BN

میجر جنرل (ر) زاہد مبشر


مفاہمت مگر کیسے؟


اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سیلاب کے نقصانات کا ازالہ کرنا ہے۔اس کمزور معیشت کے ساتھ ملک کے ایک تہائی علاقے میں تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کے نقصانات سے نبٹنا آسان کام نہیں ہے۔بین الاقوامی امداد کے ضمن میں 160ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا لیکن عملی طور پر شاید ابھی تک 39ملین ڈالر ہی مل سکے ہیں۔جو کہ اس بڑے سیلاب کے نقصانات کے ازالے کے لئے نہایت ناکافی ہے۔دوست ممالک سے امدادی سامان کے چند جہاز بھیجے گئے ہیں، سب سے زیادہ جہاز یو اے ای کی طرف سے بھیجے گئے
هفته 17  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

توہین عدالت اور عمران خان

هفته 10  ستمبر 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
سابق وزیر اعظم جناب عمران خان نے جب سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا تو وہ نہایت شرمیلے قسم کے لیڈر تھے اور فن تقریر کسی طرح بھی ان کا سٹرانگ پوائنٹ نہیں تھا۔پھر جیسے جیسے ان کا تجربہ بڑھتا گیا تو ان کی تقریروں میں نکھار آتا گیا اور اب یہ وقت آ گیا ہے کہ انہیں لکھی ہوئی تقریر کی حاجت نہیں رہی۔وزیر اعظم کے طور پر بھی وہ شاذو نادر ہی لکھی ہوئی تقریر سے مستفید ہوتے تھے۔وزیر اعظم کے طور پر انہوں نے بے تکلف یا انفارمل تقریر کی نئی طرح ڈالی۔وہ تقریباً ہر روز ہی قوم
مزید پڑھیے


سیلاب کے بعد

هفته 03  ستمبر 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
پاکستان تاریخ کے بدترین سیلاب کی زد میں ہے۔2010ء کے سیلاب کو بھی سوپر سیلاب کا نام دیا گیا تھا لیکن موجودہ سیلاب نے الفاظ کا چنائو مشکل بنا دیا ہے۔اس وقت پاکستان کا تقریباً 1/3حصہ زیر آب ہے۔پاکستان کے 160اضلاع میں سے 72سیلاب سے متاثر ہیں۔NDMAکے مطابق تقریباً 5ہزار کلو میٹر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں۔تقریبا ایک کروڑ کے قریب گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔سات لاکھ مویشی سیلاب میں بہہ گئے ہیں ۔بارہ سو انسانی جانیں اب تک ضائع ہو چکی ہیں اور زخمیوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔صوبہ سندھ سیلاب سے سب سے
مزید پڑھیے


لے گیا سیلِ بلا خیز یکایک سب کچھ

هفته 27  اگست 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
وطن عزیز شدید بارشوں اور سیلاب کی زد میں ہے۔ہزاروں انسانی جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں‘ دیہات اور بستیاں سیلاب برد ہو چکے ہیں۔مرنے والے مویشیوں کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔ سندھ‘ بلوچستان‘ جنوبی پنجاب اور شمالی علاقہ جات خاص طور پر بارش اور سیلاب کی زد میں ہیں۔بلوچستان سے پورے ملک کا زمینی راستہ کٹ چکا ہے۔120سالہ برطانوی دور میں بنایا گیا بولان کا پل پانی میں بہہ چکا ہے۔ بیسیوں چھوڑے بڑے ڈیم ٹوٹ چکے ہیں۔پل اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک اور پینے کا پانی مفقود ہے۔ خدا کر شکر
مزید پڑھیے


مسائل کا انبار

هفته 20  اگست 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
ہمارے مسائل ہیں کہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔کیا ہم پر کسی آسیب کا سایہ ہے کہ ہر طرح کے وسائل ہونے کے باوجود ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے مسائل میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔پاکستان کا عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے اور پاکستان کے حکمرانوں کو اقتدار کی لڑائی سے ہی فرصت نہیں مل رہی کہ وہ عام پاکستانی کے مسائل کے بارے میں غورو غوض کر سکیں۔آج پہلی دفعہ وزیر اعظم کا بیان نظر سے گزرا ہے کہ ملک میں ہنگامی زرعی اصلاحات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔اب
مزید پڑھیے



