BN

ڈاکٹر حسین پراچہ

کیا عوامی چندے سے ڈیم بن پائے گا؟


عوامی چندے سے نہ صرف ڈیم بنے گا بلکہ قوم بھی بیدار ہو گی۔ سچ تو یہ ہے کہ قوم نہ صرف بیدار ہو چکی ہے بلکہ کمر بستہ بھی ہو گئی ہے۔ ذرا ربّ ذوالجلال کی طرف سے ملنے والی نوید بھی سن لیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جب تم نے عزم کر لیا تو پھر اللہ پر بھروسا کرو‘‘ عزم صمیم کو دنیا کی کوئی قوت شکست نہیں دے سکتی۔ کچھ لوگ ڈیم فنڈ میں آنے والے چند ارب روپوں کو ڈیم کی کئی ارب ڈالر لاگت کے مقابلے میں مونگ پھلی کے چند دانے قرار دے رہے ہیں۔ بلا
منگل 18  ستمبر 2018ء

غوطہ زن اسد عمر کیا گوہر لاتے ہیں

هفته 15  ستمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
بے شک مردانِ عزم و ہمت کسی بڑے اقدام سے پہلے خوب غورو خوض کرتے ہیں مگر فیصلے میں تاخیر اور تردّد ایک بہت بڑی آفت ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت روز کوئی نہ کوئی پتھر ٹھہرے ہوئے پانی میں پھینک کر لہروں کے ارتعاش کا اندازہ لگاتی ہے۔ وہ جب لہروں کی بڑھتی ہوئی بیتابی دیکھتی ہے تو پھر ایکشن سے ہاتھ روک لیتی ہے۔ ادھر ہم بھی اپنے وعدے پر قائم ہیں کہ 100روز سے پہلے تنقیدی تیروں سے زبان و قلم کو روک کر رکھیں گے، تاہم حکومت کو ساتھ ساتھ توجہ ضرور دلاتے رہیں گے۔دو روز پہلے
مزید پڑھیے


معلوم نہیں موت کس وادی میں آئے گی

جمعرات 13  ستمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
فرید بھائی نے ڈاکٹر حسن صہیب مراد کی ناگہانی موت کی خبر دی تو شدید دلی صدمہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی فرید صاحب نے بتایا کہ ایک دو روز میں ان کی Dead Body درہ خنجراب سے لاہور لائی جائے گی۔ دل سے ایک ہوک اٹھی کہ موت کے پہلے ہی وار سے انسان کا نام و القاب جاتا رہتا ہے اور وہ Nobody ہو جاتا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران تین اموات ہوئیں جن کے میرے لیے حوالے مختلف تھے مگر ان میں ایک حقیقت مشترک تھی کہ جسے قرآن پاک نے بڑے موثر پیرائے میں یوں
مزید پڑھیے


دادا بھائی نوروجی اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ

منگل 11  ستمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
دادا بھائی نوروجی پارسی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ انیسویں صدی کے اواخر میں برطانیہ میں مقیم تھے اور لبرل پارٹی سے وابستہ تھے۔ دادا بھائی لندن یونیورسٹی کالج میں گجراتی زبان کے استاد، ممتاز تاجر، متوازن دانشور اور انڈیا کے پہلے پہلے سیاست دان تھے۔ وہ برطانیہ کی ایک سیاسی و سماجی شخصیت کی حیثیت سے نہ صرف جانے اور پہچانے جاتے تھے بلکہ برطانوی سوسائٹی میں ان کا احترام بھی پایا جاتا تھا۔ جب دادا بھائی نورو جی نے 1892ء میں لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر سنٹرل فنس بری اسکاٹ لینڈ سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تو
مزید پڑھیے


کیا ہم ماضی سے سبق سیکھتے ہیں؟

هفته 08  ستمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
1965ء کی جنگ ستمبر کا خلاصہ اگر ایک مختصر جملے میں بیان کرنا ہو تو میں کہوں گا۔ جاگ اٹھا ہے سارا وطن میں نے جنگ ستمبر کو بچپن اور لڑکپن کی سرحد پر اور 1971ء کی جنگ کو اوائل شباب میں دیکھا۔ جنگ ستمبر کے بعد ہم فخریہ سر اٹھا کر چلتے تھے اور 16دسمبر 1971ء کے بعد ہم غمزدہ ‘ افسردہ اور پژمردہ ہو کر سر جھکا کر چلتے تھے۔ سرگودھا میرا شہر ہے 6ستمبر 1965ء کو ابتدا سے زندہ دلان لاہور کے ہی نہیں سرگودھا کے شاہینوں کے جذبے بھی جواں تھے۔ یہ صرف لاہور‘ سرگودھا یا سیالکوٹ کی بات
مزید پڑھیے


خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا

جمعرات 06  ستمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یاس یگانہ چنگیزی نے کہا تھا خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا مسئلہ زیر بحث پر گفتگو تو بعد میں کریں گے پہلے اس لب و لہجے کے بارے میں بات ہو جائے جو گزشتہ روز پارلیمنٹ کے باہر ہمارے نئے وزیراطلاعات فواد چودھری نے اختیار کیا۔ انہوں نے اکنامک ایڈوائزری کونسل میں ایک قادیانی ممبر ڈاکٹر عاطف میاں کے بارے میں کہا کہ انہیں اکنامک کونسل کا ممبر بنایا جارہا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا ممبر نہیں بنایا جارہا۔ یہ ایک ماہر اقتصادیات ہیں ان کی تقرری کیوں نہ کی جائے۔
مزید پڑھیے


سسکتی مسکراتی زندگی

منگل 04  ستمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ڈاکٹر خورشید رضوی نے کیا خوب صورت شعر کہا ہے: ؎ میں اسے عمر بھر کا حاصل لوٹا دوں گا وقت اگر میرے کھلونے مجھے واپس کر دے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے اپنی خود نوشت سوانح حیات میں اپنے بچپن کو شاعر جیسی چاہت سے ہی یاد کیا ہے مگر انہیں جتنا اپنا بچپن عزیز ہے اتنا ہی انہیں عمر بھر کا حاصل بھی عزیز ہے۔ اس لیے وہ یہ ’’شاعرانہ ڈیل‘‘ کرنے پر آمادہ نہیں۔ اگر انسان اپنی زندگی سے مطمئن اور خوش ہو تو وہ اسے Reliveکر کے بہت مسرت محسوس کرتا ہے۔ڈاکٹر مغیث الدین
مزید پڑھیے


پاک۔ بھارت آبی تنازع

هفته 01  ستمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ممتاز اسلامی سکالر احمد دیدات مرحوم فقیر کی دعوت پر طائف تشریف لائے تو انہوں نے ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے بڑی پتے کی بات کہی کہ اگر آپ کی گاڑی خراب ہو جائے اور آپ گاڑی کے اندر بیٹھے رہیں اور لوگوں کو بلائیں کہ آئیں اور آپ کی گاڑی کو دھکا لگائیں تو کوئی نہیں آئے گا۔ تاہم اگر آپ اتر کر گاڑی کو اکیلے ہی دھکا لگانا شروع کردیں تو لوگ آپ کی مدد کو دوڑے چلے آئیں گے۔ آبی مذاکرات کے لیے پردیپ کمار سکسینا کی قیادت میں بھارتی آبی ماہرین کی ٹیم نے لاہور میں
مزید پڑھیے


گستاخانہ خاکے اور عشق مصطفی ﷺ کے تقاضے

جمعه 31  اگست 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ممتاز کالم نگار جناب حسن نثار نے اپنی شہرہ آفاق نعت کہی تو انہوں نے جن دوستوں کو یہ نعت سب سے پہلے سنائی ان میں میرے عزیز دوست سید فاروق حسن گیلانی مرحوم بھی شامل تھے۔ فاروق نے مجھے تبھی بتایا تھا کہ حسن نے ایک باکمال نعت کہنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ حسن نثار کی یہ نعت حب رسولؐ اور عشق مصطفیؐ کے حوالے سے دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی ترجمانی کرتی ہے۔ بہت سے قارئین یہ نعت پہلے پڑھ یا سن چکے ہوں گے ذرا غور سے پڑھیے اور دیکھیے کہ عشق نبویؐ کی کلی
مزید پڑھیے


شکست کے بعد سینیٹر سراج الحق سے پہلی ملاقات

منگل 28  اگست 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جماعت اسلامی کی تاریخی شکست کے حوالے سے میرے ترکش میں تلخ اور تلخ تر سوالوں کے جتنے تیر تھے وہ میں نے ایک ایک کر کے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق پر آزمائے مگر منصورہ میں سوا گھنٹے کی ون ٹو ون ملاقات میں آخری لمحے تک وہ خندہ پیشانی سے ہر سوال کا جواب دیتے رہے۔ مختصر تمہید کے بعد میرا پہلا سوال تھا کہ آپ کو شاید پہلی بار اپنے گھر میں شکست ہوئی۔ کیا سونامی دیر بالا تک پہنچ گیا تھا؟ سینیٹر سراج الحق لمحے بھر کو سنبھلے اور پھر گویا ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب!
مزید پڑھیے