BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



کمال کی باتیں


’’فیض صاحب سے پہلی بار ملنے کا شرف اس وقت حاصل ہوا جب وہ روزنامہ پاکستان ٹائمز اور امروز کے مدیر ہوتے تھے۔ بڑے لوگوں سے ملنے کا خبط، چھوٹے لوگوں کے دلوں میں پنہاں ہوتا ہے اور فیض صاحب تو پاکستان بھر کے سب سے بڑے شاعر اور آدمی تھے۔ ان سے ملنے کا خبط کیوں نہ رنگ لاتا۔ جب میں پاکستان ٹائمز کے دفتر میں داخل ہوا تو پہلی منزل پر ایک کمرے کے باہر فیض صاحب کے نام کی تختی دیکھی اور دل تیزی سے دھڑکنا شروع ہو گیا۔ پتہ نہیں ان سے ملنے سے زیادہ دیکھنے
هفته 19 جنوری 2019ء

متحدہ اپوزیشن:حکومتی نوازشات کا نتیجہ یا مولانا کی کاوشوں کا کرشمہ

جمعرات 17 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
کون حاکم وقت کو سمجھائے کہ کاروبار حکومت طنز اور طعنے سے نہیں چلتا۔ اقتدار بڑی دلچسپ شے ہے۔ لیلائے اقتدار سے وصل کی پہلی پہلی قربتوں میں ہی صاحب اقتدار کی سوچ اپروچ میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ آنکھوں پر ایک غیر مرئی پٹی بندھ جاتی ہے‘ اپنے بیگانے اور پرائے اپنے لگنے لگتے ہیں۔ خوشامد کے عطر میں رچے بسے تجزیے اور تبصرے اچھے محسوس ہوتے ہیں۔ اپنوں کے فکر انگیز تجزیوں کو سننے کی اول تو حاکم وقت کے پاس فرصت ہی نہیں ہوتی ہے اور اگر وہ سن بھی لے تو اس کا اولین ردِعمل یہ ہوتا
مزید پڑھیے


جماعت اسلامی نے الیکشن ہارا ہے ہمت نہیں ہاری

منگل 15 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جماعت اسلامی کی دیانت و امانت اور اس کی جرات و شرافت کے ساتھ رومانس رکھنے والوں کی آج بھی کمی نہیں۔ 1970ء کی دہائی میں یہ رومانس پروان چڑھا جب جماعت اسلامی ذوالفقار علی بھٹو کے سوشلزم کے خلاف خم ٹھونک کر کھڑی ہو گئی۔ ان دنوں اسلام کے ساتھ جذباتی و قلبی وابستگی رکھنے والے کو مولانا مودودی کے ایک نعرے نے بے پناہ جوش و جذبہ اور ولولہ تازہ عطا کیا۔ مولانا نے حق الیقین کی پوری قوت سے پاکستان کی ملت اسلامیہ کو پیغام دیا کہ جب تک ہمارے سر ہماری گردنوں پر قائم ہیں اس ملک
مزید پڑھیے


نیب میں وزیر اعظم کی طلبی: توہین یا توقیر؟

هفته 12 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
وزیر اعظم کے نادان دوستوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کیس میں عمران خان کو طلب کرنا وزارت عظمیٰ کی توہین ہے۔ نیب کو اس توہین سے باز رہنا چاہئیے۔دو دن گزرنے کے باوجود وزیر اطلاعات فواد چودھری کے اس بیان پر ریاست مدینہ کے نام لیوا وزیر اعظم نے وزیر اطلاعات کا محاسبہ کیا اور نہ ہی کوئی سرزنش۔ کیا ریاست مدینہ کا کوئی حاکم قانون سے ماوراء تھا، کسی خلیفہ کو عدالت میں پیشی سے استثنیٰ حاصل تھا اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔ بالآخر چیئرمین نیب جسٹس جاوید
مزید پڑھیے


پاکستان: ناپسندیدہ پاسپورٹوں میں تیسرا نمبر

جمعرات 10 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گردش دہر ہی کیا کم تھی جلانے کو‘ اوپر سے ایک اور تیر ہمارے سینے میں آ لگا ہے۔ دنیا کے ناپسندیدہ ترین پاسپورٹوں میں ہمارا نمبر تیسرا ہے۔ یہ اعزاز حکمرانوں اور سیاستدانوں کو زیادہ مبارک ہو‘ جو جہاں جاتے ہیں خود ’’منہ زبانی‘‘ اپنے ملک کا کچا چٹھا کھول کر سامنے رکھ دیتے ہیں اور پھر صدا لگاتے ہیں ؎ دے جا سخیا راہ خدا تیرا اللہ بوٹا لائے گا ہینلے پاسپورٹ انڈکس کی رینکنگ کے مطابق اس وقت پسندیدہ ترین پاسپورٹوں میں جاپان پہلے نمبر پر ہے۔ گویا کوئی جاپانی تقریباً دنیا کے کسی ملک میں
مزید پڑھیے




