BN

مستنصر حسین تارڑ



’’جو سُکھ چھجّو دے چوبارے‘ اوہ نہ بلخ نہ بخارے‘‘…(2)


انہوں نے تو سعادت حسن منٹو کے گھر کی تختی بھی اکھاڑ پھینکی۔ یہ سب کچھ پچھلے بیس برس سے ماشاء اللہ نواز لیگ کی چھتر چھائوں تلے ہوا اور اعتراف کون کرے ٹریڈر مافیا’’میاں دے نعرے وجن گے‘‘ میوزیکل گروپ تھا۔ نون لیگ کے لئے تن من اور خاص طور پر دھن قربان کرنے والے بیوپاری۔ اس دوران نہ صرف مال روڈ بلکہ ہال روڈ کی جانب لکشمی مینشن کی پوری عمارت کو جہازی سائز کے بل بورڈوں سے ڈھانک دیا گیا ۔ میرے فلیٹ کی چار کھڑکیاں بھی ان لعنتی بورڈوں کے پیچھے دفن ہو گئیں۔ خدا مزید
اتوار 23 دسمبر 2018ء

’’لکشمی مینشن کی چار کھڑکیاں اور چھجو دا چوبارہ‘‘

بدھ 19 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
جب موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے‘ دھوپ کی شدت بڑھنے لگتی ہے تو مجھے شمال کی جانب سے صدائیں آنے لگتی ہیں۔ فیئری میڈو کی برفیں پگھلنے لگتی ہیں تو ان میں سے سٹرابیری کا پہلا پھول برف میں سے ظاہر ہوتا ہے تو وہ مجھے پکارتا ہے۔ بہت دنوں سے نہیں آئے۔ پریوں کی جس چراگاہ میں تم نے آج سے تیس برس پیشتر قدم رکھا تھا اور دنیا کے اس سب سے خوبصورت منظر کو عام پاکستانیوں سے متعارف کروایا تھا۔ یہ تمہارے منتظر ہیں۔ تمہارے نام کی جھیل تمہارے لئے اداس ہے‘ چلے آئو۔ نانگا پربت
مزید پڑھیے


’’ہم گناہ کر رہے ہیں ناں؟‘‘

اتوار 16 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
بے شک میں نے گزشتہ کالم میں آپ سے وعدہ کیا تھا کہ تازہ ترین ٹیکس ’’سِن ٹیکس‘‘ یعنی ’’گناہ ٹیکس‘‘ کا کوئی مترادف نام تجویز کروں گا اور وہ میں کروں گا لیکن اس سے پیشتر مجھے ایک بار پھر اس حکیم لقمان عرف بزر جمہرکے شاندار جینئس تخیل کی داد دینے دیجئے جس نے ’’گناہ ٹیکس‘‘ کا بے مثال کانسپٹ پیش کیا۔ ذرا پتہ تو چلے کہ وہ کون ہیں۔ وزیر ہیں ‘ ماہر معاشیات ہیں یا ٹیکسیوں کے‘ معاف کیجئے ٹیکسوں کے ماہر ہیں۔ اس معاملے کے بارے میں کچھ تحقیق وغیرہ نہائت جانفشانی سے کی تو
مزید پڑھیے


’’گناہ ٹیکس ‘اور حقّہ بھی پیتے تھے نال نال‘‘

جمعه 14 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
جب سے حکومت وقت نے ’’سِن ٹیکس‘‘ یعنی ’’گناہ ٹیکس‘‘ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے لوگ باگ گھبرائے گھبرائے پھرتے ہیں۔ ایک سراسیمگی سی پھیل گئی ہے۔ ایک صاحب پارک میں ذرا پوشیدہ سے ہو کر میرے پاس آ کر کہتے ہیں’’تارڑ صاحب پہلے مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے مرغیوں اور کٹّوں وغیرہ کی شامت آئی تھی اب خان صاحب کو کیا سوجھی کہ گناہ ٹیکس عائد کرنے لگے ہیں۔ خود تو موج میلہ کر کے تائب ہو گئے ہیں اور دوسروں نے تو نہ موج کی اور نہ میلہ۔ بس ملا جلا پھسپھسا سا پروگرام ہی رہا
مزید پڑھیے


’’عارف نقوی۔ شمیم حنفی اور آخری‘ حسین ‘‘

اتوار 02 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
چنانچہ میرے ناول’’اے غزالِ شب‘‘ جس کا انگریزی میں ترجمہ ’’لینن فار سیل‘‘ کے نام سے ہو چکا ہے اس کا مرکزی کردار عارف نقوی ہے جسے میں بہت مدت پہلے برلن میں ملا تھا اور میرا خیال تھا کہ وہ بھی اب تک مر چکا ہو گا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ گیارہویں عالمی اردو کانفرنس کے دوران ایک خوش شکل گورا چٹا بوڑھا ہاتھ پھیلائے میری جانب چلا آ رہا ہے اور کہتا ہے’’تارڑ صاحب‘‘ میں عارف نقوی ہوں۔ میں یقین نہ کر سکا۔ جس شخص کی شخصیت اور حیات کو بنیاد بنا کر آپ اپنے ایک اہم ناول
مزید پڑھیے




