبر 2018ء

’’مجھے ننگے پائوں چلنے والے‘ رونے والے اچھے لگتے ہیں‘‘

اتوار 11 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
کیا بھینسیں فروخت کرنے سے ملک میں ڈیم بن سکتے ہیں؟ نہیں بن سکتے‘ لیکن بھینسیں نہ فروخت کرنے سے بھی تو ڈیم نہیں بن سکے‘ تو پھر کیا پتہ بھینسیں فروخت کرنے سے ہی ڈیم بن جائیں۔ ان بھینسوں کی فروخت پر بہت واویلا کیا گیا تھا کہ ہائے ہائے ہمارے صاحب ان کا دودھ تھوڑا پیتے تھے۔ وہ تو ان کے سامنے بیٹھ کر بین بجایا کرتے تھے۔ ویسے ان دنوں جو ایک سادگی اور کفائت شعاری اختیار کی جا رہی ہے یعنی وزیر اعظم ہائوس کے اخراجات کم کئے جا رہے ہیں یہاں تک کہ وہاں
مزید پڑھیے


’’ہائے میری بھنڈیاں اور وہ جو دکان اپنی بڑھا گئے‘‘

بدھ 07 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
خواتین و حضرات! میرے ساتھ کچھ ہمدردی کے بول بولئے کہ میرے ساتھ ایک ہاتھ ہو گیا ہے۔ یوں کہیے بہت زیادتی ہو گئی ہے۔ پچھلے دنوں جو کھلی بغاوتیں ہوئیں۔ شورش پسندوں نے پورے پاکستان میں ناکے لگا کر ناک میں دم کر دیا۔ شاہراہیں بند‘ سکول بند اور عوام الناس گھروں میں بند۔ پٹرول کی نایابی اور دھندے والے حضرات کی کامیابی ۔ یہاں تک کہ سبزیاں کمیاب۔ دنگا کرنے والے اتنے کامیاب اگر معاملہ یہیں تک رہتا تو شاید برداشت جواب نہ دیتی لیکن آہنی راڈوں سے مسلح جانثاروں نے بسیں نذر آتش کر دیں۔ بچوں اور
مزید پڑھیے


’’اس گھر کو آگ لگ رہی ہے گھر کے چراغ سے‘‘

اتوار 04 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
پچھلے دو تین روز سے میں سہم گیا ہوں۔ جیسے میں ایک کبوتر ہوں اور ایک سیاہ بلی غراتی ہوئی میری جانب بڑھ رہی ہے اور میں سہم گیا ہوں۔ میرے اندر نامعلوم کے ایک خوف نے جڑیں پکڑلی ہیں۔ میری سرزمین کا خون پی جانے والی سیاہ چمگادڑیں میرے بدن میں پھڑپھڑاتی پھرتی ہیں۔ مجھے کچھ جلنے کی بو آ رہی ہے‘ جیسے گوشت جل رہا ہو اس کی ناگوار بو سارے میں پھیل جاتی ہے۔ میں اپنے آپ کو سونگھتا ہوں کہ کہیں یہ میرا اپنا ماس تو نہیں جو جل رہا ہے۔ کہیں گھر کے چراغ
مزید پڑھیے


’’سمیع آہوجہ،عرفان جاوید، ظفر اقبال کی شانداریاں‘‘

منگل 30 اکتوبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
’’فرام کارگل ٹو دے کُو‘‘نسیم زہرہ کی اس ہنگامہ خیز تحقیق میں بہت سی ناگوار حقیقتیں بھی سامنے آتی ہیں جن کے بارے میں ہم آج تک لاعلم تھے؟ مشرقی پاکستان میں جو ہوا وہ ہم سے چھپایا گیا۔ فوج میں وہ کون ساگروہ تھا جس نے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی اور کارگل پر یلغار کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔ یہاں تک کہ نوازشریف بھی بے خبر رہے۔ سری پائے نوش کرتے رہے یا مری کے محل میں بھیگے ہوئے موسموں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ اس کتاب میں بہت سے سوالوں کے واضح نہیں مبہم
مزید پڑھیے




