BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارا ہی نہ ہو


یہ غالباً 2006ء کی بات ہو گی کہ جب پارلیمنٹ لاجز میں میری عمران خان سے پہلی ون آن ون ملاقات ہوئی۔ عصر سے لے کر مغرب تک بے تکلف باتیں ہوئیں۔ خان صاحب کی لاج سے نکلا تو میں کپتان کی سادگی اور بے ساختگی سے بہت متاثر ہو چکا تھا۔ میرا اپنا بے ساختہ تاثر یہ تھا کہ یہ شخص اور کچھ کرے یا نہ کرے مگر یہ برسر اقتدار آ گیا تو خود ’’کشکول گدائی‘‘ تھام لے گا مگر کسی بچے کو ہاتھ پھیلانے دے گا نہ ہی کسی بچے کو ورکشاپوں ‘ ریستورانوں‘ دکانوں اور گھروں
جمعرات 01  اگست 2019ء

عرفان صدیقی:کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

منگل 30 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سچی بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سابق معاون خصوصی عرفان صدیقی کی جمعہ کے روز آدھی رات کو آناً فاناً گرفتاری سمجھ میں آئی اور نہ ہی اتوار کے روز بند عدالتیں کھلوا کر ان کی رہائی سمجھ میں آئی : کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے برادر عزیز عامر خاکوانی نے ایک کالم میں جناب عرفان صدیقی کے حوالے سے چند سادہ سے سوال پوچھے ہیں۔ برادر عزیز کو یقینا ادراک ہو گا کہ یہ ’’سادہ سوال‘‘ہی دراصل بہت مشکل سوال ہوتے ہیں جن کے جوابات ڈھونڈتے ہوئے اہل اقتدار کی جبینیں شکن آلود بھی
مزید پڑھیے


حکومت کی ایک سالہ کارکردگی

هفته 27 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
عمران خان کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک خواب عوام کی ہی نہیں بہت سے خواص کی پلکوں میں بھی آویزاں کر دیے۔ خان صاحب کو کچھ غیبی دست شفقت بھی حاصل تھا۔ یوں انہوں نے بہت بڑی کامیابی سمیٹی تاہم اقتدار کے پہلے سال میں خوابوں کی پریشانی سے عوام بہت ہی پریشان حال ہیں مگر ابھی تک مایوس نہیں ہوئے۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ اپوزیشن کی دی گئی۔ یوم سیاہ کی کال کے جواب میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھنے میں نہیں آیا۔ البتہ چاروں صوبوں میں عوام
مزید پڑھیے


وزیر اعظم کا دورۂ امریکہ: وائٹ ہائوس سے جلسہ عام تک

جمعرات 25 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
22جولائی کو وائٹ ہائوس میں دو ایسی شخصیات کی ملاقات ہونے والی تھی کہ جن کے بارے میں دھڑکتے دلوں کے ساتھ ان کے دوست سوچ رہے تھے کہ خدا خیر کرے۔ سبب اس کا یہ تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان دونوں کے بارے میں حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ وہ کچھ بھی غیر متوقع کہہ سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات بڑی خوشگوار رہی اور بڑی کامیاب رہی۔ ہماری طرف سے تو خیر ہی رہی مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم کے حوالے سے ایک ایسا
مزید پڑھیے


ساغر صدیقی: دوستو! لوٹ کے آئے ہیں تمہاری خاطر

منگل 23 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ تقسیم ہند سے پہلے 1944ء کا ذکر ہے۔ امرتسر میں ایک بہت بڑا آل انڈیا مشاعرہ منعقد ہو رہا تھا۔ کسی صاحبِ ذوق نے مشاعرے کے منتظمین سے مل کر ایک پندرہ سولہ سال کے ’’لڑکے‘‘ کا نام بھی لکھوا دیا۔ لڑکے کو جب کلام سنانے کے لیے بلایا گیا تو اس نے اپنی پرسوز آواز میں ترنم کے ساتھ غضب کی غزل پڑھی اور مشاعرہ لوٹ لیا۔ یہ لڑکا آگے چل کر ساغر صدیقی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کے اشعار مشاعروں، ایوانوں اور جلسوں میں گونجنے لگے۔ آج تک ساغر کے اشعار باذوق لوگوں کو ازبر
مزید پڑھیے




