BN

مستنصر حسین تارڑ



’’تل ابوندا۔ تل احرام۔ تل کمتانیہ۔ گولان کی پہاڑیاں‘‘


دمشق سے باہر نکلے تو ہر سو ویرانی تھی۔ جنگ کی تباہ کاریوں کے آثار تھے۔ شاہراہ پر صرف ہماری کار تھی جس کا رخ گولان کی پہاڑیوں کی جانب تھا۔ بارود کی سیاہی پتھروں کے چہروں پر ملی ہوئی تھی۔ دمشق کے پہلے شہری ایئر پورٹ کے رن وے پر تباہ شدہ جہازوں کے ڈھانچے بجھے ہوئے آتش دانوں کی مانند سرد تھے۔ دائیں جانب ’’جبل الشیخ‘‘ کی برفپوش بلندیاں تھیں یعنی ’’بوڑھے پہاڑ‘‘ کی چوٹیاں۔ کار کے اندر عرب موسیقار عطشی کی پرسوز آواز گونج رہی تھی۔’’ناتواں آدمی محبت کے سامنے ختم ہو جاتا ہے اور قوی
اتوار 07 اپریل 2019ء

’’ایم ایم عالم دمشق میں اور…گولان‘‘

بدھ 03 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ابھی پچھلے دنوں امریکی صدر نے نیتن یاہو کو الیکشن جتوانے کے لئے ایک تحفہ پیش کر دیا اور گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کی ریاست قرار دے دیا۔ اس سے پیشتر امریکہ کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں کو نئی بستیاں آباد کرنے کا حق بھی تسلیم کر لیا گیا اور بیت المقدس کو تو سب سے پہلے اسرائیل کا صدر مقام قرار دے کر امریکی سفارتی عملہ بھی منتقل کر دیا گیا تھا۔ گولان کی پہاڑیوں کو تفویض کرنے کے اعلان پر حسب معمول ایک مرتبہ پھر عرب دنیا میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ
مزید پڑھیے


’’قصیدہ بانت سعاد اور لاہور کی تلوار‘‘

اتوار 31 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
گئے زمانوں کے قصے ہیں جب ریل گاڑی دھواں اگلنے والے انجن کے کالے کلوٹے وجود سے بندھی پنڈی کی جانب سے لاہور کی قربت میں ہوتی جاتی تھی تو بائیں جانب کھڑکیوں میں سے کھجوروں کے جھنڈ نظر آنے لگتے تھے تو کم از کم تین چار مسافر ضرور پکار اٹھتے تھے کہ لو بھائی جان شاہدرہ آ گیا ہے اور جب ریل گاڑی راوی کے پل پر پہنچتی تھی تو ’’ لو بھائی جان لاہور آ گیا ہے‘‘ کے نعرے لگتے تھے۔ کھجور کے ان جھنڈوں میں ان پاکستانی فلموں کی شوٹنگ ہوا کرتی تھی جن میں عرب
مزید پڑھیے


’’حسن یوسف اور مولوی غلام رسول عالمپوری‘‘

بدھ 27 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
جب کبھی کوئی کھوئی ہوئی یاد دل کے نہاں خانوں میں سراب کی صورت ‘ ایک دھندلے خواب کی صورت یوں جھلملانے لگتی ہے کہ کبھی وہ صاف ظاہر ہوتی ہے اور کبھی بیتے زمانوں کے اندھیاروں میں گم ہو جاتی ہے تو تین چیزیںایسی ہوتی ہیں جو اس یاد کو سراب سے دریافت کر کے آپ کی یادداشت کے جھروکوں میں پہچان کے چراغ جلا دیتی ہیں ایک تو شکل‘ کوئی منظر‘ کوئی لینڈ سکیپ‘ دوسری چیز ہے خوشبو اور تیسری چیز ہے کوئی آواز کوئی گیت کوئی لَے۔ تو ہم ابھی لینڈ سکیپ یا خوشبو سے صرف نظر
مزید پڑھیے


’’قبر کے کتبے کے گلے میں ہار اور صدارتی گیٹ ہمیشہ کے لئے بند‘‘

اتوار 24 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کسی بھی ایوارڈ کی وقعت اور اہمیت کو پرکھنا ہو تو یہ دیکھئے کہ آپ سے پہلے وہ ایوارڈ کن کن ادیبوں کو مل چکا ہے۔ اگر تو ایسے ویسے ادیبوں کو بھی مل چکا ہے تو اسے قبول کر کے آپ بھی ایسے ویسے ہو جائیں گے۔ مجھے 2001ء میں یا شاید 2002ء میں دوہا قطر کا فروغ اردو ادب انٹرنیشنل ایوارڈ عطا کیا گیا اور یہ فیصلہ اس جیوری نے کیا جس کے چیئرمین مشتاق یوسفی تھے اور یوسفی صاحب کے بقول جیوری نے صرف چند منٹوں کے اندر متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا تو یہ ایوارڈ
مزید پڑھیے




