ڈاکٹر حسین پراچہ



سید مودودی کا تذکرہ


مجھ سے اکثر نوجوان پوچھتے ہیں کہ آپ زندگی میں کتنے بڑے لوگوں سے ملے ہیں۔ ایسے مواقع پر میں اپنی محرومی اور خوش قسمتی دونوں کا ذکر کرتا ہوں۔ محرومی تو یہ کہ میں نے علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کا زمانہ نہیں پایا اور خوش قسمتی یہ کہ مجھے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جیسی عظیم المرتبت شخصیت کی نہ صرف زیارت بلکہ ان سے بات چیت کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ گزشتہ روز مجھے مدتوں کے بعد ایک خالصتاً علمی محفل میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ تقریب دی پنجاب اسکول سسٹم کے مدارالمہام سید احسان اللہ وقاص نے اپنے
هفته 05 جنوری 2019ء

مقبوضہ کشمیر: ہم سا بے درد کوئی کیا ہو گا

جمعرات 03 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہم اپنی بچگانہ لڑائیوں میں مگن ہیں۔ اردگرد کیا ہو رہا ہے اس سے بے خبر ہیں‘ غافل ہیں بلکہ بے پروا ہیں۔اگر ہمارے حکمران اور سیاست دان سنجیدگی اور درد مندی کی نعمت سے محروم نہ ہوتے تو وہ ساری دنیا کے کونے کونے میں آباد کشمیریوں اور پاکستانیوں کو متحرک کر کے نام نہاد عالمی کمیونٹی اور امریکہ جیسے انسانی حقوق اور امن و سلامتی کے ٹھیکیداروں کو جھنجھوڑتے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے سوال کرتے کہ تم نے بھارتی درندوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی آزادی کیوں دے رکھی ہے۔ اگر امریکہ کے کسی
مزید پڑھیے


یہ سال بھی کٹ گیا ہے!

منگل 01 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
31دسمبر کو حسب روایت میں نے اپنے آپ کو ’’اپنی‘‘عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا تو مجھے ڈاکٹر خورشید رضوی کی نظم’’محاسبہ‘‘ یاد آ گئی۔ احتساب ذات پر کیا کمال کی نظم ہے۔ ہوا کہیں نام کو نہیں تھی اذان مغرب سے دن کی پسپا سپاہ کا دل دھڑک رہا تھا تمام رنگوں کے امتیازات مٹ چکے تھے ہر ایک شے کی سیہ قبا تھی شجر حجر سب کے سب گریباں میں سر جھکائے محاسبہ کر رہے تھے دن بھر کے نیک و بد کا طویل قامت حزیں کھجوریں کٹی ہوئی ساعتوںکے ماتم میں بال کھولے ہوئے کھڑی تھیں ادھر مرا دل دھڑک دھڑک کر عجیب عبرت بھری ندامت سے سوچتا
مزید پڑھیے


آنکھ طائر کی نشیمن پر رہی پرواز میں

هفته 29 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اگرچہ آج خبریں بڑی گرما گرم ہیں اور ان پر تبصرہ کرنے کو دل مچل رہا ہے مگر آج پاسبان عقل کا کہنا ہے کہ سیاست سے ذرا ہٹ کے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ سان فرانسسکو میں کرائے کے ایک فلیٹ میں رہتا ہے۔ وہ کسی برانڈ کے نہیں عام سے کپڑے پہنتا ہے۔ اس کے چہرے پر جو عینک لگی ہے وہ پرانی اور معمولی سی ہے۔ وہ سستی سی ایک دو گھڑیاں استعمال کرتا ہے۔ اسکے پاس کوئی کار نہیں وہ پبلک بس سے سفر کرتا ہے۔ وہ دفتر جاتے ہوئے جو ہینڈ بیگ لیکر جاتا ہے وہ
مزید پڑھیے


شریف اور بھٹو خاندان کا سیاسی مستقبل

جمعرات 27 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
کچھ مدت پہلے مجھے اپنے زمانے کے بابائے صحافت اور شہنشاہِ خطابت آغا شورش کاشمیری کے ایک صاحبزادے نے اپنے والد کا ایک تاریخی قول سنایا اور اس کا بیک گرائونڈ بھی بتایا۔ یہ 1974ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کا اقتدار نصف النہار پر تھا۔ بھٹو صاحب 1973ء کے متفقہ آئین کا سہرا اپنے سر باندھنے کے بعد اپنے سیاسی مخالفین کو فکس اپ کرنے میں مشغول تھے۔ انہی دنوں لاہور کی تاریخی جلسہ گاہ موچی گیٹ میں جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی زیر صدارت جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حکمرانوںکو وہ
مزید پڑھیے




