BN

میجر جنرل (ر) زاہد مبشر


لمحہ فکریہ


پاکستان میں انتشار کی سیاست جاری و ساری ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیاست کے دو سب سے بڑے ستون جھوٹ اور الزامات ہیں۔اپنے بارے میں جھوٹ بولا جائے اور دوسروں پر الزامات لگائے جائیں۔کوئی حکومت اپنے کئے گئے اقدامات کی ذمہ داری بھی گزشتہ حکومتوں پر ڈالتی ہے۔عمران خان نے اپنے پونے چار سال گزشتہ حکومت پر الزامات لگاتے ہوئے گزارے اور آج انہیں بھی یہی صورت حال درپیش ہے۔جو لوگ چار روپیہ فی لیٹر قیمت بڑھنے پر آسمان سر پر اٹھا لیتے تھے۔انہوں نے پٹرول کی قیمت یکمشت 84روپے فی لیٹر بڑھا دی اور ڈیزل کی
هفته 25 جون 2022ء مزید پڑھیے

کفایت شعاری کے مشورے

هفته 18 جون 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
مہنگائی کا ایک طوفان پاکستانی قوم پر حملہ آور ہے۔پٹرول کی قیمت مزید 24.03روپے اور ڈیزل کی قیمت 59.16روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے۔اب پٹرول کی نئی قیمت 233.89اور ڈیزل کی قیمت 263.31روپے فی لٹر ہے۔یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ قیمت پورے عدد میں کیوں نہیں بڑھائی جاتی۔اعشاریہ 03اور اعشاریہ 89کا استعمال کیوں ضروری ہے جبکہ یہ ریز گاری تو پاکستان میں موجود ہی نہیں ہے۔ گمان غالب ہے کہ اگر تحقیق کی جائے تو کوئی نہ کوئی پارٹی اس اعشاریہ سسٹم سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہو گی۔چند ماہ پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ
مزید پڑھیے


دل کھانے والی خبریں

هفته 11 جون 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
گزشتہ چند روز سے کوئی اچھی خبر سننے میں نہیں آ رہی۔ڈاکٹر عامر لیاقت کی وفات کی خبر سن کر بھی افسوس ہوا ہے وہ اپنی طرز کے واحد آدمی تھے۔ان پر اعتراض کرنے والے بھی بہت ہیں لیکن ان کی صلاحیتوں کے معترف بھی کم نہیں ہیں ۔وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔تعلیم کے لحاظ سے تو وہ ڈاکٹر تھے لیکن اپنے کیریئر کا آغاز انہوں نے صحافت سے کیا ا۔ انہوں نے ایک کالم نویس ،براڈ کاسٹر، اسلامی سکالر، سیاستدان اور ٹی وی اینکر کی حیثیت سے اپنا لوہا منوایا۔وہ جنرل پرویز مشرف کی کابینہ
مزید پڑھیے


ہم اور ہمارے رہنما

هفته 04 جون 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
مہنگائی ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت نے ایک ہفتے میں دوبار پٹرول کی قیمت 60روپے فی لٹر بڑھا کر یکمشت اتنی زیادہ قیمت بڑھانے کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔اس میں بھی شک نہیں کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے اور کوئی بھی ملک قیمت خرید سے کم قیمت میں عوام کو تیل مہیا نہیں کر سکتا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس حقیقت کا ادراک اس حکومت کو پہلے نہیں تھا۔ یقین تھا اور اس حکومت کی نیت ہرگز یہ نہیں تھی کہ انہوں نے عوام کو کوئی ریلیف دینا ہے۔ان کا مقصد
مزید پڑھیے


اپنا اپنا سچ

هفته 28 مئی 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
مقولہ تو یہ تھا کہ جنگ میں پہلا قتل ’’سچ‘‘ کا ہوتا ہے لیکن عمومی مشاہدہ یہی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں بھی سب سے بڑا مقتول سچ ہی ہے۔ کوئی سیاسی جماعت بھی اپنے کارکنوں کو سچی بات بتانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کی معیشت قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے لیکن پاکستان کے سیاستدان خوشحالی کی بلند ترین سطح پر محوِ پرواز ہیں۔عام آدمی کی سطح پر زندگی گزارنے والے سیاستدان انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ بلاشبہ سیاست ہی اس ملک کا نفع بخش ترین کاروبار ہے۔کسی کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے کپڑے بیچ کر
مزید پڑھیے



