BN

مستنصر حسین تارڑ



’’سکندربخار،وادیٔ کالاش اور یونانی دواخانے‘‘


چنانچہ ہم جیسے عام لوگوں تک وہی تاریخ پہنچتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں درباری خوشامدیوں سے لکھوائی جاتی ہے…اور اس تاریخ میں صرف بادشاہ کی بے مثال فتوحات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ مجال ہے کسی ایک شکست کا بھی ذکر ہو۔ اس طرح سکندر اعظم اور پورس کے درمیان جو جنگ ہوئی اسے لکھنے اور بیان کرنے والے وہ تاریخ نویس تھے جو سکندر کی مہم میں اس کے ساتھ آئے تھے۔ وہ کیسے تحریر کر سکتے تھے کہ ہندوستان میں داخل ہوتے ہی سکندر کو پورس ایسی بلا کا سامنا کرنا پڑا اور وہ شاید پہلی بار
بدھ 24 اپریل 2019ء

’’مہمل تاریخ اور پورس کے ہاتھوں سکندر اعظم کی شکست‘‘

اتوار 21 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ولیم فورڈ کا تاریخ کے بارے میں ایک ایسا فقرہ ہے جو اس کی کاروں سے کہیں بڑھ کر مشہور ہوا ہے۔یعنی’’ہسٹری از اے بَنک‘‘ جس کا ترجمہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ تاریخ ایک مہمل شے ہے۔ بکواس ہے۔ لیکن ’’بَنک‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جس کا کچھ بھی ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔ یعنی تاریخ بیہودہ ہے۔ لایعنی ہے‘ پتہ نہیں کیا ہے‘ جھوٹ کتنا ہے۔ اور اس میں سچ کتنے فیصد ہے وغیرہ …ہر شخص اپنے مکالمے اور ذہنی افتاد کے مطابق ’’بَنک‘‘کو پرکھتا ہے۔ میں نے اپنے کسی ناول میں تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا
مزید پڑھیے


’’گلہریاں اور استاد بشیر احمد‘‘

بدھ 17 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
جی ہاں اُن دنوں یہ عین ممکن تھا کہ نیشنل کالج آف آرٹس میں مختصر مصوری کے استاد بشیر احمد کے کمرے میں آپ ایک بے ہوش گلہری پڑی دیکھ لیں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری ایک گلہری کا این سی اے اور خاص طور پر بشیر احمد میں کیا تعلق ہو سکتا ہے تو میں یہ بھید کھولے دیتا ہوں۔ میں تب مال روڈ پر لکشمی مینشن میں رہائش پذیر تھا اور وہاں سے پیدل جناح باغ میں صبح کی سیر کے لیے بلاناغہ جایا کرتا تھا۔ وہاں کبھی کبھار ترت مراد کے مزار کے قریب
مزید پڑھیے


’’عہد جدید کے بہزاد کا ’’کارخانہ‘‘

اتوار 14 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کیا آپ جانتے ہیں کہ گلہریوں کا مصوری سے گہرا تعلق ہے‘ اگر خدانخواستہ گلہریاں نہ ہوتیں تو ایک مخصوص قسم کی مصوری بھی نہ ہوتی۔ اور مصوری کا لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے گہرا تعلق ہے۔ یوں دراصل گلہریاں اور نیشنل کالج آف آرٹس یعنی این سی اے لازم و ملزوم ہیں اور ہاں یہ وہ گلہریاں نہیں جو این سی اے میں عجیب و غریب پیرا ہنوں میں ملبوس فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرتی ہیں بلکہ یہ سچ مچ کی بڑے دانتوں اور دبیز دموں والی اخروٹ کٹکٹاتی گلہریاں ہیں جو باغوں
مزید پڑھیے


’’تاج محل کا ایک گوشہ اور آصف جاہ کے گنبد کے گِدھ ‘‘

بدھ 10 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کچھ عرصہ ہوا جب میں نے شاہ دارا کے نام کی بستی شاہدرہ کے گلی کوچوں میں دوستوں کی مدد سے شاہ حسین کی بیٹھک تلاش کر لی کہ شاہ حسین اکثر لاہور کی گلیوں میں رقص کرتے اپنے مُریدوں کے غول میں پہلے تو سرشام دریائے راوی کے کنارے پہنچتے اور پھر وہاں سے شاہدرہ میں واقع اپنی بیٹھک میں جا قیام کرتے۔ اس بیٹھک کے اندر ایک بہت پرانے درخت کا تنا اب تک موجود ہے جس کے ساتھ ٹیک لگا کر شاہ حسین بیٹھا کرتے تھے۔ بیٹھک کے عین سامنے مادھو لال کا گھر تھا اور وہ
مزید پڑھیے




