BN

مستنصر حسین تارڑ



’’گورنر ہائوس سندھ میں ادب فیسٹول کا مور ناچا‘‘


سندھ کے گورنر ہائوس کے سبزہ زاروں اور چمن زاروں میں کچھ ادیب گمشدہ بھیڑوں کی مانند پھرتے تھے اور انہیں اپنی شکل کی کوئی بھیڑ نظر نہ آتی تھی اور سندھ کے گورنر ہائوس میں ’’ادب فیسٹول پاکستان کراچی‘‘ کا امتیازی نشان یعنی مور ناچتا پھرتا تھا اور اسے کل دنیا دیکھتی تھی۔ اور یہ مور بھی ناچتا پھرتا تھا اور شناسا چہروں والے ادیبوں کو تلاش کرتا پھرتا تھا اور وہ دکھائی ہی نہ دیتے تھے۔ یہ ادب فیسٹول دراصل آکسفورڈ لٹریری فیسٹول کی پسلی میں سے پیدا ہوا تھا۔ تقریباً دس برس پیشتر برادر آصف فرخی اور محترمہ
بدھ 13 فروری 2019ء

’’پنجاب کی آخری شہزادی‘ بمباں سدر لینڈ کی ویران قبر‘‘

اتوار 10 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
فرق شاہی و بندگی برخاست چوں قضائے نوشتہ آید پیش گر کسے خاک مردہ باز کند نہ شناسد تونگر از درویش پنجاب کی آخری شہزادی‘ شہزادی بمباں سدر لینڈ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پڑپوتی۔ مہاراجہ دلیپ سنگھ کی پوتی کی قبر پر اس روز بھی کوئی پھول کوئی گلدستہ نہ تھا جس روز پورے قبرستان میں غریب ترین اور گمنام ترین شخص کی قبر پر پھول بکھرے ہوئے تھے۔ مندرجہ بالا رباعی گویا شہزادی کی اس حالت زار کی گواہی دیتی تھی کہ ہاں آج تو بادشاہ اور درویش میں کچھ فرق باقی نہیں رہا۔ موت نے شاہی و بندگی کے فرق مٹا دئیے…’’نے
مزید پڑھیے


’’لاہور کا قدیم ترین گورا قبرستان…1841ئ‘‘

بدھ 06 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
عام طور پر قبرستان کو ہمارے ہاں شہر خموشاں کہا جاتا ہے لیکن شہر تو کبھی خاموش نہیں ہوتے کہ جہاں لوگ آباد ہوں گے وہاں ان کی باتوں کا شورتو ہو گا‘ آوازیں تو ہوں گی۔ چنانچہ جیسے شہر بولتے ہیں ایسے قبرستان بھی بولتے ہیں اگرچہ سرگوشیوں میں اور یہ سرگوشیاں خاص طور پر انہیں سنائی دیتی ہیں جن کے پیارے وہاں دفن ہوتے ہیں۔ کیا ہم اپنے عزیزوں کی ڈھیریوں کو چھوتے ہی دل ہی دل میں ان سے مخاطب نہیں ہوتے۔ ان سے کلام نہیں کرتے۔ کبھی آپ کو کوئی خوشی ملتی ہے‘ کوئی خاص عنائت
مزید پڑھیے


’’علی غزنوی آف شاہِ ہجویر‘‘

اتوار 03 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
تو کیا یہ درست ہے کہ جس شہر میں بدی جڑیں پکڑ جائے اور لوگ راہ راست سے بھٹک جائیں اسی نسبت سے اس شہر کے ولی اللہ کا مزار عالیشان اور وسیع ہوتا جاتا ہے؟ یعنی یہ احساسِ جُرم ہے جس کی وجہ سے آج کے لوگ اپنے شہروں میں واقع اللہ سے قربت رکھنے والے لوگوں کے مرقدوں کی وسعت کیلئے دل کھول کر چندہ دیتے ہیں۔ داتا صاحب کی مانند میں تب چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا جب پہلی بار کراچی گیا۔ ایک شب ہمارے استاد سکول کے سب بچوں کو کراچی سے دور ایک ویران رات
مزید پڑھیے


’’داتا گنج بخش اور سِکھ سردار کی منت‘‘

بدھ 30 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میں داتا گنج بخش کے مزار کے برابر والی گلی میں لنگر تقسیم کر رہا ہوں۔ میرے سامنے چنے کے پلائو کی تین دیگیں دھری ہیں۔ آگے بڑھے ہوئے ہاتھ ہیں۔ جھولیاں اور شاپر ہیں اور میں انہیں بھرتا جا رہا ہوں۔ یہ 25دسمبر کے بڑے دن کی ایک دھندلی سویر ہے۔ چاول تقسیم کرتے میرا ہاتھ دکھنے لگتا ہے لیکن میں رک نہیں سکتا۔ سوال کرتی‘ بھیک مانگتی‘ غربت زدہ آنکھیں ہیں جو مجھے اس آس میں تک رہی ہیں کہ میں ایک جعلی سخی بابا ان کی جھولی بھر دوں‘ ان کی بھوک کا مداوا کر دوں۔ یہ
مزید پڑھیے




