BN

ناصرمحمود


ائیرکنڈیشنر مکینک سے ملاقات


آجکل کسی معقول اے سی مکینک سے کامیاب رابطہ کرنا گویا کسی بہت بڑے سرکاری افسر سے رابطے کے مترادف ہے ۔ بلکہ اس سے بھی کہیں مشکل اور گھمبیرتر ۔۔ہو سکتا ہے وہ سرکاری افسر خود بھی کسی ایسے مکینک کی تلاش میں ہو ۔کسی زمانے میںیار لوگ اربابِ اختیار سے رہ و رسم بڑھانے کو مفید اور بہتر سمجھتے تھے لیکن اب کسی کارپینٹر ، الیکٹریشن ، پلمبر ، درزی اور اے سی مکینک وغیرہ سے ذاتی تعلق رکھنا نسبتاً زیادہ ضروری ہے ۔ میرے خیال میں ان احباب سے تعلق ہونے سے زندگی میں احساسِ تحفظ
بدھ 16 جون 2021ء مزید پڑھیے

پھرتے ہیں ’’ شیِر خوار ‘‘ کوئی پوچھتا نہیں

بدھ 09 جون 2021ء
ناصرمحمود
چاچا نجام دین ( نظام دین ) ہمارے بچپن کے دنوں میں ریڈیو پاکستان کا ایک بہت منفرد اور انتہائی ہر دِلعزیز کردار تھا۔اُن دنوں ہمارے دیہاتی وسیب کا شاید ہی کوئی چوپال، کوئی ڈیرہ ایسا ہو جہاں نجام دین کے تذکرے نہ ہوتے ہوں۔ سرِ شام چوپالیں ، منڈلیاں سج جاتیں۔ایک بڑے سائز کا ریڈیو درمیان میں رکھ دیا جاتا۔ چاچے نجام دین کا پروگرام شروع ہوتا توبس چاچے کی آواز آ رہی ہوتی یا پھر سامعین کے قہقہوں کی آواز۔ نجام دین کی آ واز میں بلا کا رچائو اور بڑی خوش کُن گھمبیرتا تھی۔بھاری بھرکم مگر دل
مزید پڑھیے


اک عُمرِ رائیگاں

منگل 01 جون 2021ء
ناصرمحمود
ایک پولیس افسر ہمارے بڑے قریبی دوست ہیں ۔یہ قصہ ہمیں انہوں نے ہی سُنایا تھا ۔آپ اُن کی زبانی ہی سُنیے : ’’ محکمہ پولیس میں یہ میرا پہلا سال تھا اور ڈی ایس پی چوہدری شریف کا آخری سال۔مجھے جس سرکل ( تحصیل ) میں بطور انڈرٹریننگ انسپکٹر پوسٹنگ ملی اس کے انچارج ڈی ایس پی تھے۔ میراتھانہ ڈی ایس پی آفس کے بالکل ساتھ ہی تھا۔میری تعیناتی اگرچہ تھانے میں تھی لیکن ڈپٹی صاحب کمال شفقت سے روز مجھے اپنے آفس بلا لیتے اور تھانیداری کے ’’ دائو پیچ ‘‘ سکھاتے۔مجھے نہیں معلوم کہ کونسی نیکی
مزید پڑھیے


آزادؔ کی ’’ آبِ حیات‘‘ اور آج کا قاری

منگل 25 مئی 2021ء
ناصرمحمود
اگلے دن محمد حسین آزادؔ کی شہرہ آفاق کتاب ’’ آبِ حیات ‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ سچ پوچھیں تو انتہائی شاندار اور اذیّت ناک تجربہ رہا ۔ ہمارا خیال ہے کہ ’’ آب ِ حیات ‘‘ لکھنے کے بعد جناب آزاد ؔ بھی اسے دوبارہ پڑھتے تو وہ شایداُردو لُغت کی مدد کے بغیر خود بھی نہ پڑھ سکتے ۔ ایسے میں دورانِ مطالعہ ہمارا حال کیا ہوا ہوگا مت پوچھیئے ۔ تقریباٍ ہر سطر میں دو تین بار لُغت کی مدد لینی پڑی۔ ہمیں دو مسئلے درپیش تھے ایک تو آدھے سے زیادہ الفاظ کے معانی ہمیں
مزید پڑھیے


علاج بالسزا

منگل 18 مئی 2021ء
ناصرمحمود
مائی سلطانہ ہمارے بچپن کا ایک ڈرائونا خواب ہے ۔ان دنوں گائوں میں بچوں کو جنوں، بھوتوں ، چڑیلوں کی بجائے مائی سلطانہ سے ڈرایا جاتا تھا ۔ اور ہمیں یقین ہے کہ اگر آس پاس واقعی ہی کہیں جن بھوت وغیرہ رہتے بھی ہوں گے تو وہ بھی اپنے بچوں کو مائی سلطانہ سے ہی ڈراتے ہوں گے ۔ کردار ہی ایسا تھا۔ مائی سلطانہ بنیادی طور پر ایک ماہر امراض چشم تھی۔ان دنوں موسم گرما قدرے طویل ہوتا تھا اور اس موسم میں بچوں کی آنکھیں خراب ہونا ایک معمول تھا۔ آنکھ میں خارش ہوتی ، پھر
مزید پڑھیے



