BN

مستنصر حسین تارڑ

‘‘وادی سندھ کی تہذیب ‘ نہیں!ہڑپہ کی تہذیب‘‘

بدھ 18 جولائی 2018ء
تو بات موہنجو داڑو کے کھنڈروں میں سے برآمد ہونیوالے ’’گرینڈ پریسٹ‘‘ کے کھمبے کی ہو رہی تھی جس نے اپنے شانوں پر سندھی اجرک اوڑھ رکھی ہے۔ اجرک اور سندھی ٹوپی سندھ کی ثقافت اور قدیم رہن سہن کی ترجمان ہیں اور میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ میں نے آج تک کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے سندھی ٹوپی پہنی ہو اور وہ اچھا لگا ہو۔ سر پچکا ہوا سا لگتا ہے اور اس کے باوجود سندھی اپنی ٹوپی کی شان میں خصوصی دن مناتے ہیں اور میں یہ بھی ہمیشہ کہتا ہوں کہ میں نے آج تک
مزید پڑھیے


گارڈن آف پاکستان…پتوکی

اتوار 15 جولائی 2018ء
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی بہشت کی قربت میں زندگی کرتے ہیں اور آپ کو اس کی موجودگی کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ یوں مجھے بھی پتوکی کی خبر ہی نہ تھی کہ وہاں کم از کم پاکستان بھر میں پودوں، درختوں، پھولوں، جھاڑیوں، شجروں کی ہریاول ہیں۔ ہریاول کی ایک ایسی بہشت سرسبز ہے جس کا آخری کنارا دکھائی ہی نہیں دیتا۔ سڑک کے دونوں کناروں پر میلوں تک نرسریوں اور گل بوٹوں کی قطاریں ہیں۔ پتوکی میں گلاب در گلاب تاحد نظر کھیت ہیں۔ پھولوں کے انبار ہیں اور دنیا کا کوئی پھول یا پودا ایسا
مزید پڑھیے


’’ہڑپے کا ایک کتبہ‘‘

بدھ 11 جولائی 2018ء

’’ہڑپے کا ایک کتبہ‘‘

بہتی راوی ترے تٹ پر‘ کھیت اور پھول اور پھل 

تین ہزار برس بوڑھی تہذیبوں کے چھل بل

دو بیلوں کی جیوٹ جوڑی‘ اک ہالی‘ اک ہل!

سینہ سنگ میں بسنے والے خدائوں کا فرمان

مٹی کاٹے ‘ مٹی چاٹے‘ ہل کی اَنی کا مان

آگ میں جلتا پنجر ہالی‘ کاہے کو انسان

کون مٹائے اس کے ماتھے سے دکھوں کی ریکھ

ہل کو کھینچنے والے جنوروں ایسے اس کے لیکھ

تپتی دھوپ میں تین بیل ہیں تین بیل ہیں‘ دیکھ!

(مجید امجد)

موت اس کے چہرے پر اتر رہی ہے۔ ایک بے آب مچھلی کی مانند کروٹیں بدل رہی ہے ‘درد کی شدت سے اس کا
مزید پڑھیے


’’ہمارا قومی جانور…بھینس یا گدھا‘‘

اتوار 08 جولائی 2018ء
ہم اپنے بزرگوں کی شان میں گستاخی کئے بغیر کیا کہہ سکتے ہیں جنہوں نے چکور کو ہمارا قومی پرندہ قرار دیا۔ چنبیلی کو قومی پھول اور مارخور کو قومی جانور وغیرہ ڈیکلیئر کر دیا اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے وہ قابل احترام قدرے بزرگ نہ اپنے پرندوں کو جانتے تھے نہ پھولوں سے آگاہ تھے اور جانوروں سے اتنے آگاہ تھے کہ چڑیا گھر کے جانوروں کو بھی بمشکل پہچانتے تھے۔ حرام ہے جو وہ شیر چیتے یا پہاڑی بلے یعنی باگڑ بلے میں تفریق کر سکتے ہوں۔ دور کیا جانا مجھے کیوں نکالا اور روک
مزید پڑھیے


کتابوں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے

اتوار 01 جولائی 2018ء
میں نے ایک گزشتہ کالم میں ان مختلف واویلوں کا تذکرہ کیا تھا جو پاکستانی قوم کرتی رہتی ہے اور میں ان میں سے ایک نہائت اہم اور مسلسل کئے جانے والا واویلا بھول گیا۔ یعنی ادب پر جمود طاری ہو گیا ہے اور کتاب پڑھنے کا کلچر ختم ہو گیا۔ جہاں تک ادب پر جمود طاری ہونے وا ویلا ہے تو یہ صرف وہ نقاد حضرات کرتے رہتے ہیں جو ماضی میں حنوط ہو چکے ہیں۔ جیسے خوراک کے ڈبوں پر اس کی ایکسپائری ڈیٹ درج ہوتی ہے کہ فلاں تاریخ کے بعد اسے کھانا آپ کے لیے مضر
مزید پڑھیے


