BN

مستنصر حسین تارڑ



’’علی مردان خان اور بُدھو کا مقبرہ‘‘


ہم جب کبھی روزمرہ کی گفتگو کے دوران کسی گائوں، کسی شہر، آس پاس کے کسی گلی محلے یا علاقے کا نام لیتے ہیں تو سرسری گزر جاتے ہیں کہ یہ محض ایک نام ہے ایک پہچان ہے۔ ہم کم ہی اس کی کسی تاریخی نسبت یا قدامت کے کسی حوالے پر غور کرتے ہیں کہ آخر یہ چوہڑکانہ ہے تو یہ شخص چوہڑ کون تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کو آباد کرنے والا درویش ٹیک سنگھ کہاں سے آیا تھا۔ وہ گویا سائیں کون تھا جس کے نام کے تالاب کو سرگودھا کہا گیا وغیرہ۔ اسی طور روایت ہے کہ
اتوار 16 جون 2019ء

’’انور سجاد کا خوشیوں کا باغ‘‘

جمعرات 13 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کہاوت تو یہی ہے کہ ’’آج مرے اور کل دوسرا دن‘‘ ویسے کہنا تو یہ چاہئے کہ ’’آج مرے تو کل قیامت‘‘ انور سجاد کو مرے ہوئے آج دوسرا نہیں پانچواں دن ہے۔ میرا دُکھ قدرے کم ہو گیا ہے تو میں نے سوچا رو دھو لیا، جی کو بہت آزار دے لیا تو کیوں نہ پچھلے زمانوں کے کچھ ورق پلٹے جائیں، انور سجاد کو کچھ یاد کر لیا جائے کہ بس یہی موقع ہے کیونکہ ابھی چوٹ تازہ ہے، یہ چوٹ ٹھنڈی ہو گئی تو ہم اسے بھول بھال جائیں گے، جیسے ابن انشاء اور مجید امجد کو
مزید پڑھیے


’’دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے انور سجاد‘‘

اتوار 09 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
عید کے اگلے روز ٹیلی ویژن چینلز پر خوب ہلا گلا ہو رہا تھا۔ رمضان کے احترام میں جن خواتین نے حجاب کو شعار کر لیا تھا‘ گھونگھٹ نکالے نعتوں پر بلا سوچے سمجھے جھومتی رہتی تھیں وہ سب یکدم حجاب اور گھونگھٹ کے آپے سے باہر ہو گئیں۔ قدرے بیباک ہو گئیں اور اپنے ساتھی میزبانوں کے ساتھ خوب کھل کھیلیں کہ رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے‘دستور بھی ہے وغیرہ وغیرہ تو سکرین پر اس نوعیت کی دھماچوکڑی اور کھیل تماشے چل رہے تھے جب سکرین کے نیچے ایک پٹی چلنی شروع ہو گئی کہ معروف ترقی
مزید پڑھیے


’’عید کی مبارکاں، عید کی اداسیاں‘‘

بدھ 05 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میں صدق دل سے سمجھتا ہوں کہ عید کے مبارک موقع پر ہمیں سب گلے شکوے بھول کر ایک دوسرے کو گلے لگا لینا چاہیے اور میری مراد ہے کہ روئیت ہلال کمیٹی کے سب اراکین کو تو ضرور ہی گلے لگانا چاہئے تا کہ سب شکایتیں دور ہو جائیں اور ہم مسلم امہ کی یک جہتی کا ثبوت دے سکیں۔ انسان خطا کا پتلا ہے اور اگر وہ عورت ہو تو خطا کی پتلی ہے؛ چنانچہ مجھ سے خطا ہو گئی کہ میں نے خواہ مخواہ دعویٰ کر دیا کہ اگر قرآن پاک کا فرمان ہے کہ یہ چاند
مزید پڑھیے


’’شیر شاہ سُوری کا کوس مینار‘‘

اتوار 02 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
فرید کی سفید مینڈکی پھر سے رواں ہو گئی۔ دراصل اس کی کار میڈ ان جاپان ہے اور اس کا ناک نقشہ بھی جاپانی سا ہے یعنی سامنے سے ایک چپٹی ناک والی گیشگرل لگتی ہے چنانچہ میں اسے پیار سے’’ڈڈی‘‘ یعنی مینڈکی کہتا ہوں۔ فرید بالکل مائنڈ نہیں کرتے بلکہ اسے صبح سویرے پارک میں آنے سے دیر ہو جائے تو نہائت سنجیدگی سے کہتا ہے۔ دراصل رات کو کچھ چھینٹے پڑے تو مینڈکی بے چاری گندی ہو گئی میں اسے نہلا رہا تھا اس لئے دیر ہو گئی۔ شیمپو بھی تو کرنا تھا۔ گلیوں اور تنگ بازاروں میں
مزید پڑھیے




