ڈاکٹر حسین پراچہ



روٹی


منظر انقلاب فرانس کا ہو‘ ہندوستان کا ہو یا آج کے پاکستان کا ‘ انسانوں کی ساری دوڑ دھوپ ایک شے کے لئے ہوتی ہے جسے ’’روٹی‘‘ کہتے ہیں۔ جب اٹھارویں صدی کے آواخر میں فرانس کے عوام بادشاہ اور کلیسا کے گٹھ جوڑ کے خلاف پارلیمنٹ سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے تھے تب ایک فرانسیسی شہزادی نے ایک جملہ کہہ کر عوام کے غیظ و غضب میں مزید شدت پیدا کر دی تھی۔ شہزادی نے کہا تھا کہ ان لوگوںکو روٹی نہیں ملتی تو یہ کیک کھائیں۔ عین اسی زمانے میں ہندوستان کے شاعر نظیر اکبر آبادی
جمعرات 29  اگست 2019ء

سید کی پکار اور مودی کے لئے ایوارڈ

منگل 27  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اللہ نے عربوں کو اسلام کے ذریعے دنیا میں سربلند کیا تھا اور انہیں اقوام عالم کی سربراہی کا اعزاز بخشا تھا۔ اب عربوں کے پاس دولت ہے مگر سیادت نہیں۔ آج عرب عوام کے دل امت مسلمہ کے ساتھ جبکہ عرب حکمرانوں کے دل امریکہ و انڈیا کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ بات لمحہ موجود کی ہو رہی ہے مگر چند لمحوں کے لئے مجھے عظمت رفتہ کو آواز دینا ہو گی۔ محسن انسانیت ﷺ کے ظہور سے پہلے پوری انسانیت تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ عرب پر دور وحشت کی تاریک رات چھائی ہوئی تھی ہر طرف انتشار ہی انتشار
مزید پڑھیے


آزادی کشمیر: عوام کو کیوں نہیں شامل کیا جا رہا؟

هفته 24  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
چاہئے تو یہ تھا کہ آج جب مقبوضہ کشمیر میں بھوکے پیاسے کشمیری اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کرفیو توڑتے ہوئے باہر نکلتے تو اس وقت کراچی تا خیبر اور اسلام آباد تک مظفر آباد ان سے اظہار یکجہتی کے لئے ساری پاکستانی قوم سڑکوں پر ہوتی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہندوستان کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔عمران خان نے امریکی صدر ٹرمپ کو بھی خبردار کیا ہے کہ دو ایٹمی طاقتیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے آمنے سامنے کھڑی ہیں اور کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے آرمی چیف دو ٹوک الفاظ میں
مزید پڑھیے


رحمدلی : تشخیص سے تجویز تک

جمعرات 22  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اکثر سیاسی و معاشرتی معاملات کے بارے میں جناب عمران خان کی تشخیص لاجواب ہوتی ہے۔ دو تین روز پہلے کسی تقریب میں ریاست مدینہ کے خدوخال واضح کرتے ہوئے عمران خان نے دل لگتی اور خدا لگتی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو معاشرے رحمدلی سے خالی ہو جاتے ہیں وہ انسانوں کے نہیں جانوروں کے ٹھکانے ہوتے ہیں۔ وحشیانہ ہلاکت کا کوئی دلدوز واقع سامنے آتا ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہہ ہم اندر سے کتنے وحشی ہو چکے ہیں اور سنگدلی کی انتہائی پستی میں جاگرتے ہیں۔ تقریباً ایک ہفتہ قبل بہادر آباد کراچی میں
مزید پڑھیے


کیا دنیا انصاف سے خالی ہے؟

منگل 20  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جب ہر طرف مظلوم ہی مظلوم دکھائی دیں تو لا محالہ یہ سوال نوکِ زباں پر آ جاتا ہے کہ کیا دنیا انصاف سے خالی ہے؟ تاریخ سے یہ سوال پوچھیں تو دنیا انصاف سے تہی دامن اور ظلم سے بھری ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر تاریخ انسانی میں ایسے ایسے پیوند بھی دکھائی دیتے ہیں جب ہرطرف عدل و انصاف کا بول بالا تھا اور ظلم منہ چھپاتا پھرتا تھا۔ انصاف کا سب سے اولیں حقدار مظلوم ہے۔ مظلوم کی دادرسی میں تاخیر ظلم کو طول دینے کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔ ظلم سے داغدار تاریخ کے دامن پر ریاست
مزید پڑھیے