’’تل ابوندا۔ تل احرام۔ تل کمتانیہ۔ گولان کی پہاڑیاں‘‘

اتوار 07 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
دمشق سے باہر نکلے تو ہر سو ویرانی تھی۔ جنگ کی تباہ کاریوں کے آثار تھے۔ شاہراہ پر صرف ہماری کار تھی جس کا رخ گولان کی پہاڑیوں کی جانب تھا۔ بارود کی سیاہی پتھروں کے چہروں پر ملی ہوئی تھی۔ دمشق کے پہلے شہری ایئر پورٹ کے رن وے پر تباہ شدہ جہازوں کے ڈھانچے بجھے ہوئے آتش دانوں کی مانند سرد تھے۔ دائیں جانب ’’جبل الشیخ‘‘ کی برفپوش بلندیاں تھیں یعنی ’’بوڑھے پہاڑ‘‘ کی چوٹیاں۔ کار کے اندر عرب موسیقار عطشی کی پرسوز آواز گونج رہی تھی۔’’ناتواں آدمی محبت کے سامنے ختم ہو جاتا ہے اور قوی
مزید پڑھیے


’’ایم ایم عالم دمشق میں اور…گولان‘‘

بدھ 03 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ابھی پچھلے دنوں امریکی صدر نے نیتن یاہو کو الیکشن جتوانے کے لئے ایک تحفہ پیش کر دیا اور گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کی ریاست قرار دے دیا۔ اس سے پیشتر امریکہ کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں کو نئی بستیاں آباد کرنے کا حق بھی تسلیم کر لیا گیا اور بیت المقدس کو تو سب سے پہلے اسرائیل کا صدر مقام قرار دے کر امریکی سفارتی عملہ بھی منتقل کر دیا گیا تھا۔ گولان کی پہاڑیوں کو تفویض کرنے کے اعلان پر حسب معمول ایک مرتبہ پھر عرب دنیا میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ
مزید پڑھیے


’’قصیدہ بانت سعاد اور لاہور کی تلوار‘‘

اتوار 31 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
گئے زمانوں کے قصے ہیں جب ریل گاڑی دھواں اگلنے والے انجن کے کالے کلوٹے وجود سے بندھی پنڈی کی جانب سے لاہور کی قربت میں ہوتی جاتی تھی تو بائیں جانب کھڑکیوں میں سے کھجوروں کے جھنڈ نظر آنے لگتے تھے تو کم از کم تین چار مسافر ضرور پکار اٹھتے تھے کہ لو بھائی جان شاہدرہ آ گیا ہے اور جب ریل گاڑی راوی کے پل پر پہنچتی تھی تو ’’ لو بھائی جان لاہور آ گیا ہے‘‘ کے نعرے لگتے تھے۔ کھجور کے ان جھنڈوں میں ان پاکستانی فلموں کی شوٹنگ ہوا کرتی تھی جن میں عرب
مزید پڑھیے


’’حسن یوسف اور مولوی غلام رسول عالمپوری‘‘

بدھ 27 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
جب کبھی کوئی کھوئی ہوئی یاد دل کے نہاں خانوں میں سراب کی صورت ‘ ایک دھندلے خواب کی صورت یوں جھلملانے لگتی ہے کہ کبھی وہ صاف ظاہر ہوتی ہے اور کبھی بیتے زمانوں کے اندھیاروں میں گم ہو جاتی ہے تو تین چیزیںایسی ہوتی ہیں جو اس یاد کو سراب سے دریافت کر کے آپ کی یادداشت کے جھروکوں میں پہچان کے چراغ جلا دیتی ہیں ایک تو شکل‘ کوئی منظر‘ کوئی لینڈ سکیپ‘ دوسری چیز ہے خوشبو اور تیسری چیز ہے کوئی آواز کوئی گیت کوئی لَے۔ تو ہم ابھی لینڈ سکیپ یا خوشبو سے صرف نظر
مزید پڑھیے


’’قبر کے کتبے کے گلے میں ہار اور صدارتی گیٹ ہمیشہ کے لئے بند‘‘

اتوار 24 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کسی بھی ایوارڈ کی وقعت اور اہمیت کو پرکھنا ہو تو یہ دیکھئے کہ آپ سے پہلے وہ ایوارڈ کن کن ادیبوں کو مل چکا ہے۔ اگر تو ایسے ویسے ادیبوں کو بھی مل چکا ہے تو اسے قبول کر کے آپ بھی ایسے ویسے ہو جائیں گے۔ مجھے 2001ء میں یا شاید 2002ء میں دوہا قطر کا فروغ اردو ادب انٹرنیشنل ایوارڈ عطا کیا گیا اور یہ فیصلہ اس جیوری نے کیا جس کے چیئرمین مشتاق یوسفی تھے اور یوسفی صاحب کے بقول جیوری نے صرف چند منٹوں کے اندر متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا تو یہ ایوارڈ
مزید پڑھیے