BN

مظفر بخاری



طالب حسین


(1946ء ۔۔۔۔۔ضلع گورداسپور کا ایک گائوں) ہماری گلی میں ہمارے ایک رشتہ دار رہتے تھے جن کا نام طالب حسین تھا۔ اُن کی بیگم کو سب ’’پابھی‘‘کہتے تھے (یہ لفظ بھابی کی بگڑی ہوئی شکل ہے)۔ لمبی تڑنگی، بے ڈھب سی یہ خاتون بھی مجھے عورت کی بگڑی ہوئی شکل لگتی تھی۔ یہ جوڑا اولاد سے محروم تھا۔ طالب حسین پہننے اوڑھنے کے بہت شوقین تھے۔ کہیں جاتے تو اُن کی سج دھج دیکھنے والی ہوتی۔ صاف شفّاف، استری شدہ کپڑے، مائع لگی پگڑی کا فٹ ڈیڑھ فٹ اونچا طُرہّ ، پُر وقارچال ،
جمعه 13 مارچ 2020ء

بچپن کی چند یادیں

پیر 09 مارچ 2020ء
مظفر بخاری
ایک دُنیا میرے بچپن کی دُنیا تھی اور ایک یہ دُنیا ہے جس میں ا ب رہ رہا ہوں۔ جب میں بچہ تھا، بچپن کی دُنیا سے نکلنا نہیں چاہتا تھا لیکن وقت نے مجھے دھکے دے کر اِس خوبصورت دُنیا سے جلا وطن کر دیا۔ میرے ساتھ دوسری ٹریجڈی یہ ہوئی کہ وقت نے مجھے اُس گائوںسے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم کر دیا جہاں میرے ننگے پائوں اوّل اوّل زمین کے لمس سے آشنا ہوئے تھے۔ 1947ء میں ضلع گورداسپور کے اِس گائوں سے میں ( خاندان سمیت) ایسے نکلا کہ دوبارہ وہاں جانے کا موقع
مزید پڑھیے


قربِ قیامت کی نشانیاں

بدھ 04 مارچ 2020ء
مظفر بخاری
قُربِ قیامت کی بے شمار نشانیاں ہیں ۔ میں نے جب سے اخبار پڑھنا سیکھا ہے( میں نے یہ صلاحیت نہایت کم عمری میں 1948 میں حاصل کر لی تھی) تب سے میں اخبارات میں قرب ِ قیامت کی نشانیوں والی خبر یں پڑھ رہا ہوں۔ اب یہ تعداد اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ مزید نشانیوں کی گنجائش نہیں رہی ۔ میرے خیال میں یہ بات بھی قربِ قیامت کی نشانی ہے کیونکہ جب قُربِ قیامت کی تمام نشانیاں ظاہر ہو جائیںتو پھر قیامت کے آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ قیامت کی بجائے ،
مزید پڑھیے


ہسپتال ، جیل اور بوچڑخانہ

پیر 02 مارچ 2020ء
مظفر بخاری
یہ خبر تو قارئین کی نظر سے گزری ہی ہوگی کہ ایک خاتون نے جناح ہسپتال کے واش روم میں بچّے کو جنم دیا ۔ اِس خبر پر خاتون کئی ایک مبارک بادوں کی مستحق ہوگئی ہے۔ اے خوش نصیب خاتون تجھے مبارک ہو کہ تجھے اللہ تبارک وتعالیٰ نے بیٹے جیسی نعمت سے نوازا ۔ جناح ہسپتال سے زچہ وبچہ کا بخیریت اور زندہ نکل آنے پر بھی مبارک باد۔ ایک مبارک باد واش رُوم کے بر وقت میسّر ہو جانے پر۔ یہ مبارک باد میں اِس لئے دے رہا ہوں کہ تقریباً ہر سرکاری ہسپتال کے واش
مزید پڑھیے


سب + کام + مٹی = سب کمیٹی

بدھ 26 فروری 2020ء
مظفر بخاری
کمیٹی کا مطلب سمجھتے ہیں آپ؟ جی نہیں۔ آپ غلط سمجھے ۔ کمیٹی دو الفاظ کا مجموعہ ہے یعنی کام اور مٹی۔ حکومت نے کب کسی کام کو مٹی کرنا ہو یا مٹی میں ملانا ہو تو اسے ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا جاتا ہے پھر بھی اگر کسر رہ جائے یعنی سب کام پوری طرح مٹی نہ ہو تو اسے کسی سب کمیٹی کے سپرد کر دیا جاتا ے جو سب کام مٹی کر دیتی ہے یعنی مٹی میں ملا دیتی ہے۔ کام مٹی کرنے کے لئے کمیٹی یا سب کمیٹی کی میٹنگ بلائی جاتی ہے اگر کام
مزید پڑھیے




