BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



’’صرف تم‘‘


بوجوہ آج دل بہت اداس ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ دل گرفتگی کا سبب بتا بھی نہیں سکتے۔ بس اتنا سمجھ لیجیے سیاست کی یکسانیت سے دل اچاٹ ہے۔ کچھ بھی نیا نہیں۔ وہی احتساب کے چرچے کہ جس احتساب کے بارے میں جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے کہ نیب سب کو پکڑے یا سب کو چھوڑ دے۔ نیب دونوں آنکھیں کیوں نہیں کھولتا‘ پکڑنے اور چھوڑنے کا فیصلہ کون کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کی اس تنبیہ پر سب سے اچھا تبصرہ خود نیب کا ہے کہ ہم گرفتاریوں کے سلسلے میں پالیسی بنا رہے ہیں۔ اس پر
جمعرات 15 نومبر 2018ء

یہی شاہکار ہے تیرے ہنر کا؟

منگل 13 نومبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ آفت میں گھبراہٹ اس سے بڑی مصیبت ہے۔ بلا شبہ معیشت کا چیلنج بہت بڑا ہے۔ اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومت کو در در دستک بھی دینا پڑ رہی ہے‘ آئی ایم ایف کی سخت سست باتیں بھی سننا پڑ رہی ہے اور بجلی گیس کی قیمتوں کے بارے میں اپنے ہی بیانات کی نفی کر کے لوگوں پر ’’ظلم‘‘ بھی ڈھانا پڑ رہا ہے۔ یہ سب کچھ کر لینے کے بعد تو حکمرانوں کو قدرے قرار آ جانا چاہیے تھا مگر ان کی ہر ادا
مزید پڑھیے


اقبال کی آرزو

هفته 10 نومبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
استادِ محترم ڈاکٹر خورشید رضوی سے عرض کیا کہ آج کے دور کے نوجوان کی رہنمائی کے لیے کیا علامہ اقبال نے کچھ فرمایا ہے؟ اقبال کی شاعری اور فلسفے کی تہہ تک اترنے والے اقبال شناس کا جواب تھا کہ بڑا شاعر اور فلسفی اپنے زمانے ہی کی نہیں آنے والے زمانوں کی بھی بات کرتا ہے اور یوں بھی ہم ابھی تک اقبال کے ہی عہد میں زندہ ہیں۔ اُستادِ محترم کے جواب پر غور کیا تو بات سمجھ میں آئی کہ مرشد اقبال تو زمان و مکان کی اس تقسیم کو نہیں مانتے اور نہ ہی روز و
مزید پڑھیے


تاتریاق ازعراق آوردہ شود

جمعرات 08 نومبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہم ایک جذباتی قوم ہیں اور نوجوانوں کی اکثریت تو اور بھی جذباتی ہے جو یہ نہیں جانتی کہ حقِ نصیحت دوستی کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ عمران خان کے اخلاص میں کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں۔ مگر انہیں یہ بات کون سمجھائے گا کہ زمان و مکان کے بدلنے سے بیانیے کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انتخابات کے دوران اور بیانیہ ہوتا ہے انتخابات کے بعد ایوان کے اندر اور باہر اور لب و لہجہ ہوتا ہے۔ ملک کے اندر بھی مختلف فورمز پر حسبِ موقع اور حسبِ ضرورت بیانیہ اختیار کیا جاتا ہے اور
مزید پڑھیے


مولانا سمیع الحق سعادت سے شہادت تک

منگل 06 نومبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
علمائے کرام کا احترام ہماری گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔ والد گرامی مولانا گلزار احمد مظاہریؒ اپنے ایام جوانی میں علی گڑھ یونیورسٹی تعلیم حاصل کرنے گئے تھے مگر ان کی فکری گاڑی نے کانٹا بدلا اور وہ جب واپس بھیرہ پہنچے تو وہ جامعہ دارالعلوم سہارنپور سے باقاعدہ سند یافتہ عالم دین تھے۔ وہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتب، فکر اور شخصیت سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے جماعت اسلامی میں شرکت کرلی۔ وہ جماعت اسلامی کے سینئر رہنما تھے مگر وہ ہر مکتب فکر کے عالم دین سے گہرا قلبی تعلق رکھتے تھے اسی لیے جماعت
مزید پڑھیے




