Common frontend top

پروفیسر تنویر صادق


میں سرکار کا ملازم تھا


مجھے لگاتا پڑھاتے پچاسواں سال ختم ہونے والا ہے۔ساری عمر سرکار کی نوکری کی ہے مگر کچھ عجیب انداز میں کہ جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے۔آج سوچا کہ ماضی کی یادوں کو قلم بند کروں۔بڑے دلچسپ واقعات گزرے ۔ کبھی کبھی اپنی حماقتوں پر ہنسی آتی ہے۔ شاید نوکری میرا مزاج نہیں تھا مگر یہ جبر بھی خود پر کرلیا اور پچاس سال گزار لئے۔قائد اعظم یونیورسٹی میں میرا M.Sc کا دورانیہ 1971-73 تھا۔ کچھ دن 1974 کے بھی اسی یونیورسٹی کی نظر ہو گئے۔ دوست احباب کی خواہش اپنی جگہ مگر میری مجبوریاں اور گھر کے دبائو نے
بدھ 29 مئی 2024ء مزید پڑھیے

عدت

جمعرات 23 مئی 2024ء
پروفیسر تنویر صادق
ملک میںعدت کے آجکل بڑے چرچے ہیں۔ اس حوالے سے مجھے ایک صاحب یاد آ گئیْ میرے محلے میں رہتے تھے۔ بوڑھے آدمی ، ایک پرانی مگر قیمتی کار۔ معقول بڑا گھر۔ بات کرتے ہوئے کسی سے ناراضی کا اظہار کرنا ہوتا تو اسے ذرہ غصے کے انداز میں بتاتے، بیٹا میرے ساتھ تحمل سے بات کرو میں ریٹائرڈ ریونیو افسر ہوںاور ریونیو افسر سے تو وزیر اور بڑے بڑے افسر بھی ڈرتے ہیں۔ والد صاحب کے پاس کبھی کبھی بیٹھے ہوتے تو میں محسوس کرتا کہ والد صاحب کچھ بے چین ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ
مزید پڑھیے


حکمرانوں کی دعائیں، عوام کی آہ و زاریاں

بدھ 10 اپریل 2024ء
پروفیسر تنویر صادق
اس ملک میں جو حکمران آئے ، وہ عوام سے ہمیشہ دور رہے۔ یہ ضرور سنتے آئے ہیں کہ بہت سارے حکمران عورتوں کے بارے خاصہ نرم گوشہ رکھتے تھے اور جہاں کہیں خواتین نظر آئیں خوب گھل مل لیتے تھے۔ان سے ضرورت سے زیادہ اچھی طرح ملتے تھے۔ یہ شاید حکمرانی کا خاصہ ہے۔ یحییٰ خان اس تعلق کی زندہ مثال رہے۔موجودہ حکمرانوں میں بھی بہت سے ایسے زندہ دل ہیں۔ مگر اس حوالے ا س ہفتے دو خبریں اچھی لگیں کہ ہمارے حکمران ، جناب شہباز شریف کی قیادت میں کمرشل فلائٹ پر سعودی عرب گئے ہیں۔اس سے
مزید پڑھیے


آوارگی

جمعرات 28 مارچ 2024ء
پروفیسر تنویر صادق
دو سال پہلے کی بات ہے میں اپنے کمپیوٹر سے کھیل رہا تھا کہ کمپیوٹر پر ایک پیغام آیا۔ کوئی مجھ سے میرا حال پوچھ رہا تھا۔میں کہ ہر حال میں خوش رہنا جانتا ہوں ، چنانچہ اسی حوالے سے اسے اپنے خوش باش ہونے کا جوابی پیغام دے دیا۔ بات چیت شروع ہو گئی۔ آواز کچھ جانی پہچانی تھی مگر کوشش کے باوجود اس شخص کا سراغْ نہ پا سکا۔ اتفاق سے اس نے پوچھ لیا کہ مجھے پہچانا۔ میں نے ہنس کر بتایا کہ بھائی ستر سے زیادہ عمر ہو چکی ۔ رب العزت نے دماغ کی شکل
مزید پڑھیے


ایک اچھا اور یادگار قدم

اتوار 24 مارچ 2024ء
پروفیسر تنویر صادق
جب سے حکومتی سطح پر بین الصوبائی بھائی چارے اور باہمی میل جول کو پروان چڑھانے کے لئے ملک کی تمام یونیورسٹیوںمیں تمام صوبوں کے بچوں کو داخلہ دینے کا اہتمام کیا ہے ، یونیورسٹیوں کے ماحول میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ کچھ تبدیلی مثبت ہے اور کچھ منفی۔مگر کیا کیا جائے کہ ہر طرح کی تبدیلی یونیورسٹی انتظامیہ کو ہر صورت بھگتنا پڑتی ہے۔ اب یہ تبدیلی یونیورسٹی کی جڑوں میں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔پہلے تو نئے طلبا نے اپنے صوبوں کے حوالے سے کچھ کونسلیں بناتے مگر اب تو یونیورسٹیوں میں رنگ برنگی کونسلیں وجود
مزید پڑھیے