خود بدلتے نہیں آئین کو بدل دیتے ہیں

منگل 08 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہمارا معاملہ ماروں گھٹناپھوٹے آنکھ والا ہے۔ ہمارا مسئلہ آئین سازی نہیں آئین شکنی ہے۔ مسائل و مصائب کے ہجوم سے نبرد آزما ہونے کے لئے کسی بقراط نے صدارتی نظام کا شوشہ چھوڑا ہے اور اٹھارویں دستوری ترمیم کو نشانہ تنقید بنایا ہے۔ ہماری تاریخ کوئی اتنی پرانی نہیں کہ اسے سمجھنا دشوار ہو۔ ہم اپنی کوہ ہمالیہ جیسی غلطیوں کو بار بار دہرانے پر کیوں مصر رہتے ہیں؟شاعر نے کہا تھا کہ: کروں میں پھر سے کہانی کی ابتدا کہ نہیں جناب ایئر مارشل اصغر خان نے بڑی درد مندی سے ایک کتاب لکھی تھی کہ ’’ہم تاریخ سے سبق
مزید پڑھیے


سید مودودی کا تذکرہ

هفته 05 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مجھ سے اکثر نوجوان پوچھتے ہیں کہ آپ زندگی میں کتنے بڑے لوگوں سے ملے ہیں۔ ایسے مواقع پر میں اپنی محرومی اور خوش قسمتی دونوں کا ذکر کرتا ہوں۔ محرومی تو یہ کہ میں نے علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کا زمانہ نہیں پایا اور خوش قسمتی یہ کہ مجھے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جیسی عظیم المرتبت شخصیت کی نہ صرف زیارت بلکہ ان سے بات چیت کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ گزشتہ روز مجھے مدتوں کے بعد ایک خالصتاً علمی محفل میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ تقریب دی پنجاب اسکول سسٹم کے مدارالمہام سید احسان اللہ وقاص نے اپنے
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیر: ہم سا بے درد کوئی کیا ہو گا

جمعرات 03 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہم اپنی بچگانہ لڑائیوں میں مگن ہیں۔ اردگرد کیا ہو رہا ہے اس سے بے خبر ہیں‘ غافل ہیں بلکہ بے پروا ہیں۔اگر ہمارے حکمران اور سیاست دان سنجیدگی اور درد مندی کی نعمت سے محروم نہ ہوتے تو وہ ساری دنیا کے کونے کونے میں آباد کشمیریوں اور پاکستانیوں کو متحرک کر کے نام نہاد عالمی کمیونٹی اور امریکہ جیسے انسانی حقوق اور امن و سلامتی کے ٹھیکیداروں کو جھنجھوڑتے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے سوال کرتے کہ تم نے بھارتی درندوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی آزادی کیوں دے رکھی ہے۔ اگر امریکہ کے کسی
مزید پڑھیے


یہ سال بھی کٹ گیا ہے!

منگل 01 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
31دسمبر کو حسب روایت میں نے اپنے آپ کو ’’اپنی‘‘عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا تو مجھے ڈاکٹر خورشید رضوی کی نظم’’محاسبہ‘‘ یاد آ گئی۔ احتساب ذات پر کیا کمال کی نظم ہے۔ ہوا کہیں نام کو نہیں تھی اذان مغرب سے دن کی پسپا سپاہ کا دل دھڑک رہا تھا تمام رنگوں کے امتیازات مٹ چکے تھے ہر ایک شے کی سیہ قبا تھی شجر حجر سب کے سب گریباں میں سر جھکائے محاسبہ کر رہے تھے دن بھر کے نیک و بد کا طویل قامت حزیں کھجوریں کٹی ہوئی ساعتوںکے ماتم میں بال کھولے ہوئے کھڑی تھیں ادھر مرا دل دھڑک دھڑک کر عجیب عبرت بھری ندامت سے سوچتا
مزید پڑھیے


آنکھ طائر کی نشیمن پر رہی پرواز میں

هفته 29 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اگرچہ آج خبریں بڑی گرما گرم ہیں اور ان پر تبصرہ کرنے کو دل مچل رہا ہے مگر آج پاسبان عقل کا کہنا ہے کہ سیاست سے ذرا ہٹ کے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ سان فرانسسکو میں کرائے کے ایک فلیٹ میں رہتا ہے۔ وہ کسی برانڈ کے نہیں عام سے کپڑے پہنتا ہے۔ اس کے چہرے پر جو عینک لگی ہے وہ پرانی اور معمولی سی ہے۔ وہ سستی سی ایک دو گھڑیاں استعمال کرتا ہے۔ اسکے پاس کوئی کار نہیں وہ پبلک بس سے سفر کرتا ہے۔ وہ دفتر جاتے ہوئے جو ہینڈ بیگ لیکر جاتا ہے وہ
مزید پڑھیے