BN

مستنصر حسین تارڑ



’’آوارگی میں ہم نے کتابوں کی سیر کی‘‘


لائبریری کے سوا ایک اور مقام ایسا ہے کہ آپ میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے لے جائیے اور میں کچھ دیر کے بعد آپ کو بتا دوں گا کہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں۔ انارکلی ‘ مال روڈ اور پاک ٹی ہائوس کے باہر فٹ پاتھوں پر پرانی کتابوں کا جو جہان ہر اتوار سجتا ہے اپنی زوال پذیر مہک اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ایک زمانہ میں میری اتوار کی سویریں اس جہان میں گزرتی تھیں۔ یہ جو فٹ پاتھوں پر بکھرا پرانی کتابوں کا جہان ہوتا ہے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے
اتوار 20 جنوری 2019ء

’’کتاب کی خوشبو…مورا کامی اور حنیف کے نئے ناول‘‘

بدھ 16 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
یہ کتاب کی شائع شدہ حرف کی خوشبو ہے جس نے سب سے پہلے میرے بدن کی مساموں میں سرایت کیا۔ میں ابھی موسموں‘ بدنوں اور منظروں کی مہک سے آشنا نہ ہوا تھا جب کتاب کی مہک نے مجھے اپنا اسیر کیا۔ میرے والد صاحب نے زراعت کے بارے میں باقاعدہ درجنوں تحقیقی کتب تصنیف کیں اور تقریباً تیس برس تک’’کاشتکار جدید‘‘ کے نام سے فن زراعت کے بارے میں ایک پرچہ ترتیب دیتے رہے۔ وہ ہمیشہ چارپائی پر بیٹھ کر تہبند اور قمیض زیب تن کئے، حقے کی نال منہ میں دبائے کتابیں لکھتے کہ چارپائی کی ادوائن
مزید پڑھیے


’’دستک نہ دو‘ الطاف فاطمہ‘‘

اتوار 13 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میرا خیال ہے کہ لونئیل عہد کی وہ رہائش گاہ ‘ وہ کوٹھی‘ جس کے برآمدے بیلوں سے ڈھکے ہوئے تھے اور بیلوں پر سارا دن دھوپ ٹھہری رہتی تھی اور ایک وسیع اجاڑ سا باغ اس کے گرد پھیلا ہوا تھا۔ چند شجر تھے لیکن ان میں پرندے بہت تھے۔ وہ رہائش گاہ میرا خیال ہے کہ اب تک لاہور کی دیگر قدیم عمارتوں کی مانند ایک کھنڈر ہو چکی ہو گی۔ سینٹ انتھونی چرچ کے تقریباً پہلو میں۔ لارنس روڈ پر واقع وہ طویل برآمدوں والی کوٹھی آج سے تقریباً نصف صدی پیشتر آباد تھی۔ بیلوں پر پھول
مزید پڑھیے


’’قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیں‘‘فہمیدہ ریاض

بدھ 09 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
سب شیشے سب شیشے‘ ساغر ‘ لعل و گہر دامن میں چھپائے بیٹھی ہوں سب ثابت و سالم ہیں اب تک اک رنگ جمائے بیٹھی ہوں ٭٭٭ یہ نازک موتی عزت کا اور ایماں‘ کانچ کا یہ پتلا یہ ساغرِ دل کا سرخ کنول لبریز میٔ احمر سے سدا چٹخے نہ خراش آئی اِن پر تم ان کی صفا دیکھو تو ذرا ہے جھل جھل ان کی آب وہی اور جگ مگ ان کی وہی ضیا ٭٭٭ پتھرائو تھا چومکھ ان پر بھی ٹکرائی تھی ان سے بھی دنیا دو نسوانی بانہوں نے مگر دیکھو ہر پتھر جھیل لیا (فہمیدہ ریاض) موت کی درانتی کاٹتی چلی جاتی ہے۔ بے جان کرتی چلی جاتی ہے‘ کچھ لحاظ نہیں کرتی کہ
مزید پڑھیے


’’موراں سرکار‘ لاہور کی امرائو جان ادا‘‘

اتوار 06 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
لاہور کے لوہاری دروازے کے اندر ‘ سارنگی سکول سے آگے۔ کفن دفن کی شاید واحد دکان سے کچھ فاصلے پر۔ چوک چکلا کے نواح میں ایک ایسی قدیم تاریخی حویلی جس کے تمام کمرے‘ خواب گاہیں‘ مہمان خانے‘ سب کے سب اندھے تھے ان میں سے کسی ایک میں بھی نہ کوئی کھڑکی تھی‘ نہ کوئی روزن نہ روشنی کا کوئی در۔ اسی لئے وہ’’اندھی حویلی‘‘ کے نام سے جانی گئی۔ کوئی نہیں جانتا کہ اسے تعمیر کرنے والا شخص کون تھا۔ کوئی سِکھ سردار‘ کوئی مُغل شہزادہ یا کوئی سوداگر بے پناہ وسائل والا ‘ بہر طور یہ
مزید پڑھیے




