BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



ضمیر


کبھی کبھی شب کی تاریکی میں میں اپنے ضمیر کی ڈوبتی نبض ٹٹولتا ہوں تاکہ محسوس کر سکوں کہ اس میں احساس کی کوئی رمق باقی ہے یا نہیں۔میں ہر روز ایسا کرتا ہوں‘ کیونکہ میرا ضمیر لمحہ بہ لمحہ دم توڑ رہا ہے۔ جب میں کسی فیشن ایبل ہوٹل سے کھانا کھا کر نکلتا ہوں تو میرے لئے گارڈ دروازہ کھولتا ہے‘ تو میں لمحے بھر کو ٹھٹھکتا اور سوچتا ہوں کہ اس کی مہینے بھر کی کمائی اتنی ہو گی جتنا میں نے اس ایک کھانے کا بل ادا کیا ہے۔ میں جلدی سے اس خیال کو جھٹک دیتا ہوں
منگل 24  ستمبر 2019ء

کشمیریوں سے یک جہتی کے لئے چلو چلو ہوسٹن چلو

هفته 21  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
امریکہ خود کو انسانی حقوق کا چمپئن سمجھتا ہے۔ امریکیوں کا دعویٰ یہ ہے کہ دنیا میں کہیں انسانی حقوق کی پامالی کا ادنیٰ سا واقعہ بھی رونما ہوتا ہے تو امریکی دل دھڑکتا ہے۔ مگر کتنی حیرانی کی بات ہے کہ 22ستمبر کو ریاست ٹیکساس کے بڑے شہر ہوسٹن میں گجرات کے قصاب اور کشمیریوں کے قاتل نریندر مودی کی آمد کے موقع پر اس کے سواگت کے لئے خود صدر امریکہ چل کر ہوسٹن جا رہا ہے تاکہ دنیا کو میسج دیا جا سکے کہ مودی ٹرمپ بھائی بھائی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہوسٹن کے استقبالیے میں
مزید پڑھیے


میڈیا کورٹس:آنکھ میچو گے تو کانوں سے گزر آئے گا حسن

جمعرات 19  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
غزل کے مکمل شعر کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس کے اندر کثیر الجہات جہانِ معانی پنہاں ہوتا ہے دیکھئے ڈاکٹر خورشید رضوی نے کیا باکمال شعر کہا ہے: آنکھ میچو گے تو کانوں سے گزر آئے گا حسن سِل کو دیوار و در سے واسطہ کوئی نہیں امریکی ناول نگار جان سٹین بک نے جنوبی امریکہ کے قدیم پس منظر کے حوالے سے ایک ناول لکھا تھا کہ جو 1947ء میں پہلی بار شائع ہوا۔ ناول کا موضوع تو انسانی فطرت میں چھپا ہوا لالچ و حسد وغیرہ ہے۔ تاہم شہرت یافتہ ناول ’’دی پرل‘‘ کے مظلوم ہیرو نے ایک موقع
مزید پڑھیے


کیا مسئلہ کشمیر سیاسی ہے یا مذہبی

منگل 17  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ایک طرف مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کے لئے دوڑ رہے ہیں اور اس کے لئے مختلف سیاسی دروازوں پر دستک دے رہے ہیں اور دوسری طرف میرے نہایت عزیز دوست اور دانشور جناب خورشید ندیم علمی سنجیدگی کے ساتھ مذہب کو سیاست سے الگ کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ خورشید ندیم صاحب نے ایک معاصر میں اوپر تلے اس موضوع پر کئی کالم تحریر کئے ہیں۔ چند روز قبل ’’مسئلہ کشمیر کی مذہبی تفہیم‘‘کے عنوان سے ان کا جو کالم چھپا ہے‘ اس میں انہوں نے بہت ہی فکر انگیز باتیں لکھیں کہ مجھ ایسے طالب علم کو خاصی عرق
مزید پڑھیے


جناب چیف جسٹس کا انتباہ

هفته 14  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جناب عمران سے ہر کسی نے اپنے ذوق اور اپنے اپنے اعتماد کے حوالے سے امیدوں کے شیش محل وابستہ کر رکھے تھے۔ مجھے یہ امید تو نہ تھی کہ جناب عمران خان برسر اقتدار آ کر آسمان سے تارے توڑ لائیں گے نہ ہی مجھے یہ توقع تھی کہ وہ آتے ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں گے۔ نہ ہی یہ امید تھی کہ عمران خان بے روزگاری‘ مہنگائی اور بدحالی کا مکمل خاتمہ کر دیں گے۔ البتہ مجھے یہ یقین ضرور تھا کہ کچھ ہو یا نہ ہو ظلم نہیں ہو گا۔ عمران خان کے دور
مزید پڑھیے




