BN

مستنصر حسین تارڑ



’’ہندوستانی ہاتھی اور پاکستانی چڑیا‘‘


بعض اوقات کوئی بہت فضول اور عامیانہ سا لطیفہ کسی صورت حال پر یوں منطبق ہوتا ہے کہ مجبوراً اس کا حوالہ دینا ہی پڑتا ہے۔ لطیفہ کچھ یوں ہے کہ ایک نامور کبڈی کے کھلاڑی کی بیوی نے عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا کہ حضور میرے خاوند میں وہ خصوصیات مفقود ہیں جو ایک مرد میں ہونی چاہئیں اس لئے میں اس سے طلاق حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ جج نے حیران ہو کر کہا کہ بی بی آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ آپ کا خاوند تو بہت تنومند کبڈی کا کھلاڑی ہے۔ اس پر اس
اتوار 03 مارچ 2019ء

’’ایک شاندار حُسن والا گھوڑا…کشمیر‘‘

بدھ 27 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میری امّی جان اور میری دو عدد خالائیں اپنی روز مرہ کی گفتگو میں محاورے بے دریغ استعمال کرتی تھیں‘ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ محاوروں میں کچھ کچھ گفتگو کرتی تھیں۔ ہماری زبان یعنی پنجابی کو ایک تو دیگر زبانوں نے زدو کوب کیا اور اس کے علاوہ خود پنجابیوں نے بھی اپنی مادری زبان سے نفرت کی انتہا کر دی۔ بہرحال مجھے ہمیشہ قلق رہے گا کہ میں نے اپنے گھر میں کثرت سے استعمال کئے گئے محاوروں کو محفوظ کیوں نہ کیا۔ ہماری مائیں‘ خالائیں اور پھوپھیاں گئیں تو ان کے ساتھ پنجابی کے
مزید پڑھیے


’’گوروارجن دیو‘ شاہجہاں کی بیٹی اور شوکت خانم‘‘

اتوار 24 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
شہر لاہور کے بہت سے باسی اکثر موچی دروازے کے اندر واقع ایک قدیم کنویں کے قریب سے گزرتے رہتے ہیں اور وہ اس کنویں سے منسوب دوستی کی ایک لازوال داستان سے واقفیت نہیں رکھتے۔ ایک مسلمان درویش حضرت میاں میر اور ایک سکھ گورو ارجن دیو کی دوستی کی داستان ۔ یہ کنواں جو ’’لال کھوہ‘‘ کہلاتا ہے البتہ اپنی ذائقہ دار برفی کے لئے دنیا بھر کے لاہوریوں میں معروف ہے اور اس داستان میں یہاں کی برفی بھی ایک تاریخی کردار ہے۔ گورو ارجن دیو حضرت میاں میر کے نہ صرف قریبی دوست تھے بلکہ روائت
مزید پڑھیے


’’حضرت میاں میر‘ چھجو بھگت اور داراشکوہ‘‘

بدھ 20 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
لاہور تاریخ کے نگار خانے میں ایک عجائب ہے۔ بہت دیوانگی‘ عبادت‘ ریاضت پاکیزگی اور روحانیت کا۔ اس نگارخانے میں ایسی ایسی محیرالعقول داستانیں رقم ہیں کہ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ وہ یقین کس کا کرے۔ تعصب ‘ مذہبی تنگ نظری کا یا فراخ دلی اور انسانیت کے اعلیٰ پیمانوں کا۔ مجھے آج تین الگ الگ داستانیں سنانی ہیں۔ تاریخ اور عقیدے کے تین سب سے بڑے جری اور شاندار کردار اور تینوں کی عظمت اور پارسائی میں کچھ شک نہیں۔ حیرت یہ ہے کہ یہ تینوں اگرچہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلمان ہندو اور
مزید پڑھیے


’’بائے بائے بسنت۔ ویلکم ویلنٹائن‘‘

اتوار 17 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
اِک دن رہیں بسنت میں اِک دن جئیں بہار میں اِک دن پھریں بے انت میں اِک دن چلیں خمار میں دو دن رکیں گرہست میں اِک دن کسی دیار میں (منیر نیازی) آپ مشہور پنجابی لوگ گیت’’جگنی‘ کے ان مصرعوں سے تو آگاہ ہوں گے کہ ‘جگنی جاوڑی وچ روہی۔ اوتھے رو رو کملی ہوئی۔ اوہدی وات نہ لیندا کوئی۔ یعنی جگنی روہی کے ویرانے میں چلی گئی اور وہاں رو رو کر کملی ہو گئی اور پھر بھی کسی نے اس کی خبر نہ لی۔ ان دنوں بے چاری بسنت بھی جگنی ہو چکی ہے۔ دشمنوں کے نرغے میں آ گئی ہے۔ روتی ہے فریادیں
مزید پڑھیے




