BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



مشائخ کانفرنس برائے آزادی کشمیر


گزشتہ روز دو خوشگوار حیرتوں کا دل خوش کن تجربہ ہوا۔ پہلی حیرت تو یہ کہ جماعت اسلامی کے بارے میں بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ زاہدانِ خشک کی جماعت ہے مگر اہل جماعت نے جس عقیدت و محبت کے ساتھ جمعرات کو منصورہ میں ملک بھر سے آئے ہوئے۔ مشائخ عظام کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے اس سے یہ اندازہ ہوا کہ یہ ’’زاہدان خشک‘‘ اندر سے بریشم کی طرح نرم ہیں۔ یہ الگ بات کہ رزم حق و باطل میں یہ فولاد دکھائی دیتے ہیں۔اہل منصورہ کی خوئے دلنوازی سے محسوس ہوا کہ
هفته 19 اکتوبر 2019ء

عوام حکومت سے نوکریاں نہ مانگیں

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا یہ فرمان کہ ’’عوام حکومت سے نوکریاں نہ مانگے‘‘ سن کر فیض احمد فیض کی غزل کا یہ مصرع نوک زباں پر آ گیا: مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ مراد یہ کہ انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے ہمیں یاد مت دلائو۔ اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے، ہمارے ہی نہیں حکومت کے مہرباں بھی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ فواد چودھری صاحب بھی‘ شیخ رشید کی تقلید میں نیوز میکر بننے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔ کبھی وہ چاند کے طلوع و غروب
مزید پڑھیے


ایران‘ سعودیہ تنازع:جنگ یا امن؟

منگل 15 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
20ویں صدی کے نصف اول میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم زیادہ تر یورپ کی سرزمین پر لڑی گئیں۔ ان دونوں جنگوں میں تاریخ انسانی کی سب سے ہولناک تباہی دیکھنے میں آئی۔ پہلی جنگ عظیم میں ساڑھے تین کروڑ فوجی اور شہری لقمہ اجل بنے اور دوسری جنگ عظیم میں تقریباً 5کروڑ انسان نیست و نابود ہو گئے۔ جنگ کے آخری مرحلے پر امریکہ نے جاپان کے دو ہنستے بستے شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی کو آن واحد میں ایٹم بم مار کر راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا۔ شہروں کے شہر صفحہ ہستی سے نیست و نابود
مزید پڑھیے


خواہشات اور معیشت

هفته 12 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اسے یقینا چھوٹا منہ اور بڑی بات سمجھا جائے گا مگر میں یہ عرض کروں گا کہ اگر مجھے روٹی اور آزادی دونوں میں کسی ایک کا انتخاب کرنے کو کہا جائے تو بلا تردد میرا ووٹ آزادی کے حق میں ہو گا۔ جناب عمران خان ایک سالہ دور حکومت میں عوام سے روٹی چھیننے کے بعد ان سے آزادی چھیننے کی فکر میں ہیں اور اسی کے لئے وہ نت نئے ماڈل کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ جہاں جاتے ہیں وہیں مچل جاتے ہیں اور ان کے ہی ماڈل کو پاکستان میں اپنانے کی خواہش کا اظہار کرتے
مزید پڑھیے


بیٹا چوٹ تو نہیں لگی

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہر روز ایک سے ایک دلفگار خبر سن کر ہم بڑے ’’سنگ دل‘‘ ہو گئے ہیں بلکہ ہماری رگ اشکبار پتھر کی ہو چکی ہے۔ تاہم بعض اوقات کوئی دل کو چھید دینے والی خبر نظر سے گزرتی ہے تو سنگ بستہ رگ اشکبار سے بھی لہو رنگ آنسو بہنے لگتے ہیں۔ دو تین روز پہلے ایسی ہی ایک خبر پڑھنے کو ملی جس کے مطابق چارسدہ کی بوڑھی ماں نے پریس کانفرنس میں فریاد کی کہ میرے مرحوم نے 5کنال اراضی میرے نام لکھی تھی۔ میرے اکلوتے بیٹے نے میری مرضی سے وہ فروخت کی جس سے 16کنال اراضی خریدی
مزید پڑھیے