قائداعظم اور آج کا پاکستان

منگل 25 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میں سوچتا ہوں کہ قائداعظم محمد علی جناح کا سب سے بڑا کارنامہ کیا تھا؟ میرا جواب یہ ہے کہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی شخصیت تھی۔ بیسویں صدی میں نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ عالمی سطح پر وہ ایک منفرد و ممتاز لیڈر تھے۔ اس وقت کے سیاسی افق پر جتنی چاہیں نظر دوڑائیں آپ کو قائداعظم کے پائے کا کوئی سیاست دان یا مدبر کہیں دکھائی نہ دے گا۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں مسلمانان ہند میں بعض بہت ممتاز شخصیات تھیں۔ علمی فضیلت میں مولانا ابوالکلام آزاد ممتاز تھے اور مولانا عطاء
مزید پڑھیے


تعلیم گاہیں یا قتل گاہیں

هفته 22 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ایک ٹیچر ہونے کے ناتے میں ہمیشہ نوجوانوں کا بہت بڑا وکیل رہا ہوں۔ مجھے یہ دعویٰ تو نہیں کہ میں نوجوانوں کے دلوں میں اٹھنے والے مدوجزر اور ان کے اذہان و قلوب میں برپا ہونے والی لہروں کی شدت اور حدت سے پوری طرح آگاہ ہوں مگر اتنا ضرور ہے کہ وہ کیا سوچتے ہیں، کیا محسوس کرتے ہیں اور شعوری سطح پر ان کی کیا ترجیحات ہیں، ان کا قدرے رازداں ضرور ہوں۔ اسی لیے گاہے گاہے میں غم کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ ’’رازوں‘‘ سے پردہ اٹھا دیتا ہوں۔ دو روز پہلے وزیر مملکت برائے داخلہ
مزید پڑھیے


واسطہ ای رب دا توں جاویں وے کبوترا

جمعرات 20 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ غالباً آٹھویں صدی کا قصہ ہو گا کہ جب نہ ریل تھی نہ ٹرین تھی نہ شاہراہیں تھیں اور نہ ہی کوئی باقاعدہ گزرگاہیں۔ اس زمانے میں بغداد اسلامی سلطنت کا دارالخلافہ تھا۔ وہاں ایک روز دربار میں خلیفہ ابو جعفر منصور باذوق درباریوں سے ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران کہنے لگا کہ آلو بخارا کھانے کو جی چاہ رہا ہے۔ تب بغداد اور اس کے گردونواح میں آلو بخارے کا موسم نہ تھا۔ مگر اہل دربار میں سے کسی کی مجال نہ تھی کہ وہ کہے کہ حضور! پھل تو موسم کا ہوتا ہے اور آج کل آلو
مزید پڑھیے


سقوطِ ڈھاکہ کا سبق

منگل 18 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
16دسمبر آیا اور ہمیں ایک بار پھر خون کے آنسو رلا کر گزر گیا۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ آنسوئوں کی اس برسات میں سقوط ڈھاکہ کا ناقابل فراموش سانحہ ہمیں کیا سبق یاد دلا گیا۔ اوائل دسمبر سے ہی زخم پرانے یاد آنے لگتے ہیں۔ دلوں اور شہروں کی بربادی کا سماں یاد آتا ہے۔ وہ جوش اور جذبہ یاد آتا ہے۔ جو قیام پاکستان کے لئے مشرق بنگال کے لیڈروں اور شہریوں کے دلوں میں موجزن اور ان کے نعروں اور قرار داد سے عیاں تھا۔ ان جذبوں کا نقطہ عروج قرار داد لاہور تھی جو قائد اعظم
مزید پڑھیے


تجاوزات

جمعرات 13 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سماوی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں سے خوب استفادہ کرو، مگر اپنی حد سے نہ بڑھو۔ اپنی حدود کے اندر رہنا ہی زندگی کا حسن ہے۔ انسانی سوچ وبچار بھی کئی ٹھوکریں کھا کر بالآخر اسی نتیجے پر پہنچی ہے کہ اپنی حدود کے اندر رہو۔ جہاں جہاں زندگی کا کوئی شعبہ ان حدود سے تجاوز کرتا ہے، وہاں وہاں خوب صورتی بدصورتی میں بدل جاتی ہے۔ گزشتہ روز کراچی میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے نیب کراچی کی طرف سے سابق جج سلمان حامد جاری کردہ نوٹس کے خلاف مقدمے کی سماعت
مزید پڑھیے