مستنصر حسین تارڑ



’’اِک حسیں گائوں تھا کنارِ آب ۔ جالب جالب‘‘


پاکستان کے وجود میں آنے سے پیشتر اردو ادب میں جتنے بھی بڑے ادیب اور شاعر تھے انہیں پسند کرنے والے اور پڑھنے والے ان کے ادب کے علاوہ اُن کے سیاسی اور سماجی رویوں سے آگاہ تھے۔ ترقی پسند ادیب یوں بھی اپنی تحریروں سے ہی پہچان لئے جاتے تھے کہ ان کا سیاسی اور سماجی نکتہ نظر کیا ہے۔ آپ کو پریم چند ‘ راجندر سنگھ بیدی‘ کرشن چندر‘ کیفی اعظمی ‘ اختر الایمان‘ جوش ملیح آبادی‘ احمد ندیم قاسمی یا فیض صاحب سے پوچھنا نہیں پڑتا تھا کہ آپ کے نظریات کیا ہیں کہ وہ ان کی
اتوار 14 جولائی 2019ء

’’کتاب زندہ ہو گئی ہے‘‘

بدھ 10 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پچھلے کچھ عرصے سے ’’کتاب‘‘ باقاعدہ زندہ ہو گئی ہے۔ سانس لینے لگی ہے اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور مجھے تو لگتا ہے کہ کتاب کے اندر ایک ایسی روح بھی موجود ہے جسے زوال نہیں۔ کتاب ان تمام لوگوں کو غلط ثابت کرنے کے لیے زندہ ہوئی ہے جو اس کی موت کی پیش گوئیاں مسلسل کرتے رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اشفاق صاحب نے بھی اعلان کر دیا تھا کہ آئندہ کتاب صرف کیسٹ کی صورت میں ہو گی جسے سنا جائے گا۔ ان دنوں نہ صرف میڈیا
مزید پڑھیے


’’غزہ میں شادی اور موت‘‘

اتوار 07 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ میں اپنی حیات کے تجربوں میں سے کوئی ایک تجربہ جسے میں بیان کر چکا ہوں،اسے پھر سے اپنے کالم کے سپرد کر دیتا ہوں کہ جنوںمیں جتنی بھی گزری اگرچہ بے کار گزری ہے لیکن میں نے وہی بیان کرنا ہے جو کہ مجھ پر گزری۔ میں اپنے نکتہ نظر کو ثابت کرنے کے لئے نئے قصے نہیں گھڑتا۔ نہ ہی مقدس حوالوں سے متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بس وہی بار بار لکھتا ہوں جو لکھ چکا۔ اس کا اعادہ کرتا ہوں کہ وہ مکررلکھنے کے لائق اس لئے ہوتا
مزید پڑھیے


’’مسٹر ٹوبی اور راکا پوشی کے سریلے گدھے‘‘

بدھ 03 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میں تذکرہ کر رہا تھا آج سے ساٹھ برس پیشتر کے انگلستان کے شہر مانچسٹر کا جہاں 14باربرا سٹریٹ کے ایک بوسیدہ وکٹورین گھر میں میرا عارضی قیام تھا۔ گھر کے مالک میرے دور پار کے عزیز حلال گوشت کے سلسلے میں شہر سے باہر کسی کسان سے متعدد مرغیاں خرید لاتے اور انہیں کوئلے کے لیے وقف تہہ خانے کے اندھیرے میں روپوش کر دیتے۔ چوری چھپے پائیں باغ میں انہیں حلال کرتے اور ان کے بال و پر زمین میں دفن کر دیتے کہ جانوروں کو یوں ’’ہلاک‘‘ کرنا ایک قابل تعزیر جرم تھا۔ شومئی قسمت کہ ایسے
مزید پڑھیے


’’فرانس میں مُرغ انقلاب‘‘

اتوار 30 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
مجھے یہ اقرار کرنے میں کچھ تامل نہیں کہ میرے انسانی نظام میں کچھ ایسا خلل ہے کہ مجھے انسانوں کی نسبت جانور زیادہ پسند ہیں۔ نہ صرف ان کی خصلت‘ طرز زندگی بلکہ ان کی شکلیں زیادہ پسند ہیں۔ مجھے ہرگز کسی کی دل آزاری مقصود نہیں لیکن آپ خود انصاف کیجیے کیا آج کے سیاسی سربراہوں اور ان کے حواریوں کی نسبت کچھ جانور اور پرندے وغیرہ زیادہ خوش شکل نہیں ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سفید برفانی الو دیکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا آنکھیں ہیں اور کیسی متنانت بھری شکل ہے۔ کسی بھی لیڈر سے موازنہ کر
مزید پڑھیے