قیادت کا بحران

هفته 13  اگست 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
آج کل آپ کوئی بھی اختیار اٹھا کر دیکھیں آپ کو امید کی کوئی کرن نظر نہیں آئے گی۔ملک اقتصادی بحرانی کا شکار تو ہے ہی لیکن سیاسی بحران اس سے بھی زیادہ گہرا ہے۔المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت اقتصادی بحران حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہے اور حکومت عوام پر مزید ٹیکس لگانے میں مصروف۔اگر عام آدمی کو یہ نظر آئے کہ حکومت نے اپنے اخراجات پر بھی ایمرجنسی نافذ کی ہوئی ہے تو عوام کسی حد تک مطمئن ہو سکتے ہیں لیکن حکومت تو دکھاوے کے لئے بھی اپنے اخراجات
مزید پڑھیے


اور اپنی آنکھ کے شہتیر پر نظر رکھیں

هفته 06  اگست 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہر جگہ زیر بحث ہے۔پی ٹی آئی اس فیصلے کو تبدیل شدہ اور جلدی میں لکھا ہوا فیصلہ قرار دے رہی ہے اور پی ڈی ایم اس فیصلے کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ایک میڈیا ٹرائل کے ذریعے اسے فارن فنڈنگ کیس کا نام دے رہی ہے اور عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ عمران خان نے یہود و ہنود سے فنڈ لے کر پاکستان میں انتشار پیدا کرنے کا پلان بنایا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ
مزید پڑھیے


عاقبت نااندیشی

هفته 30 جولائی 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے اور پاکستان کی قیادت اس کے بارے میں غوروفکر کرنے پر بھی تیار نہیں ہے۔ وزیر خزانہ ہر بدخبری اس طرح سناتے ہیں جیسے اپنا کوئی کارنامہ بیان کر رہے ہوں۔پچھلے ایک ہفتے سے وہ منظر سے مکمل طور پر غائب ہیں۔ڈالر کی اڑان روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے اور اچھے خاصے چلتے ہوئے کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ بجلی کی قیمت بھی باقاعدگی سے بڑھ رہی ہے اور برآمد کرنے والی صنعت ان اخراجات کے ساتھ بین الاقوامی منڈی میں مقابلہ کرنے کی سکت کھو رہی ہے۔اس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے۔برآمدات
مزید پڑھیے


دائرے کا سفر

هفته 23 جولائی 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
پاکستان کی سیاست دائرے میں سفر کر رہی ہے اور اب 80کی دہائی میں داخل ہو چکی ہے۔اتنی ترقی ضرور ہوئی ہے کہ چھانگا مانگا اور مری کی بجائے اب ممبران اسمبلی مختلف ہوٹلز میں ’’مقید‘‘ ہیں ان کی نگرانی اس حد تک کی جا رہی ہے کہ اگر کوئی رکن سگریٹ پینے کے لئے بھی کھلی فضا میں نکلے تو خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔ارکان کی بولیاں لگ رہی ہیں۔بولی کی رقم بڑھتے بڑھتے پچاس کروڑ تک پہنچ چکی ہے ایک ممبر کے بارے میں تو خبر ہے کہ وہ چالیس کروڑ میں اپنا سودا کر کے عازم
مزید پڑھیے


ضمنی انتخابات کا معرکہ

هفته 09 جولائی 2022ء
میجر جنرل (ر) زاہد مبشر
پنجاب کے ضمنی انتخابات پی ٹی آئی اور ن لیگ دونوں کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔اس سے پہلے پی ٹی آئی بسیار کوشش کے بعد پنجاب اسمبلی میں اپنی پانچ عدد مخصوص نشستیں لینے میں کامیاب ہو چکی ہے۔اب 20ضمنی نشستوں کا معرکہ درپیش ہے۔حمزہ شہباز کو اپنی وزارت اعلیٰ برقرار رکھنے کے لئے ان بیس نشستوں میں سے کم از کم نو نشستیں حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ 186کا جادوئی ہندسہ حاصل کیا جا سکے پی ٹی آئی کو یہ ہندسہ حاصل کرنے کے لئے کم از کم 13نشستیں درکار ہیں۔ن لیگ کے لئے
مزید پڑھیے








اہم خبریں