منزل سے قریب

هفته 17  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میرا اپنے قارئین کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ ہے! معاہدہ یہ ہے کہ جب میری رسائی کسی دل کش اور فکر انگیز نئی کتاب تک ہو گی میں اسے اپنے قارئین کے ساتھ شئیر کروں گا۔ چند روز پہلے ڈاکٹر جاوید احمد نے بڑی محبت کے ساتھ مجھے جناب لالہ صحرائی کی نئی کتاب ’’منزل سے قریب‘‘ بھجوائی اس کتاب میں عالمی ادب کے معروف افسانوں اور سفرناموں کے تراجم پیش کئے گئے۔ ہر ادب پارے کا ترجمہ اپنی جگہ تخلیقی ادب کا خزینہ محسوس ہوتا ہے۔ جناب لالہ صحرائی کی نثر نگاری دراصل قلمی ساحری ہی ساحری ہے۔ ان
مزید پڑھیے


تحریک پاکستان اور آزادی کشمیر

جمعرات 15  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ ستر بہتر برس سے ہر گزرتا پل تحریک پاکستان کے قائدین کی دور اندیشی کی تائید کرتا دکھائی دیتا ہے اس دوران متعصب ہندو قیادت نے بھارت اور کشمیر میں مسلم کشی کا جو رویہ اپنا رکھا ہے وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دو قومی نظریہ بالکل درست تھا اور درست ہے۔ خاص طور پر بی جے پی کی صوبائی مرکزی حکومتوں نے ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو کچلنے کی کھلم کھلا پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا۔ ہندوئوں کی لبرل‘ اور متعصب دونوں طرح کی قیادتوں نے تحریک آزادی کے
مزید پڑھیے


وقت نے دی ہے تمہیں چارہ گری کی مہلت

هفته 10  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ چار پانچ روز سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ کشمیری انتہائی ہولناک کرفیو کی زد میں ہیں۔ وہ گھروں میں محبوس ہونے پر مجبور ہیں جذبہ آزادی کو پابہ زنجیر کرنے کے لئے 9لاکھ بھارتی فوجی کشمیر میں تعینات ہیں۔ ہر گھر کے باہر دو تین فوجی بندوقیں تانے کھڑے ہیں۔ دنیا کی ’’سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کس شان سے اپنے شہریوں کا سواگت کر رہی ہے۔ نہ تحریک ‘نہ تقریر ‘نہ تحریر کسی بات کی بھی آزادی نہیں۔ انٹر نیٹ اور ٹیلی فون بھی بے جان پڑے ہیں۔ ہمارا کشمیریوں سے اور کشمیریوں کا ہم سے کوئی رابطہ نہیں۔ اپنی
مزید پڑھیے


پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟

جمعرات 08  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
’’تنقید بہت ہو چکی اب بتائیے کرنا کیا چاہیے؟‘‘ مسئلہ کشمیر پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی ولولہ انگیز اور پرجوش تقریر سننے کے بعد جناب وزیر اعظم عمران خان نے ان سے یہ اہم ترین سوال پوچھ لیا۔ یہ نہایت اہم سوال ہے جس کے بارے میں پاکستان کا ہر ذی شعور اور صاحب احساس فرد بھی غور و فکر کر رہا ہے اور پاکستان کا ہر ادارہ بھی اس پر سوچ بچار کر رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم نے حسب موقع اچھا خطاب کیا۔ ان کا خطاب ولولہ انگیز
مزید پڑھیے


دفعہ 370کا خاتمہ:پاکستان کیا جواب دے گا؟

منگل 06  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میں تقریباً نصف کالم لکھ چکا تھا کہ یہ روح فرسا خبر آگئی کہ بھارتی پارلیمنٹ نے اپنے آئین سے 70سالہ پرانی کشمیری دفعہ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد سارا منظر نامہ ہی بدل گیا ہے لہٰذا پہلے سے لکھا گیا کالم مجھے قلم زد کرنا پڑا۔ دل و دماغ کی حیرانی ویرانی میں بدل گئی ہے۔ اس عالم میں سمجھ میں نہیں آتا کہ لکھوں تو کیا لکھوں۔ 90سالہ بوڑھے کشمیری مجاہد نے دو روز قبل مستقبل میں جھانکتے اور مکروہ بھارتی عزائم بھانپتے ہوئے اس امت مسلمہ کو پکارا تھا جس کے بارے میں حکیم الامت
مزید پڑھیے