’’مہان سنگھ کی سمادھی۔گوجرانوالہ‘‘

جمعرات 27 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ایک بے آرام تنگ سی گلی جس کے دونوں جانب کے بھدے سے مکان پہلوانوں کی مانند ماتھے قریب کرتے ہوئے اک دوجے کے ساتھ بھڑ جانے کو تیار۔ ایک ایسی گلی جس میں داخل ہو کر انسان خود بھی اس گلی کی مانند تنگ اور بے آرام ہو جائے اور جب پلٹ جانے کو جی چاہے تو اس گلی کے آخر میں مکانوں میں پھنسا ہوا ایک کھنڈر ہوتا گنبد، ایسا نظر آئے کہ اس پر اصفہان کے کسی پرشکوہ گنبد کا گمان ہو۔ ایک ایسی شکستہ عمارت جس کی برباد ہو چکی خوش نمائی میں اب تک اتنی
مزید پڑھیے


’’زیدی فوٹو گرافرز اور شاہد زیدی کا کمال فن‘‘

اتوار 23 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
چلئے آپ بھی کیا یاد کریں گے ہم آج کی بات نہیں کرتے۔ آج سے تقریباً ستر برس پیشتر کے زمانوں کا قصہ چھیڑتے ہیں۔ ہم ان دنوں کافی نابالغ ہوا کرتے تھے یعنی ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے اور کافی لاڈلے بھی ہوا کرتے تھے کہ سب سے بڑے بیٹے تھے۔ کیا ہوا جو ہماری رنگت قدرے مشکی ہوا کرتی تھی۔ یعنی ہم کالے شاہ کالے بھی نہیں تھے اور گورے وغیرہ تو ہرگز نہیں تھے۔ بس بین بین معاملہ تھا۔ کرائون پرنس کے لئے کہاں لکھا ہے وہ گورا ہو۔ ابھی پچھلے دنوں برطانوی شاہی خاندان میں بی
مزید پڑھیے


مسجد بیگم پورہ اور مٹھو کی حویلی

بدھ 19 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
بیگم پورہ کی تاریخی مسجد کے وسیع صحن میں دھوپ بہت تھی اور تشویش اور انجانے کا خوف بہت تھا۔ صحن پر کھلتی متعدد قدیم محرابیں جو کسی زمانے میں کھلی ہوں گی۔ سفید دروازوں اور شیشوں سے ان زمانوں میں بند کر دی گئی ہیں تا کہ مسجد کا اندرون گردوغبار سے محفوظ رہے اور وہاں تعلیم حاصل کرنے والے دل جمعی سے قرآن پاک اور دینی علوم کو حفظ کر سکیں۔ اگرچہ بیگم پورہ مسجد کے قدیم درودیوار پر جو پرکشش روغنی اینٹوں سے سجی ہوئی زیبائشیں تھیں ان میں سے بیشتر اکھڑ چکی ہیں اور ان کی
مزید پڑھیے


’’علی مردان خان اور بُدھو کا مقبرہ‘‘

اتوار 16 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم جب کبھی روزمرہ کی گفتگو کے دوران کسی گائوں، کسی شہر، آس پاس کے کسی گلی محلے یا علاقے کا نام لیتے ہیں تو سرسری گزر جاتے ہیں کہ یہ محض ایک نام ہے ایک پہچان ہے۔ ہم کم ہی اس کی کسی تاریخی نسبت یا قدامت کے کسی حوالے پر غور کرتے ہیں کہ آخر یہ چوہڑکانہ ہے تو یہ شخص چوہڑ کون تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کو آباد کرنے والا درویش ٹیک سنگھ کہاں سے آیا تھا۔ وہ گویا سائیں کون تھا جس کے نام کے تالاب کو سرگودھا کہا گیا وغیرہ۔ اسی طور روایت ہے کہ
مزید پڑھیے


’’انور سجاد کا خوشیوں کا باغ‘‘

جمعرات 13 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کہاوت تو یہی ہے کہ ’’آج مرے اور کل دوسرا دن‘‘ ویسے کہنا تو یہ چاہئے کہ ’’آج مرے تو کل قیامت‘‘ انور سجاد کو مرے ہوئے آج دوسرا نہیں پانچواں دن ہے۔ میرا دُکھ قدرے کم ہو گیا ہے تو میں نے سوچا رو دھو لیا، جی کو بہت آزار دے لیا تو کیوں نہ پچھلے زمانوں کے کچھ ورق پلٹے جائیں، انور سجاد کو کچھ یاد کر لیا جائے کہ بس یہی موقع ہے کیونکہ ابھی چوٹ تازہ ہے، یہ چوٹ ٹھنڈی ہو گئی تو ہم اسے بھول بھال جائیں گے، جیسے ابن انشاء اور مجید امجد کو
مزید پڑھیے