ڈاکٹر حسین پراچہ



کیا امریکہ افغانستان سے چلا جائے گا؟


زیادہ بغلیں بجانے کی ضرورت نہیں‘ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ جو حقیقت ایک سپر پاور کو سمجھنے میں 9برس لگے وہ دوسری سپر پاور کو انڈر سٹینڈ کرنے میں 18برس لگ گئے اور ابھی بھی معلوم نہیں کہ آج کی سب سے بڑی سپر پاور امریکہ اس حقیقت کو اس کی تہہ تک سمجھ پایا کہ نہیں۔ حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جو حملہ آور سرزمین افغانستان پر چڑھ دوڑے گا وہ بالآخر یہاں سے خوار و زبوں ہو کر نکلے گا۔ مشہور تاریخ دان ٹائن بی کی گواہی بھی یہی ہے۔ دو روز قبل خبر آئی
منگل 29 جنوری 2019ء

منی بجٹ: کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

هفته 26 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ تین چار ماہ کے دوران اسد عمر کرپشن کے خاتمے کے نام پر چھوٹے بڑے ہر کاروبار کی حوصلہ شکنی کرتے رہے نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ معیشت کا پیسہ تیزگام ہونے کے بجائے جام ہوگیا جس پر کاروباری حلقوں کی طرف ان پر شدید تنقید کی گئی۔ ’’اصلاحاتی پیکیج‘‘ سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ معیشت کا رکا ہوا پہیہ دوبارہ چل پڑے گا۔ اپنی معاشی تقریر کے دوران اسد عمر جابجا سیاسی طنز و مزاح کا تڑکا لگاتے رہے تاہم اپوزیشن کے احتجاجی نعروں سے وہ بے مزہ نہ ہوئے اور انہوں نے اپنی تقریر
مزید پڑھیے


جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

جمعرات 24 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ تو معلوم نہیں کہ جے آئی ٹی کی سانحہ ساہیوال کے بارے میں تفصیلی رپورٹ کیا ہے مگر وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کے بیان میں عجب تضاد ہے۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں ساہیوال آپریشن بالکل درست تھا اور دوسری طرف فرماتے ہیں کہ فیملی بے گناہ تھی۔ گاڑی میں کل سات افراد تھے خلیل اس کی بیوی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ چھ افراد بے گناہ اور ایک شخص کہ جس کے بارے میں ابھی تک معلوم نہیں کہ وہ دہشت گرد تھا یا شریف شہری تھا تو پھر آپریشن درست کیسے ہوا؟ اور آپریشن کا وحشیانہ
مزید پڑھیے


ظلم صریح اور جھوٹ در جھوٹ

منگل 22 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ میری زندگی کا غالباً تیسرا کالم ہے جو میں اس حال میں لکھ رہا ہوں کہ آنسو میری آنکھوں سے رواں ہیں۔کلیجہ غم سے پھٹ رہا ہے‘ دل فگار ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ ان پھول سے بچوں کی بے بسی کا اندازہ لگائیے کہ جو خوشی خوشی اچھے اچھے کپڑے پہن کر اپنے چچا کی شادی میں شرکت کے لئے جا رہے تھے کہ آناً فاناً ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بے بس ماں باپ اور بہن کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔19جنوری کو رات کی تاریکی میں نہیں دن دہاڑے ساہیوال ٹول پلازہ
مزید پڑھیے


کمال کی باتیں

هفته 19 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
’’فیض صاحب سے پہلی بار ملنے کا شرف اس وقت حاصل ہوا جب وہ روزنامہ پاکستان ٹائمز اور امروز کے مدیر ہوتے تھے۔ بڑے لوگوں سے ملنے کا خبط، چھوٹے لوگوں کے دلوں میں پنہاں ہوتا ہے اور فیض صاحب تو پاکستان بھر کے سب سے بڑے شاعر اور آدمی تھے۔ ان سے ملنے کا خبط کیوں نہ رنگ لاتا۔ جب میں پاکستان ٹائمز کے دفتر میں داخل ہوا تو پہلی منزل پر ایک کمرے کے باہر فیض صاحب کے نام کی تختی دیکھی اور دل تیزی سے دھڑکنا شروع ہو گیا۔ پتہ نہیں ان سے ملنے سے زیادہ دیکھنے
مزید پڑھیے




