BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



آٹھ آنے


پہلے مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد میں دھرنے پر وہاں کے پرائمری سکول کے ایک طالب علم کا تبصرہ سن لیجیے۔ دھرنے کے دوران صبح اسلام آباد میں سکول جاتے بچے نے اپنے دوست سے کہا یارا جو دھرنا ایک دن کے لئے سکول بند نہیں کرا سکا وہ وزیر اعظم کا استعفیٰ کیا خاک لے گا۔ اس تبصرے میں اس دھرنا تربیت کا عکس موجود ہے جو گزشتہ کئی برس سے ہمارے قائدین کرام نسل نو کی کر رہے ہیں۔ اب ایک جھلک اس تربیت کی بھی دیکھ لیجئے جو قائد اعظم محمد علی جناح اپنی قوم کے
منگل 19 نومبر 2019ء

کیا سارے سیاسی فیصلے عدالتوں میں ہوں گے؟

هفته 16 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ دنوں جب نیب کے زیر حراست میاں نواز شریف کی متعدد بیماریاں تشویشناک صورت اختیار کر گئیں تو انہیں فی الفور لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس موقع پر جناب وزیر اعظم عمران خان نے اپنی روایتی گرم گفتاری تج کر خالصتاً انسانی ہمدردی کا رویہ اختیار کیا اور پنجاب حکومت کو حکم دیا کہ ان کے علاج معالجے کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون کیا جائے۔ جناب عمران خان نے شوکت خانم سے ایک ڈاکٹر کو بھیجا اور ایک ڈاکٹر کوکراچی سے بھی بلایا گیا۔ بعدازاں جب مختلف طبی رپورٹوں سے یہ واضح ہوا کہ پلیٹ
مزید پڑھیے


مولانا کا آزادی مارچ اور حکومت کی بے اعتنائی

بدھ 13 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ایک اچھا خطیب اپنے زورِ خطابت سے دلوں کے قفل کھولتا اور دماغوں کو مسخر کر لیتا ہے۔ بخاری شریف کی مستند حدیث ہے کہ ’’ان من البیان لسحرا‘‘ بسا اوقات بیان میں جادو کا اثر ہوتا ہے۔ یقینا مولانا فضل الرحمن ایک بڑے خطیب ہیں۔ وہ فنِ خطابت کی باریکیوں اور نزاکتوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ایک اثر انگیز تقریر کے لیے اس کا دل کش آغاز ضروری ہوتا ہے۔ نیز ایک اچھے مقرر کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تقریر کا اختتام کب کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔ تقریر کتنی ہی پر اثر اور پر مغز
مزید پڑھیے


حیات و موت میں کچھ ایسا فاصلہ بھی نہیں

منگل 12 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
دیکھئے ڈاکٹر خورشید رضوی نے حیات و موت کے طویل فلسفے کے سمندر کو اپنے ایک شعر کے کوزے میں کس خوبصورتی کے ساتھ بند کیا ہے: نہ جانے کب نہ رہیں ہم ہمیں غنیمت جان حیات و موت میں کچھ ایسا فاصلہ بھی نہیں یوں بھی موت زندگی کے تسلسل کا دوسرا نام ہے یا آسان الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیںکہ موت زندگی کے دوسرے فیز کا نام ہے مرشد اقبال نے حیات ابدی و سرمدی کی حقیقت کو شعر کے پیرھن میں یوں سمویا ہے: مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے
مزید پڑھیے


تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام

بدھ 06 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
آج علی الصباح جناب عثمان بزدار کے فیض سے جناب فیض احمد فیض کی ایک نہایت مرصع غزل یاد آئی’’دائرہ سیاست کی تلخی کو غزل کی شیرینی سے دور کرنے کے لیے پہلے کچھ اشعار گنگنا لیتے ہیں۔ رنگ پیراہن کا، خوشبو زلف لہرانے کا نام موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام محتسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سے رندکا، ساقی کا، مے کا، خم کا، پیمانے کا نام ہم سے کہتے ہیں چمن والے، غریبانِ چمن تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام پاکستان و ہندوستان میں انگریزوں کے زمانے سے پٹواری ایک نہایت اہم عہدے یا منصب
مزید پڑھیے