’’میرا پہلا روزہ اور عید کا چاند‘‘

بدھ 29 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میری عمر کے باباجات کے ساتھ صحت کے کچھ مسائل کے علاوہ ایک اور ٹریجڈی یہ ہوتی ہے کہ لوگ ہمیں پتھر کے زمانے کا سمجھتے ہیں کہ اچھا آپ کے زمانے میں ہوائی جہاز ایجاد ہو گیا تھا۔ اچھا اگر آپ کے بچپن میں برگر اور پیزا نہیں ہوتا تھا تو آپ کھاتے کیا تھے۔ علاوہ ازیں ہر ایک آپ کی صحت کے بارے تشویش کا اظہار کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے۔ یعنی آپ کسی پارک میں ذرا دھیرے دھیرے احتیاط سے سیر کر رہے ہیں تو ایک نوجوان آپ کو پہچان کر سلام دعا سے فارغ ہو
مزید پڑھیے


’’موٹر سائیکل چلانے والی ڈولفن مچھلیاں‘‘

اتوار 26 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ان دنوں تو ہر جانب ڈالر کی ہاہا کار مچی ہے اور ڈالر ہے کہ ادھر ڈوبا ادھر نکلا کبھی ڈوبا اور پھر نکلا تو گویا پرندہ ہو گیا معیشت کی فضائے بسیط میں پرواز کرنے لگا اور اب ماہرین اپنی اپنی معاشی قابلیت کے کوٹھوں پر چڑھ کر اسے پچکارتے ہیں۔ سیٹیاں بجا کر متوجہ کرتے ہیں جیسے کبوتر باز اپنے کبوتروں کو واپس ٹھکانے پر لانے کے لئے عجب عجب آوازیں نکالتے ہیں کہ آ لوٹ کے آ جا میرے میت تجھے میرے گیت بلاتے ہیں اور ڈالر ہے کہ پرواز کرتا چلا جاتا ہے۔ نخرے دکھاتا ہے
مزید پڑھیے


’’کائرہ کے دُکھ اور بچھڑ جانے والے بیٹے‘‘

بدھ 22 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میں جب لکھتے لکھتے تھک گیا تو اپنی سٹڈی سے اُٹھ کر لائونج میں چلا گیا۔ وہاں حسب معمول ٹیلی ویژن چل رہا تھا اور میری بیگم اس کے سامنے بت بنی بیٹھی تھی۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگی’’کائرہ کا جوان بیٹا مر گیا ہے‘‘ ’’کونسے کائرہ کا؟ مجھے یکدم سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ ’’اپنے پیپلزپازٹی والے کائرہ صاحب کا۔‘‘ اُس کی آنکھوں میں نمی اتر رہی تھی اور وہ ایک سناٹے میں آئی ہوئی تھی۔ ’’دیکھ لو‘‘ ٹیلی ویژن سکرین پر کائرہ صاحب کے برابر میں ایک ایسا نوجوان کھڑا تھا جو شباہت میں ان جیسا
مزید پڑھیے


’’علامہ اقبال کی’’ قصرِ شرف النسائ‘‘ ایک یادگار نظم‘‘

اتوار 19 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
آخر جب مغلیہ سلطنت جاتی رہی اور سِکھی زمانہ آیا تو سکھوں نے اس تلوار و قرآن کو اندر سے نکالا۔ کہتے ہیں کہ کئی ہزار روپے کی مالیت کا وہ قرآن اور تلوار تھی‘‘ تو کیا شرف النساء کی داستان پر ایک دیو مالائی کہانی کا گمان نہیں ہوتا کہ گئے زمانوں کا قصہ ہے شہر لاہور کے گورنر کی بیٹی اپنے لئے ایک برج نما مقبرہ تعمیر کروایا۔ اس کی چوکور طرز تعمیر کے چاروں اور چار چار سرو کے درختوں کی تزئین کروائی کہ سرو کا درخت چمن زاروں کی زینت ہوتا ہے وہاں یہ قبرستانوں میں
مزید پڑھیے


’’سرو والا مقبرہ، ایک تاریخی بھید‘‘

بدھ 15 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
چہروں کی مانند بعض تصویریں، سکیچ یا نقش اپنے اندر کوئی ایسی دل کشی رکھتے ہیں کہ وہ یاد رہ جاتے ہیں۔ بے انت چہرے۔ تصویریں، سکیچ یا نقش بھول جاتے ہیں اور کچھ دل کے نہاں خانوں میں کہیں ثبت ہو جاتے ہیں، یاد رہ جاتے ہیں۔ جیسے شفیق الرحمن نے مجھے ’’الحمرا کی کہانیاں‘‘ کا ایک قدیم نسخہ تحفے کے طور پر بھیجا جس میں قصر الحمراء کے ایوانوں، محرابوں اور باغوں کے پین اینڈانک کے بلیک اینڈ وہائٹ سکیچ پر باب کے آغاز میں نظر نواز ہوتے تھے اور ان میں ایک سکیچ ایسا تھا جس میں
مزید پڑھیے