ایک تھی بھینس اور ایک تھی بکری

جمعرات 09 جنوری 2020ء
مظفر بخاری
( پچھلے ہفتے اخبارات میں دو دلچسپ خبریں نظر سے گزریں جو جانوروں کے بارے میں تھیں۔ آج کا کالم میں نے انہی خبروں کو بنیاد بنا کر لکھا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: ) چشتیاں کے قریب ایک گائوں میں بشیر احمد نامی ایک شخص رہتا ہے جس نے ایک بھینس پال رکھی تھی۔ یہ بھینس روزانہ چھ کلو دودھ دیتی تھی جس سے بشیر احمد کے گھر کی دال روٹی چلتی تھی۔ پھر یوں ہُوا کہ اس بھینس نے چھ کلو کی بجائے ڈیڑھ کلو دُودھ دینا شروع کر دیا۔ بشیر احمد سمجھا کہ مسلسل خشک سردی پڑنے اور بارش نہ
مزید پڑھیے


کلچر کلچر ہوتا ہے، مشرقی ہو یا مغربی

پیر 06 جنوری 2020ء
مظفر بخاری
ہمارے ایک دوست نصیر محمود نقوی عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ پچھلے دِنوں پاکستان تشریف لائے تو ہمیں امریکی طرزِ حیات کے بارے میں بہت کچھ بتا گئے ۔ ایک واقعہ انہی کی زبانی آپ بھی سُنیے۔ "ایک روز مُجھے ایک دعوتی کارڈ موصول ہوا جس کا اُردو ترجمہ کچھ یوں ہے: " مکرمی جناب نقوی صاحب! تسلیمات ! ازدواجی زندگی کے پانچ طویل سال گزارنے کے بعد اب ہم میاں بیوی نے خوش اسلوبی اور اتفاق رائے سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلاق کی تقریب رائل پیلس ہوٹل میں بتاریخ 5 جون 2017 ء
مزید پڑھیے


توندوں کی شامت

هفته 04 جنوری 2020ء
مظفر بخاری
خیال تھا کہ نئے سال کی خوشی میں آئی ۔جی (پولیس ) کی طرف سے اُن اہل کاروں کو خصوصی انعامات اور اعزازات سے نوازا جائے گا جنھوں نے سال 2019 ء میں بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کیا۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی طرف سے ان اہل کاروں کو جن کی توندیں بڑھی ہوئی ہیں، ایک سخت اور نا پسندیدہ وارننگ دے دی گئی ہے جو کچھ یوں ہے کہ توند یافتہ پولیس اہل کار جب تک اپنی توندوں سے نجات حاصل نہیں کر لیتے، اُنھیں فیلڈ میں تعینات
مزید پڑھیے


اندازِ گفتگو کیا ہے

بدھ 01 جنوری 2020ء
مظفر بخاری
}آج کل اخبارات میں سنجیدہ کالموں کا " ہڑ" آیا ہُوا ہے۔ جنھیں پڑھ کر قارئین رنجیدہ ہو جاتے ہیں۔ میری اور برادرم ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی کوشش ہے کہ قارئین کی خدمت میں سویٹ ڈش کے طور پر طنزیہ اور مزاحیہ تحریر یں پیش کی جائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سنجیدگی کے بوجھ تلے دب کر قارئین مسکرانا ہی بُھول جائیں۔ تو یہ لیجئے ایک ہلکی پھلکی تحریر۔{ میرا دوست سلیم عسکری کسی زمانے میں افسانے لکھا کرتا تھا لیکن اب اُس کی افسانہ نگاری قصّہٗ پارینہ بن چکی ہے۔ البتہ اُس کی روز
مزید پڑھیے


چشم دید گواہ

پیر 30 دسمبر 2019ء
مظفر بخاری
ایک شام میں اپنے ایک وکیل دوست اسد للہ شاہ کے دفتر جا نکلا ۔ ان کے بائیں ہاتھ ایک مسکین صورت، سراسیمہ نوجوان بیٹھا تھا۔ شاہ صاحب نے مجھ سے ہاتھ ملا یا،حال احوال پوچھا اور میرا منہ بند کرنے کے لئے سگریٹ پیش کردیا۔ اس نوجوان کے چہرے پر بے چارگی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، اور وہ رحم طلب نظرو ں سے شاہ صاحب کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شاہ صاحب نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ سرجھکا کر دائیں ٹانگ ہلانے لگا۔" ٹانگ مت ہلائو!" شاہ صاحب نے اسے ڈانٹا ۔ ڈانٹ سن کر
مزید پڑھیے