BN

مستنصر حسین تارڑ



’’درس میاں وڈّا کی قبر کی گھاس‘‘


یہ ایک اور دن تھا نِمی نِمی دھوپ والا‘ ٹھنڈک بھری ہوائوں والا، جب میں ایک مرتبہ پھر لاہور آوارگی پر مائل ہوا اور میرے ہمراہ دائیں بائیں دو مُنکر نکیر تھے۔ صدیق شہزاد اور فرید احمد جو میرے نائب آورہ گرد تھے اور ہم اس سویر نکلے تھے ان آثار کی تلاش میں جو اس شہر میں جگہ جگہ بکھرے۔ کہیں ظاہر ہوتے اور کہیں نیم پوشیدگی میں تاریخ کو اپنی پرانی اینٹوں پرنقش کئے ہماری آنکھوں کے منتظر تھے۔ وہ سراسر گمنام تو نہ تھے۔ کچھ تو بہت نامور تھے لیکن بیشتر کے بارے میں ہم نے صرف
اتوار 12 مئی 2019ء

’’کتاب کائنات کا سفر نامہ‘‘

بدھ 08 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم میں سے وہ لوگ جو تاریخ کی گتھیاں سلجھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں یقیناً ولیم ڈیل رمپل کے نام سے واقف ہوں گے۔ اس نے اپنی پہلی کتاب ’’ذی ناڈو کی تلاش میں‘‘ صرف بائیس برس کی عمر میں تحریر کی اور پوری دنیا میں ایک سفرنامہ نگار اور تاریخ دان کے طور پر متعارف ہو گیا۔ یہاں تک کہ لنڈن کے ٹائمز نے اس کی توصیف میں لکھا کہ اتنی کم عمری میں اتنی بڑی کتاب لکھنا کچھ معیوب سا لگتا ہے۔ ذی ناڈو دراصل قبلائی خان کا وہ شاندار دارالسلطنت تھا جس کے محلات اور پر شکوہ
مزید پڑھیے


’’بڑا ادب صرف ابنارمل لوگ لکھ سکتے ہیں؟‘‘

اتوار 05 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میرا گزشتہ کالم کتابوں کے مجذوبوں کے بارے میں تھا تو بارے کتابوں کے بھی کچھ بیاں ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں البتہ کوئی سو جھوان یعنی فلسفی نما شخص بجا طور پر معترض ہو سکتا ہے کہ اگر یہ ادیب حضرات کتابیں نہ لکھیں تو ایسے کتابوں کے مارے لوگ مجذوب ہونے سے بچ جائیں اور وہ بھی دیگر لوگوں کی مانند نہائت کامیاب اور باشعور حیات بسر کر سکیں تو سارا قصور ادیبوں کا ہے کہ یہ کتابیں نہ لکھیں تو لوگ پاگل نہ ہوں اور سکھ چین کی زندگی کے مزے لوٹیں ۔ اس سلسلے میں
مزید پڑھیے


’’کتابوں کے مجذوب‘‘

بدھ 01 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
لوگ تو کہتے ہیں کہ دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے اور یہ کہ ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے لیکن میرا معاملہ یہ ہے کہ مجھے کتابوں کی باتیں کرنا اچھا لگتا ہے اور میں پاگل ہو جائوں گا نہیں بلکہ ہو چکا ہوں ایسا لگتا ہے… میں جانتا ہوں کہ کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ کم کم ہیں۔ اقلیت میں ہیں لیکن اقلیتوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں تو کتابوں کے کالم اس اقلیت کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش ہے جو کتابوں سے اُلفت کے رشتے استوار کیے ہوئے ہے۔ کتابوں
مزید پڑھیے


’’جلیانوالہ باغ بھگت سنگھ اور قیام پاکستان‘‘

اتوار 28 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
یہ پاکستان کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے دن تھے جب پاکستان ٹیلی ویژن نے تحریک پاکستان کے حوالے سے خصوصی ڈراموں کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ وہ دن تھے جب پی ٹی وی میں کچھ جان باقی تھی اور اس کی سکرین پر پاکستانی ثقافت ‘ ادب اور موسیقی کے حوالے سے خصوصی پروگرام دیکھنے کو مل جاتے تھے۔ یہ ابھی ایک مردہ گھوڑا نہ ہوا تھا جو صرف حکومت وقت کی تھپکی سے عارضی طور پر زندہ ہو کر خوشامد اور چاپلوسی سے ہنہناتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔ مجھے بھی ہیڈ
مزید پڑھیے




