BN

مستنصر حسین تارڑ



’’کرتار پور اور رین بوبرج کے خواب‘‘


تو کیا ہم نے کرتارپور کوریڈور کھول کر، ایک وسیع کامپلکس تعمیر کر کے اس کے قدرتی صدیوں قدیم ہریاول بھرے ماحول کو تبدیل کر کے، ہم نے بابا نانک کی مانند ایک سچا سودا کیا ہے یا اس سودے میں ہمیں گھاٹا پڑے گا؟ پچھلی شب مجھے میرے دیرینہ دوست سکھدیپ سنگھ رانگی کا فون سڈنی سے آیا اور وہ ہر تین چار ہفتوں کے بعد مجھے تب فون کرتا ہے جب وہ کلی طور پر ٹن ہوتا ہے حالانکہ اس کے ڈاکٹروں نے اسے شراب سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے لیکن وہ سردار کیا جو دارو سے
بدھ 30 اکتوبر 2019ء

’’کرتار پور ایک سچا سودا؟‘‘

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار کرتار پور گیا تو کالا خطائی کے راستے کے دونوں جانب گندم کے ہرے بھرے کھیت لہلہاتے مشک بار ہوتے تھے۔ دریائے راوی میں پانی بہت ہی کم تھا اور اس میں مچھلیاں اچھلتی تھیں اور تب بہت دور سے تاحد نظر ہریاول کھیتوں میں ایک عجب سادہ اور دل کش سفید عمارت یوں ہولے ہولے ظاہر ہونے لگی جیسے ان کھیتوں میں سے جنم لے رہی ہو۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ ایک دل پر اثر کرنے والی سحر انگیز عمارت تھی۔ بھری دوپہر تھی جب ہم نے بابا نانک
مزید پڑھیے


’’گورے ادیب، کالے ادیب اور کاملہ شمسی‘‘

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہمارے ادب میں تین قسم کے پاکستانی پائے جاتے ہیں، ایک وہ جو اپنی مادری زبانوں میں اس کے باوجود کہ ان کا کوئی چرچا نہیں ہوتا، شہرت اگر ہوتو محدود ہوتی ہے یہ لوگ اپنی سرزمین سے جڑے ہوئے لوگ پنجابی، پشتو اور سندھی میں بڑا ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ دوسری قسم کے پاکستانیوں میں مجھ ایسے ہیں جنہوں نے اگرچہ فیض عام کی مانند کچھ نہ کچھ تو اپنی مادری زبان میں لکھا لیکن ان کا بنیادی ذریعہ اظہار اردو زبان ہے۔ ادب میں پائے جانے والے تیسری قسم کے وہ پاکستانی ہیں جنہوں نے انگریزی میں
مزید پڑھیے


’’قومی بچت کے بابوں کی تعظیم کیجیے‘‘

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ویسے تو بڑھاپا ایسی بلائے ناگہانی ہے کہ اس کا شکار ہونے والے ہر شخص پر ترس آتا ہے لیکن دو مقامات ایسے ہیں جہاں بیٹھے ہوئے منتظر بوڑھے دیکھ کر قدرے دکھ ہوتا ہے۔ ایک تو کسی ہسپتال میں‘ کسی ڈاکٹر کے کمرے کے باہر اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے بوڑھے پر۔ اور ان بابا جی نے اکثرکانپتے دونوں ہاتھوں میں اپنے میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹیں اور دیگر نسخہ جات پر مشتمل ایک فائل سینے سے لگا کر رکھی ہوتی ہے۔ بے شک ان کا بیٹا بہت منت کرے کہ اباجی اسے مجھے دے دیں لیکن وہ اسے
مزید پڑھیے


’’بچے جتنے کچّے اتنے ہی میٹھے‘‘

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کیا نوجوان طالب علموں اور بچوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟ کیا انہیں کسی بھی سیاسی تحریک میں جھونک دینا مناسب ہے؟ لکشمی مینشن نام کی ایک کولونئیل عمارت جو رہائشی فلیٹوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی اور پھر تاجر مافیا کے ہاتھوں یوں برباد ہوئی کہ سعادت حسن منٹو کے نام کی تختی ان کے گھر سے اکھاڑ کر کوڑے میں پھینک دی گئی۔ میں نے اپنے بچپن اور جوانی کا ایک بڑا حصہ اس کے فلیٹ نمبر 17میں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ بسر کیا۔ ہمارے فلیٹ کی چار کھڑکیاں ہال
مزید پڑھیے