متحدہ اپوزیشن:حکومتی نوازشات کا نتیجہ یا مولانا کی کاوشوں کا کرشمہ

جمعرات 17 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
کون حاکم وقت کو سمجھائے کہ کاروبار حکومت طنز اور طعنے سے نہیں چلتا۔ اقتدار بڑی دلچسپ شے ہے۔ لیلائے اقتدار سے وصل کی پہلی پہلی قربتوں میں ہی صاحب اقتدار کی سوچ اپروچ میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ آنکھوں پر ایک غیر مرئی پٹی بندھ جاتی ہے‘ اپنے بیگانے اور پرائے اپنے لگنے لگتے ہیں۔ خوشامد کے عطر میں رچے بسے تجزیے اور تبصرے اچھے محسوس ہوتے ہیں۔ اپنوں کے فکر انگیز تجزیوں کو سننے کی اول تو حاکم وقت کے پاس فرصت ہی نہیں ہوتی ہے اور اگر وہ سن بھی لے تو اس کا اولین ردِعمل یہ ہوتا
مزید پڑھیے


جماعت اسلامی نے الیکشن ہارا ہے ہمت نہیں ہاری

منگل 15 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جماعت اسلامی کی دیانت و امانت اور اس کی جرات و شرافت کے ساتھ رومانس رکھنے والوں کی آج بھی کمی نہیں۔ 1970ء کی دہائی میں یہ رومانس پروان چڑھا جب جماعت اسلامی ذوالفقار علی بھٹو کے سوشلزم کے خلاف خم ٹھونک کر کھڑی ہو گئی۔ ان دنوں اسلام کے ساتھ جذباتی و قلبی وابستگی رکھنے والے کو مولانا مودودی کے ایک نعرے نے بے پناہ جوش و جذبہ اور ولولہ تازہ عطا کیا۔ مولانا نے حق الیقین کی پوری قوت سے پاکستان کی ملت اسلامیہ کو پیغام دیا کہ جب تک ہمارے سر ہماری گردنوں پر قائم ہیں اس ملک
مزید پڑھیے


نیب میں وزیر اعظم کی طلبی: توہین یا توقیر؟

هفته 12 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
وزیر اعظم کے نادان دوستوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کیس میں عمران خان کو طلب کرنا وزارت عظمیٰ کی توہین ہے۔ نیب کو اس توہین سے باز رہنا چاہئیے۔دو دن گزرنے کے باوجود وزیر اطلاعات فواد چودھری کے اس بیان پر ریاست مدینہ کے نام لیوا وزیر اعظم نے وزیر اطلاعات کا محاسبہ کیا اور نہ ہی کوئی سرزنش۔ کیا ریاست مدینہ کا کوئی حاکم قانون سے ماوراء تھا، کسی خلیفہ کو عدالت میں پیشی سے استثنیٰ حاصل تھا اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔ بالآخر چیئرمین نیب جسٹس جاوید
مزید پڑھیے


پاکستان: ناپسندیدہ پاسپورٹوں میں تیسرا نمبر

جمعرات 10 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گردش دہر ہی کیا کم تھی جلانے کو‘ اوپر سے ایک اور تیر ہمارے سینے میں آ لگا ہے۔ دنیا کے ناپسندیدہ ترین پاسپورٹوں میں ہمارا نمبر تیسرا ہے۔ یہ اعزاز حکمرانوں اور سیاستدانوں کو زیادہ مبارک ہو‘ جو جہاں جاتے ہیں خود ’’منہ زبانی‘‘ اپنے ملک کا کچا چٹھا کھول کر سامنے رکھ دیتے ہیں اور پھر صدا لگاتے ہیں ؎ دے جا سخیا راہ خدا تیرا اللہ بوٹا لائے گا ہینلے پاسپورٹ انڈکس کی رینکنگ کے مطابق اس وقت پسندیدہ ترین پاسپورٹوں میں جاپان پہلے نمبر پر ہے۔ گویا کوئی جاپانی تقریباً دنیا کے کسی ملک میں
مزید پڑھیے


خود بدلتے نہیں آئین کو بدل دیتے ہیں

منگل 08 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہمارا معاملہ ماروں گھٹناپھوٹے آنکھ والا ہے۔ ہمارا مسئلہ آئین سازی نہیں آئین شکنی ہے۔ مسائل و مصائب کے ہجوم سے نبرد آزما ہونے کے لئے کسی بقراط نے صدارتی نظام کا شوشہ چھوڑا ہے اور اٹھارویں دستوری ترمیم کو نشانہ تنقید بنایا ہے۔ ہماری تاریخ کوئی اتنی پرانی نہیں کہ اسے سمجھنا دشوار ہو۔ ہم اپنی کوہ ہمالیہ جیسی غلطیوں کو بار بار دہرانے پر کیوں مصر رہتے ہیں؟شاعر نے کہا تھا کہ: کروں میں پھر سے کہانی کی ابتدا کہ نہیں جناب ایئر مارشل اصغر خان نے بڑی درد مندی سے ایک کتاب لکھی تھی کہ ’’ہم تاریخ سے سبق
مزید پڑھیے