’’چاندی کے آبی پرندے‘ فہمیدہ ریاض اور اردو کانفرنس‘‘

بدھ 28 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
میری بیوی نے آئی پیڈ سے آنکھیں اٹھا کر کہا’’فہمیدہ ریاض مر گئی ہے‘‘ اگر میں یہ کہوں کہ میں ایک گہرے صدمے میں چلا گیا اور فہمیدہ کے ساتھ اس کی شاعری اور شخصیت کے حوالے سے جتنی چاہت جتنا احترام تھا‘ ان سب کی تصویری البم کھولتا ہوں تو تمام تصویریں سیاہ ہو گئی ہیں۔ فنا کے رنگ میں معدوم ہو چکی ہیں تو شاید یہ درست نہ ہو کہ مجھے یکدم یقین نہ آیا۔ تو میں نے مونا سے کہا ’’لیکن… وہ ابھی کیسے مر سکتی ہے‘‘ تو وہ کہنے لگی’’جیسے انتظار حسین‘ عبداللہ حسین اور یوسفی
مزید پڑھیے


’’شاہدرہ کے جہانگیری خواجہ سرا اور کاشغر کے کھسرے‘‘

جمعه 23 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ کالم میں ایسی دو ’’خواتین‘‘ کا تذکرہ ہوا تھا جو ایک محفل کے اختتام پر مجھ سے شکایت کرنے آئی تھیں کہ آپ نے اپنی گفتگو کے آغاز میں صرف خواتین و حضرات کو مخاطب کیا۔ ہمیں بھول گئے کہ ہم بھی تو تیسری جنس کی صورت پڑے ہیں راہوں میں۔ ان میں ایک گلستان ایم بی اے تھیں اور دوسری صائمہ کسی سکول میں ٹیچر تھیں تو اس حوالے سے میں نے عرض کیا تھا کہ روایت کے مطابق روضہ رسولؐ کی کنجی صرف ایک خاص قبیلے کے پاس نسل در نسل
مزید پڑھیے


خواجہ سرا بہنوں اور بھائیوں کے لیے

بدھ 21 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
ان دنوں جب مجھے کسی سٹیج پر کھڑے ہو کر اپنے ارشادات عالیہ سے عوام الناس کو مستفید کرنا ہوتا ہے تو گفتگو کا آغاز کرنے سے پیشتر میں قدرے جھجک جاتا ہوں۔ پہلے تو ایک روانی میں خواتین و حضرات السلام علیکم کہہ کر تقریر دل پذیر کا آغاز کردیتا تھا لیکن اب ایک نہایت گمبھیر صورت حال درپیش ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کسی ادبی میلے میں حسب عادت خواتین و حضرات سے بسم اللہ کر کے گفتگو شروع کردی۔ تقریب اختتام کو پہنچی تو معزز ’’خواتین‘‘ چلی آئیں، وہ چلی تو آئیں لیکن ان کے چلنے میں ایک
مزید پڑھیے


’’اندھی ڈولفن فورس کے قصے‘‘

اتوار 18 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
گزشتہ کالم میں میں نے قومی بچت کے لیے نہائت سوچ بچار کے بعد‘ جذبہ حب الوطنی سے مغلوب ہو کر موجودہ حکومت کی سادگی اور کفائت شعاری کی مہم سے مرعوب ہو کر نہائت گراں قدر مشورہ جات کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا اور ایسے اداروں کی جانب توجہ مبذول کروائی تھی جنہیں بینڈ باجا بجا کر رخصت کر دینے سے لاکھوں کروڑوں کانہیں اربوں کا زرمبادلہ ہمارے قومی خزانے کو چار چاند لگا دے گا۔ پہلا چاند جو میں نے چڑھایا تھا وہ رویت ہلال کمیٹی کا تھا اگرچہ اس ملک میں سوائے ان علماء کرام کے
مزید پڑھیے


’’میں رویت ہلال کمیٹی کا چاند، تو میری چاندنی‘‘

بدھ 14 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
میں بہ قائمی ہوش و حواس یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں ایک عدد محب الوطن پاکستانی ہوں اگرچہ میرے پاس حب الوطنی کا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ نہ ہی میں فخر سے اعلان کرسکتا ہوں کہ میں نے ملک و قوم کی بے حد خدمت کی ہے اور میری کوئی قدر نہیں کی گئی اور میری شرافت کا کوئی مول نہیں پڑا۔ اگرچہ میں سفیررہا، وزیر رہا، شاعر رہا، ادیب رہا تو ایک محب الوطن کے طور پر میرے پاس کچھ نادر مشورے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم اس ملک کو معاشی بحران سے باہر لاسکتے
مزید پڑھیے