’’بغداد کا فرینکن سٹائن اور لاشوں کو نہلانے والے‘‘

جمعرات 28 جون 2018ء
میں تذکرہ کر رہا تھا ان مسلمان ناول نگاروں کا جو میری نظر میں مارکیز‘ سراماگو اور میلان کُندیرا کے نہ صرف ہم پلہ ہیں بلکہ اسماعیل قدارے البانیہ کا ان پر بھی سبقت رکھتا ہے۔ میرا گھرانہ کچھ ترکی ترکی سا ہے یعنی میرے بڑے بیٹے کا نام سلجوق ہے اور بڑے پوتے کا نام ترک ناول نگار یاشار کمال کے نام پر یاشار ہے ۔ سلجوق جن زمانوں میں نیشنل کالج آف آرٹس میں آر کی ٹیکچر کا طالب علم تھا وہ اپنے کلاس فیلوز کے ہمراہ ترکی کی سیاحت پر گھر سے نکلا۔ اور پہلی بار گھر
مزید پڑھیے


کیا اردو کا نثری ادب محدود ہے؟

هفته 23 جون 2018ء
کبھی کبھی یہ جو آخری زمانے تیزی سے فنا کی منزل کی جانب سفر کرتے ہیں تو کبھی کبھی کچھ دیر پہلے نیند سے غنودگی کی پہلی غٹرغوں میں عجب سوال دھند کی مانند تیرتے چلے آتے ہیں کہ ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے اور گرتجھ بن کوئی نہیں موجود وغیرہ۔ اور لامحالہ وہ دو سوال جن کے جواب خدائی آج تک تلاش کرتی رہی ہے یعنی انسان کہاں سے آیا اور اس نے جانا کہاں ہے۔ تو کبھی ان دونوں کے جواب دل کو ڈھارس دینے والے ہوتے ہیں اور اکثر ان کا کوئی سرا نہیں ملتا
مزید پڑھیے


گوری نہاکے چھپڑ چوں نکلی تے سلفے دی لاٹ ورگی

بدھ 20 جون 2018ء
بہر طور نہ میں اور میرے جاننے والے اور خاص طور پر میرے پڑھنے والے کبھی کبھی حتمی طور پر یہ فیصلہ کر سکے کہ میں ’’سونے کی چڑیا‘‘ ہوں یا ایک عدد’’پت پینڈو‘‘ کہ میری تحریروں میں بھی میری حیات عکس ہوتی ہے۔ اوائل جوانی اور وہ بھی پچاس کی دہائی میں انگلستان اور یورپ میں گزارے‘ واپس لوٹا تو اچھا خاصا کاٹھا انگریز یا برائون صاحب ہو چکا تھا یہاں تک کہ دیسی خوراک ہضم نہ ہوتی تھی اور میری امی مجھے خوش کرنے کی خاطر لکڑیوں کے چولہے پر روٹی پکانے والے سیاہ توے پر ’’سٹیک‘‘ بنانے
مزید پڑھیے


’’سونے کی چڑیا اور پُت پینڈو‘‘

جمعرات 14 جون 2018ء
میں اپنی تحریروں میں اقرار کرتا رہتا ہوں کہ میں زندگی بھر نہ کبھی مکمل گائوں کا ہوا اور نہ کبھی پورا شہری ہوا‘ بس درمیانی کیفیت میں مبتلا رہا۔ جب ایک برس نارمل سکول گکھڑ منڈی میں پہاڑے یاد کرتا رہا تو میرے بہتر لباس کی وجہ سے میری شامت آتی رہتی۔ امی مجھے ایک بچہ اچکن پہناتیں جیب میں رومال اڑستیں ۔ استری شدہ شلوار قمیض اور بوٹ لشکتے ہوئے پالش شدہ اور کبھی کبھار ڈیکوریشن کے لیے ابا جی کی گھڑی فیور لوبا بھی کلائی پر باندھ دیتیں البتہ اسے ایک رومال سے ڈھانک دیتیں تاکہ نظر
مزید پڑھیے


’’ایک واویلا کرنیوالی قوم‘‘

پیر 11 جون 2018ء
عین ممکن ہے کہ آپ واقعی منتظر ہوں کہ پاکستانی قوم کے مجموعی رویے اور نفسیات کے بارے میں جو کتاب شائد میں نہیں لکھوں گا لیکن میرے زرخیز ذہن نے اس کا عنوان مجھے سجھا دیا ہے یعنی ’’واویلا کرنے والی قوم‘‘ تو اس کے مختلف ابواب میں میں کون کون سے واویلے درج کروں گا یاد رہے کہ میں ہندوستانی اور اب برطانوی مصنف بزود چودھری کی کتاب ’’کانٹینٹ آف سرکے‘‘ کی پیروی نہیں کروں گا۔ میں نے مجموعی طور پر ہندوستانیوں اور خصوصی طور پر ہندوئوں کی ذہنیت کے پرخچے اڑا دیے تھے۔ میں اتنا بیوقوف نہیں
مزید پڑھیے