’’طوطا کہانی اور اندھی حویلی کے اسرار‘‘

بدھ 02 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم سب چھجو بھگت کا چوبارا ‘ ایبک کا مزار اور لاہور کا قدیم ترین پُرتگالی کلیسا دیکھنے کے بعد جہاں کبھی ’’مکتبہ جدید ‘‘ ہوا کرتا تھا اور میں بچپن میں حنیف رامے صاحب سے کتابیں خریدنے آیا کرتا تھا اور اس کے آگے جو فٹ پاتھ تھا‘ وہاں ساغر صدیقی کا ڈیرہ ہوا کرتا تھا‘ میں اور یوسف کامران اکثر ساغر کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر گپیں لگایا کرتے تھے‘ اس فٹ پاتھ کے پار سرکلر روڈ کو عبور کرنے کے بعد‘ گل فروشوں کے کھوکھوں سے ذرا آگے جب ہم اندرون شہر میں آوارگی کے
مزید پڑھیے


’’ہسپتال روڈ کے فوٹو گرافر اور قطب الدین ایبک کا مزار‘‘

اتوار 30 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم میو ہسپتال سے باہر آ کر ہسپتال روڈ پر چلتے ایبک روڈ کی جانب رواں ہو گئے جہاں ہم نے قطب الدین ایبک سے ملنا تھا‘ ہو سکتا ہے وہ چوگان کھیلتا ابھی تک گھوڑے سے نہ گرا ہو۔ ایک روائت ہے کہ اس نے کسی خاتون سے بدسلوکی کی تھی اور یہ اس کی بددعا تھی جس کے نتیجے میں وہ پولو کھیلتا گھوڑے سے گر کر مر گیا۔ مجھے اس روائت کو تسلیم کرنے میں کچھ تامل ہے۔ اگر کوئی خاتون بدسلوکی کی وجہ سے کسی مرد کو بددعا دے اور وہ فوت ہو جائے تو اس
مزید پڑھیے


’’شہر لاہور میں آج کرسمس ہے‘‘

منگل 25 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
’’آج کرسمس ہے۔ شہر میونخ میں آج کرسمس ہے: فاصلوں کی کمند سے آزاد میرا دل ہے کہ شہر میونخ ہے چار سو جس طرف کوئی دیکھے برف گرتی ہے ساز بجتے ہیں آج کرسمس ہے۔ شہر لاہور میں آج کرسمس ہے۔ اگرچہ برف نہیں گرتی لیکن یہ موسم برفیلے ہیں۔ ہوا میں ایک سرد سرگوشی ہے کہ میرے اندر اتنی ٹھنڈک ہے کہ میں نمی کی بوندوں کو برف کے گالوں میں بدل سکتی ہوں۔ لیکن شہر لاہور کو برف کی اور اوڑھنے کی عادت نہیں ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ شالیمار باغ کی روشوں‘تالابوں فواروں اور سرو کے شجروں پر برف گر رہی ہو
مزید پڑھیے


’’جو سُکھ چھجّو دے چوبارے‘ اوہ نہ بلخ نہ بخارے‘‘…(2)

اتوار 23 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
انہوں نے تو سعادت حسن منٹو کے گھر کی تختی بھی اکھاڑ پھینکی۔ یہ سب کچھ پچھلے بیس برس سے ماشاء اللہ نواز لیگ کی چھتر چھائوں تلے ہوا اور اعتراف کون کرے ٹریڈر مافیا’’میاں دے نعرے وجن گے‘‘ میوزیکل گروپ تھا۔ نون لیگ کے لئے تن من اور خاص طور پر دھن قربان کرنے والے بیوپاری۔ اس دوران نہ صرف مال روڈ بلکہ ہال روڈ کی جانب لکشمی مینشن کی پوری عمارت کو جہازی سائز کے بل بورڈوں سے ڈھانک دیا گیا ۔ میرے فلیٹ کی چار کھڑکیاں بھی ان لعنتی بورڈوں کے پیچھے دفن ہو گئیں۔ خدا مزید
مزید پڑھیے


’’لکشمی مینشن کی چار کھڑکیاں اور چھجو دا چوبارہ‘‘

بدھ 19 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
جب موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے‘ دھوپ کی شدت بڑھنے لگتی ہے تو مجھے شمال کی جانب سے صدائیں آنے لگتی ہیں۔ فیئری میڈو کی برفیں پگھلنے لگتی ہیں تو ان میں سے سٹرابیری کا پہلا پھول برف میں سے ظاہر ہوتا ہے تو وہ مجھے پکارتا ہے۔ بہت دنوں سے نہیں آئے۔ پریوں کی جس چراگاہ میں تم نے آج سے تیس برس پیشتر قدم رکھا تھا اور دنیا کے اس سب سے خوبصورت منظر کو عام پاکستانیوں سے متعارف کروایا تھا۔ یہ تمہارے منتظر ہیں۔ تمہارے نام کی جھیل تمہارے لئے اداس ہے‘ چلے آئو۔ نانگا پربت
مزید پڑھیے