عقدِ ثانی

منگل 11 مئی 2021ء
ناصرمحمود
صاحب ! عرصہ پہلے ہم نے کسی دُکھیا فلاسفر کا یہ قول پڑھا تھا کہ انسان کے لیے بہترین چیز تو یہ ہے کہ وہ شادی نہ کرے لیکن اگر بدقسمتی سے اُس کی شادی ہوجائے تو اُس کے لیے اگلی بہترین چیز یہ ہے کہ وہ فوری طور پر علیحدگی اختیار کرلے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ مرد حضرات ( شادی شدہ ) کی ایک قابلِ ذکر تعداد اسی خیال کی حامی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ خوفِ فسادِ خلق کی بنا پر اس کے اظہار کی تاب ہر کسی میں نہیں ہوتی۔لیکن اس سے بھی حیرت کی
مزید پڑھیے


ان سے ملیے۔۔۔

منگل 04 مئی 2021ء
ناصرمحمود
بزمیؔ صاحب سے ہمارے تعلُق کو برسوں بیت گئے لیکن آج تک بزمیؔ صاحب ہماری سمجھ میں آئے ہیں اور نہ اُن کے ساتھ ہمارے تعلُق کی وجہ۔کوئی شوق،کوئی دلچسپی ،کوئی پسند مشترک نہیں ،پھر بھی روزانہ گھنٹوں ملاقات رہتی ہے۔دفتر میں اور بھی ’ــکولیگز ‘ ہیں لیکن ہمارے ساتھ ان کا التفات زیادہ ہے۔صبح صبح ہی دفتری اُمور نمٹانے کے بعد وہ ہمارے پاس تشریف لے آتے ہیں۔ معمول یہ ہے کہ ہمارے کمرے میں آتے ہی وہ پہلے سیدھے واش روم جاتے ہیں ۔اور واپسی پر اپنے گیلے نُچڑتے ہاتھوں سے ہمارے ساتھ
مزید پڑھیے


ادب اور آپ بیتی

بدھ 28 اپریل 2021ء
ناصرمحمود
مطالعے کا شوق رکھنے والوں کو عموماً آپ بیتی پڑھنا پسند ہوتا ہے ۔ آپ بیتی میں آپ کو ادب بھی ملتا ہے اور دلچسپ اورحقیقی کہانی بھی ۔سو ! مطالعے کے رسیا اکثر احباب کو آپ بیتی کا شوق جنون کی حد تک ہوتا ہے ۔ ادب میں آپ بیتی کی بے پناہ اہمیت ہے ۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آپ بیتی کا مطالعہ عموماً دلچسپی کا باعث ہوتا ہے اور شاید ہی کوئی آپ بیتی اپنے قاری کو بور کرتی ہو یا کم از کم میرا کوئی ایسا تجربہ نہیں ہے ۔ دوسری طرف ا
مزید پڑھیے


جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

پیر 19 اپریل 2021ء
ناصرمحمود
اڑھائی تین دہائیاں پہلے تک گائوں کی زندگی ابھی کافی حد تک فطرت کے قریب تھی ۔ مادیت اور تصنّع کے عفریت سے ابھی دیہی علاقے قدرے محفوظ تھے۔مسابقت کے لیے بے ہنگم دوڑ نے یہ علاقے اپنی لپیٹ میں نہیں لیے تھے ۔ مشینوں اور مصنوعات نے ابھی ان لوگوں کا سکون غارت نہیں کیا تھا ۔ ۔ محنت مشقت کی محدود کمائی ۔۔ روکھی سوکھی روٹی اور پُر سکون زندگی ! ان لوگوں کا اثاثہ تھا ۔ اُس دیہاتی زندگی کا کوئی منظر بھی بھولنے کے قابل نہیں لیکن اس وسیب میں پانی کا کنواں
مزید پڑھیے


حاجی دونا اور کرونا

منگل 13 اپریل 2021ء
ناصرمحمود
حاجی دونا صاحب میرے محلے دار اور قریبی دوست ہیں ۔ حاجی صاحب نے انتہائی نفیس اور بے حد محتاط شخصیت پائی ہے۔ یہ کرونا وائریس منحوس تو ابھی آیا ہے حاجی صاحب نے اس کی تیاری پچھلے کوئی بیس سال سے کر رکھی ہے ۔ یہ مصافحہ معانقہ سے پرہیز، لوگوں سے دو چار گز کے فاصلے پر ملاقات کرنا ، اور سارا دن ہاتھ دھوتے رہنا ۔۔۔ جو بھی احتیاطیں آجکل بتائی جا رہی ہیںیہ سب تو قبلہ حاجی صاحب بچپن سے کرتے آ رہے ہیں ۔آجکل جو پرہیز اور احتیاطیں بڑے تردّد اور اہتمام سے کی
مزید پڑھیے








اہم خبریں