BN

مستنصر حسین تارڑ



’’قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیں‘‘فہمیدہ ریاض


سب شیشے سب شیشے‘ ساغر ‘ لعل و گہر دامن میں چھپائے بیٹھی ہوں سب ثابت و سالم ہیں اب تک اک رنگ جمائے بیٹھی ہوں ٭٭٭ یہ نازک موتی عزت کا اور ایماں‘ کانچ کا یہ پتلا یہ ساغرِ دل کا سرخ کنول لبریز میٔ احمر سے سدا چٹخے نہ خراش آئی اِن پر تم ان کی صفا دیکھو تو ذرا ہے جھل جھل ان کی آب وہی اور جگ مگ ان کی وہی ضیا ٭٭٭ پتھرائو تھا چومکھ ان پر بھی ٹکرائی تھی ان سے بھی دنیا دو نسوانی بانہوں نے مگر دیکھو ہر پتھر جھیل لیا (فہمیدہ ریاض) موت کی درانتی کاٹتی چلی جاتی ہے۔ بے جان کرتی چلی جاتی ہے‘ کچھ لحاظ نہیں کرتی کہ
بدھ 09 جنوری 2019ء

’’موراں سرکار‘ لاہور کی امرائو جان ادا‘‘

اتوار 06 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
لاہور کے لوہاری دروازے کے اندر ‘ سارنگی سکول سے آگے۔ کفن دفن کی شاید واحد دکان سے کچھ فاصلے پر۔ چوک چکلا کے نواح میں ایک ایسی قدیم تاریخی حویلی جس کے تمام کمرے‘ خواب گاہیں‘ مہمان خانے‘ سب کے سب اندھے تھے ان میں سے کسی ایک میں بھی نہ کوئی کھڑکی تھی‘ نہ کوئی روزن نہ روشنی کا کوئی در۔ اسی لئے وہ’’اندھی حویلی‘‘ کے نام سے جانی گئی۔ کوئی نہیں جانتا کہ اسے تعمیر کرنے والا شخص کون تھا۔ کوئی سِکھ سردار‘ کوئی مُغل شہزادہ یا کوئی سوداگر بے پناہ وسائل والا ‘ بہر طور یہ
مزید پڑھیے


’’طوطا کہانی اور اندھی حویلی کے اسرار‘‘

بدھ 02 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم سب چھجو بھگت کا چوبارا ‘ ایبک کا مزار اور لاہور کا قدیم ترین پُرتگالی کلیسا دیکھنے کے بعد جہاں کبھی ’’مکتبہ جدید ‘‘ ہوا کرتا تھا اور میں بچپن میں حنیف رامے صاحب سے کتابیں خریدنے آیا کرتا تھا اور اس کے آگے جو فٹ پاتھ تھا‘ وہاں ساغر صدیقی کا ڈیرہ ہوا کرتا تھا‘ میں اور یوسف کامران اکثر ساغر کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر گپیں لگایا کرتے تھے‘ اس فٹ پاتھ کے پار سرکلر روڈ کو عبور کرنے کے بعد‘ گل فروشوں کے کھوکھوں سے ذرا آگے جب ہم اندرون شہر میں آوارگی کے
مزید پڑھیے


’’ہسپتال روڈ کے فوٹو گرافر اور قطب الدین ایبک کا مزار‘‘

اتوار 30 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم میو ہسپتال سے باہر آ کر ہسپتال روڈ پر چلتے ایبک روڈ کی جانب رواں ہو گئے جہاں ہم نے قطب الدین ایبک سے ملنا تھا‘ ہو سکتا ہے وہ چوگان کھیلتا ابھی تک گھوڑے سے نہ گرا ہو۔ ایک روائت ہے کہ اس نے کسی خاتون سے بدسلوکی کی تھی اور یہ اس کی بددعا تھی جس کے نتیجے میں وہ پولو کھیلتا گھوڑے سے گر کر مر گیا۔ مجھے اس روائت کو تسلیم کرنے میں کچھ تامل ہے۔ اگر کوئی خاتون بدسلوکی کی وجہ سے کسی مرد کو بددعا دے اور وہ فوت ہو جائے تو اس
مزید پڑھیے


’’شہر لاہور میں آج کرسمس ہے‘‘

منگل 25 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
’’آج کرسمس ہے۔ شہر میونخ میں آج کرسمس ہے: فاصلوں کی کمند سے آزاد میرا دل ہے کہ شہر میونخ ہے چار سو جس طرف کوئی دیکھے برف گرتی ہے ساز بجتے ہیں آج کرسمس ہے۔ شہر لاہور میں آج کرسمس ہے۔ اگرچہ برف نہیں گرتی لیکن یہ موسم برفیلے ہیں۔ ہوا میں ایک سرد سرگوشی ہے کہ میرے اندر اتنی ٹھنڈک ہے کہ میں نمی کی بوندوں کو برف کے گالوں میں بدل سکتی ہوں۔ لیکن شہر لاہور کو برف کی اور اوڑھنے کی عادت نہیں ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ شالیمار باغ کی روشوں‘تالابوں فواروں اور سرو کے شجروں پر برف گر رہی ہو
مزید پڑھیے