’’سکندربخار،وادیٔ کالاش اور یونانی دواخانے‘‘

بدھ 24 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
چنانچہ ہم جیسے عام لوگوں تک وہی تاریخ پہنچتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں درباری خوشامدیوں سے لکھوائی جاتی ہے…اور اس تاریخ میں صرف بادشاہ کی بے مثال فتوحات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ مجال ہے کسی ایک شکست کا بھی ذکر ہو۔ اس طرح سکندر اعظم اور پورس کے درمیان جو جنگ ہوئی اسے لکھنے اور بیان کرنے والے وہ تاریخ نویس تھے جو سکندر کی مہم میں اس کے ساتھ آئے تھے۔ وہ کیسے تحریر کر سکتے تھے کہ ہندوستان میں داخل ہوتے ہی سکندر کو پورس ایسی بلا کا سامنا کرنا پڑا اور وہ شاید پہلی بار
مزید پڑھیے


’’مہمل تاریخ اور پورس کے ہاتھوں سکندر اعظم کی شکست‘‘

اتوار 21 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ولیم فورڈ کا تاریخ کے بارے میں ایک ایسا فقرہ ہے جو اس کی کاروں سے کہیں بڑھ کر مشہور ہوا ہے۔یعنی’’ہسٹری از اے بَنک‘‘ جس کا ترجمہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ تاریخ ایک مہمل شے ہے۔ بکواس ہے۔ لیکن ’’بَنک‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جس کا کچھ بھی ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔ یعنی تاریخ بیہودہ ہے۔ لایعنی ہے‘ پتہ نہیں کیا ہے‘ جھوٹ کتنا ہے۔ اور اس میں سچ کتنے فیصد ہے وغیرہ …ہر شخص اپنے مکالمے اور ذہنی افتاد کے مطابق ’’بَنک‘‘کو پرکھتا ہے۔ میں نے اپنے کسی ناول میں تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا
مزید پڑھیے


’’گلہریاں اور استاد بشیر احمد‘‘

بدھ 17 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
جی ہاں اُن دنوں یہ عین ممکن تھا کہ نیشنل کالج آف آرٹس میں مختصر مصوری کے استاد بشیر احمد کے کمرے میں آپ ایک بے ہوش گلہری پڑی دیکھ لیں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری ایک گلہری کا این سی اے اور خاص طور پر بشیر احمد میں کیا تعلق ہو سکتا ہے تو میں یہ بھید کھولے دیتا ہوں۔ میں تب مال روڈ پر لکشمی مینشن میں رہائش پذیر تھا اور وہاں سے پیدل جناح باغ میں صبح کی سیر کے لیے بلاناغہ جایا کرتا تھا۔ وہاں کبھی کبھار ترت مراد کے مزار کے قریب
مزید پڑھیے


’’عہد جدید کے بہزاد کا ’’کارخانہ‘‘

اتوار 14 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کیا آپ جانتے ہیں کہ گلہریوں کا مصوری سے گہرا تعلق ہے‘ اگر خدانخواستہ گلہریاں نہ ہوتیں تو ایک مخصوص قسم کی مصوری بھی نہ ہوتی۔ اور مصوری کا لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے گہرا تعلق ہے۔ یوں دراصل گلہریاں اور نیشنل کالج آف آرٹس یعنی این سی اے لازم و ملزوم ہیں اور ہاں یہ وہ گلہریاں نہیں جو این سی اے میں عجیب و غریب پیرا ہنوں میں ملبوس فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرتی ہیں بلکہ یہ سچ مچ کی بڑے دانتوں اور دبیز دموں والی اخروٹ کٹکٹاتی گلہریاں ہیں جو باغوں
مزید پڑھیے


’’تاج محل کا ایک گوشہ اور آصف جاہ کے گنبد کے گِدھ ‘‘

بدھ 10 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کچھ عرصہ ہوا جب میں نے شاہ دارا کے نام کی بستی شاہدرہ کے گلی کوچوں میں دوستوں کی مدد سے شاہ حسین کی بیٹھک تلاش کر لی کہ شاہ حسین اکثر لاہور کی گلیوں میں رقص کرتے اپنے مُریدوں کے غول میں پہلے تو سرشام دریائے راوی کے کنارے پہنچتے اور پھر وہاں سے شاہدرہ میں واقع اپنی بیٹھک میں جا قیام کرتے۔ اس بیٹھک کے اندر ایک بہت پرانے درخت کا تنا اب تک موجود ہے جس کے ساتھ ٹیک لگا کر شاہ حسین بیٹھا کرتے تھے۔ بیٹھک کے عین سامنے مادھو لال کا گھر تھا اور وہ
مزید پڑھیے