مولانا فضل الرحمن کی اگلی منزل کیا ہو گی؟

منگل 05 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
’’6تاریخ سے آپ کے لئے حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا‘6تاریخ کو میں لاہور جائوں گا اور اسے بند کروں گا۔8تاریخ کو فیصل آباد جائوں گا اسے بند کروں گا۔12تاریخ کو کراچی پہنچوں گا اور اسے بند کروں گا اور 16تاریخ کو پورا پاکستان بند کروں گا‘‘ یہ 2014ء ہے اور یہ تقریر عمران خان نے اسلام آباد میں کی تھی۔سیاست و حکمت اور فہم و فراست کی بات تو بعد میں کرتے ہیں۔ پہلے ذرا مکافات عمل کا تذکرہ ہو جائے۔ اس دھرنے کے دوران عمران خان نے جو دھمکیاں دیں ذرا ان کی کچھ اخباری جھلکیاں بھی ملاحظہ فرما
مزید پڑھیے


دل گرفتگی

هفته 02 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ تصور ہی کتنا ہولناک اور خوفناک ہے کہ بھڑکتی ہوئی آگ‘ بھاگتی ہوئی ٹرین‘ نیچے گہری کھائی اور نوکیلی پہاڑیاں‘ ایسے میں جلتے ہوئے انسان اور بچوں کو سینے سے چمٹائے ہوئی مائیں۔ بہنوں کو بچاتے ہوئے بھائی مگر سب کے سب بے بس‘ بے آسرا‘ کچھ سنائی دے رہا ہے، انسانوں کی عرش تک بلند ہوتی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے اور کچھ دکھائی دے رہا ہے تو وہ لپکتے ہوئے شعلوں کی یلغار دکھائی دے رہی ہے۔ بعداز خرابی بسیار لیاقت آباد کے قریب تیز گام رکتی ہے تو اس وقت تک آتشزدگی سے 74زندہ
مزید پڑھیے


آزادی مارچ اور پابندیاں

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں میرے لیے سب سے زیادہ پرکشش لفظ آزادی ہے۔ یہ لفظ ’’آزادی‘‘ مجھے زمانہ طالب علمی کی حسین وادیوں میں لے گیا جہاں مجھے اپنا پسندیدہ ناول Jane Eyerیاد آ گیا۔ اس ناول کی مصنفہ شارلٹ برونٹے نے آزادی کے بارے میں ایک دل میں اتر جانے والا جملہ لکھا ہے۔ میں ترجمہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ’’میں کوئی پرندہ نہیں ہوں جسے جال میں پھانسا جا سکتا ہو، میں ایک آزاد انسان ہوں جو اپنی آزاد مرضی کا مالک و مختار ہے‘‘ مولانا کس قسم کی آزادی چاہتے ہیں اس کی تفصیلات تو
مزید پڑھیے


آخری گولی سے کالی پٹی تک

منگل 29 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
بیشک 27ستمبر کو عمران خان کی گھن گرج نے عالمی سطح پر زبردست ارتعاش پیدا کر دیا تھا۔نیو یارک میں اقوام متحدہ کے دردودیوار پر لرزہ طاری ہو گیا تھا۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ ایسا اثر انگیز اور درد انگیز خطاب سن کر عالمی کمیونٹی کا خوابیدہ ضمیر بیدار ہو جائے گا اور نہ صرف بیدار ہو گا بلکہ مظلوم و محصور کشمیریوں کی مدد کے لئے برسر پیکار بھی ہو جائے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ایسا ہو بھی نہ سکتا تھا کیونکہ ہماری امید کا آشیانہ شاخ نازک پر بنا تھا۔ اپنے اپنے مفادات سے وابستہ سنگ
مزید پڑھیے


بے شک انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

هفته 26 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اللہ کی آخری کتاب میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ خلق الانسان ضیعفاً کہ انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ نشہ جوانی کا ہو یا نشہ اپنے زور بازو کا یا کسی شعبے میں شہرت کا ہو یا اپنے مال اسباب کا ہو مگر اقتدار کا نشہ سب سے بڑھ کر ہے۔ یہ نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے مگر انسان کواپنے ضعف کا ادراک کب ہوتا ہے جب اس سے وہ طاقت چھن جاتی ہے جس پر وہ اتراتا تھا۔ یاس یگانہ چنگیزی نے شعر کی زبان میں اس حقیقت کو ذہن نشیں کرانے کی نہایت موثر کوشش کی
مزید پڑھیے