بیٹیاں اور بیٹے

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
برطانیہ میں الیکس کے ہاں ایک کے بعدایک بیٹا پیدا ہوتا چلا گیا۔ وہ اور اس کا خاوند ڈیوڈ ان لڑکوں کو خوش آمدید کہتے چلے گئے۔ بچوں کی کثرت سے وہ ذرا نہیں گھبرائے۔ انہیں بچوں کی پرورش کے لئے حکومتی امداد مل سکتی تھی مگر الیکس نے کہا کہ ڈیوڈ کی آمدنی کافی ہے اس لئے ہم امداد کیوں لیں، سب سے بڑے بیٹے کی عمر 17سال اورسب سے چھوٹے بیٹے کی عمر 2سال ہے۔ مسلسل دس بیٹوں کے بعد الیکس کے ہاں گیارہویں بچے کی پیدائش متوقع تھی۔ دونوں میاں بیوی نے ایک بار بھی الٹرا سائونڈ
مزید پڑھیے


انسانیت کے نام حسینیت کا پیغام

منگل 10  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
آج 10محرم 61ھجری ہے۔ یہ میدانِ کربلا کا منظر ہے، سامنے فوجوں کا بحر بیکراں ہے۔ گردوپیش ویرانی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ عزیزوں، بھائیوں، بھتیجوں اور اولاد کے دلکش چہرے امام عالی مقام حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے تھے۔ اندر خیمے میں پردہ دار عورتیں اور بچے بھی تھے۔ دریا پر یزیدی فوج کا پہرہ تھا اور حسین کے ساتھیوں تک ایک قطرۂ آب پہنچنے کی اجازت نہ تھی۔ بے زبان بچے پیاس کی شدت سے بے تاب نظر آ رہے تھے مگر غرورِ طاقت کے تمام حربے اور ایذا رسانی کی شدید سے شدید
مزید پڑھیے


خدا کی بستی میں پولیس کا راج

هفته 07  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جس دور میں بے آسرا لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھا جائے اور اہل اختیار جب چاہیں انہیں مسل کر پھینک دیں اس دور کے سلطان سے چھوٹی موٹی نہیں بہت بڑی بھول ہوئی ہے۔ آج کے سلطان سے سب سے بڑی بھول یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے بڑے بلکہ بہت بڑے بڑے بول بولے تھے اور بطورمثال حضرت عمرؓ بن خطاب کے سنہری دور کا بارہا حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے عمر بنؓ خطاب جیسے جلیل القدر خلیفہ کا یہ قول بھی بار بار دہرایا تھاکہ اگر فرات کے اس کنارے پر کوئی کتا بھی مر جائے تو عمر
مزید پڑھیے


کیا ایک اور جنگ ستمبر ہو گی؟

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
چند خوش قسمت لوگوں کو خبر اور نظر کی نعمتیں بیک وقت عطا ہوتی ہیں۔ ایک ایسے ہی اہل خبر اور اہل نظر سے ہماری یاد اللہ ہے۔میں گزشتہ دو تین روز سے ان کی تلاش میں تھا وہ ہمیشہ کال کا جواب دیتے ہیں‘ مصروفیات کی بنا پر بعض اوقات قدرے تاخیر سے۔ گزشتہ شب اسلام آباد سے ان کی کال آ گئی۔ وہ بات کو چبا چبا کر یا گھما پھرا کر کرنے کے عادی نہیں۔ سوال کا سیدھا جواب دیتے ہیں۔ میں نے دعا سلام کے بعد بغیر کسی تمہید کے پوچھا؟ کیا جنگ ہو گی؟ ان کا
مزید پڑھیے


دیارِ مجددؒ سے داتا نگرؒ تک

منگل 03  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
زندگی صرف ایک بار ملتی ہے صرف ایک بار اسے ہر انسان نے گزارنا ہوتا ہے۔ زندگی نے بہرطور گزرنا ہوتا ہے۔ کوئی ساتھ دے یا نہ دے یہ کٹتی رہتی ہے۔ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی: غم حبیب! شکایت ہے زندگی سے مجھے ترے بغیر بھی کٹتی رہی‘ ذرا نہ رکی کون زندگی کو کیسے گزارتا ہے۔ یہ بات اہم ہے بعض لوگ نشان عبرت بن کر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اور بعض اپنے پیچھے ایسے نقوش پا چھوڑ جاتے ہیں جو ان کے بعدآنے والے افرادہی نہیں کئی نسلوں اور کئی قافلوں کے لئے مشعل راہ کا کام دیتے ہیں۔ مجھے
مزید پڑھیے