کشمیر: جناب وزیر اعظم!What Next

منگل 08 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
قائد تحریک انصاف مانیں یا نہ مانیں یہ شعر ان پر صادق آتا ہے: ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر اگر کوئی ابہام محسوس کریں تو ’’ہوا‘‘کی جگہ ’’عوام‘‘ کر دیں تو بات بالکل واضح ہو جائے گی۔ اس وقت تینوںمعاملات میں پی ٹی آئی کی حکومت چاروں شانے چت دکھائی دے رہی ہے۔ ٭کشمیر ٭ معیشت ٭ گورننس سیاست کو جناب عمران خان نے عدم برداشت اور معیشت کو عدم حکمت و مہارت سے بے حال کر چھوڑا ہے۔ تاہم اس وقت جس مسئلے پر ہر پاکستان‘ ہر کشمیری اور شدت احساس
مزید پڑھیے


مولانا فضل الرحمن کا نعرہ مستانہ

هفته 05 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جالو جالو آگن جالو والے مولانا عبدالحمید بھاشانی نے یکم جون 1970ء کو مشرقی پاکستان میں کمیونزم کی حمایت میں ایک زبردست ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان سن کر بانی امیر جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کمیونزم کے ردمیں مشرقی و مغربی پورے پاکستان میں ’’یوم شوکت اسلام ‘‘ منانے کا اعلان کیا۔ مولانا کی اپیل پر ساری قوم نے لبیک کہا اور بڑے زور و شور سے تیاری شروع کر دی گئی۔ ’’یوم شوکت اسلام‘‘ کے لئے 31مئی 1970ء کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاکہ بھاشانی اور ان کے مٹھی بھر کے حواریوں
مزید پڑھیے


جو روٹی رات دی پوری کریندیاں شام تھی ویندی

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سرائیکی زبان میں شعر کہنے والا شاکر شجاع آبادی شدتِ احساس اور بے ساختگی اظہار کا شاعر ہے ۔ شاکر کی نوا غریبوں کی آواز بن گئی۔ شاکر اس بارے میں اپنے خدا سے بھی ہمکلام ہو کر شکوہ کرتا رہتا ہے اور کہا ہے کہ مالک تیری جنت کی دلفریت نعمتیں یقینا برحق ہیں مگر اپنی غریب مخلوق کو اس دنیا میں کیوں بھوکا ما رہا ہے۔ شاکر نے اپنے خالق دوجہاں کی بارگاہ میں بارہا نہ صرف شکوہ کیا بلکہ غریبوں کی بھر پور وکالت بھی کی حتیٰ کہ یہاں تک زاری کرتا ہے کہ مالک ایک بار
مزید پڑھیے


تقریر کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہو گا؟

منگل 01 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میرا نہ یہ مقام ہے اور نہ میری یہ اوقات کہ میں حوالے دیتا پھروں کہ میں نے گزشتہ چند دنوں کے کالموں میں عمران خان کو تقریر کے لئے جو مشورے دیے تھے انہوں نے ان پر من و عن عمل کیا اور نہ صرف یو این او کے درو بام ہلا کر رکھ دیے بلکہ دنیا کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہ ’’مشورے‘‘ میرے ہی نہیں ساری قوم کے دل کی صدا تھے۔ اس لئے عمران خان کی تقریر کے بعد جو مجموعی قومی تبصرہ ہر طرف گونجنے لگا وہ بقول مرزا غالب
مزید پڑھیے


رو دادِ قفس

هفته 28  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
چند ماہ قبل ممتاز کالم گار جناب عرفان صدیقی کو آدھی رات کے وقت ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور دوسرے روز انہیں ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ عرفان صدیقی نے ہتھکڑی والے ہاتھ میں نہ صرف قلم تھام رکھا تھا بلکہ اسے بلند کر رکھا تھا۔ یہ تصویر وائرل ہوئی تو کچھ بے تکلف دوستوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہیں بھی کبھی ہتھکڑی لگی ہے۔ ایوب خان کے آخری دور میں 1960ء کی دہائی کے آخری سالوں میں ان کے خلاف دوسرے طلبہ کے ساتھ مجھے بھی گرفتار کیا گیا دو روز
مزید پڑھیے