نئی حکومت

منگل 05 مارچ 2024ء
پروفیسر تنویر صادق
ھکومتی ڈھانچہ بس اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔ وہ جو بظاہر ہار گئے تھے، وہ جیت گئے ہیں اور جو جیت گئے تھے وہ صاف ہار گئے ہیں۔ سیاست میں اخلاقیات انسان کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے اس لئے اس سے جو بھی اخلاقیات سے نجات پا جاتا ہے وہ کامران ٹھہر تا ہے۔ یہ بات جاننے والے اب حکمران ہیں۔انہوں نے ڈھانچہ مکمل کر لیا ہے مگر ڈھانچہ تو ڈھانچہ ہوتا ہے ، زمانے کی دست برد سے اسے بچانے کے لئے بڑی محنت اور تگ و دو درکار ہوتی ہے پھر بھی
مزید پڑھیے


ننگا نظام

بدھ 21 فروری 2024ء
پروفیسر تنویر صادق
افسوس کہ ایک دن کے الیکشن نے ہمارے سارے نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔کون سا ادارہ ہے جس نے اپنا وقار دائو پر نہیں لگایا۔ کون سا شخص ہے جس نے شرم اور حیا کو بالائے طاق نہیں رکھا۔ کیریکٹر سیاست میں سیاست دانوں کا سب سے پہلا وصف ہوتا ہے۔ کسی بڑے اور آزمودہ سیاستدان میں کسی کو یہ چیز نظر آئی ہو۔سیاست کو ایک کھیل کی طرح سمجھا جاتا ہے جس میں ہار جیت تو ہوتی ہے مگر ہر چیز کو خوش دلی سے قبول نہیں کیا جاتا۔کرکٹ میں بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ
مزید پڑھیے


لیڈری کا معیار

منگل 13 فروری 2024ء
پروفیسر تنویر صادق
پاکستان بھر میں 8 فروری کو الیکشن تھا۔عوام نے اس میں بھر پور شرکت کی اور اپنے پسندیدہ امیدواروں اور پسندیدہ جماعتوں کو ووٹ ڈالے جو ان کا جائز حق تھا۔ان ڈالے گئے ووٹوں کا رزلٹ اسی شام آ جانا چائیے تھامگر رزلٹ کو جان بوجھ کر لٹکایا گیااور پھر 9 فروری کو عوام کے ووٹ پر بھرپور ڈاکہ ڈالا گیا۔ایک خاص جماعت کے امیدواروں کو بہت وزنی ووٹ مہیا کئے گئے شنید ہے کہ اس جماعت کے کم از کم پچاس امیدواروں کو زبردستی کامیاب کرایا یا دکھایا گیا۔یہ ووٹ کہاں سے آئے اور کیسے آئے اس کا جواب
مزید پڑھیے


اندھی آنکھیں اور سہانے خواب

هفته 10 فروری 2024ء
پروفیسر تنویر صادق
انتخاب تھا، ہو گیا اور ہم دونوں، جی ہاں اس سارا دن میری اور امریکہ دونوں کی نظریں ان انتخابات پر رہیں۔ہم دونوں اپنی اندھی آنکھوں کو پوری طرح کھول کر ان انتخابات کا جائزہ لیتے رہے کہ انتخابات ٹھیک ہوں اور یہ انتخابات پاکستان کی حقیقی سیاسی قوتوں کی نمائندگی کرتے ہوں۔امریکی رکن کانگریس اور ہائوس کمیٹی برائے خارجہ امور کے سربراہ گریگوری ویلڈن میکس نے دو دن پہلے پاکستان کے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہم 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں عوام کی دلچسپی کو دیکھ رہے ہیں۔تشدد کے خوف کے بغیر عوام کا اپنے
مزید پڑھیے


یہ کیسی جمہوریت ہے؟

جمعه 26 جنوری 2024ء
پروفیسر تنویر صادق
الیکشن میں چند روز باقی ہیں۔د گھٹا گھٹا ماحول ہے،سہمے سہمے در و دیوار ہیں۔لوگوں میں خوف ہے کہ وہ اپنی پسند کی کسی پارٹی کا نعرہ لگائیں گے تو پکڑے نہ جائیں،کسی پارٹی کا جھنڈا لہرائیں تو سر بازار دھر نہ لئے جائیں۔ ایسا خو ف لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ گیا ہے کہ لوگ گھروں سے نکلتے ڈر رہے ہوتے ہیں ، ایسا ہو رہا ہے اور پوری طرح ہو رہا ہے۔حد تو یہ ہے کہ الیکشن کے دن ہیں اور دفعہ ایک سو چوالیس نافد کر دی گئی ہے۔ سوچتا ہوں کہ جمہوریت میں تو ایسا نہیں
مزید پڑھیے








اہم خبریں