’’ہراموش اور نانگا پربت کے جنگل روتے ہیں‘‘

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
یہ جولائی 1975ء کا قصہ ہے جب سوئٹزر لینڈ کے دارالحکومت برن میں مجھے اطلاع ملی کہ میرا خالہ زاد بھائی والدین کی اکلوتی اولاد کیپٹن پائلٹ ساجد نذیر کوئٹہ میں اپنے جہاز کے حادثے میں شہید ہو گیا ہے۔ ساجد میرے بہت ہی قریب تھا اور عمر میں بڑا ہونے کے باوجود اس کے ساتھ میری گہری دوستی بھی تھی۔ حادثے میں وہ بری طرح جھلس گیا تھا اور اسے ایک خصوصی ٹینٹ میں رکھا گیا تھا۔ اس نے اس دنیا سے منہ موڑنے سے پہلے اپنی نرس کو کہا تھا کہ میرے بھائی جان ان دنوں یورپ میں
مزید پڑھیے


’’تنہائی کے سو رُوپ ہیں‘‘

بدھ 09 اکتوبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
تنہائی کے سو روپ ہیں۔ اس کا ایک روپ ایسا ہے جس میں انسان خود ایک اداسی گھولتا ہے اور اس کیفیت کو اپنے اوپر طاری کر کے ایک لطف سے آشنا ہوتا ہے جیسے آج تنہائی کسی ہمدمِ دیرینہ کی طرح کرنے آئی ہے میری ساقی گری شام ڈھلے…چنانچہ تنہائی کا یہ رُوپ کسی حد تک رومانوی ہوتا ہے۔ اس میں مجبوری کا عمل دخل نہیں ہوتا، ایک تنہائی رُوح کی ہوتی ہے اور یہ سانس کی عطا کے ساتھ آپ کے نصیب میں لکھ دی جاتی ہے۔ اس پر اختیار نہیں ہوتا، یہ ودیعت کردہ ہوتی ہے اور
مزید پڑھیے


’’کرکٹ کی ڈائن بقیہ کھیلوں کو کھا گئی‘‘

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
اس کے وجود سے لا علم رہتے ہیں اور اس ٹیلی ویژن سکرین کو گھورتے رہتے ہیں جس میں بارش ہو رہی ہے اور کرکٹ کا کھیل رک چکا ہے۔ یہ تقریباً باسٹھ برس پیشتر کی بھولی ہوئی داستان ہے جب میں گورنمنٹ کالج لاہور کی جانب سے رتی گلی کی چوٹی سر کرنے کے لیے جو ٹیم منتخب ہوئی اس کا سب سے کم عمر ممبر تھا۔ یہ دراصل پاکستان بھر میں کوہ پیمائی کے لیے ترتیب دی جانے والی پہلی مہم تھی۔ واپسی پر ہم سب کو کالج کے پرنسپل نے ’’مائونٹینئرنگ کلر‘‘ عطا کرنے کا اعلان
مزید پڑھیے


’’کرکٹ کی ڈائن بقیہ کھیلوں کو کھا گئی‘‘

بدھ 02 اکتوبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
سلمان نے نہایت اشتیاق سے اخبار کے پہلے صفحہ کی سرخیوں پر نظر دوڑائی اور ویٹر کو کہنے لگا اوئے پرانا اخبار لے آتے ہو! ویٹر نے قسم کھا کرکہا کہ صاحب آج کا اخبار ہے۔ سلمان نے بہ نظر غائر اخبار کی پیشانی پر درج تاریخ پڑھی۔ واقعی آج کا اخبار ہی تھا۔ ہماری غیر حاضری میں ملکی صورت حال میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی۔ تمام خبریں خاص طور پر سیاسی اور سماجی بالکل وہی تھیں جو ہم دو ہفتے پیشتر پڑھ کر گئے تھے۔ اسی لئے سلمان کو گمان ہوا تھا کہ اخبار آج کا نہیں
مزید پڑھیے


’’شمال کے شیدائی‘ سودائی‘‘

اتوار 29  ستمبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کم از کم میں تو اس حقیقت سے انکار کر کے کافر نہیں ہونا چاہتا کہ پاکستانی شمال ایک سحر انگیز خطہ ہے جس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ بندے کو سودائی کر دیتاہے۔ شیدائی کر دیتا ہے۔ جونہی موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے۔ فیئری میڈو کی برفوں میں سے سٹرابیری کا پہلا پھول نمودار ہوکر بہار کی نوید دیتا ہے۔ کرومبر جھیل پر چلتے ہوئے یاکوں کے قافلے محسوس کرتے ہیں کہ ان کے سموں تلے جو منجمد برف تھی اس کے پگھلنے کے دن آ گئے ہیں۔ پھنڈر جھیل کے پانیوں میں ٹرائوٹ مچھلیاں
مزید پڑھیے