’’گورنر ہائوس سندھ میں ادب فیسٹول کا مور ناچا‘‘

بدھ 13 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
سندھ کے گورنر ہائوس کے سبزہ زاروں اور چمن زاروں میں کچھ ادیب گمشدہ بھیڑوں کی مانند پھرتے تھے اور انہیں اپنی شکل کی کوئی بھیڑ نظر نہ آتی تھی اور سندھ کے گورنر ہائوس میں ’’ادب فیسٹول پاکستان کراچی‘‘ کا امتیازی نشان یعنی مور ناچتا پھرتا تھا اور اسے کل دنیا دیکھتی تھی۔ اور یہ مور بھی ناچتا پھرتا تھا اور شناسا چہروں والے ادیبوں کو تلاش کرتا پھرتا تھا اور وہ دکھائی ہی نہ دیتے تھے۔ یہ ادب فیسٹول دراصل آکسفورڈ لٹریری فیسٹول کی پسلی میں سے پیدا ہوا تھا۔ تقریباً دس برس پیشتر برادر آصف فرخی اور محترمہ
مزید پڑھیے


’’پنجاب کی آخری شہزادی‘ بمباں سدر لینڈ کی ویران قبر‘‘

اتوار 10 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
فرق شاہی و بندگی برخاست چوں قضائے نوشتہ آید پیش گر کسے خاک مردہ باز کند نہ شناسد تونگر از درویش پنجاب کی آخری شہزادی‘ شہزادی بمباں سدر لینڈ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پڑپوتی۔ مہاراجہ دلیپ سنگھ کی پوتی کی قبر پر اس روز بھی کوئی پھول کوئی گلدستہ نہ تھا جس روز پورے قبرستان میں غریب ترین اور گمنام ترین شخص کی قبر پر پھول بکھرے ہوئے تھے۔ مندرجہ بالا رباعی گویا شہزادی کی اس حالت زار کی گواہی دیتی تھی کہ ہاں آج تو بادشاہ اور درویش میں کچھ فرق باقی نہیں رہا۔ موت نے شاہی و بندگی کے فرق مٹا دئیے…’’نے
مزید پڑھیے


’’لاہور کا قدیم ترین گورا قبرستان…1841ئ‘‘

بدھ 06 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
عام طور پر قبرستان کو ہمارے ہاں شہر خموشاں کہا جاتا ہے لیکن شہر تو کبھی خاموش نہیں ہوتے کہ جہاں لوگ آباد ہوں گے وہاں ان کی باتوں کا شورتو ہو گا‘ آوازیں تو ہوں گی۔ چنانچہ جیسے شہر بولتے ہیں ایسے قبرستان بھی بولتے ہیں اگرچہ سرگوشیوں میں اور یہ سرگوشیاں خاص طور پر انہیں سنائی دیتی ہیں جن کے پیارے وہاں دفن ہوتے ہیں۔ کیا ہم اپنے عزیزوں کی ڈھیریوں کو چھوتے ہی دل ہی دل میں ان سے مخاطب نہیں ہوتے۔ ان سے کلام نہیں کرتے۔ کبھی آپ کو کوئی خوشی ملتی ہے‘ کوئی خاص عنائت
مزید پڑھیے


’’علی غزنوی آف شاہِ ہجویر‘‘

اتوار 03 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
تو کیا یہ درست ہے کہ جس شہر میں بدی جڑیں پکڑ جائے اور لوگ راہ راست سے بھٹک جائیں اسی نسبت سے اس شہر کے ولی اللہ کا مزار عالیشان اور وسیع ہوتا جاتا ہے؟ یعنی یہ احساسِ جُرم ہے جس کی وجہ سے آج کے لوگ اپنے شہروں میں واقع اللہ سے قربت رکھنے والے لوگوں کے مرقدوں کی وسعت کیلئے دل کھول کر چندہ دیتے ہیں۔ داتا صاحب کی مانند میں تب چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا جب پہلی بار کراچی گیا۔ ایک شب ہمارے استاد سکول کے سب بچوں کو کراچی سے دور ایک ویران رات
مزید پڑھیے


’’داتا گنج بخش اور سِکھ سردار کی منت‘‘

بدھ 30 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میں داتا گنج بخش کے مزار کے برابر والی گلی میں لنگر تقسیم کر رہا ہوں۔ میرے سامنے چنے کے پلائو کی تین دیگیں دھری ہیں۔ آگے بڑھے ہوئے ہاتھ ہیں۔ جھولیاں اور شاپر ہیں اور میں انہیں بھرتا جا رہا ہوں۔ یہ 25دسمبر کے بڑے دن کی ایک دھندلی سویر ہے۔ چاول تقسیم کرتے میرا ہاتھ دکھنے لگتا ہے لیکن میں رک نہیں سکتا۔ سوال کرتی‘ بھیک مانگتی‘ غربت زدہ آنکھیں ہیں جو مجھے اس آس میں تک رہی ہیں کہ میں ایک جعلی سخی بابا ان کی جھولی بھر دوں‘ ان کی بھوک کا مداوا کر دوں۔ یہ
مزید پڑھیے