مبادہ کہ بہت دیر ہو جائے

هفته 21 مئی 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
پاکستان کی سیاست میں شدت کا رجحان فزوں تر ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان کی معیشت قابو میں نہیں آ رہی۔ڈالر دوسو روپے کی مد پار کر چکا ہے۔پاکستان کی سیاست اس کی معیشت کو ڈبونے کے درپے ہے۔فیصلہ سازی کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔کوئی نہیں جانتا کہ حتمی فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کریں گے یا آصف زرداری۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ پاکستان کا وزیر اعظم فیصلے کے لئے لندن کی طرف دیکھنے پر مجبور ہے۔عمران خان کا غصے میں آنا تو سمجھ میں آتا ہے کہ ان کی حکومت کو چلتا کیا گیا ہے لیکن حکومت
مزید پڑھیے


نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

هفته 14 مئی 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ تاریخ سے کوئی نہیں سیکھتا جس طرح عمران خان کی حکومت 23سالہ سیاسی جدوجہد کے دعوے کے باوجود بغیر کسی تیاری کے اقتدار میں آئی تھی‘بالکل اسی طرح شہباز شریف کی مخلوط حکومت بھی حالات کا سامنا کرنے کے لئے بالکل تیار نہیں۔شہباز شریف پنجاب کی حکمرانی کا ایک وسیع تجربہ رکھتے ہیں لیکن وزیر اعظم کے طور پر وہ فی الحال کافی گھبرائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ حالات ہیں کہ دن بدن گھمبیر ہو رہے ہیں اور انہیں کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ خادم پنجاب کی حیثیت سے وہ خوب
مزید پڑھیے


میانہ روی کی ضرورت

هفته 07 مئی 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان میں شدت پسندی غالب آ رہی ہے اور سیاسی مخالفین نہ تو ایک دوسرے کی شکل دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ایک دوسرے سے بات کرنا چاہتے ہیں۔دوسرے اور تیسرے درجے کے سیاسی لیڈر مخالف سیاسی رہنمائوں کو تُو اور تم کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور اپنے آقائوں سے داد پاتے ہیں۔بدقسمتی سے بدتمیزی ہی سکہ رائج الوقت ہے اور جو سیاسی کارکن مخالفین کے لئے جتنی زیادہ بدتمیزی کی زبان استعمال کرتا ہے اتنا ہی وہ اپنی لیڈر شپ کے قریب ہو جاتا ہے۔جھوٹے الزامات لگانے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور
مزید پڑھیے


احتیاط کی ضرورت

هفته 30 اپریل 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے باوجود ہیجان کی کیفیت جاری ہے۔پی ٹی آئی کے علاوہ پاکستان کی ساری قابل ذکر سیاسی جماعتیں اقتدار کی کشتی پر سوار ہیں لیکن تلاطم ہے کہ کم ہوتا نظر نہیں آتا۔بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اقتدار میں ہونے کے باوجود بی ایل اے کے حملے جاری ہیں اور کراچی میں ایک فدائی خاتون کے خودکش حملے نے دہشت گردی کی لہر یں ایک اور جہت کا اضافہ کر دیا ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قوم پرست جماعتوں کا بھی دہشت گرد حملوں پر کنٹرول نہیں ہے اور یہ ڈوریاں بیرون
مزید پڑھیے


قومی مفاد کے تقاضے

هفته 23 اپریل 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کا21اپریل کا جلسہ ایک بہت بڑا جلسہ تھا۔اس وقت عمران خان مقبولیت کی ایک نئی لہر پر سوار ہیں۔وہ اس مقبولیت کا بھر پور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور جلد ازجلد قوم کو نئے انتخابات کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔اس کے لئے وہ بھر پور دبائو ڈال رہے ہیں۔ان کی غیر ملکی سازش کی تھیوری اور امپورٹڈ حکومت کا نعرہ خوب بک رہا ہے۔نوجوان نسل ان کا بھر پور ساتھ دے رہی ہے۔عدلیہ کے ساتھ ان کی گلہ گزاری بھی جاری و ساری ہے۔تاہم فوک کے بارے میں ان کے لہجے
مزید پڑھیے








اہم خبریں