’’بِن اوکری ۔لڈیا ڈیوس اور کارگل کہانی زہرہ کی زبانی‘‘

اتوار 28 اکتوبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
’’یہ کائنات ایٹم کے ذرّوں سے نہیں۔ کہانیوں سے تخلیق ہوئی ہے‘‘نیو یارک پبلک لائبریری کے عین سامنے فٹ پاتھ پر یہ فقرہ ثبت ہے اور دیکھا جائے تو یہ کسی حد تک درست بھی ہے کہ اس کائنات میں زندگی بسر کرنے والے بیشتر لوگ کسی نہ کسی مذہب کے پیرو کار ہیں اور تمام مذاہب کی آسمانی کتابوں میں کہانیاں ہی تو ہیں۔ قرآن پاک کے قصّے تورات اور بائبل کی کہانیاں۔ مہاتما بدھ کی جاتک کہانیاں’’مہا بھارت‘‘ میں قدیم جنگوں کے قصّے۔ یہاں تک کہ تصوّف کی بڑی کتابوں میں بھی حکائتوں اور کہانیوں کے ذریعے انسان
مزید پڑھیے


گارسیا مارکیز کی بیوی اور ہماری بیویاں

بدھ 24 اکتوبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
ہمیں یہ تو تسلیم کر ہی لینا چاہیے کہ انگریزی زبان کا طوق ابھی تک ہمارے گلے میں پڑا ہوا ہے اور ہم اس طوق کو ایک گہنا ایک کینٹھا سمجھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں، اس میں کچھ کلام نہیں کہ اگر آپ نے بیشتر دنیا سے کلام کرنا ہے تو انگریزی کے بغیر کام نہیں چلے گا اور اگر آپ نے دنیا بھر کے ادب اور تاریخ سے آگاہ ہونا ہے تو ان سب کے تراجم بھی انگریزی میں ہیں تو حضور ہمارے لیے انگریزی اس لیے بھی ضروری ہے۔ آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیے اگر
مزید پڑھیے


یہودیت‘ التحریر سکوائر اور گارسیا لور کا

اتوار 21 اکتوبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
ویسے تو ماشاء اللہ پاکستان کو مختلف اداروں کے حوالے سے ایسے ایسے حسن کارکردگی کے نہیں حسن کرپشن کے تمغے مل چکے ہیں کہ ان کی مثال نہیں ملتی۔ کیا سٹیل ملز‘ کیا موجودہ پی آئی اے اور اب شنید ہے کہ یہ ’’تھرکول‘‘ منصوبہ بھی مخدوش ہورہا ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک کی یہ دریافت بھی سنتے ہیں کہ ثمر آور نہیں اور اربوں روپے اس گٹر میں بہا دیئے گئے ہیں۔ صحرائے تھر کے سفر کے دوران مجھے اس منصوبے کے کچھ شواہد دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ ایک نیا شہر آباد ہورہا تھا اور صحرا میں ایک
مزید پڑھیے


پران نول کی خاک لاہور میں اڑتی پھرتی ہے

بدھ 17 اکتوبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
پران نول سے آخری ملاقاتیں آکسفورڈ کے لٹریری فیسٹیول کے دوران اسلام آباد میں ہوئیں۔ چونکہ ہم ایک ہی ہوٹل میں قیام پذیر تھے اس لیے آتے جاتے کہیں نہ کہیں آمنا سامنا ہو جاتا اور وہ ایک خالص لاہوریئے کی مانند نہایت بلند آواز میں مجھے پکارتا۔ موتیاں والیو کتھے جارہو او؟ کڑیاں نوں ملن جارہے او تے مینوں وی لے چلو۔ ایک روز کسی کالج کی لڑکیوں کا ایک غول فیسٹیول میں ادیبوں وغیرہ سے ملنے آیا اور میں ہوٹل سے باہر نکل کر اپنے ایک دوست کی کار میں بیٹھنے کو تھا جب بدقسمتی سے ان کے
مزید پڑھیے


پران نول…جس کے ساتھ ایک لاہور مر گیا

اتوار 14 اکتوبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
پران نول میرا ایک دوست جس کا اگر کوئی مذہب تھا تو وہ لاہور تھا۔ پہلا اور آخری عشق تھا تو شہر لاہور تھا جو کہا کرتا تھا کہ میں لاہور کا ہوں اور لاہور مجھ میں آباد ہے‘ پران وہاں ’’دیار غیر‘‘ میں مر گیا تو گویا اس کے ساتھ ایک لاہور بھی مرگیا۔ ہندوستان میں لاہور کا پرچم بلند کرنے والے اور پاکستان کے لیے ہمیشہ کلمہ خیر کہنے والے مرتے جاتے ہیں۔ پہلے بابا خشونت سنگھ رخصت ہوا اور وصیت کر گیا کہ میری راکھ میرے آبائی گائوں ہڈیالی میں لے جا کر دفن کی جائے کہ
مزید پڑھیے