’’جھلّی چلی گئی۔ رُوحی بانو‘‘

اتوار 27 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
’’کتاب عُمر کا ایک باب ختم ہوا شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا‘‘ روحی بانو کے بھی سب عذاب ختم ہوئے۔ سب آزمائشیں ‘ سب امتحان‘ سب نارسائیاں سب دُکھ درد ختم ہوئے۔ کسی کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ کہاں کس ماحول میں پیدا ہو جائے۔ اس کے بس میں یہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ماحول سے فرار ہو جائے۔ اپنا پس منظر پوشیدہ کر کے ’’مہذب‘‘ معاشرے میں شامل ہو جائے۔ روحی بانو بیک وقت دو دُنیائوں میں سانس لیتی تھی ایک وہ دنیا جہاں ادب ‘ فلسفے ‘ نفسیات اور فنون لطیفہ کی باتیں ہوتی
مزید پڑھیے


’’علاقے کا نیا تھانیدار‘‘

بدھ 23 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
’’بیگم بیگم…کیا زلزلہ آ رہا ہے’’میں نے کار کے سٹیرنگ پر ہاتھ مار کر کہا‘‘ ذرا باہر دیکھو۔ دائیں بائیں جتنی بھی عمارتیں گزر رہی ہیں وہ سب کی سب لرزش میں ہیں۔ لگتا ہے کہ ابھی ابھی کڑم دھم گر جائیں گی۔ بیگم قیامت آنے والی ہے۔ مجھے اس ملک کی تباہی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ بیگم کچھ تو بولو’’بیگم نے حسب معمول میری جانب خشمگیں نظروں سے دیکھا‘‘ یہ کیا ہو گیا ہے تمہیں۔ کچھ دنوں سے لگتا ہے کہ نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہو۔ باہر گزرتی عمارتیں ہرگز لرزش میں نہیں ہیں اور یہ
مزید پڑھیے


’’آوارگی میں ہم نے کتابوں کی سیر کی‘‘

اتوار 20 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
لائبریری کے سوا ایک اور مقام ایسا ہے کہ آپ میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے لے جائیے اور میں کچھ دیر کے بعد آپ کو بتا دوں گا کہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں۔ انارکلی ‘ مال روڈ اور پاک ٹی ہائوس کے باہر فٹ پاتھوں پر پرانی کتابوں کا جو جہان ہر اتوار سجتا ہے اپنی زوال پذیر مہک اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ایک زمانہ میں میری اتوار کی سویریں اس جہان میں گزرتی تھیں۔ یہ جو فٹ پاتھوں پر بکھرا پرانی کتابوں کا جہان ہوتا ہے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے
مزید پڑھیے


’’کتاب کی خوشبو…مورا کامی اور حنیف کے نئے ناول‘‘

بدھ 16 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
یہ کتاب کی شائع شدہ حرف کی خوشبو ہے جس نے سب سے پہلے میرے بدن کی مساموں میں سرایت کیا۔ میں ابھی موسموں‘ بدنوں اور منظروں کی مہک سے آشنا نہ ہوا تھا جب کتاب کی مہک نے مجھے اپنا اسیر کیا۔ میرے والد صاحب نے زراعت کے بارے میں باقاعدہ درجنوں تحقیقی کتب تصنیف کیں اور تقریباً تیس برس تک’’کاشتکار جدید‘‘ کے نام سے فن زراعت کے بارے میں ایک پرچہ ترتیب دیتے رہے۔ وہ ہمیشہ چارپائی پر بیٹھ کر تہبند اور قمیض زیب تن کئے، حقے کی نال منہ میں دبائے کتابیں لکھتے کہ چارپائی کی ادوائن
مزید پڑھیے


’’دستک نہ دو‘ الطاف فاطمہ‘‘

اتوار 13 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میرا خیال ہے کہ لونئیل عہد کی وہ رہائش گاہ ‘ وہ کوٹھی‘ جس کے برآمدے بیلوں سے ڈھکے ہوئے تھے اور بیلوں پر سارا دن دھوپ ٹھہری رہتی تھی اور ایک وسیع اجاڑ سا باغ اس کے گرد پھیلا ہوا تھا۔ چند شجر تھے لیکن ان میں پرندے بہت تھے۔ وہ رہائش گاہ میرا خیال ہے کہ اب تک لاہور کی دیگر قدیم عمارتوں کی مانند ایک کھنڈر ہو چکی ہو گی۔ سینٹ انتھونی چرچ کے تقریباً پہلو میں۔ لارنس روڈ پر واقع وہ طویل برآمدوں والی کوٹھی آج سے تقریباً نصف صدی پیشتر آباد تھی۔ بیلوں پر پھول
مزید پڑھیے