’’جو سُکھ چھجّو دے چوبارے‘ اوہ نہ بلخ نہ بخارے‘‘…(2)

اتوار 23 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
انہوں نے تو سعادت حسن منٹو کے گھر کی تختی بھی اکھاڑ پھینکی۔ یہ سب کچھ پچھلے بیس برس سے ماشاء اللہ نواز لیگ کی چھتر چھائوں تلے ہوا اور اعتراف کون کرے ٹریڈر مافیا’’میاں دے نعرے وجن گے‘‘ میوزیکل گروپ تھا۔ نون لیگ کے لئے تن من اور خاص طور پر دھن قربان کرنے والے بیوپاری۔ اس دوران نہ صرف مال روڈ بلکہ ہال روڈ کی جانب لکشمی مینشن کی پوری عمارت کو جہازی سائز کے بل بورڈوں سے ڈھانک دیا گیا ۔ میرے فلیٹ کی چار کھڑکیاں بھی ان لعنتی بورڈوں کے پیچھے دفن ہو گئیں۔ خدا مزید
مزید پڑھیے


’’لکشمی مینشن کی چار کھڑکیاں اور چھجو دا چوبارہ‘‘

بدھ 19 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
جب موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے‘ دھوپ کی شدت بڑھنے لگتی ہے تو مجھے شمال کی جانب سے صدائیں آنے لگتی ہیں۔ فیئری میڈو کی برفیں پگھلنے لگتی ہیں تو ان میں سے سٹرابیری کا پہلا پھول برف میں سے ظاہر ہوتا ہے تو وہ مجھے پکارتا ہے۔ بہت دنوں سے نہیں آئے۔ پریوں کی جس چراگاہ میں تم نے آج سے تیس برس پیشتر قدم رکھا تھا اور دنیا کے اس سب سے خوبصورت منظر کو عام پاکستانیوں سے متعارف کروایا تھا۔ یہ تمہارے منتظر ہیں۔ تمہارے نام کی جھیل تمہارے لئے اداس ہے‘ چلے آئو۔ نانگا پربت
مزید پڑھیے


’’ہم گناہ کر رہے ہیں ناں؟‘‘

اتوار 16 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
بے شک میں نے گزشتہ کالم میں آپ سے وعدہ کیا تھا کہ تازہ ترین ٹیکس ’’سِن ٹیکس‘‘ یعنی ’’گناہ ٹیکس‘‘ کا کوئی مترادف نام تجویز کروں گا اور وہ میں کروں گا لیکن اس سے پیشتر مجھے ایک بار پھر اس حکیم لقمان عرف بزر جمہرکے شاندار جینئس تخیل کی داد دینے دیجئے جس نے ’’گناہ ٹیکس‘‘ کا بے مثال کانسپٹ پیش کیا۔ ذرا پتہ تو چلے کہ وہ کون ہیں۔ وزیر ہیں ‘ ماہر معاشیات ہیں یا ٹیکسیوں کے‘ معاف کیجئے ٹیکسوں کے ماہر ہیں۔ اس معاملے کے بارے میں کچھ تحقیق وغیرہ نہائت جانفشانی سے کی تو
مزید پڑھیے


’’گناہ ٹیکس ‘اور حقّہ بھی پیتے تھے نال نال‘‘

جمعه 14 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
جب سے حکومت وقت نے ’’سِن ٹیکس‘‘ یعنی ’’گناہ ٹیکس‘‘ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے لوگ باگ گھبرائے گھبرائے پھرتے ہیں۔ ایک سراسیمگی سی پھیل گئی ہے۔ ایک صاحب پارک میں ذرا پوشیدہ سے ہو کر میرے پاس آ کر کہتے ہیں’’تارڑ صاحب پہلے مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے مرغیوں اور کٹّوں وغیرہ کی شامت آئی تھی اب خان صاحب کو کیا سوجھی کہ گناہ ٹیکس عائد کرنے لگے ہیں۔ خود تو موج میلہ کر کے تائب ہو گئے ہیں اور دوسروں نے تو نہ موج کی اور نہ میلہ۔ بس ملا جلا پھسپھسا سا پروگرام ہی رہا
مزید پڑھیے


’’عارف نقوی۔ شمیم حنفی اور آخری‘ حسین ‘‘

اتوار 02 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
چنانچہ میرے ناول’’اے غزالِ شب‘‘ جس کا انگریزی میں ترجمہ ’’لینن فار سیل‘‘ کے نام سے ہو چکا ہے اس کا مرکزی کردار عارف نقوی ہے جسے میں بہت مدت پہلے برلن میں ملا تھا اور میرا خیال تھا کہ وہ بھی اب تک مر چکا ہو گا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ گیارہویں عالمی اردو کانفرنس کے دوران ایک خوش شکل گورا چٹا بوڑھا ہاتھ پھیلائے میری جانب چلا آ رہا ہے اور کہتا ہے’’تارڑ صاحب‘‘ میں عارف نقوی ہوں۔ میں یقین نہ کر سکا۔ جس شخص کی شخصیت اور حیات کو بنیاد بنا کر آپ اپنے ایک اہم ناول
مزید پڑھیے