ڈاکٹر خورشید رضوی کے ساتھ ایک شام

هفته 03 نومبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
نہ اب ڈاکٹر خورشید رضوی جیسے با کمال اساتذہ کہیں نظر آتے ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر زاہد منیر جیسے اساتذہ کے قدردان شاگرد کہیں دکھائی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی آج کے دور کی ایک عظیم علمی و ادبی شخصیت ہیں۔ وہ ایک ایسے عبقری ہیں جن کی ذات میں کئی متنوع رنگ اہتمام کے ساتھ یک جا ہو گئے ہیں۔ وہ عربی زبان و ادب کے استاد ہیں اور محقق ہیں جن کا نہ صرف برصغیر پاک و ہند میں ڈنکا بجتا ہے بلکہ عالم عرب میں بھی بہت سے اہل علم ان کی تحقیقی کاوشوں کے نہ
مزید پڑھیے


چیف جسٹس کا لانگ مارچ

جمعرات 01 نومبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جناب چیف جسٹس کا فرمان سر آنکھوں پر ‘مگر آبادی پر حقیقی کنٹرول تب ہو گا جب ہر شہری تعلیم یافتہ ہو گا اور ملک میں ہر طرف خوش حالی کا دور دورہ ہو گا۔ بہرحال جناب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی شدت احساس انتہائی قابل قدر ہے‘ وہ ہمارے بنیادی مسائل کو نہ صرف اجاگر کر رہے ہیں بلکہ ان کے حل کے لئے عملی اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ اول تو ہمیں ان سے کوئی بنیادی اختلاف بھی نہیں اور اگر ہو بھی تو معاملہ عدالت عظمیٰ کا ہے جس کے بارے میں ہی شاید میر تقی
مزید پڑھیے


کیا شہروں کی خوب صورتی کبھی لوٹ آئے گی؟

پیر 29 اکتوبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ان دنوں سیاست سرد بازاری کا شکار ہے۔ مولانا فضل الرحمن سیاست میں گرم بازاری لانے کے لیے بہت سرگرم ہیں۔ مگر ابھی تک انہیں اپنی سرگرمیوں میں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ وہ سیاست کے دو اہم ستونوں یا دو پرانے حلیفوں یا پرانے حریفوں اور پرانے کھلاڑیوں کے درمیان شٹل ڈپلومیسی بڑی ہمت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا مشن اتنا پرکشش ہے کہ جو انہیں اس سے دستبردار ہونے دیتا ہے اور نہ ہی کسی درجے میں مایوس ہونے دیتا ہے۔ مولانا کا شعری فلسفہ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی یہ لگتا ہے کہ: کچھ اس ادا سے
مزید پڑھیے


یکساں تعلیم: عمران خان کا ایک بھولا ہوا خواب

هفته 27 اکتوبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
وہ قائدین بڑے قابل قدر ہوتے ہیں جو اپنی قوم کو بڑے خوبصورت خواب دکھاتے ہیں اور وہ قومیں بڑی خوش قسمت ہوتی ہیں جنہیں ان خوابوں کی تعبیر مل جاتی ہے۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے خواب دیکھا اور اپنی قوم کو واضح تصور پاکستان دے دیا۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے اس خواب کی تعبیر تخلیق پاکستان کی صورت میں پیش کر کے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور دنیا کو حیران کردیا۔ اس کے بعد خوابوں اور ان کی تعبیروں کا سلسلہ رک گیا۔ درمیان میں کبھی کبھی بڑے جذباتی انداز میں کچھ سہانے سپنے دکھائے
مزید پڑھیے


کیا مولانا فضل الرحمن، نوابزادہ نصراللہ خان بن پائیں گے؟

جمعرات 25 اکتوبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
کیا مولانا خود کو نوابزدہ نصراللہ خان کا جانشین ثابت کرپائیں گے؟ مگر مولانا میں کچھ کچھ اوصاف مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان والے ضرور ہیں۔ ع اس میں بھی کچھ تو ہے تیری بو باس کی طرح نوابزادہ صاحب کی ساری زندگی دو الفاظ کی گرد گھومتی رہی۔ جمہوریت اور اتحاد۔ نوابزادہ صاحب کی سیاسی زندگی کا آغاز 1930ء میں ہوا۔ جب سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے مجلس احرار اسلام قائم کی تو نوجوان نوابزادہ اس کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ وہ 1952ء
مزید پڑھیے