ٹرمپ‘عمران ملاقات کا ایجنڈا کیا ہو گا؟

هفته 20 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان دورہ امریکہ سے پہلے پارلیمنٹ سے مشورہ کرتے یا کم از کم پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی امور خارجہ کی قائمہ کمیٹیوں سے براہ راست ملاقات کر کے ان سے تجاویز حاصل کرتے۔ امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے حتمی ایجنڈے اور بریف کو ترتیب دینے سے پہلے ان تجاویز کو مدنظر رکھا جاتا تاکہ اندرون ملک اور بیرون ملک یہ میسج جاتا کہ یہ کسی فرد واحد کا نہیں پاکستان کا قومی ایجنڈا ہے۔ چند ماہ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ سرد مہری
مزید پڑھیے


لاہور میں طوفانی بارش اور نیا پاکستان

جمعرات 18 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ تین چار روز میں ایک بار پھر شہر اقتدار اسلام آباد اور اس کے گردو نواح میں تھا۔ میں نے وہاں محسوس کیا کہ معیشت اور وقت دونوں تیزی سے ہاتھ سے نکلے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے میری بڑی دلچسپ ’’فسٹ ہینڈ انفارمیشن‘‘ تک رسائی ہوئی جسے میں اپنے قارئین سے شیئر کرنے کے بارے میں ذہن بنا چکا تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی کالم لکھتے ہوئے میں بالعموم کال اٹینڈ نہیں کرتا۔ تاہم ایک پرانے دوست کا نام اسکرین پر دیکھ کر میں نے کال وصولی کا بٹن آن کر دیا۔ دعا سلام کے بعد
مزید پڑھیے


سنکیانگ :کیا دس لاکھ مسلمان حراستی کیمپوں میں ہیں؟

منگل 16 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ چند سالوں سے سنکیانگ کے مسلمانوں کے بارے میں انسانی حقوق کی کچھ عالمی تنظیموں اور بی بی سی وغیرہ کی طرف سے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی پامالی کی تردید کی گئی مگر اب معاملہ اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق تک جا پہنچا ہے جہاں مختلف ممالک کے دو گروپ سامنے آ چکے ہیں۔22 ممالک پر مشتمل گروپ میں یورپ کے جمہوری ممالک اور جاپان و کینیڈا وغیرہ شامل ہیں جو یو این او کے ذریعے سنکیانگ میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے انتہائی ناروا سلوک کی مکمل تحقیق کا مطالبہ کر رہے
مزید پڑھیے


خوفناک ریلوے حادثہ اور حکومتی بے حسی

هفته 13 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جو معاشرہ زندہ ہو اور شدت احساس کی نعمت سے بھی سرفراز ہو وہ کسی ایک فرد کی حادثاتی موت سے تڑ پ اٹھتا ہے اور جو معاشرہ بے حس ہو وہاں آئے روز سینکڑوں افراد کے بے موت مارے جانے پر بھی کوئی آنکھ نم ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کے ضمیر میں کوئی خلش پیدا ہوتی ہے۔ جمعرات کو صادق آباد کے قریب علی الصبح 4بجے انتہائی خوفناک حادثہ پیش آیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو گاڑیوں کے تصادم میں اس وقت تک 22افراد ہلاک اور 104شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ اتنے بڑے جانی نقصان پر
مزید پڑھیے


پروفیسر وارث میر کی یاد میں

جمعرات 11 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میں پروفیسر وارث میر کی کلاس میں تھا نہ ان کے شعبے میں، مگر وہ میرے استاد تھے۔ بحیثیت استاد میں نے ان سے بہت کسب فیض کیا۔ 1970ء کی دہائی کے اوائل میں جناب وارث میر ہمارے ہاسٹل کے وارڈن تھے۔ پہلی ہی ایک دو ملاقاتوں میں میر صاحب کی خوش خلقی اور شگفتہ مزاجی نے ہمارا دل موہ لیا۔ یہ وہ دور تھا جب ہم ابھی لڑکے اوروارث میر صاحب کے صاحبزادے حامد میر اور ان کے بھائی ابھی ’’بچے‘‘ تھے۔ پروفیسر وارث میر نے ہمارے اندر تحریر و تقریر کے کچھ امکانات دیکھ کرہماری بہت حوصلہ افزائی
مزید پڑھیے