’’ایوارڈ حاصل کرنے کے مجرب نسخے اور قبر کے کتبے‘‘

بدھ 20 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
سول ایوارڈ کچھ تو عطا ہوتے ہیں اور کچھ عطا کروائے جاتے ہیں یعنی کچھ ملتے ہیں اور کچھ ’’حاصل ‘‘ کئے جاتے ہیں۔ ایوارڈ ’’حاصل‘‘ کرنے کے لئے وہ تمام تر حربے استعمال کئے جاتے ہیں جو کسی بھی غیر قانونی عمل کو قانونی کروانے کے لئے بروئے کار لائے جاتے ہیں‘ یعنی سفارش‘ دوستی‘ تعلقات‘ سیاست اور تعلقات عامہ کے شعبہ سے ۔ ویسے تو ایوارڈ حاصل کرنے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی صوبائی یا مرکزی وزیر کی خوشنودی حاصل کیجیے اور کچھ حاجت نہیں ہے کہ کوئی بھی سرکاری محکمہ آپ کا نام
مزید پڑھیے


’’صدارتی ایوارڈ کے اصطبل میں عربی گھوڑے اور خچّر‘‘

اتوار 17 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
یہ غالباً 91ء کا قصہ ہے جب صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی عطا کئے جانے کے بعد اسلام آباد کے ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر نے مجھ سے معمول کا ایک سوال کیا کہ آپ کا اس ایوارڈ کے بارے میں کیا تاثر ہے اور میں نے کہا تھا کہ تمغہ حسن کارکردگی ایک ایسا اصطبل ہے جس میں عربی گھوڑے اور خچر ساتھ ساتھ بندھے ہوتے ہیں۔ اس بیان پر مجھ سے پہلے اپنے زور بازو سے ایوارڈ’’حاصل‘‘ کرنے والے ایک دو ادیبوں نے بہت غل مچایا کہ تارڑ نے ہمیں خچر کہا ہے۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے
مزید پڑھیے


’’دن کو بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے…تلوک چند محرومؔ‘‘

بدھ 13 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
انگریز سرکار کے ابتدائی دور میں جہانگیر‘ آصف جاہ اور نورجہاں کے مقابر ایک دوسرے کی قربت میں تھے۔ جہانگیر کشمیر سے واپسی پر راجوڑی یا بھمبر کے مقام پر 1627ء میں راہی ملک عدم ہوا۔ اس کی شیر افگن سے چھینی ہوئی لاڈلی ملکہ نورجہاں نے شاہی حکیم کو حکم دیا کہ شہنشاہ کو میں اپنے لاہور میں دفن کروں گی چنانچہ حکیم نے شہنشاہ کے بدن میں نشتر لگا کر اسے کھولا اور مردہ بدن کے وہ حصے نکال لئے جو دو چار دن میں گل سڑ جاتے ہیں۔ ان حصوںکو وہیں دفن کر دیا گیا اور وہاں
مزید پڑھیے


’’کامران کی شکست خوردہ بارہ دری‘‘

اتوار 10 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
بارہ دری باغ کامران شہر لاہور میں تعمیر کردہ مغلیہ عمارتوں پر قدامت کے حساب سے غالباً سبقت رکھتی ہے۔ مرزا کامران‘ شہنشاہ بابر کا بیٹا اور ہمایوں کا بھائی اس عمارت کا بانی تھا اور تب یہاں صرف بارہ دری نہیں بلکہ اس کے آس پاس ایک شاندار مغل باغ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ جج عبدالطیف نے ’’تاریخ لاہور میں اس کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے’’یہ مستحکم و مضبوط پرانی عمارت اپنی عالی شان اور بلند و بالا محرابوں کے ہمراہ دریائے راوی کے دائیں کنارے پر کھڑی ہے۔ یہ عمارت ایک خوبصورت باغ کے وسط
مزید پڑھیے


’’سر گنگا رام کی سمادھی اور راوی کی آلودگی‘‘

بدھ 06 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
جن زمانوں میں میری حیات کا تسلسل صبح کی نشریات کی میزبانی تھا ان دنوں میرے پروگرام کیلئے خصوصی طور پر تیار کردہ لاہور ٹیلی ویژن کی جانب سے ایک ایسی ڈاکومنٹری وصول ہوئی جسے دیکھ کر میں اپنی آنکھوں پر یقین نہ کر سکا کہ یہ خواب ہے کہ سراب ہے۔ سرسبز کھیتوں کے درمیان میں ٹرین کے ڈبے ایک پٹڑی پر چلے جا رہے ہیں۔ ان میں مسافر سوار ہیں اور ان ڈبوں کے آگے ریلوے انجن نہیں ہے۔ بلکہ گھوڑے بندھے ہوئے ہیں جو انہیں کھینچتے چلے جا رہے ہیں۔ یا وحشت یہ کیا شے ہے۔ ایک
مزید پڑھیے